Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 12 · Chapter 862

بصرہ کی روایات

حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں

2 hadiths in this chapter

20670

Musnad Ahmad #20670

Hasan

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ الدِّيلِيُّ ، عَنْ عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا فِي مَنْزِلِهِ، فَمَرِضَ، فَأَفَاقَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ، فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَصْرَةِ، فَأَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِهِ، فَسَلَّمَ، وَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّيْخُ السَّلَامَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ؟ قَالَ: بِخَيْرٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَلَا تَخْرُجُ مَعِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، فَتُعِينَنِي؟ قَالَ: بَلَى، إِنْ رَضِيتَ بِمَا أُعْطِيكَ، قَالَ عَلِيٌّ:" إِذَا كَانَتْ فِتْنَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ اتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ"، فَهَذَا سَيْفِي، فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ، وَلَا فِي سَيْفِكَ، فَرَجَعَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ، وَلَمْ يَدْخُلْ .

اردو ترجمہ · Urdu

عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ان کے گھر میں تھے کہ وہ بیمار ہوگئے جب انہیں اپنے مرض سے افاقہ ہوا تو کچھ ہی عرصے بعد حضرت علی بصرہ میں تشریف لائے اور ان کے گھر بھی آئے اور گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا والد صاحب نے انہیں جواب دیا حضرت علی نے ان سے پوچھا ابومسلم! آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ خیریت سے ہوں حضرت علی نے فرمایا آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد نہیں کرتے انہوں نے کہا کیوں نہیں بشرطیکہ آپ اس چیز پر راضی ہوجائیں جو میں آپ کو دوں گا حضرت علی نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا لڑکی میری تلوار لاؤ میں نے نیام سمیت ان کی تلوار نکالی اور ان کی گود میں رکھ دی انہوں اس کا کچھ حصہ سے نیام سے باہر نکلا پھر سر اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں فتنے رونماہونے لگے تو میں لکڑی کی تلواربنا لوں یہ میری تلوار حاضر ہے اگر آپ چاہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلنے کو تیارہوں حضرت علی نے فرمایا فی الحال ہمیں آپ کی یا آپ کی تلوار کی فوری ضرورت نہیں ہے پھر وہ کمرے کے دروازے سے باہر تشریف لے گئے اور دوبارہ اس حوالے سے نہیں آئے۔

20671

Musnad Ahmad #20671

Hasan

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْقَسْمَلِيِّ ، عَنْ ابْنَةِ أُهْبَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَتَى أُهْبَانَ ، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنِ اتِّبَاعِي؟ فَقَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكِ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " سَتَكُونُ فِتَنٌ وَفُرْقَةٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَاكْسِرْ سَيْفَكَ، وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ"، فَقَدْ وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ وَالْفُرْقَةُ، وَكَسَرْتُ سَيْفِي، وَاتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ حِينَ ثَقُلَ أَنْ يُكَفِّنُوهُ، وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِيصًا، قَالَ: فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِ .

اردو ترجمہ · Urdu

عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ان کے والد کے پاس آئے اور فرمایا آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد کیوں نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں فتنے رونما ہونے لگے تو میں اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی تلوار بنا لوں اس وقت فتنے رونما ہورہے ہیں اس لئے میں نے اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی بنالی ہے پھر مرض الوفات میں انہوں نے اپنے اہل خانہ کو وصیت کی کہ انہیں کفن تو دیں لیکن قمیص نہ پہنائیں راوی کہتے ہیں کہ ہم انہیں قمیص پہنا دیں صبح ہوئی تو وہ کپڑے ٹانگنے والی لکڑی پر پڑی ہوئی تھی۔