Musnad Ahmad #20670
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ الدِّيلِيُّ ، عَنْ عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا فِي مَنْزِلِهِ، فَمَرِضَ، فَأَفَاقَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ، فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَصْرَةِ، فَأَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِهِ، فَسَلَّمَ، وَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّيْخُ السَّلَامَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ؟ قَالَ: بِخَيْرٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَلَا تَخْرُجُ مَعِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، فَتُعِينَنِي؟ قَالَ: بَلَى، إِنْ رَضِيتَ بِمَا أُعْطِيكَ، قَالَ عَلِيٌّ:" إِذَا كَانَتْ فِتْنَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ اتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ"، فَهَذَا سَيْفِي، فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ، وَلَا فِي سَيْفِكَ، فَرَجَعَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ، وَلَمْ يَدْخُلْ .
اردو ترجمہ · Urdu
عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ان کے گھر میں تھے کہ وہ بیمار ہوگئے جب انہیں اپنے مرض سے افاقہ ہوا تو کچھ ہی عرصے بعد حضرت علی بصرہ میں تشریف لائے اور ان کے گھر بھی آئے اور گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا والد صاحب نے انہیں جواب دیا حضرت علی نے ان سے پوچھا ابومسلم! آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ خیریت سے ہوں حضرت علی نے فرمایا آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد نہیں کرتے انہوں نے کہا کیوں نہیں بشرطیکہ آپ اس چیز پر راضی ہوجائیں جو میں آپ کو دوں گا حضرت علی نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا لڑکی میری تلوار لاؤ میں نے نیام سمیت ان کی تلوار نکالی اور ان کی گود میں رکھ دی انہوں اس کا کچھ حصہ سے نیام سے باہر نکلا پھر سر اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں فتنے رونماہونے لگے تو میں لکڑی کی تلواربنا لوں یہ میری تلوار حاضر ہے اگر آپ چاہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلنے کو تیارہوں حضرت علی نے فرمایا فی الحال ہمیں آپ کی یا آپ کی تلوار کی فوری ضرورت نہیں ہے پھر وہ کمرے کے دروازے سے باہر تشریف لے گئے اور دوبارہ اس حوالے سے نہیں آئے۔