Musnad Ahmad #20528
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ جَذَعًا، ثُمَّ ثَنِيًّا، ثُمَّ رَبَاعِيًا، ثُمَّ سَدَاسِيًّا، ثُمَّ بَازِلًا"، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ فَمَا بَعْدَ الْبُزُولِ إِلَّا النُّقْصَانُ .
اردو ترجمہ · Urdu
ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت عمر فاروق بھی تھے انہوں نے لوگوں میں سے ایک آدمی سے فرمایا کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کے حالات کس طرح بیان کرتے ہوئے سنا تھا انہوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کا آغاز بکری کے چھ ماہ کے بچے کی طرح ہوا ہے جو دو دانت کا ہوا پھر چار دانت کا ہوا پھر چھ دانت کا ہوا پھر کچھلی کے دانتوں والا ہوا۔ اس پر حضرت عمر کہنے لگا کہ کچھلی کے دانتوں کے بعد نقصان کی طرف واپسی شروع ہوجاتی ہے۔