Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 12 · Chapter 829

بصرہ کی روایات

ایک شخص کی حدیث جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا

1 hadith in this chapter

20360

Musnad Ahmad #20360

Zaeef

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، قَالَ: وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي : أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ، أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا، فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ، فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي، فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ رَجُلًا أَشَدَّ سَوَادًا أَصْفَرَ مِنْهُ، وَلَا آدَمَ بَعْينٍ بِنَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَدَقَةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ , قَالَ: فَلَزِمَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ! فَوَاللَّهِ لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ , قَالَ: فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَذَبْتَ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا" ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ:" وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ مِنَ الْإِبِلِ" ثَلَاثًا , قَالُوا: إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا" وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ:" قَدْ أَفْلَحَ الْمُزْهِدُ الْمُجْهِدُ , ثَلَاثًا , الْمُزْهِدُ فِي الْعَيْشِ، الْمُجْهِدُ فِي الْعِبَادَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بقیع میں ہماری مجلس پر ایک آدمی کھڑا ہو اور کہنے لگا کہ میرے والد یا چچا نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت البقیع میں دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے جو شخص کوئی چیز صدقہ کرتا ہے میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا یہ سن کر میں اپنے عمامے کا ایک دو پرت کھولنے لگا کہ انہیں صدقہ کروں گا پھر مجھے بھی وہی وسوسہ آگیا جو عام طور پر ابن آدم کو پیش آتا ہے اس لئے میں نے اپناعمامہ واپس باندھ لیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی جس کی مانند سیاہ اور گندمی رنک کا کوئی آدمی میں نے جنت البقیع میں نہیں دیکھا تھا وہ ایک اونٹنی کو لئے چلاآرہا تھا جس سے زیادہ حسین کوئی اونٹنی میں نے پورے جنت البقیع میں نہیں دیکھی اس نے آکرعرض کی یا رسول اللہ کیا میں صدقہ پیش کرسکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے کہا پھر یہ اونٹنی قبول فرما لیجیے پھر وہ آدمی چلا گیا میں نے کہا ایسا آدمی یہ صدقہ کررہا ہے واللہ یہ اونٹنی اس سے بہتر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی اور فرمایا تم غلط کہہ رہے ہو بلکہ وہ تم سے اور اس اونٹنی سے بہتر ہے تین مرتبہ فرمایا پھر فرمایا سینکڑوں اونٹ رکھنے والوں کے لئے ہلاکت ہے سوائے۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ سوائے کس کے؟ فرمایا سوائے اس شخص کے جو مال کو اس اس طرح خرچ کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی بند کرکے دائیں بائیں اشارہ فرمایا پھر فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جو زندگی میں بےرغبت اور عبادت میں خوب محنت کرنے والا ہو۔