Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 12 · Chapter 824

بصرہ کی روایات

ایک شخص کی حدیث

2 hadiths in this chapter

20351

Musnad Ahmad #20351

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى، وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: " هَؤُلَاءِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ" وَأَشَارَ إِلَى الْيَهُودِ، قَالَ: فَمَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ:" هَؤُلَاءِ الضَّالِّينَ" يَعْنِي النَّصَارَى , قَالَ وَجَاءَهُ: رَجُلٌ فَقَالَ: اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ، أَوْ قَالَ: غُلَامُكَ فُلَانٌ , فَقَالَ:" بَلْ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صحابی سے مروی ہے کہ وادی قری میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار تھے بنوقین کے کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مغضوب علیھم ہیں اور یہودیوں کی طرف اشارہ فرمایا اس نے پوچھا پھر یہ کون ہیں فرمایا یہ گمراہ ہیں اور نصاری کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ وہ جہنم میں اپنی چادر کھینچ رہا ہے یہ سزا ہے اس چادر کی جو اس نے مال غنیمت سے خیانت کرکے لی تھی۔

20691

Musnad Ahmad #20691

See Details

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: " فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ سورة الفجر آية 25 - 26" يَعْنِي يَفْعَلُ بِهِ، قَالَ خَالِدٌ: وَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ سورة الفجر آية 25، أَيْ يَفْعَلُ بِهِ .

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فیومئذ لایعذب عذابہ احد والی آیت کو مجہول (یعنی یعذب میں ذال کے فتحہ اور یوثق میں ث کے فتحہ کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس دن کسی شخص کو اس جیسا عذاب نہیں دیا جائے گا اور کسی کو اس طرح جکڑا نہیں جائے گا۔