Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 11 · Chapter 701

کوفہ والوں کی بقیہ روایات

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالی اور مروان بن حکم رضی اللہ تعالی کی مرویات

12 hadiths in this chapter

18931

Musnad Ahmad #18931

Hasan

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ : حَدَّثَنِي بكير يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ، فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً، وَقَالَ: لاَ أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی کے اشارے سے جواب دیا۔

18932

Musnad Ahmad #18932

Hasan

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأْنْصَارِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مَنْ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ، قَالَ: سَمِعْتُ صُهَيْبَ بْنَ سِنَانٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَصْدَقَ امْرَأَةً صَدَاقًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهَا، فَغَرَّهَا بِاللَّهِ، وَاسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِالْبَاطِلِ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ زَانٍ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ادَّانَ مِنْ رَجُلٍ دَيْنًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهِ، فَغَرَّهُ بِاللَّهِ، وَاسْتَحَلَّ مَالَهُ بِالْبَاطِلِ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ سَارِقٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی عورت کا مہر مقرر کرے اور اللہ جانتا ہے ہو کہ اس کا وہ مہر ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے صرف اللہ کے نام سے دھوکہ دے کر ناحق اس کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کرلیتا ہے تو وہ اللہ سے قیامت کے دن اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا شمار زانیوں میں ہوگا اور جو شخص کسی آدمی سے قرض کے طور پر کچھ پیسے لے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کا وہ قرض واپس ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے صرف اللہ کے نام سے دھوکہ دے کر ناحق کسی کے مال کو اپنے اوپر حلال کرتا ہے تو وہ اللہ سے قیامت کے دن اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا شمار چوروں میں ہوگا۔

18933

Musnad Ahmad #18933

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ أَيَّامَ حُنَيْنٍ بِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ يَفْعَلُهُ قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ نَبِيًّا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَعْجَبَتْهُ أُمَّتُهُ، فَقَالَ: لَنْ يَرُومَ هَؤُلاَءِ شَيْءٌ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ خَيِّرْهُمْ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاَثٍ، إِمَّا أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ، أَوْ الْجُوعَ أَوْ الْمَوْتَ"، قَالَ:" فَقَالُوا: أَمَّا الْقَتْلُ أَوْ الْجُوعُ، فَلَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَلَكِنْ الْمَوْتُ" قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَاتَ فِي ثَلَاثٍ سَبْعُونَ أَلْفًا"، قَالَ: فَقَالَ:" فَأَنَا أَقُولُ الَآْنَ اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے رہتے تھے اس سے پہلے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا بعد میں فرمایا کہ پہلی امتوں میں ایک پیغمبر تھے انہیں اپنی امت کی تعداد پر اطمینان اور خوشی ہوئی اور ان کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ یہ لوگ کبھی شکست نہیں کھاسکتے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی طرف وحی بھیجی اور انہیں تین میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ یا تو ان پر کسی دشمن کو مسلط کردوں جو ان کا خون بہائے یا بھوک کو مسلط کردوں یا موت کو؟ وہ کہنے لگے کہ قتل اور بھوک کی تو ہم میں طاقت نہیں ہے البتہ موت ہم پر مسلط کردی جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف تین دن میں ان کے ستر ہزار آدمی مرگئے اس لئے اب میں یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ! میں تیری ہی مدد سے حیلہ کرتا ہوں تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے قتال کرتا ہوں۔

18934

Musnad Ahmad #18934

Sahih

حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِبْتُ مِنْ أَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لَأَحَدٍ إِلَاََّّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، كَانَ ذَلِكَ لَهُ خَيْرًا، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ، كَانَ ذَلِكَ لَهُ خَيْرًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے تو مسلمانوں کے معاملات پر تعجب ہوتا ہے کہ اس کے معاملے میں سراسر خیر ہی خیر ہے اور یہ سعادت مؤمن کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے کہ گر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے جو کہ اس کے لئے سراسر خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی سراسر خیر ہے۔

18935

Musnad Ahmad #18935

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نُودُوا: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا لَمْ تَرَوْهُ، فَقَالُوا: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَتُزَحْزِحْنَا عَنِ النَّارِ، وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ؟" قَالَ:" فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْهُ" ثُمَّ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26 .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ اے اہل جنت! اللہ کا تم سے ایک وعدہ باقی ہے جو ابھی تک تم نے نہیں دیکھا جنتی کہیں گے کہ وہ کیا ہے؟ کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل نہیں کیا؟ اس کے جواب میں حجاب اٹھا دیا جائے گا اور جنتی اپنے پروردگار کی زیارت کرسکیں گے بخدا! اللہ نے انہیں جتنی نعمتیں عطاء کر رکھی ہوں گی انہیں اس نعمت سے زیادہ محبوب کوئی نعمت نہ ہوگی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ان لوگوں کے لئے جہنوں نے نیکیاں کیں عمدہ بدلہ اور " مزید اضافہ " ہے۔

18936

Musnad Ahmad #18936

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نُودُوا: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا، فَقَالُوا: أَلَمْ يُثَقِّلْ مَوَازِينَنَا، وَيُعْطِينَا كُتُبَنَا بِأَيْمَانِنَا، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَيُنْجِينَا مِنَ النَّارِ، فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ" قَالَ:" فَيَتَجَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ" قَالَ:" فَمَا أَعْطَاهُمْ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ اے اہل جنت! اللہ کا تم سے ایک وعدہ باقی ہے جو ابھی تک تم نے نہیں دیکھا جنتی کہیں گے کہ وہ کیا ہے؟ کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے بچاکر جنت میں داخل نہیں کیا؟ اس کے جواب میں حجاب اٹھادیا جائے گا اور جنتی اپنے پروردگار کی زیارت کرسکیں گے بخدا! اللہ نے انہیں جتنی نعمتیں عطاء کر رکھی ہوں گی انہیں اس نعمت سے زیادہ محبوب کوئی نعمت نہ ہوگی۔

18937

Musnad Ahmad #18937

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا نَفْهَمُهُ، وَلَا يُحَدِّثُنَا بِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَطِنْتُمْ لِي" قَالَ قَائِلٌ: نَعَمْ، قَالَ: " فَإِنِّي قَدْ ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الَأَََنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ، فَقَالَ: مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاَءِ، أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاَءِ" أَوْ كَلِمَةً شَبِيهَةً بِهَذِهِ شَكَّ سُلَيْمَانُ، قَالَ:" فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوْ الْجُوعَ أَوْ الْمَوْتَ" قَالَ:" فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالُوا: أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ، نَكِلُ ذَلِكَ إِلَيْكَ، فَخِرْ لَنَا" قَالَ:" فَقَامَ إِلَى صَلَاَتِهِ" قَالَ:" وَكَانُوا يَفْزَعُونَ إِذَا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاَةِ" قَالَ:" فَصَلَّى، قَالَ: أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا، أَوْ الْجُوعُ فَلَا، وَلَكِنْ الْمَوْتُ" قَالَ:" فَسُلِّطَ عَلَيْهِمْ الْمَوْتُ ثَلَاَثَةَ أَيَّامٍ، فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ: اللَّهُمَّ يَا رَبِّ، بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلَاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَاََّّ بِاللَّهِ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے رہتے تھے اس سے ہمیں کچھ سمجھ میں آتا اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے کچھ بیان فرماتے بعد میں فرمایا کہ پہلی امتوں میں ایک پیغمبر تھے انہیں اپنی امت کی تعداد پر اطمینان اور خوشی ہوئی اور ان کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ یہ لوگ کبھی شکست نہیں کھاسکتے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی طرف وحی بھیجی اور انہیں تین میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ یا تو ان پر کسی دشمن کو مسلط کردوں جو ان کا خوف بہائے یا بھوک کو مسلط کردوں یا موت کو؟ انہوں نے اپنی قوم سے اس کے متعلق مشورہ کیا وہ کہنے لگے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں یہ معاملہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں آپ ہی کسی ایک صورت کو ترجیح دے لیں چناچہ وہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کا معمول رہا ہے کہ ان پر جب بھی کوئی پریشانی آتی تو وہ نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے بہرحال! نماز سے فارغ ہو کر وہ کہنے لگے کہ قتل اور بھوک کی تو ہم میں طاقت نہیں ہے البتہ موت ہم پر مسلط کردی جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف تین دن میں ان کے ستر ہزار آدمی مرگئے اس لئے اب میں یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ! میں تیری ہی مدد سے حیلہ کرتا ہوں تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے قتال کرتا ہوں اور گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی قدرت اللہ ہی سے مل سکتی ہے۔

18938

Musnad Ahmad #18938

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَوَاءً بِهَذَا الْكَلَاَمِ كُلِّهِ، وَبِهَذَا الَإِِِسْنَادِ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ: كَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاَةِ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

18939

Musnad Ahmad #18939

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِبْتُ لَأَِمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، لَيْسَ ذَلِكَ لأَِحَدٍ إِلَاَ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، وَكَانَ خَيْرًا، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، وَكَانَ خَيْرًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے تو مسلمانوں کے معاملات پر تعجب ہوتا ہے کہ اس کے معاملے میں سراسر خیر ہی خیر ہے اور یہ سعادت مومن کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے جو کہ اس کے لئے سراسر خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی سراسر خیر ہے۔

18940

Musnad Ahmad #18940

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَيَّامَ حُنَيْنٍ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بَعْدَ صَلَاَةِ الْفَجْرِ بِشَيْءٍ لَمْ نَكُنْ نَرَاهُ يَفْعَلُهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ، فَمَا هَذَا الَّذِي تُحَرِّكُ شَفَتَيْكَ؟ قَالَ: " إِنَّ نَبِيًّا فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَعْجَبَتْهُ كَثْرَةُ أُمَّتِهِ، فَقَالَ: لَنْ يَرُومَ هَؤُلَاَءِ شَيْءٌ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ خَيِّرْ أُمَّتَكَ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاَثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ، أَوْ الْجُوعَ، وَإِمَّا أَنْ أُرْسِلَ عَلَيْهِمْ الْمَوْتَ، فَشَاوَرَهُمْ، فَقَالُوا: أَمَّا الْعَدُوُّ، فَلَا طَاقَةَ لَنَا بِهِمْ، وَأَمَّا الْجُوعُ فَلَا صَبْرَ لَنَا عَلَيْهِ، وَلَكِنْ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ الْمَوْتَ، فَمَاتَ مِنْهُمْ فِي ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ سَبْعُونَ أَلْفًا" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَنَا أَقُولُ الآْنَ حَيْثُ رَأَى كَثْرَتَهُمْ اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے رہتے تھے اس سے پہلے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا بعد میں فرمایا کہ پہلی امتوں میں ایک پیغمبر تھے انہیں اپنی امت کی تعداد پر اطمینان اور خوشی ہوئی اور ان کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ یہ لوگ کبھی شکست نہیں کھاسکتے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی طرف وحی بھیجی اور انہیں تین میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ یا تو ان پر کسی دشمن کو مسلط کردوں جو ان کا خون بہائے یا بھوک کو مسلط کردوں یا موت کو؟ وہ کہنے لگے کہ قتل اور بھوک کی تو ہم میں طاقت نہیں ہے البتہ موت ہم پر مسلط کردی جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف تین دن میں ان کے ستر ہزار آدمی مرگئے اس لئے اب میں یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ! میں تیری ہی مدد سے حیلہ کرتا ہوں تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے قتال کرتا ہوں۔

18941

Musnad Ahmad #18941

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الآيَةَ: لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ يُثَقِّلْ مَوَازِينَنَا، وَيُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَيُجِرْنَا مِنَ النَّارِ" قَالَ:" فَيُكْشَفُ لَهُمْ الْحِجَابُ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ" قَالَ:" فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لَأَعْيُنِهِمْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کرکے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نیکیاں کیں عمدہ بدلہ اور " مزید اضافہ " ہے ارشاد فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ اے اہل جنت! اللہ کا تم سے ایک وعدہ باقی ہے جو ابھی تک تم نے نہیں دیکھا جنتی کہیں گے کہ وہ کیا ہے؟ کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل نہیں کیا؟ اس کے جواب میں حجاب اٹھا دیا جائے گا اور جنتی اپنے پروردگار کی زیارت کرسکیں گے بخدا! اللہ نے انہیں جتنی نعمتیں عطاء کر رکھی ہوں گی انہیں اس نعمت سے زیادہ محبوب کوئی نعمت نہ ہوگی۔

18942

Musnad Ahmad #18942

Zaeef

حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ لِصُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" لَوْلَا ثَلَاثُ خِصَالٍ فِيكَ، لَمْ يَكُنْ بِكَ بَأْسٌ، قَالَ: وَمَا هُنَّ، فَوَاللَّهِ مَا نَرَاكَ تَعِيبُ شَيْئًا؟ قَالَ: اكْتِنَاؤُكَ بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ، وَادِّعَاؤُكَ إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ وَأَنْتَ رَجُلٌ أَلْكَنُ، وَأَنَّكَ لَاَ تُمْسِكُ الْمَالَ، قَالَ: أَمَّا اكْتِنَائِي بِأَبِي يَحْيَى، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي بِهَا، فَلَا أَدَعُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ، وَأَمَّا ادِّعَائِي إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ، فَإِنِّي امْرُؤٌ مِنْهُمْ، وَلَكِنْ اسْتُرْضِعَ لِي بِالَأَيْلَةِ، فَهَذِهِ اللُّكْنَةُ مِنْ ذَاكَ، وَأَمَّا الْمَالُ، فَهَلْ تُرَانِي أُنْفِقُ إِلَاَّ فِي حَقٍّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے سے فرمایا اگر تم میں تین چیزیں نہ ہوتی تو تم میں کوئی عیب نہ ہوتا انہوں نے پوچھا وہ کیا ہیں؟ کیونکہ ہم نے تو کبھی آپ کو کسی چیز میں عیب نکالتے ہوئے دیکھا ہی نہیں انہوں نے فرمایا ایک تو یہ کہ تم اپنی کنیت ابویحیی رکھتے ہو حالانکہ تمہارے یہاں کوئی اولاد ہی نہیں ہے دوسرا یہ کہ تم اپنی نسبت نمر بن قاسط کی طرف کرتے ہو جبکہ تمہاری زبان میں لکنت ہے اور تم مال نہیں رکھتے۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ جہاں تک میری کنیت ابویحییٰ کا تعلق ہے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ہے لہٰذا اسے تو میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا یہاں تک کہ ان سے جا ملوں رہی نمر بن قاسط کی طرف میری نسبت تو یہ صحیح ہے کیونکہ میں ان ہی کا ایک فرد ہوں لیکن چونکہ میری رضاعت " ایلہ " میں ہوئی تھی اس وجہ سے یہ لکنت پیدا ہوگئی اور باقی رہا مال تو کیا کبھی آپ نے مجھے ایسی جگہ خرچ کرتے ہوئے دیکھا ہے جو ناحق ہو۔