Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 11 · Chapter 695

کوفہ والوں کی بقیہ روایات

حضرت کعب بن مرہ بہزی رضی اللہ تعالی کی حدیثیں

2 hadiths in this chapter

18896

Musnad Ahmad #18896

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ اللَّيْلِ أَجْوَبُ؟ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَسْمَعُ، قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّار" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کے رات کے کس حصے میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے آخری پہر میں۔ اور جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے گا۔

18897

Musnad Ahmad #18897

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ" قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" ثُمَّ الصَّلاَةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يُصَلَّى الْفَجْرُ، ثُمَّ لَاَ صَلاَةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ الصَّلَاَةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَاَ صَلاَةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاَةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ لَا صَلاَةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ" . قَالَ: " إِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ، خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ وَجْهِكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ يَدَيْكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ رِجْلَيْكَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کے رات کے کس حصے میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے آخری پہر میں، پھر نماز فجر تک نماز قبول ہوتی ہے نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے حتٰی کہ سورج ایک یا دو نیزوں کے برابر ہوجائے پھر نماز مقبول ہوتی ہے حتی کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہوجائے پھر زوال شمس تک کوئی نماز نہیں ہے پھر نماز مقبول ہوتی ہے حتیٰ کہ سورج ایک دو نیزوں کے برابررہ جائے پھر غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے اور فرمایا کہ جب تم اپنا چہرہ دھوتے ہو تو چہرے کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں ہاتھ دھوتے ہو تو ان کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں اور پاؤں دھوتے ہو تو پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں۔