Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 11 · Chapter 693

کوفہ والوں کی بقیہ روایات

حضرت عماربن یاسر رضی اللہ تعالی کی حدیثیں

16 hadiths in this chapter

18879

Musnad Ahmad #18879

Hasan

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمَّارًا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، لَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: هَلْ نَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟! قَالَ: لَا، وَلَكِنْ خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا السَّهْوَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي، وَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ مِنْ صَلاَتِهِ إِلَاَّ عُشْرُهَا، وَتُسْعُهَا، أَوْ ثُمُنُهَا، أَوْ سُبُعُهَا" حَتَّى انْتَهَى إِلَى آخِرِ الْعَدَدِ .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو ہلکی لیکن مکمل رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد بیٹھ گئے ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالیقظان! آپ نے یہ دو رکعتیں تو بہت ہی ہلکی پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کیا میں نے اس کی حدود میں کچھ کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ آپ نے بہت مختصر کر کے پڑھا ہے انہوں نے فرمایا میں نے ان رکعتوں میں بھولنے پر سبقت کی ہے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھتا ہے لیکن اسے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، یا ساتو اں حصہ ہی نصیب ہو پاتا ہے یہاں تک کہ آخری عدد تک پہنچ گئے۔

18880

Musnad Ahmad #18880

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ يَوْمَ صِفِّينَ: ائْتُونِي بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آخِرُ شَرْبَةٍ تَشْرَبُهَا مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةُ لَبَنٍ" فَأُتِيَ بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، فَشَرِبَهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقُتِلَ .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالبختری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس دودھ کا پیالہ لاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا دنیا میں سب سے آخری گھونٹ جو تم پیوگے وہ دودھ کا گھونٹ ہوگا چناچہ ان کے پاس دودھ لایا گیا انہوں نے اسے نوش فرمایا اور آگے بڑھ گئے اور شہید ہوگئے۔

18881

Musnad Ahmad #18881

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ أَبُو عُمَرَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے جس کے بارے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا آغاز بہتر ہے یا اختتام؟

18882

Musnad Ahmad #18882

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ، لَاَ نَجِدُ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا، فَلَمْ أَكُنْ لَأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا بِمَكَانِ كَذَا، وَنَحْنُ نَرْعَى الْإِبِلَ، فَتَعْلَمُ أَنَّا أَجْنَبْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي تَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ فَضَحِكَ وَقَالَ: " كَانَ الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ كَافِيَكَ" وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ . قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ! قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ مَا عِشْتُ أَوْ مَا حَيِيتُ قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن ابزی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھ پر غسل واجب ہوگیا ہے اور مجھے پانی نہیں مل رہا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز مت پڑھو، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے ہم دونوں پر غسل واجب ہوگیا اور پانی نہیں ملا تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا تمہارے لئے پاک مٹی ہی کافی تھی یہ کہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ہاتھ مارا پھر اس پر پھونک ماری اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر پھیرلیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمار! اللہ سے ڈرو انہوں نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! اگر آپ کہتے ہیں تو میں آئندہ مرتے دم تک اس حدیث کو بیان نہیں کروں گا؟ انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں، ہم تمہیں اس چیز کے سپرد کرتے ہیں جو تم اختیار کرلو۔

18883

Musnad Ahmad #18883

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْبُخْتُرِيِّ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ أُتِيَ بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " إِنَّ آخِرَ شَرَابٍ أَشْرَبُهُ لَبَنٌ حَتَّى أَمُوتَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالبختری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس دودھ کا پیالہ لاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا دنیا میں سب سے آخری گھونٹ جو تم پیوگے وہ دودھ کا گھونٹ ہوگا۔

18884

Musnad Ahmad #18884

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ عَمَّارًا يَوْمَ صِفِّينَ شَيْخًا كَبِيرًا، آدَمَ طُوَالًَا، آخِذًا الْحَرْبَةَ بِيَدِهِ، وَيَدُهُ تَرْعَدُ، فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ قَاتَلْتُ بِهَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاَثَ مَرَّاتٍ وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ ضَرَبُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا بِنَا سَعَفَاتِ هَجَرَ، لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِينَا عَلَى الْحَقِّ، وَأَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَاَلَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

عبد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ انتہائی بوڑھے، عمر رسیدہ، گندم گوں اور لمبے قد کے آدمی تھے، انہوں نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑ رکھا تھا اور ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس دست قدرت میں میری جان ہے میں نے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اس جھنڈے کو لے کر قتال کیا ہے اور یہ چوتھی مرتبہ ہے اس ذات کی قسم جس کے درست قدرت میں میری جان ہے اگر یہ لوگ ہمیں مارتے ہوئے ہجر کی چوٹیوں تک بھی پہنچ جائیں تب بھی میں یہی سمجھوں گا کہ ہمارے مصلحین برحق ہیں اور وہ غلطی پر ہیں۔

18885

Musnad Ahmad #18885

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ . قَالَ حَجَّاجٌ، سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ. قَالَ حَجَّاجٌ: أَرَأَيْتَ هَذَا الْأَمْرَ يَعْنِي قِتَالَهُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ؟ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ، أَوْ عَهْدًٌا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ فِي أُمَّتِي" قَالَ شُعْبَةُ: وأَحْسِبُهُ قَالَ: حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ: " إِنَّ فِي أُمَّتِي اثْنَيْ عَشَرَ مُنَافِقًا"، فَقَالَ:" لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ، سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوالیقظان! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خاص وصیت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ کی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میری امت میں بارہ منافق ہوں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اس کی مہک پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ان میں سے آٹھ وہ لوگ ہوں گے جن سے تمہاری کفایت " دبیلہ " کرے گا یہ آگ کا ایک پھوڑا ہوگا جو ان کے کندھوں پر نمودار ہوگا اور سینے تک سوراخ کردے گا۔

18886

Musnad Ahmad #18886

Zaeef

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّ عَمَّارًا قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًَا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ، فَضَمَّخُونِي بِالزَّعْفَرَانِ، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، فَقَالَ:" اغْسِلْ هَذَا"، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ:" اغْسِلْ هَذَا عَنْكَ"، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيَّ، وَرَحَّبَ بِي، وَقَالَ: " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِزَعْفَرَانٍ ولَا الْجُنُبَ" . وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس آیا میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے اس لئے انہوں نے میرے ہاتھوں پر زعفران مل دی صبح کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب دیا اور نہ ہی خوش آمدید کہا بلکہ فرمایا اسے دھو کر آؤ میں نے جا کر اسے دھولیا لیکن جب واپس آیا تو پھر بھی زعفران لگی رہ گئی تھی اس لئے اس مرتبہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور نہ ہی خوش آمدید کہا بلکہ فرمایا اسے دھو کر آؤ چناچہ اس مرتبہ میں نے اسے اچھی طرح دھویا اور پھر حاضر ہو کر سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب بھی دیا اور خوش آمدید بھی کہا اور فرمایا کہ رحمت کے فرشتے کافر کے جنازے، زعفران ملنے والے اور جنبی کے پاس نہیں آتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی آدمی کو وضو کرکے سوجانے یا کھانے پینے کی رخصت دی ہے۔

18887

Musnad Ahmad #18887

Sahih

حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًَا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : أَمَا تَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا" وَضَرَبَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَخَ فِي يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً .

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن ابزی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھ پر غسل واجب ہوگیا ہے اور مجھے پانی نہیں مل رہا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز مت پڑھو، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ امیرالمؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے ہم دونوں پر غسل واجب ہوگیا اور پانی نہیں ملا تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے اتنا ہی کافی تھا یہ کہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ہاتھ مارا پھر اس پر پھونک ماری اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر پھیرلیا۔

18888

Musnad Ahmad #18888

Sahih

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَبِي الْيَقْظَانِ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فهَلَكَ عِقْدٌ لِعَائِشَةَ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، فَتَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَائِشَةَ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ الرُّخْصَةُ فِي الْمَسْحِ بِالصُّعُدَاتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ، لَقَدْ نَزَلَ عَلَيْنَا فِيكِ رُخْصَةٌ، فَضَرَبْنَا بِأَيْدِينَا لوُجُوهِنَا وَضَرَبْنَا بِأَيْدِينَا ضَرْبَةً إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالآبَاطِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گرپڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا بخدا! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے، اللہ نے تیری وجہ سے ہم پر رخصت نازل فرما دی ہے چناچہ ہم نے ایک ضرب چہرے کے لئے لگائی اور ایک ضرب سے کندھوں اور بغلوں تک ہاتھ پھیرلیا۔

18889

Musnad Ahmad #18889

Zaeef

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، حدَّثَنَا أَبُو رَاشِدٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَمَّارُ ، فَتَجَوَّزَ فِي خُطْبَتِهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: لَقَدْ قُلْتَ قَوْلًَا شِفَاءً، فَلَوْ أَنَّكَ أَطَلْتَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نُطِيلَ الْخُطْبَةَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں انتہائی بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا جب وہ منبر سے نیچے اترے تو ایک قریشی آدمی نے عرض کیا اے ابوالیقظان! آپ نے نہایت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا، اگر آپ طویل گفتگو فرماتے تو کیا خوب ہوتا انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبے خطبے سے منع فرمایا ہے۔

18890

Musnad Ahmad #18890

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخَوَّارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ يُخْبِرُ، عَنْ رَجُلٍ أخْبَرَهُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ زَعَمَ عُمَرُ أَنَّ يَحْيَى قَدْ سَمَّى ذَلِكَ الرَّجُلَ، وَنَسِيَهُ عُمَرُ: أَنَّ عَمَّارًا، قَالَ: تَخَلَّقْتُ خَلُوقًا، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: " اذْهَبْ يَا ابْنَ أُمِّ عَمَّارٍ، فَاغْسِلْ عَنْكَ" فَرَجَعْتُ، فَغَسَلْتُ عَنِّي، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَانْتَهَرَنِي أَيْضًا، قَالَ:" ارْجِعْ فَاغْسِلْ عَنْكَ" فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے " خلوق " نامی خوشبو لگالی جب بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھڑک کر فرمایا اے ابن ام عمار! اسے دھو کر آؤ میں نے جا کر اسے دھولیا لیکن جب واپس آیا تو اس مرتبہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھڑک کر فرمایا اسے دھو کر آؤ تین مرتبہ اس طرح ہوا۔

18891

Musnad Ahmad #18891

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مَعَهُ عَائِشَةُ، فَهَلَكَ عِقْدُهَا، فَاحُتبِسَ النَّاسُ فِي ابْتِغَائِهِ حَتَّى أَصْبَحُوا وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَنَزَلَ التَّيَمُّمُ" . قَالَ عَمَّارٌ: فَقَامُوا فَمَسَحُوا، فَضَرَبُوا أَيْدِيَهُمْ، فَمَسَحُوا بها وُجُوهَهُمْ، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ ثَانِيَةً، ثُمَّ مَسَحُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَى الْإِبِطَيْنِ. أَوْ قَالَ: إِلَى الْمَنَاكِبِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گرپڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا بخدا! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے، اللہ نے تیری وجہ سے ہم پر رخصت نازل فرمادی ہے چناچہ ہم نے ایک ضرب چہرے کے لئے لگائی اور ایک ضرب سے کندھوں اور بغلوں تک ہاتھ پھیرلیا۔

18892

Musnad Ahmad #18892

Sahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ ، سَمِعَهُ عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ: كُنْتُ أَجِدُ الْمَذْيَ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ أَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي، فَقُلْتُ لِعَمَّارٍ : سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ برسر منبر کوفہ فرمایا کہ مجھے مذی کے خروج کا مرض تھا، میں اس وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرماتا تھا کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں تو میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم یہ مسئلہ پوچھو، انہوں نے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی صورت میں وضو کافی ہے۔

18893

Musnad Ahmad #18893

Sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ الرُّخْصَةَ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصَّعِيدِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّهُمْ ضَرَبُوا أَكُفَّهُمْ فِي الصَّعِيدِ، فَمَسَحُوا بِهِ وُجُوهَهُمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا، فَمَسَحُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

18894

Musnad Ahmad #18894

Sahih

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَأَخَفَّ الصَّلَاَةَ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ، قُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، لَقَدْ خَفَّفْتَ، قَالَ: فَهَلْ رَأَيْتَنِي انْتَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟! قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي بَادَرْتُ بِهَا سَهْوَةَ الشَّيْطَانِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيُصَلِّي الصَّلاَةَ، مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْهَا إِلَاَّ عُشْرُهَا، تُسْعُهَا، ثُمُنُهَا، سُبُعُهَا، سُدُسُهَا، خُمُسُهَا، رُبُعُهَا، ثُلُثُهَا، نِصْفُهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکربن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو ہلکی لیکن مکمل رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد بیٹھ گئے ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالیقظان! آپ نے یہ دو رکعتیں تو بہت ہی ہلکی پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کیا میں نے اس کی حدود میں کچھ کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ آپ نے بہت مختصر کر کے پڑھا ہے انہوں نے فرمایا میں نے ان رکعتوں میں بھولنے پر سبقت کی ہے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھتا ہے لیکن اسے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، یا ساتواں حصہ ہی نصیب ہوپاتا ہے یہاں تک کہ آخری عدد تک پہنچ گئے۔