Musnad Ahmad #18787
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيّ ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا، فَنَشْرَبُ مِنْهَا، قَالَ:" لَا" فَعَاوَدْتُهُ، فَقَالَ:" لَا"، فَقُلْتُ: إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا لِلْمَرِيضِ، فَقَالَ: " إِنَّ ذَاكَ لَيْسَ شِفَاءً، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ" ..
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت طارق بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب پی سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے اپنی بات کی تکرار کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پر پلاسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔