Musnad Ahmad #18777
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ شِبَاك ، ٍعَنْ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنِي فُلَاَنٌ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاَثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ، سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ مَمْلُوكًا وَأَسْلَمَ قَبْلَنَا، فَقَالَ: " لَا، هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ثُمَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الشِّتَاءِ، وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً يَعْنِي فِي الطَّهُورِ، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِيهِ .
اردو ترجمہ · Urdu
ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے ہمیں نماز سے قبل وضو نہ کرنے کی رخصت دے دیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی پھر ہم نے کدو کے برتن کی اجازت مانگی تو اس وقت اس کی بھی اجازت نہیں دی پھر ہم نے درخواست کی کہ ابوبکرہ کو ہمارے حوالے کردیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں سے نکل کر اسلام قبول کرلیا تھا۔