Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 9 · Chapter 105

دعاؤں کا بیان

بَاب سَعَة رَحْمَة الله

رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان

17 hadiths in this chapter

2364

Mishkat al-Masabih #2364

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي «. وَفِي رِوَايَةٍ» غَلَبَتْ غَضَبي

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس عرش پر ہے ، کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میرے غضب پر غالب آ گئی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2365

Mishkat al-Masabih #2365

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ للَّهِ مائةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطُفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَة»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت جنوں ، انسانوں ، حیوانوں اور زہریلے جانوروں میں اتار دی جس کے ذریعے وہ باہم شفقت اور رحم کرتے ہیں ، اسی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے ، جبکہ اللہ نے ننانوے رحمتیں اپنے پاس رکھی ہیں جن کے ذریعے وہ روز قیامت اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2366

Mishkat al-Masabih #2366

Sahih

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ سَلْمَانَ نَحْوُهُ وَفِي آخِرِهِ قَالَ: «فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَة»

اردو ترجمہ · Urdu

صحیح مسلم میں سلمان سے مروی روایت اسی طرح ہے ، اور اس کے آخر میں ہے ، فرمایا :’’ پس جب روز قیامت ہو گا تو وہ اس رحمت سے ان (ننانوے رحمتوں) کو مکمل (سو) فرمائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2367

Mishkat al-Masabih #2367

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يُعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ من جنته أحد»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر مومن کو اللہ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھے ، اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا پتہ چل جائے تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2368

Mishkat al-Masabih #2368

Sahih

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے اور جہنم بھی اسی طرح ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2369

Mishkat al-Masabih #2369

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ لِأَهْلِهِ وَفِي رِوَايَةٍ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فو الله لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ لَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی نے ، جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی ، اپنے اہل خانہ سے کہا ، جبکہ دوسری روایت میں ہے : کسی آدمی نے بہت گناہ کیے تھے ، پس جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی ، جب وہ فوت ہو جائے تو اسے جلا دینا ، پھر اس (راکھ) کے نصف حصے کو خشکی میں اور اس کے نصف کو سمندر میں بہا دینا ، اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے اس (مجھ) پر تنگی کی تو وہ اسے ایسا عذاب دے گا کہ اس نے تمام جہان والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہیں دیا ہو گا ، پس جب وہ فوت ہو گیا تو انہوں نے اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا ، پس اللہ نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس حصے کو جو کہ اس کے اندر تھا ، جمع کر دیا ، اور خشکی (زمین) کو حکم دیا تو اس نے بھی اس حصے کو جو اس کے اندر تھا ، جمع کر دیا ، پھر اس (اللہ تعالیٰ) نے اس (آدمی) سے فرمایا : تم نے ایسے کیوں کیا ؟ اس نے عرض کیا : رب جی ! تیرے ڈر کی وجہ سے ، جبکہ تو جانتا ہے ، پس اس نے اسے معاف کر دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2370

Mishkat al-Masabih #2370

Sahih

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحَلَّبَ ثديُها تسْعَى إِذا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟» فَقُلْنَا: لَا وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ: «لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِها»

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے ، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی چھاتی سے دودھ نکل رہا تھا ، وہ دوڑتی پھرتی تھی ، جب وہ قیدیوں میں کوئی بچہ پاتی تو اسے پکڑ کر اپنے پیٹ سے لگاتی اور اسے دودھ پلاتی ، نبی ﷺ نے ہمیں فرمایا :’’ کیا تم گمان کر سکتے ہو یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں ، اگر وہ اسے نہ پھینکنے پر قادر ہو ، (تو وہ نہیں پھینکے گی) ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اپنے بندوں پر اس عورت سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنا یہ اپنے بچے پر مہربان ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2371

Mishkat al-Masabih #2371

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ» قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَتِهِ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا واغْدُوا وروحوا وشيءٌ من الدُّلْجَةِ والقَصدَ القصدَ تبلغوا»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کسی شخص کے اعمال اسے نجات نہیں دلائیں گے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور میں بھی نہیں ، مگر یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے ، دُرستی کے ساتھ عمل کرتے رہو ، میانہ روی اختیار کرو ، صبح و شام اور رات کے کچھ حصہ میں عبادت کرو ، اعتدال کا خیال رکھو ، اعتدال کا خیال رکھو ، اس طرح تم منزل پا لو گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2372

Mishkat al-Masabih #2372

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَلَا يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ وَلَا أَنا إِلا برحمةِ الله» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں داخل کرا سکتا ہے نہ اسے جہنم سے بچا سکتا ہے اور میں بھی اللہ کی رحمت کے ساتھ (جنت میں جاؤں گا) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2373

Mishkat al-Masabih #2373

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا وَكَانَ بَعْدَ الْقِصَاصِ: الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ مسلمان ہو جاتا ہے اور اپنے اسلام کو بہتر بناتا ہے تو اللہ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے ، اور اس (اسلام قبول کرنے) کے بعد پھر بدلہ شروع ہو جاتا ہے ، نیکی کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ، جبکہ برائی کا بدلہ اس کے مثل ہوتا ہے الا یہ کہ اللہ اس سے درگزر فرمائے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2374

Mishkat al-Masabih #2374

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الحسناتِ والسيِّئاتِ: فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لهُ عندَهُ حَسَنَة كَامِلَة فَإِن هم بعملها كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بسيئة فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِن هُوَ هم بعملها كتبهَا الله لَهُ سَيِّئَة وَاحِدَة

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے نیکیاں اور برائیاں لکھی ہیں ، جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اسے کیا نہیں تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے ، اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں دس گنا سے سات سو گنا اور اس سے بھی بڑھا کر لکھ لیتا ہے ، اور جو شخص برائی کرنے کا ارادہ کرے لیکن اسے کرے نہیں تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں ایک کامل نیکی لکھ لیتا ہے ، لیکن اگر وہ اس (برائی) کا ارادہ کرے اور اسے کر گزرے تو اللہ اسے اس کے حق میں ایک ہی برائی لکھتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2375

Mishkat al-Masabih #2375

Sahih

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ\nعَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يعْمل السَّيئَة ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ أُخْرَى فَانْفَكَّتْ أُخْرَى حَتَّى تَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ»\nرَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة\n

اردو ترجمہ · Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص گناہ کرتا ہے اور پھر نیک عمل کرتا ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس پر تنگ زِرہ ہو جس نے اس کا گلا گھونٹ رکھا ہو ، پھر وہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو ایک کڑی کھل گئی ، پھر اس نے دوسری نیکی کی تو دوسری کڑی کھل گئی حتیٰ کہ وہ کھل کر زمین پر آ رہی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔

2376

Mishkat al-Masabih #2376

Sahih

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُول: (ولِمنْ خافَ مقامَ رَبِّهِ جنَّتانِ)\nقُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الثَّانِيَةَ: (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جنَّتان)\nفقلتُ الثانيةَ: وإِنْ زنى وسرق؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الثَّالِثَةَ: (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ)\nفَقُلْتُ الثَّالِثَةَ: وَإِنْ زَنَى وسرق؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أبي الدَّرْدَاء» . رَوَاهُ أَحْمد\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو منبر پر وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سنا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے ؟ آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ فرمایا :’’ جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔‘‘ میں نے دوسری مرتبہ عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے ؟ آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا :’’ جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔‘‘ تو میں نے بھی تیسری مرتبہ عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔

2377

Mishkat al-Masabih #2377

Zaeef

وَعَنْ عَامِرٍ الرَّامِ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ يَعْنِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بَغِيضَةِ شَجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي فَهُنَّ أُولَاءِ مَعِي قَالَ: «ضَعْهُنَّ» فَوَضَعْتُهُنَّ وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُومَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أتعجبون لرحم أم الْفِرَاخ فراخها؟ فو الَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ: لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الْفِرَاخ بِفِرَاخِهَا ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ . فَرَجَعَ بِهِنَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عامر رام ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی آیا ، اس پر چادر تھی اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے اس نے لپیٹ رکھا تھا ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں درختوں کے جھنڈ کے پاس سے گزرا تو میں نے اس میں پرندوں کے بچوں کی آوازیں سنیں تو میں نے انہیں پکڑ لیا ، اور انہیں اپنی چادر میں رکھ لیا ، پھر ان کی ماں آئی اور میرے سر پر چکر لگانے لگی ، میں نے ان (بچوں) سے پردہ ہٹایا تو وہ بھی ان پر آ گری ، میں نے انہیں اپنی چادر میں لپیٹ لیا ، اور وہ یہ میرے پاس ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں رکھو ۔‘‘ اس نے انہیں رکھا تو ان کی ماں بھی ان کے ساتھ ہی رہی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم بچوں کی ماں کے اپنے بچوں کے ساتھ رحم کرنے پر تعجب کرتے ہو ؟ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ، بچوں کی ماں کے اپنے بچوں کے ساتھ رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے ، انہیں وہیں جا کر رکھ آؤ جہاں سے تم نے انہیں اٹھایا تھا ۔‘‘ اور ان کی ماں بھی ان کے ساتھ تھی ، وہ (آدمی) انہیں واپس لے گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

2378

Mishkat al-Masabih #2378

Zaeef

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ وَامْرَأَةٌ تَحْضِبُ بِقِدْرِهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجٌ تَنَحَّتْ بِهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُم على وَلَدهَا؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَتْ: إِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا الله . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے ، آپ ﷺ کسی قوم کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ کون لوگ ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم مسلمان ہیں ، وہاں ایک عورت ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہی تھی ، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا ، جب آگ کی تپش تیز ہوتی تو وہ اس بچے کو دور کر لیتی ، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، کیا اللہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیوں نہیں ۔‘‘ پھر اس نے عرض کیا ، کیا اللہ اپنے بندوں پر ، ماں کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیوں نہیں ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر ماں تو یقیناً اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈال سکتی ، رسول اللہ ﷺ سر جھکا کر رونے لگے ، پھر آپ نے اس کی طرف سر اٹھا کر فرمایا :’’ اللہ اپنے بندوں میں سے صرف سرکش لوگوں کو عذاب دے گا اور وہ سرکش بھی ایسے جو اللہ کے خلاف سرکشی کرتے ہیں اور ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کہنے سے انکار کر دیتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ ابن ماجہ ۔

2379

Mishkat al-Masabih #2379

Sahih

وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لجبريل: إِن فلَانا عَبدِي يتلمس أَنْ يُرْضِيَنِي أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ العرشِ ويقولُها مَن حَولهمْ حَتَّى يَقُولُهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ إِلى الأَرْض . رَوَاهُ أَحْمد

اردو ترجمہ · Urdu

ثوبان ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ اللہ کی رضا مندی تلاش کرتا ہے ، وہ اسی کوشش میں لگا رہتا ہے تو اللہ عزوجل جبرائیل سے فرماتا ہے : میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے ، سن لو میری رحمت اس پر ہے ، تو جبرائیل فرماتے ہیں : اللہ کی رحمت فلاں شخص پر ہے ، پھر حاملین عرش یہی کہتے ہیں اور پھر ان کے آس پاس والے یہی کہتے ہیں ، حتیٰ کہ ساتوں آسمان والے یہی اعلان کرتے ہیں ، پھر اس کی وجہ سے وہ (رحمت) زمین پر اترتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

2380

Mishkat al-Masabih #2380

Zaeef

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: (فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سابقٌ بالخيراتَ)\nقَالَ: كُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ\n

اردو ترجمہ · Urdu

اسامہ بن زید ؓ نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ کہ اس فرمان :’’ ان میں سے کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے ، اور کوئی میانہ رو ہے اور کوئی نیکیوں میں بڑھنے والا ہے ۔‘‘ کے بارے میں روایت کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ سب جنتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی ۔