Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 6 · Chapter 81

زکوۃ کا بیان

بَابُ مَا يَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ

کن کن چیزوں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے

21 hadiths in this chapter

1794

Mishkat al-Masabih #1794

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ من الْإِبِل صَدَقَة»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پانچ وسق سے کم کھجور پر ، پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر اور پانچ سے کم اونٹوں پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

1795

Mishkat al-Masabih #1795

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَيْسَ فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ اس کے غلام پر صدقہ فطر کے سوا کوئی صدقہ واجب نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

1796

Mishkat al-Masabih #1796

Sahih

وَعَن أنس بن مَالك: أَن أَبَا بكر رَضِي الله عَنهُ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرِينِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَالَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عز وَجل بهَا رَسُوله فَمن سَأَلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِ: فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِل فَمَا دونهَا خَمْسٍ شَاةٌ. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَإِذَا بلغت سِتا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بنت لبون أُنْثَى. فَإِذا بلغت سِتَّة وَأَرْبَعين إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَة. فَإِذا بلغت سِتا وَسبعين فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ. فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ. فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ. وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةَ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْده جَذَعَة وَعِنْده حقة فَإِنَّهَا تقبل مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةَ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةَ الْحِقَّةِ وَلَيْسَت إِلَّا عِنْده بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بنت لبون وَعِنْده حقة فَإِنَّهَا تقبل مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بَنْتَ لِبَوْنٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطَى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بَنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ. فَإِنْ لَمْ تَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْن لَبُونٍ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ. وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاة إِلَى عشْرين وَمِائَة شَاة فَإِن زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَان. فَإِن زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ. فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ. فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. وَلَا تُخْرَجَ فِي الصَّدَقَة هرمة وَلَا ذَات عور وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ. وَلَا يجمع بَين متفرق وَلَا يفرق بَين مُجْتَمع خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ. وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ جب ابوبکر ؓ نے انہیں بحرین کی طرف بھیجا تو انہوں نے مجھے یہ تحریر دی :’’ شروع اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ فریضہ زکوۃ جسے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ، جس کے متعلق اللہ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ، جس مسلمان سے اس طریقے پر زکوۃ کا مطالبہ کیا جائے تو وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس مشروع طریقے سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو وہ نہ دے ۔ چوبیس اور اس سے کم اونٹ پر زکوۃ میں بکریاں لی جائیں گی ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے ، جب اونٹ پچیس سے پینتیس ہو جائیں تو پھر ان پر اونٹ کا ایک سالہ مؤنث بچہ بطور زکوۃ لیا جائے گا ، جب اونٹ چھتیس سے پنتالیس تک پہنچ جائیں تو ان پر دو برس کی اونٹنی واجب ہے ، جب چھیالیس سے ساٹھ تک پہنچ جائیں تو ان پر تین برس مکمل ہونے کے بعد چوتھے سال والی اونٹنی واجب ہے جو گابھن ہونے کے قابل ہو ، جب اکسٹھ سے پچھتر ہو جائیں تو ان پر چار برس مکمل ہونے کے بعد پانچویں برس والی اونٹنی واجب ہے ، جب وہ چھہتر سے نوے ہو جائیں تو ان پر دو دو سال کی دو اونٹنیاں واجب ہیں ، اور جب اکانوے سے ایک سو بیس ہو جائیں تو پھر ان پر تین برس مکمل کر کے چوتھے سال کی دو اونٹنیاں واجب ہیں جو کہ گابھن ہونے کے قابل ہوں ، اور جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر چالیس پر دو سالہ اونٹنی اور ہر پچاس پر ایک تین اور چار سال کے درمیان والی اونٹنی واجب ہے ، اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر کوئی زکوۃ فرض نہیں ہوتی البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو نفلی صدقہ کر سکتا ہے) جب پانچ ہو جائیں تو پھر ان پر ایک بکری واجب ہے ، اور جس شخص پر صدقہ میں چار اور پانچ برس کے درمیان کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس اس کے بجائے تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ قبول کر لی جائے گی اور اگر اسے میسر ہو تو وہ اس کے ساتھ دو بکریاں ملائے گا ، یا پھر بیس درہم ، اور جس شخص پر صدقہ میں تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس اس بجائے چار اور پانچ سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ وصول کی جاے گی اور صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا ، اور جس شخص پر تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی فرض ہوتی ہو اس کے پاس یہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس دو سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ قبول کر لی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا ، اور جس شخص پر صدقہ میں دو سال کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی قبول کر لی جائے گی لیکن صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا ، اور جس شخص پر صدقہ میں دو سال کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس یہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس ایک سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی ایک سال کی اونٹنی قبول کی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا ، اور اسی طرح جس شخص پر صدقہ میں ایک سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی قبول کر لی جائےگی لیکن صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں عطا کرے گا ، اگر فرض کریں اس کے پاس ایک سال کی اونٹنی نہیں بلکہ اس کے پاس ایک سال کا اونٹ ہو تو اس سے اسے وصول کر لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کچھ اور نہیں ہو گا ، اور چرنے والی بکریوں کے بارے میں صدقہ کی شرح اس طرح ہے کہ جب وہ چالیس سے ایک سو بیس تک ہوں تو ان پر ایک بکری صدقہ ہے ، اور جب ایک سو اکیس سے دو سو تک ہوں تو ان پر دو بکریاں ہیں ، اور جب دو سو سے تین سو تک ہوں تو ان پر تین بکریاں ہیں ، اور جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری ہے ، اور اگر کسی چرواہے کی بکریاں چالیس سے کم (انتالیس بھی) ہو گئیں تو ان پر زکوۃ نہیں ہاں اگر ان کا مالک اپنی مرضی سے چاہے تو نفلی صدقہ کر سکتا ہے ، صدقہ میں بوڑھی بکری ، عیب دار اور سانڈ نہیں دیا جائے گا مگر جو صدقہ وصول کرنے والا چاہے ، اور صدقہ کے اندیشے کے پیش نظر متفرق مال کو جمع کیا جائے نہ اکٹھے مال کو متفرق کیا جائے ، اور جو مال دو شریکوں کا اکٹھا ہو تو وہ زکوۃ بقدر حصہ برابر ادا کریں ، چاندی میں چالیسواں حصہ ہے ، اور اگر چاندی صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس پر کوئی زکوۃ نہیں الاّ کہ اس کا مالک ادا کرنا چاہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

1797

Mishkat al-Masabih #1797

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ. وَمَا سقِِي بالنضح نصف الْعشْر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کھیتی کو بارش یا چشمہ سیراب کرتا ہو یا وہ کھیتی خود بخود سیراب ہو تو اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جسے کنویں کے پانی سے سینچا جائے تو اس میں نصف عشر (بیسواں) حصہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

1798

Mishkat al-Masabih #1798

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «العجماء جرحها جَبَّار والبشر جَبَّار والمعدن جَبَّار وَفِي الرِّكَاز الْخمس»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جانور کا زخم معاف ہے (اس پر کوئی دیت و تاوان نہیں) ، کنویں میں اور کان میں موت واقع ہو جائے تو اس پر کوئی معاوضہ نہیں ، اور دفینے پر پانچواں حصہ زکوۃ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

1799

Mishkat al-Masabih #1799

Zaeef

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةً الرِّقَةِ: مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ\nوَفِي رِوَايَةٍ لأبي دَاوُد عَن الْحَارِث عَنْ عَلِيٍّ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ. فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ. فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ. وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَة ز فَإِن زَادَت وَاحِدَة فشاتان إِلَى مِائَتَيْنِ. فَإِن زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ على ثَلَاث مائَة فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ. فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَيْءٌ\nوَفِي الْبَقَرِ: فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ وَفِي الْأَرْبَعين مُسِنَّة وَلَيْسَ على العوامل شَيْء\n

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے گھوڑے اور غلام (کی زکوۃ) کے بارے میں درگزر فرمایا ، تم ہر چالیس درہم چاندی پر ایک درہم زکوۃ دو ، ایک سو نوے درہم پر کوئی زکوۃ نہیں ، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان پر پانچ درہم ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور حارث الاعورعن علی کی سند سے ابوداؤد کی روایت ہے ، زہیر بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ یہ حدیث نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چالیسواں حصہ لاؤ ، ہر چالیس درہم پر ایک درہم ہے ، اور جب تک دو سو درہم نہ ہو جائیں تم پر کچھ بھی فرض نہیں ، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان پر پانچ درہم زکوۃ ہے ، جب درہم زیادہ ہوتے جائیں تو پھر اسی حساب سے زکوۃ ہو گی ، بکریوں کے بارے میں ہے کہ ہر چالیس بکریوں پر ایک بکری ہے ، اور یہ ایک سو بیس بکریوں تک ایک ہی ہے ، اور ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بکریاں ہیں ، دو سو ایک سے تین سو تک تین بکریاں ہیں ، جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری ہے ، اگر انتالیس بکریاں ہوں تو ان پر تمہارے ذمہ کوئی زکوۃ نہیں ، اور گائے کے بارے میں ہر تیس گائے پر گائے کا ایک سالہ بچہ ہے ، اور چالیس پر دو سالہ بچہ ہے ، جبکہ کھتی باڑی وغیرہ کا کام کرنے والے جانوروں پر زکوۃ واجب نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

1800

Mishkat al-Masabih #1800

Zaeef

وَعَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ الْبَقَرَة: مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كل أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي\n

اردو ترجمہ · Urdu

معاذ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے انہیں (مجھے) گائے کے متعلق حکم فرمایا کہ ہر تیس پر گائے کا ایک سالہ نر یا مادہ بچہ وصول کرے اور ہر چالیس پر دو سالہ بچہ ۔‘‘ ضعیف ۔

1801

Mishkat al-Masabih #1801

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا ، زکوۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

1802

Mishkat al-Masabih #1802

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ پانچ وسق سے کم غلے اور کھجور پر کوئی زکوۃ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔

1803

Mishkat al-Masabih #1803

Zaeef

وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ. مُرْسل رَوَاهُ فِي شرح السّنة

اردو ترجمہ · Urdu

موسی بن طلحہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ہمارے پاس معاذ بن جبل ؓ کی وہ تحریر ہے جو نبی ﷺ نے انہیں عطا کی تھی ، جس میں انہوں نے ان کو حکم فرمایا تھا کہ گندم ، جو ، منقی اور کھجور میں سے زکوۃ لی جائے ۔ ضعیف ۔

1804

Mishkat al-Masabih #1804

Zaeef

وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُومِ: «إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا تُخْرَصُ النَّخْلُ ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد\n

اردو ترجمہ · Urdu

عتاب بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انگوروں کی زکوۃ کے متعلق فرمایا :’’ کھجوروں کی طرح ان کا اندازہ کیا جائے گا پھر ان کی زکوۃ منقی سے ادا کی جائے گی جس طرح کھجوروں کی زکوۃ چھوہاروں سے ادا کی جاتی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

1805

Mishkat al-Masabih #1805

Sahih

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

سہیل بن ابی حشمہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ جب تم اندازہ کر لو تو پھر زکوۃ وصول کرو تہائی حصہ چھوڑ دو ، اگر تم تہائی حصہ نہ چھوڑو تو پھر چوتھائی چھوڑ دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

1806

Mishkat al-Masabih #1806

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يبْعَث عبد الله ابْن رَوَاحَةَ إِلَى يَهُودٍ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ عبداللہ بن رواحہ ؓ کو یہودیوں کے پاس بھیجا کرتے تھے ، جب کھجوروں میں مٹھاس آ جاتی اور وہ ابھی کھانے کے قابل نہ ہوتیں تو وہ ان کا اندازہ کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

1807

Mishkat al-Masabih #1807

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فِي الْعَمَل: «فِي كُلِّ عَشْرَةِ أَزُقٍّ زِقٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَاب كثير شَيْء\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے شہد کے بارے میں فرمایا :’’ ہر دس مشکیزوں (کنستروں) پر ایک مشکیزہ زکوۃ ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند پر کلام کیا گیا ہے ، اور اس بارے میں نبی ﷺ سے کوئی زیادہ صحیح چیز ثابت نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

1808

Mishkat al-Masabih #1808

Sahih

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا :’’ خواتین کی جماعت ! صدقہ کرو ، خواہ اپنے زیورات سے کرو ، کیونکہ روز قیامت جہنم میں تم زیادہ ہوں گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

1809

Mishkat al-Masabih #1809

Sahih

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَيْدِيهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُمَا: «تُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ؟» قَالَتَا: لَا. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟» قَالَتَا: لَا. قَالَ: «فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث قد رَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْء

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے ، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا :’’ کیا تم اس (سونے) کی زکوۃ ادا کرتی ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی نہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’ـ’ کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنا دے ؟ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر اس سونے کی زکوۃ ادا کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : مثنی بن صباح نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے ، جبکہ مثنی بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف ہیں ، اس بارے میں نبی ﷺ سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

1810

Mishkat al-Masabih #1810

Zaeef

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: «مَا بلغ أَن يُؤدى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں سونے کے پازیب پہنا کرتی تھی ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ بھی خزانہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مال نصاب زکوۃ کو پہنچ جائے اور اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے تو پھر وہ خزانہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

1811

Mishkat al-Masabih #1811

Zaeef

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم تجارت کے لیے تیار کیے گئے مال کی زکوۃ ادا کریں ۔ ضعیف ۔

1812

Mishkat al-Masabih #1812

Sahih

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ معادن الْقبلية وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا تُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ؒ بہت سے صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال بن حارث المزنی ؓ کو قبلیہ کی کانیں عطا فرمائیں اور یہ فرع کی طرف ہیں ، اور ان سے آج تک صرف زکوۃ ہی وصول کی جاتی ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

1813

Mishkat al-Masabih #1813

Zaeef

عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْجَبْهَةِ صَدَقَةٌ» . قَالَ الصَّقْرُ: الْجَبْهَةُ الْخَيل وَالْبِغَال وَالْعَبِيد. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ سبزیوں ، عطیہ کردہ پھل دار درختوں ، پانچ وسق سے کم اناج ، استعمال میں آنے والے مویشیوں اور ’’ جبھہ ‘‘ پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ صقر راوی نے بتایا :’’ جبھہ ‘‘ سے گھوڑے ، خچر اور غلام مراد ہیں ۔ ضعیف ۔

1814

Mishkat al-Masabih #1814

Zaeef

وَعَنْ طَاوُسٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَى بِوَقَصِ الْبَقَرِ فَقَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَقَالَ: الْوَقَصُ مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ

اردو ترجمہ · Urdu

طاؤس ؒ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل ؓ کے پاس نصاب سے کم گائیں لائی گئیں تو انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ نے اس بارے میں مجھے کچھ نہیں فرمایا ۔ دارقطنی ، شافعی ، اور انہوں نے فرمایا :’’ وقص ‘‘ سے مراد وہ تعداد ہے جو نصاب تک نہ پہنچے ۔ ضعیف ۔