Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 4 · Chapter 70

نماز کا بیان

بَابٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ

سجدۂ شکر کا بیان

3 hadiths in this chapter

1494

Mishkat al-Masabih #1494

Sahih

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرٌ سُرُورًا أَوْ يُسَرُّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شَاكِرًا لِلَّهِ تَعَالَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حسن غَرِيب

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کو کوئی خوش کن معاملہ درپیش ہوتا تو آپ ﷺ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ ریز ہو جایا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

1495

Mishkat al-Masabih #1495

Zaeef

وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مِنَ النُّغَاشِينَ فَخَرَّ ساجا. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ لَفْظُ المصابيح

اردو ترجمہ · Urdu

ابوجعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کسی چھوٹے سے قد والے (بونے) شخص کو دیکھا تو آپ سجدہ ریز ہو گئے ۔ دارقطنی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ، اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ ضعیف ۔

1496

Mishkat al-Masabih #1496

Zaeef

وَعَن سعد بن أبي وَقاص قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نم مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَزَاءَ نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا قَالَ: «إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مدینہ جانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے ۔ جب ہم عزوزاء کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ سواری سے نیچے اترے ، کچھ دیر تک ہاتھ اٹھا کر کھڑے دعا کرتے رہے ، پھر سجدہ ریز ہو گئے ، پھر کافی دیر بعد آپ کھڑے ہوئے اور کچھ دیر تک ہاتھ اٹھائے اور پھر سجدہ ریز ہو گئے ، پھر کافی دیر بعد کھڑے ہوئے اور کچھ دیر تک ہاتھ اٹھائے اور پھر سجدہ ریز ہو گئے ، آپ نے فرمایا :’’ میں نے اپنے رب سے درخواست کی اور اپنی امت کے لیے شفاعت کی تو اس نے مجھے میری امت کے بارے میں ایک تہائی شفاعت کی اجازت عطا فرمائی ، تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا ، پھر میں نے سر اٹھایا تو اپنی امت کے لیے اپنے رب سے سوال کیا تو اس نے مزید میری ایک تہائی امت کی شفاعت کی مجھے اجازت عطا فرمائی تو میں شکر کے طور پر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا ، پھر میں نے سر اٹھایا تو میں نے اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اس نے آخری تہائی کی شفاعت کی مجھے اجازت عطا فرمائی تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے اس کے حضور سجدہ ریز ہو گیا ۔‘‘ ضعیف ۔