Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 4 · Chapter 67

نماز کا بیان

بَاب فِي الْأُضْحِية

قربانی کا بیان

30 hadiths in this chapter

1453

Mishkat al-Masabih #1453

Sahih

عَن أنس قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكبر قَالَ: رَأَيْته وضاعا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا وَيَقُولُ: «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أكبر»

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ’’ بسم اللہ و اللہ اکبر ‘‘ پڑھ کر اپنے دست مبارک سے چتکبرے ، سینگوں والے دو مینڈھے ذبح کیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ان کے پہلو پر اپنا قدم رکھا اور آپ ﷺ پڑھ رہے تھے :((بسم اللہ و اللہ اکبر)) ۔ متفق علیہ ۔

1454

Mishkat al-Masabih #1454

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرَكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ» ثُمَّ قَالَ: «اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ» فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» . ثُمَّ ضحى بِهِ. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم فرمایا جس کی ٹانگیں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ تھیں ، اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تاکہ آپ اسے قربان کریں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! چھری لاؤ ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اسے پتھر پر تیز کرو ۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا تو آپ ﷺ نے چھری پکڑ کر مینڈھے کو لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو یوں دعا کی :’’ اللہ کے نام پر ، اے اللہ ! اسے محمد (ﷺ) ، آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اسے ذبح کیا ۔ رواہ مسلم ۔

1455

Mishkat al-Masabih #1455

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْن» . رَوَاهُ مُسلم\n

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف دو دانت والا جانور ذبح کرو ، اگر تمہیں (اس کا ملنا) مشکل ہو تو پھر ایک سال کا مینڈھا ذبح کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

1456

Mishkat al-Masabih #1456

Sahih

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يقسمها على صحابته ضحايا فَبَقيَ عتود فَذكره لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ضَحِّ بِهِ أَنْتَ» وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصابني جذع قَالَ: «ضح بِهِ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں کچھ بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے آپ کے صحابہ ؓ میں تقسیم کر دی جائیں ۔ (تقسیم کے بعد) بکری کا ایک سال کا بچہ باقی رہ گیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اسے ذبح کر لو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں : میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے حصے میں جذع (ایک سال سے زائد عمر کا جانور) آیا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اسے ذبح کر لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

1457

Mishkat al-Masabih #1457

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ گائے اور اونٹ عید گاہ میں ذبح کیا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

1458

Mishkat al-Masabih #1458

Sahih

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ\n

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ گائے اور اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کے لیے کافی ہے ۔‘‘ مسلم ، ابوداؤد اور الفاظ حدیث ابوداؤد کے ہیں ۔ رواہ مسلم و ابوداؤد ۔

1459

Mishkat al-Masabih #1459

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا» وَفِي رِوَايَةٍ «فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا» وَفِي رِوَايَةٍ «مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ذوالحجہ کا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور جلد سے کوئی چیز نہ اتارے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ اپنے بال کٹوائے نہ ناخن ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھ لے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال کٹوائے نہ ناخن ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

1460

Mishkat al-Masabih #1460

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرَةِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ باقی دنوں میں کیے گئے عمل کی نسبت ان دس ایام میں کیا گیا عمل اللہ کو انتہائی پسندیدہ ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی اتنا پسندیدہ نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہاد بھی نہیں ، الا یہ کہ کوئی شخص اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کے لیے جائے اور اس کی کوئی چیز واپس نہ آئے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

1461

Mishkat al-Masabih #1461

Zaeef

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ موجئين فَلَمَّا وجههما قَالَ: «إِنِّي وجهت وَجْهي للَّذي فطر السَّمَوَات وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ: ذَبَحَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ من أمتِي»

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے عید الاضحی کے روز سینگوں والے چتکبرے دو خصی مینڈھے ذبح کیے ، جب آپ ﷺ نے انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ دعا پڑھی :’’ بے شک میں نے ابراہیم جو کہ یکسو تھے کے دین پر ہوتے ہوئے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ، بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں ، اے اللہ ! (یہ قربانی کا جانور) تیری عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے ، اسے محمد (ﷺ) اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما ، اللہ کے نام سے اور اللہ بہت بڑا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ذبح فرمایا ۔ احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور احمد ، ابوداؤد اور ترمذی کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے ذبح کیا ، اور یہ دعا پڑھی :’’ اللہ کے نام سے ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ، اے اللہ ! یہ میری اور میری امت کے اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ۔‘‘ ضعیف ۔

1462

Mishkat al-Masabih #1462

Zaeef

وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: (إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ\n

اردو ترجمہ · Urdu

حنش ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے علی ؓ کو دو مینڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے دریافت کیا ، یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں ، سو میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں ۔ ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی ؒ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

1463

Mishkat al-Masabih #1463

Zaeef

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَلَّا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي وانتهت رِوَايَته إِلَى قَوْله: وَالْأُذن\n

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیا کریں ، اور ہم ایسا جانور ذبح نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو یا پیچھے سے کٹا ہو ، اور اس میں کوئی سوراخ تک نہ ہو ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، دارمی ، ابن ماجہ اور ابن ماجہ کی روایت ((الاذن)) تک ختم ہو جاتی ہے ۔ ضعیف ۔

1464

Mishkat al-Masabih #1464

Sahih

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن نضحي بأعضب الْقرن وَالْأُذن. رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا اس کا کان کٹا ہوا ہو ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

1465

Mishkat al-Masabih #1465

Sahih

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ: «أَرْبَعًا الْعَرْجَاءُ والبين ظلعها والعرواء الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تَنْقَى» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کن جانوروں کی قربانی میں احتیاط کرنی چاہیے ؟ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے چار کا ذکر فرمایا :’’ ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو ، ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ، مریض جس کا مریض ہونا ظاہر ہو ، اور لاغر جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

1466

Mishkat al-Masabih #1466

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ يَنْظُرُ فِي سَوَادٍ وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سینگوں والا ، موٹا تازہ صحت مند اور کالی آنکھوں والا ، سیاہ منہ والا اور کالی ٹانگوں والا مینڈھا قربانی کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

1467

Mishkat al-Masabih #1467

Sahih

وَعَن مجاشع مِنْ بَنَى سُلَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه\n

اردو ترجمہ · Urdu

بنو سلیم قبیلے سے تعلق رکھنے والے مجاشع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ جہاں دو دانت والے بکرے کی قربانی کفایت کرتی ہے وہاں ایک سال کے مینڈھے کی قربانی بھی کفایت کرتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

1468

Mishkat al-Masabih #1468

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجذع من الضَّأْن» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایک سال کے مینڈھے کی قربانی اچھی قربانی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

1469

Mishkat al-Masabih #1469

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةٌ وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ عید الاضحی آ گئی تو ہم گائے میں سات افراد شریک ہوئے اور اونٹ میں دس ۔ ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

1470

Mishkat al-Masabih #1470

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ وَإِنَّهُ لَيُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ الله بمَكَان قبل أَن يَقع بِالْأَرْضِ فيطيبوا بهَا نفسا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قربانی کے دن ، ابن آدم کا قربانی کرنا اللہ کو انتہائی محبوب ہے ، بے شک وہ (جانور) روز قیامت اپنے سینگوں ، بالوں ، اور کھروں سمیت آئے گا ، بے شک قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے ، پس تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔

1471

Mishkat al-Masabih #1471

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ إِسْنَادُهُ ضَعِيف\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ذوالحجہ کے دس دنوں کی عبادت اللہ کو انتہائی محبوب ہے اس عشرہ کے ہر دن کے روزے کا ثواب سال بھر کے روزوں اور اس کی ہر رات کا قیام ، شب قدر کے قیام کے برابر ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔

1472

Mishkat al-Masabih #1472

Sahih

عَن جُنْدُب بن عبد الله قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى يَوْمَ النَّحْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعْدُ أَن صلى وَفرغ من صلَاته وَسلم فَإِذا هُوَ يرى لَحْمَ أَضَاحِيٍّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فليذبح باسم الله»

اردو ترجمہ · Urdu

جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عید الاضحی ادا کی ، آپ نے صرف نماز پڑھ کر سلام ہی پھیرا تھا (ابھی خطبہ ارشاد نہیں فرمایا تھا) کہ آپ نے قربانی کا گوشت دیکھا جسے آپ کے نماز پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا گیا تھا ، آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا :’’ جس شخص نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے جانور ذبح کیا ہے وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے نبی ﷺ نے قربانی کے دن نماز پڑھائی ، پھر خطبہ ارشاد فرمایا ، پھر جانور ذبح کیا ، اور فرمایا :’’ جس شخص نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کی ہے ۔ وہ اس کی جگہ ایک اور جانور ذبح کرے ، اور جس نے جانور ذبح نہیں کیا ، وہ اللہ کے نام پر جانور ذبح کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

1473

Mishkat al-Masabih #1473

Sahih

وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: الْأَضْحَى يَوْمَانِ بعد يَوْم الْأَضْحَى. رَوَاهُ مَالك\n

اردو ترجمہ · Urdu

نافع ؒ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا : قربانی کے دن کے دو دن بعد تک قربانی کرنا جائز ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔

1474

Mishkat al-Masabih #1474

Sahih

وَقَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مثله

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک ؒ فرماتے ہیں : علی بن ابی طالب ؓ سے بھی اسی طرح کی روایت مجھے پہنچتی ہے ۔ حسن ، رواہ مالک ۔

1475

Mishkat al-Masabih #1475

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضحي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپ ﷺ قربانی کرتے رہے ۔ ضعیف ۔

1476

Mishkat al-Masabih #1476

Zaeef

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: «سُنَّةُ أبيكم إِبْرَاهِيم عَلَيْهِ السَّلَام» قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ» . قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَة» رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے اس میں کیا (ثواب) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اون کے بارے میں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اون کے ہر ریشے پر ایک نیکی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ۔

2627

Mishkat al-Masabih #2627

Sahih

عَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا فِي صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ وَسَلَّتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ على الْبَيْدَاء أهل بِالْحَجِّ. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر ذوالحلیفہ کے مقام پر ادا کی ، پھر آپ نے اپنی اونٹنی منگوائی ، آپ نے اس کی کوہان کے دائیں پہلو پر ہلکا سا زخم لگایا ، وہاں سے خون بہنے لگا ، آپ نے وہ خون صاف کر دیا اور اس کی گردن میں دو جوتے ڈال دیے ، پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہو گئے ، جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے حج کے لیے تلبیہ پکارا ۔ رواہ مسلم ۔

2628

Mishkat al-Masabih #2628

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْدَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مرّة إِلَى الْبَيْت غنما فقلدها

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے ایک مرتبہ چند بکریاں بطور قربانی ، بیت اللہ بھجوائیں تو آپ ﷺ نے انہیں قلادہ (ہار وغیرہ) پہنایا ۔ متفق علیہ ۔

2629

Mishkat al-Masabih #2629

Sahih

وَعَن جَابر قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے عائشہ ؓ کی طرف سے قربانی کے روز ایک گائے ذبح کی ۔ رواہ مسلم ۔

2630

Mishkat al-Masabih #2630

Sahih

وَعنهُ قَالَ: نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے اپنے حج کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے ذبح کی ۔ رواہ مسلم ۔

2631

Mishkat al-Masabih #2631

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا فَمَا حَرُم عَلَيْهِ كانَ أُحِلَّ لَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کے قربانی کے اونٹوں کے قلادے خود اپنے ہاتھوں سے بٹے ، پھر آپ نے انہیں قلادے پہنائے ، ان کا شعار کیا اور انہیں قربانی کے لیے بھیجا ، اور جو چیز آپ کے لیے حلال کی گئی وہ آپ ﷺ پر حرام نہیں ہوئی تھی ۔ متفق علیہ ۔

2632

Mishkat al-Masabih #2632

Sahih

وَعَنْهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدِي ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ان کے قلادے ، اون سے تیار کیے جو کہ میرے پاس موجود تھی ، پھر آپ ﷺ نے انہیں میرے والد کے ساتھ (بیت اللہ) روانہ کیا ۔ متفق علیہ ۔\n