Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 4 · Chapter 45

نماز کا بیان

بَاب الْإِمَامَة

امامت کا بیان

12 hadiths in this chapter

1117

Mishkat al-Masabih #1117

Sahih

عَن أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «وَلَا يَؤُمَّنَّ الرجل الرجل فِي أَهله»

اردو ترجمہ · Urdu

ابومسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں سے کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے (جاننے ، سمجھنے) والا ہو ، پس اگر وہ قراءت میں سب برابر ہوں تو پھر ان میں سے جو سنت کو زیادہ جاننے والا ہو ، اگر وہ سنت میں برابر ہوں تو پھر ان میں سے جس نے ہجرت پہلے کی ہو ، اور اگر وہ ہجرت کرنے میں برابر ہوں تو پھر ان میں سے جو عمر میں بڑا ہو ، اور کوئی شخص کسی کی جگہ (بلا اجازت) امامت کرائے نہ بلا اجازت اس کے گھر میں اس کی عزت کی جگہ بیٹھے ۔‘‘ مسلم ۔ اور مسلم ہی کی روایت میں ہے :’’ کوئی آدمی کسی آدمی کی اس کے گھر میں امامت نہ کرائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

1118

Mishkat al-Masabih #1118

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فليؤمهم أحدهم وأحقهم بِالْإِمَامِ أَقْرَؤُهُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَذَكَرَ حَدِيثَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ فِي بَابٍ بَعْدَ بَابِ «فَضْلِ الْأَذَانِ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرائے اور ان میں سے جو زیادہ قرآن پڑھنے والا ہے وہ امامت کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ مسلم ، اور مالک بن حویرث ؓ سے مروی حدیث باب فضل الاذان کے بعد والے باب میں بیان ہو چکی ہے ۔ رواہ مسلم ۔

1119

Mishkat al-Masabih #1119

Zaeef

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ وليؤمكم قراؤكم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے بہتر شخص اذان کہے اور تم میں سے بہتر قاری تمہیں نماز پڑھائے ۔‘‘ ضعیف ۔

1120

Mishkat al-Masabih #1120

Sahih

وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بن الْحُوَيْرِث يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمَ فَصْلُهُ. قَالَ لَنَا قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ زار قوما فَلَا يؤمهم وليؤمهم رجل مِنْهُم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ اقْتَصَرَ عَلَى لَفْظِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوعطیہ عقیلی بیان کرتے ہیں ، مالک بن حویرث ؓ ہماری نماز کی جگہ پر ہمارے پاس تشریف لایا کرتے اور باتیں کیا کرتے تھے ، ایک روز نماز کا وقت ہو گیا ، ابوعطیہ نے کہا ، ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں ، انہوں نے ہمیں فرمایا : اپنے کسی آدمی کو آگے کرو وہ تمہیں نماز پڑھائے گا :’’ میں عنقریب تمہیں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھاتا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی قوم کے پاس جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرائے بلکہ انہی میں سے کوئی شخص ان کی امامت کرائے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، البتہ انہوں نے نبی ﷺ کے الفاظ تک اکتفا کیا ہے ۔ حسن ۔

1121

Mishkat al-Masabih #1121

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاس وَهُوَ أعمى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ابن مکتوم ؓ کو خلیفہ مقرر فرمایا ، وہ لوگوں کی امامت کراتے تھے حالانکہ وہ نابینا تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

1122

Mishkat al-Masabih #1122

Sahih

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں کی نماز ان کے کانوں سے آگے نہیں جاتی ، مفرور غلام حتیٰ کہ وہ واپس آ جائے ، وہ عورت جو اس حال میں رات بسر کرے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو ، اور لوگوں کا امام جبکہ وہ اسے نا پسند کرتے ہوں ۔‘‘ ترمذی اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

1123

Mishkat al-Masabih #1123

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلَاتُهُمْ: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا وَالدِّبَارُ: أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَةً . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی : وہ امام جسے مقتدی نا پسند کرتے ہوں ، ایک وہ شخص جو نماز کا وقت گزر جانے کے بعد نماز پڑھتا ہے ، اور ایک وہ آدمی جو کسی آزاد شخص کو غلام بنا لے ۔‘‘ ضعیف ۔

1124

Mishkat al-Masabih #1124

Zaeef

وَعَن سَلامَة بنت الْحر قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

سلامہ بنت حر ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مسجد والے نماز پڑھانے سے جان چھڑائیں گے وہ نماز پڑھانے کے لیے کوئی امام نہیں پائیں گے ۔‘‘ ضعیف ۔

1125

Mishkat al-Masabih #1125

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر امیر کی معیت میں جہاد کرنا تم پر فرض ہے ، خواہ وہ نیک ہو یا فاجر ، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو ، اور ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا تم پر واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا فاجر ، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو اور ہر مسلمان پر نماز پڑھنا واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا فاجر ، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو ۔‘‘ ضعیف ۔

1126

Mishkat al-Masabih #1126

Sahih

عَن عَمْرو بن سَلمَة قَالَ: كُنَّا بِمَاء ممر النَّاس وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ نَسْأَلُهُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا لِلنَّاسِ؟ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ يَزْعُمُ أَنَّ الله أرْسلهُ أوحى إِلَيْهِ أَو أوحى الله كَذَا. فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمُ الْفَتْحَ فَيَقُولُونَ اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهُ فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ حَقًّا فَقَالَ: «صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِين كَذَا وصلوا صَلَاة كَذَا فِي حِينِ كَذَا فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فليؤذن أحدكُم وليؤمكم أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي لَمَّا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتِّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ فَاشْتَرَوْا فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيص. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک چشمہ پر رہائش پذیر تھے جو لوگوں کے لیے عام گزر گاہ تھا ، قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم ان سے پوچھتے رہتے کہ اب لوگوں کا کیا حال ہے ؟ اور اس شخص کی کیا کیفیت ہے ؟ تو وہ کہتے : اس شخص کا خیال ہے کہ اللہ نے اسے رسول بنا کر بھیجا ہے ، اس کی طرف یہ یہ وحی کی گئی ہے ، میں ان سے یہ باتیں یاد کر لیتا ، گویا وہ میرے دل میں گھر کر گئی ہیں ، اور عرب اسلام قبول کرنے کے بارے میں فتح مکہ کے منتظر تھے ، وہ کہتے تھے : اسے اور اس کی قوم کو (اس کے حال پر) چھوڑ دو ، اگر وہ ان پر غالب آ گیا تو وہ سچا نبی ہے ، جب مکہ فتح ہوا تو ہر قوم نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی ، اور میرے والد نے بھی اسلام قبول کرنے میں اپنی قوم سے جلدی کی ، جب وہ واپس پہنچے تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں سچے نبی کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں ، انہوں نے فرمایا :’’ یہ نماز اس وقت پڑھو اور یہ نماز اس وقت پڑھو ، تم میں سے کوئی ایک شخص اذان کہہ دے اور تم میں سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تمہاری امامت کرائے ۔‘‘ انہوں نے جائزہ لیا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہیں تھا ، کیونکہ میں قافلوں سے سن کر قرآن کا علم حاصل کر چکا تھا ، انہوں نے مجھے اپنا امام بنا لیا ، میں اس وقت چھ یا سات برس کا تھا ، میرے اوپر ایک چادر ہی تھی ، جب میں سجدہ کرتا تو وہ سکڑ جاتی ، (اور میرا ستر کھل جاتا ، یہ دیکھ کر) قبیلے کی ایک عورت نے کہا : تم اپنے امام کا سرین ہم سے کیوں نہیں چھپاتے ہو ؟ انہوں نے (کپڑا) خریدا اور میرے لیے قمیض بنائی ، میں جتنا اس قمیض سے خوش ہوا اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوا ۔ رواہ البخاری ۔

1127

Mishkat al-Masabih #1127

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْمَدِينَةَ كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَفِيهِمْ عُمَرُ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأسد. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب اول مہاجرین مدینہ تشریف لائے تو ابوحذیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سالم ان کی امامت کرایا کرتے تھے جبکہ عمر ؓ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد ؓ ان میں موجود تھے ۔ رواہ البخاری ۔

1128

Mishkat al-Masabih #1128

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرْفَعُ لَهُم صلَاتهم فَوق رؤوسهم شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگ ہیں ، جن کی نمازیں ان کے سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتیں : وہ امام جس کے مقتدی اس سے ناراض ہوں ، وہ عورت جو اس حال میں رات بسر کرے کہ اس کا خاوند اس سے ناراض ہو اور باہم قطع تعلق کر لینے والے دو بھائی ۔‘‘ ضعیف ۔