Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 4 · Chapter 37

نماز کا بیان

بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة

نماز کے بعد ذکر کا بیان

19 hadiths in this chapter

959

Mishkat al-Masabih #959

Sahih

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم بِالتَّكْبِيرِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کا پورا ہونا اللہ اکبر کی آواز سے پہچانتا تھا ۔ متفق علیہ ۔

960

Mishkat al-Masabih #960

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجلَال وَالْإِكْرَام» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا :’’ اے اللہ ! تو سلامتی والا ہے ، تیری ہی طرف سے سلامتی ہے ، اے شان و اکرام والے ! تو بڑا ہی با برکت ہے ۔‘‘ پڑھنے تک (قبلہ رخ) بیٹھے رہتے ۔ رواہ مسلم ۔

961

Mishkat al-Masabih #961

Sahih

وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجلَال وَالْإِكْرَام» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو آپ ﷺ تین مرتبہ ’’ استغفراللہ ‘‘ کہتے اور پھر یہ کلمات پڑھتے ، ’’ اے اللہ ! تو سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے ، اے شان و اکرام والے ! تو بڑا ہی با برکت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

962

Mishkat al-Masabih #962

Sahih

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْك الْجد»

اردو ترجمہ · Urdu

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے حمد ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اے اللہ ! جو تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک لے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا ، اور دولت مند کو (اس کی) دولت تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

963

Mishkat al-Masabih #963

Sahih

وَعَن عبد الله بن الزبير قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُولُ بِصَوْتِهِ الْأَعْلَى: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه لَا إِلَه إِلَّا الله لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدّين وَلَو كره الْكَافِرُونَ» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے یہ دعا پڑھتے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ، اسی کے لیے نعمت و فضل اور اسی کے لیے بہترین تعریف ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، ہم اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہیں ، خواہ کافر اسے نا پسند کریں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

964

Mishkat al-Masabih #964

Sahih

وَعَن سعد أَن كَانَ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْن وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَاب الْقَبْر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

سعد ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے ، اور وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد ان کے ذریعے تعوذ (پناہ) حاصل کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اور اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ مجھے نکمی (یعنی بڑھاپے کی) عمر کی طرف پھیر دیا جائے ، اور اسی طرح میں دنیاوی فتنوں اور عذاب قبر سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

965

Mishkat al-Masabih #965

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: (إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: قَدْ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ» قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتَحْمَدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً» . قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوا مِثْلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِك فضل الله يؤته من يَشَاء» . وَلَيْسَ قَوْلُ أَبِي صَالِحٍ إِلَى آخِرِهِ إِلَّا عِنْدَ مُسْلِمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: «تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُكَبِّرُونَ عشرا» . بدل ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مہاجر فقراء رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا : مال دار دائمی نعمتیں اور بلند درجات پا گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ کیسے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں ویسے وہ نماز پڑھتے ہیں ، جیسے ہم روزے رکھتے ہیں ، ویسے وہ روزے رکھتے ہیں ، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے ، وہ غلام آزاد کرتے ہیں ، ہم غلام آزاد نہیں کرتے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں کوئی ایسی چیز نہ سکھاؤں جس کے ذریعے تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پا لو گے اور اپنے بعد والوں سے سبقت پا جاؤ گے ، اور تم سے صرف وہی (مال دار) شخص بہتر ہو گا جو تمہارے جیسا عمل کرے گا ؟ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ، ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار ((سبحان اللہ)) ، ((اللہ اکبر)) اور ((الحمدللہ)) پڑھ لیا کرو ۔‘‘ ابوصالح بیان کرتے ہیں ، مہاجر فقراء دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : ہمارے مال دار بھائیوں کو ہمارے عمل کا پتہ چل گیا ہے اور انہوں نے بھی وہی عمل شروع کر دیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اللہ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے ۔ بخاری ، مسلم ، لیکن ابوصالح کا قول صرف صحیح مسلم میں ہے ۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے :’’ تم ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ ((سبحان اللہ)) ، دس مرتبہ ((الحمدللہ)) اور دس مرتبہ ((اللہ اکبر)) پڑھا کرو یہ الفاظ :’’ تینتیس کے متبادل فرمائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

966

Mishkat al-Masabih #966

Sahih

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَة: ثَلَاث وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَة ثَلَاث وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر فرض نماز کے بعد چند کلمات کہے جاتے ہیں ، ان کا کہنے والا ناکام اور نامراد نہیں ہو گا ، تینتیس مرتبہ ((سبحان اللہ)) تینتیس مرتبہ ((الحمدللہ)) اور چونتیس مرتبہ ((اللہ اکبر)) کہنا :‘‘ رواہ مسلم ۔

967

Mishkat al-Masabih #967

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمَدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ ((سبحان اللہ)) تنتیس مرتبہ ((الحمدللہ)) اور تینتیس مرتبہ ((اللہ اکبر)) کہا پس یہ ننانوے ہوئے ، اور :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ‘‘ سے سو پورا کر لیا تو اس کے گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تو بھی معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

968

Mishkat al-Masabih #968

Zaeef

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: «جَوْفُ اللَّيْلِ الآخر ودبر الصَّلَوَات المكتوبات» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری نصف شب میں اور فرض نمازوں کے بعد کی گئی دعا ۔‘‘ ضعیف

969

Mishkat al-Masabih #969

Sahih

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ. رَوَاهُ احْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

اردو ترجمہ · Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ہر (فرض) نماز کے بعد معوذات (سورۂ اخلاص ، الفلق اور الناس) کی تلاوت کیا کروں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و البیھقی ۔

970

Mishkat al-Masabih #970

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے نماز فجر سے طلوع آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنے والی جماعت کے ساتھ بیٹھنا ، اولاد اسماعیل ؑ سے تعلق رکھنے والے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے ، جبکہ مجھے ، نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنے والی جماعت کے ساتھ بیٹھنا ، چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

971

Mishkat al-Masabih #971

Zaeef

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ» . قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص نماز فجر با جماعت ادا کرتا ہے ، پھر اسی جگہ بیٹھ کر طلوع آفتاب تک اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے ، پھر دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اس کے لیے مکمل حج و عمرہ کا ثواب ہے ۔‘‘ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا ۔ ضعیف ۔

972

Mishkat al-Masabih #972

Zaeef

عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَى أَبَا رِمْثَةَ قَالَ صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بمنكبه فَهَزَّهُ ثُمَّ قَالَ اجْلِسْ فَإِنَّهُ لَمْ يُهْلِكْ أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صلواتهم فَصْلٌ. فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَره فَقَالَ: «أصَاب الله بك يَا ابْن الْخطاب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ازرق بن قیس ؒ بیان کرتے ہیں ، ہمارے امام ابورمثہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے کہا : میں نے یہ نماز یا اس کی مثل نماز ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی تھی ، انہوں نے کہا : ابوبکر ؓ و عمر ؓ پہلی صف میں آپ ﷺ کی دائیں جانب کھڑے ہوا کرتے تھے ، ایک آدمی جو تکبیر اولی میں آ کر شامل ہوا ، نبی ﷺ نے نماز پڑھی ، پھر اپنے دائیں بائیں سلام پھیرا حتیٰ کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی ، پھر آپ ﷺ مڑے جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود مڑے ، پس وہ آدمی جو تکبیر اولی میں آپ کے ساتھ شریک ہوا تھا ، وہ کھڑا ہوا اور پھر نماز شروع کر دی ، تو عمر ؓ جلدی سے کھڑے ہوئے اور اسے اس کے کندھوں سے پکڑ کر خوب ہلایا ، پھر فرمایا : بیٹھ جاؤ ، کیونکہ اہل کتاب اسی لیے ہلاک ہوئے تھے کہ ان کی (فرض و نفل) نمازوں میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا تھا ، پس نبی ﷺ نے اپنی نظر اٹھائی تو فرمایا :’’ ابن خطاب ! اللہ نے تیری وجہ سے حق قائم کر دیا ۔‘‘ ضعیف ۔

973

Mishkat al-Masabih #973

Sahih

وَعَن زيد بن ثَابت قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَأُتِيَ رَجُلٌ فِي الْمَنَامِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقِيلَ لَهُ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم أَن تسبحوا فِي دبر كُلِّ صَلَاةٍ كَذَا وَكَذَا قَالَ الْأَنْصَارِيُّ فِي مَنَامِهِ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فافعلوا» . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ ((سبحان اللہ)) تینتیس دفعہ ((الحمدللہ)) اور چونتیس مرتبہ ((اللہ اکبر)) کہیں ، انصار کے ایک آدمی نے خواب میں کسی آدمی کو دیکھا تو اس نے اس (انصاری آدمی) سے کہا : رسول اللہ ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد اس قدر تسبیح کرو ، انصاری شخص نے اپنے خواب میں کہا : ہاں ! اس شخص نے کہا : اسے پچیس ، پچیس مرتبہ کر لو اور اس میں ((لا الہ الا اللہ)) شامل کر لو ، جب صبح ہوئی تو وہ انصاری نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ کو خواب کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسے ہی کر لیا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔

974

Mishkat al-Masabih #974

Zaeef

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَعْوَاد الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دبر كل صَلَاة لم يمنعهُ من دُخُولَ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ وَمَنْ قَرَأَهَا حِينَ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ آمَنَهُ اللَّهُ عَلَى دَارِهِ وَدَارِ جَارِهِ وَأَهْلِ دُوَيْرَاتٍ حَوْلَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان وَقَالَ إِسْنَاده ضَعِيف

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر کی سیڑھیوں پر فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتا ہے تو اس کو دخول جنت سے صرف موت روکے ہوئے ہے اور جو شخص سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹتے وقت اسے پڑھتا ہے تو اللہ اس کے گھر کو ، اس کے پڑوسی کے گھر اور اس کے آس پاس کے گھر والوں کو امن عطا کر دیتا ہے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ، اور انہوں نے کہا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ اسنادہ موضوع ۔

975

Mishkat al-Masabih #975

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَيْهِ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَت حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم وَلم يحل لذنب يُدْرِكَهُ إِلَّا الشِّرْكُ وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ يَقُولُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَحْمد

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن غنم نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص نماز مغرب اور نماز فجر پڑھنے کے بعد اپنی اسی جگہ اور اسی کیفیت (تشہد) میں بیٹھے ہوئے یہ دعا :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے اور ہر قسم کی خیرو بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے ، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ دس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے ہر مرتبہ پڑھنے پر اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، اس کے دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں ، اور ہر ناگوار چیز سے اس کا بچاؤ ہو جاتا ہے ، اور مردود شیطان سے اس کا بچاؤ ہو جاتا ہے ، شرک کے علاوہ کوئی گناہ اسے ہلاک نہیں کر سکتا اور وہ سب سے بہترین عمل کرنے والا ہوتا ہے الا یہ کہ کوئی شخص اس سے بہتر کلام سے دعا کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

976

Mishkat al-Masabih #976

Zaeef

وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ إِلَى قَوْلِهِ: «إِلَّا الشِّرْكَ» وَلَمْ يَذْكُرْ: «صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَلَا بِيَدِهِ الْخَيْرُ» وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح غَرِيب

اردو ترجمہ · Urdu

امام ترمذی ؒ نے ((الا الشرک)) تک ابوذر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور انہوں نے نماز مغرب اور ((بیدہ الخیر)) کا ذکر نہیں کیا ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ حسن ۔

977

Mishkat al-Masabih #977

Zaeef

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا لَمْ يَخْرُجْ مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ رَجْعَةً وَلَا أَفْضَلَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى قَوْمٍ أَفْضَلَ غَنِيمَةً وَأَفْضَلَ رَجْعَةً؟ قَوْمًا شَهِدُوا صَلَاةَ الصُّبْحِ ثمَّ جَلَسُوا يذكرُونَ الله حَتَّى طلعت عَلَيْهِم الشَّمْس أُولَئِكَ أسْرع رَجْعَة وَأَفْضَلَ غَنِيمَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَحَمَّاد بن أبي حميد هُوَ الضَّعِيف فِي الحَدِيث

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا ، انہوں نے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور بہت جلد (مدینہ) واپس آ گئے تو ہم میں سے ایک آدمی نے کہا : ہم نے اس لشکر سے زیادہ مال غنیمت لے کر اور اتنی جلدی واپس آتے ہوئے کوئی لشکر نہیں دیکھا ، تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں زیادہ مال غنیمت کے ساتھ زیادہ جلدی واپس آنے والے لشکر کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ ایسے لوگ ہیں جو با جماعت فجر پڑھنے کے بعد بیٹھ کر طلوع آفتاب تک اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں ، پس یہ وہ لوگ ہیں جو بہترین مال غنیمت لے کر بہت جلد واپس آنے والے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ، حماد بن ابی حمید راوی حدیث کے بارے میں ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔