Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 3 · Chapter 11

پاکیزگی کا بیان

بَاب الْغسْل

غسل کا بیان

21 hadiths in this chapter

430

Mishkat al-Masabih #430

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذا جلس بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الْغسْل وَإِن لم ينزل»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اس (یعنی اپنی اہلیہ) کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر اسے مشقت میں مبتلا (یعنی جماع) کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، خواہ انزال نہ ہو :‘‘ متفق علیہ ۔

431

Mishkat al-Masabih #431

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nقَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السّنة C: هَذَا مَنْسُوخ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پانی (غسل) پانی (منی کے نکلنے) سے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث منسوخ ہے ۔

432

Mishkat al-Masabih #432

Zaeef

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي الِاحْتِلَامِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ نے فرمایا : پانی پانی سے ہے ، یہ احتلام کے بارے میں ہے ۔ ترمذی ، اور میں نے اسے صحیحین میں نہیں پایا ۔ ضعیف ۔

433

Mishkat al-Masabih #433

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ من غسل إِذا احْتَلَمت قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ» فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَجْهَهَا وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ قَالَ: «نعم تربت يَمِينك فَبِمَ يشبهها وَلَدهَا؟»

اردو ترجمہ · Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ام سلیم ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بے شک اللہ حق بات سے نہیں شرماتا ، جب عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل کرنا واجب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، جب وہ پانی (منی کے آثار) دیکھے ۔‘‘ (یہ سن کر) ام سلمہ ؓ نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، تو پھر اس کا بچہ اس سے کیسے مشابہت اختیار کرتا ؟‘‘ متفق علیہ ۔

434

Mishkat al-Masabih #434

Sahih

وَزَادَ مُسْلِمٌ بِرِوَايَةِ أُمِّ سُلَيْمٍ: «أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ فَم أَيِّهِمَا عَلَا أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ»

اردو ترجمہ · Urdu

امام مسلم ؒ نے ام سلیم ؓ کے طریق سے جو روایت بیان کی ہے اس میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ آدمی کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے ، جبکہ عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے ، پس ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے یا سبقت لے جائے تو بچے کی مشابہت اسی پر ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

435

Mishkat al-Masabih #435

Sahih

وَعَن عَائِشَةُ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلْ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ ثمَّ يصب على رَأسه ثَلَاث غرف بيدَيْهِ ثمَّ يفِيض المَاء على جلده كُله\nوَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَاله فَيغسل فرجه ثمَّ يتَوَضَّأ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے تو آپ سب سے پہلے ہاتھ دھوتے ، پھر وضو فرماتے جیسے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے ، پھر اپنی انگلیاں پانی میں داخل کرتے اور اس سے اپنے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے ، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے ، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے ۔ متفق علیہ ۔\nاور مسلم کی روایت میں ہے : آپ ﷺ غسل فرماتے تو آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو کسی برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوتے ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ کو دھوتے ، پھر وضو فرماتے ۔\n

436

Mishkat al-Masabih #436

Sahih

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شَمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ فَانْطَلق وَهُوَ ينفض يَدَيْهِ. وَلَفظه للْبُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان ؓ کرتے ہیں ، میمونہ ؓ نے فرمایا : میں نے نبی ﷺ کے لیے غسل کرنے کے لیے پانی رکھا ، اور ایک کپڑے سے آپ پر پردہ کیا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا ، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر شرم گاہ کو دھویا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر ملا اور اسے دھویا ، پھر آپ نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اپنا چہرہ اور بازو دھوئے ، پھر سر پر پانی ڈالا ، اور سارے جسم پر پانی بہایا ، پھر آپ ﷺ نے اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے ، میں نے آپ کو کپڑا دیا لیکن آپ نے نہ لیا ، پھر آپ ﷺ ہاتھوں سے پانی صاف کرتے تشریف لے گئے ۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔

437

Mishkat al-Masabih #437

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِل قَالَ: «خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا» قَالَت كَيفَ أتطهر قَالَ «تطهري بهَا» قَالَت كَيفَ قَالَ «سُبْحَانَ الله تطهري» فاجتبذتها إِلَيّ فَقلت تتبعي بهَا أثر الدَّم

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، انصار کی ایک خاتون نے غسل حیض کے متعلق نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ، آپ ﷺ نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے گی ، پھر فرمایا :’’ کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ اس نے پھر عرض کیا : میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ (عائشہ ؓ فرماتی ہیں) پس میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور بتایا : اسے خون کی جگہ (شرم گاہ) پر رکھ لے ۔ متفق علیہ ۔

438

Mishkat al-Masabih #438

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله إِنِّي امْرَأَة أَشد ضفر رَأْسِي فأنقضه لغسل الْجَنَابَة قَالَ «لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ میں اپنے سر کے بالوں کو مضبوط گوندھتی ہوں ، تو کیا میں غسل جنابت کے لیے اسے کھول دیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالو ، پھر اپنے جسم پر پانی بہا لو ، پس تم پاک ہو جاؤ گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

439

Mishkat al-Masabih #439

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ایک مد (تقریباً چھ سو گرام/ ملی لیٹر) سے وضو اور ایک صاع (چار مد) سے پانچ مد تک پانی سے غسل کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

440

Mishkat al-Masabih #440

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ بيني وَبَينه وَاحِد فَيُبَادِرُنِي حَتَّى أَقُولَ دَعْ لِي دَعْ لِي قَالَت وهما جنبان

اردو ترجمہ · Urdu

معاذہ بیان کرتی ہیں ، عائشہ ؓ نے فرمایا : میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے ، جو کہ ہمارے درمیان ہوتا تھا ، غسل کیا کرتے تھے ، آپ مجھ سے جلدی فرماتے تھے حتیٰ کہ میں کہتی : میرے لیے (پانی) رہنے دیں ، میرے لیے رہنے دیں ، جبکہ وہ دونوں جنبی ہوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

441

Mishkat al-Masabih #441

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ «يَغْتَسِلُ» وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنه قد احْتَلَمَ وَلم يَجِدُ بَلَلًا قَالَ: «لَا غُسْلَ عَلَيْهِ» قَالَتْ أم سَلمَة يَا رَسُول الله هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلٌ قَالَ «نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْله: «لَا غسل عَلَيْهِ»

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جو (اپنے جسم یا کپڑوں پر) نمی پاتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ غسل کرے گا ۔‘‘ اور پھر اس شخص کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جو سمجھتا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ کوئی نمی نہیں پاتا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس پر غسل لازم نہیں ۔‘‘ ام سلیم ؓ نے عرض کیا : کیا آپ عورت پر بھی یہ غسل واجب سمجھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ عورتیں بھی (تخلیق و طبع میں) مردوں کی طرح ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی اور ابن ماجہ نے ((لا غسل علیہ)) تک روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

442

Mishkat al-Masabih #442

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مرد کی شرم گاہ عورت کی شرم گاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، میں اور رسول اللہ ﷺ نے ایسے کیا تو ہم نے غسل کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی وابن ماجہ ۔

443

Mishkat al-Masabih #443

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «تَحت كل شَعْرَة جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشْرَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَالْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ الرَّاوِي وَهُوَ شيخ لَيْسَ بذلك

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر بال کے نیچے جنابت ہے ، بال دھوؤ اور جسم کو صاف کرو ۔‘‘ ضعیف ۔\nابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، حارث بن وجیہ راوی عمر رسیدہ ہے ، اور اس کی روایت کی توثیق نہیں کی جاسکتی ۔\n

444

Mishkat al-Masabih #444

Sahih

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فعل بهَا كَذَا وَكَذَا من النَّار» . قَالَ عَليّ فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي ثَلَاثًا فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي ثَلَاثًا فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ثَلَاثًا. (رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يُكَرِّرَا: فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي)

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے بال برابر جائے جنابت چھوڑ دی اور اسے نہ دھویا تو اسے جہنم میں اس اس طرح کی سزا دی جائے گی ۔‘‘ علی ؓ نے فرمایا : میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ، میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ، میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا ۔ ابوداؤد ، احمد ، دارمی ۔ اسنادہ حسن ۔\nالبتہ ان دونوں (احمد اور دارمی) نے میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ‘‘ کا تکرار ذکر نہیں کیا ۔\n

445

Mishkat al-Masabih #445

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يتَوَضَّأ بعد الْغسْل. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ۔ نبی ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

446

Mishkat al-Masabih #446

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ خطمی سے اپنا سر دھویا کرتے تھے جبکہ آپ جنبی ہوتے تھے ، آپ اسی پر اکتفا فرماتے اور اس پر پانی نہیں ڈالتے تھے ۔ ضعیف ۔

447

Mishkat al-Masabih #447

Sahih

وَعَن يعلى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ وَقَالَ: «إِن الله عز وَجل حييّ حييّ ستير يحب الْحيَاء والستر فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ سِتِّيرٌ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ»

اردو ترجمہ · Urdu

یعلیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی شخص کو کھلے میدان میں (عریاں) غسل کرتے ہوئے دیکھا ، تو آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ بے شک اللہ حیادار ، پردہ پوشی کرنے والا ہے ، وہ حیاداری اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے ، پس جب تم میں سے کوئی نہائے تو وہ پردہ کرے ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ۔ صحیح ۔\nاور نسائی کی ایک روایت میں ہے :’’ بے شک اللہ پردہ پوشی کرنے والا ہے ، پس جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو وہ کسی چیز سے پردہ کر لے ۔‘‘\n

448

Mishkat al-Masabih #448

Sahih

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثمَّ نهي عَنْهَا

اردو ترجمہ · Urdu

ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، پانی (غسل) ، پانی (انزال) کی وجہ سے واجب ہوتا ہے ، اس بارے میں شروع اسلام میں رخصت تھی ، پھر اس سے منع کر دیا گیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔

449

Mishkat al-Masabih #449

Zaeef

وَعَن عَليّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصليت الْفجْر ثمَّ أَصبَحت فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، میں نے غسل جنابت کیا اور میں نے نماز فجر ادا کی ، پھر میں نے ناخن برابر جگہ خشک دیکھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم اپنا گیلا ہاتھ اس پر پھیر دیتے تو وہ تمہارے لیے کافی ہوتا ۔‘‘ ضعیف ۔

450

Mishkat al-Masabih #450

Zaeef

وَعَن عبد الله بن عمر قَالَ كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سبع مرار وَغسل الْبَوْل من الثَّوْب سبع مرار فَلَمْ يَزَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ حَتَّى جعلت الصَّلَاة خمْسا وَالْغسْل من الْجَنَابَة مرّة وَغسل الْبَوْل من الثَّوْب مرّة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں نمازیں پچاس تھیں ، غسل جنابت سات مرتبہ تھا ، کپڑے سے پیشاب دھونا بھی سات مرتبہ تھا ، رسول اللہ ﷺ مسلسل (تخفیف کے لیے اپنے رب سے) سوال کرتے رہے حتیٰ کہ نمازیں پانچ ، غسل جنابت ایک مرتبہ اور پیشاب کی وجہ سے کپڑے کا دھونا ایک مرتبہ کر دیا گیا ۔ ضعیف ۔