Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 29 · Chapter 266

كتاب المناقب

بَابُ مَنَاقِبِ أَزْوَاجِ

نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کے مناقب کا بیان

12 hadiths in this chapter

6184

Mishkat al-Masabih #6184

Sahih

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ\nوَفِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاء وَالْأَرْض\n

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ (اپنے زمانے میں) مریم بنت عمران سب سے بہتر خاتون تھیں ، اور (اس زمانے میں) خدیجہ بنت خویلد سب سے بہتر خاتون ہیں ۔‘‘\nایک دوسری روایت میں ہے : ابوکریب بیان کرتے ہیں ، وکیع ؒ نے آسمان اور زمین کی طرف اشارہ فرمایا ۔ متفق علیہ ۔\n

6185

Mishkat al-Masabih #6185

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا رسولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدام وَطَعَام فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جبریل ؑ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا :’’ اللہ کے رسول ! خدیجہ ؓ آ رہی ہیں ، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے اور کھانا ہے ، جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے انہیں سلام کہنا ، اور انہیں جنت میں خول دار موتی کے گھر کی بشارت دینا جس میں کوئی شور و شغب ہو گا نہ کوئی تھکن ہو گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6186

Mishkat al-Masabih #6186

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا رَأَيْتُهَا وَلَكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صدائق خَدِيجَة فَيَقُول: «إِنَّهَا كَانَت وَكَانَت وَكَانَتْ وَكَانَ لِي مِنْهَا وُلْدٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ کے بارے میں اتنا رشک نہیں کیا جتنا خدیجہ ؓ کے معاملے میں کیا ، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا نہیں ، لیکن آپ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے ، بسا اوقات آپ بکری ذبح کرتے پھر اس کے ٹکڑے کرتے پھر انہیں خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں بھیجتے تھے ، کبھی کبھار میں آپ سے یوں عرض کرتی : گویا دنیا میں خدیجہ کے سوا کوئی عورت ہی نہیں ، آپ ﷺ فرماتے :’’ وہ ایسی تھیں ، وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6187

Mishkat al-Masabih #6187

Sahih

وَعَن أبي سَلمَة أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» . قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! جبریل ؑ تمہیں سلام کہتے ہیں ۔‘‘ انہوں نے فرمایا : و علیہ السلام و رحمۃ اللہ ! اور انہوں نے فرمایا : جو چیزیں آپ دیکھتے تھے وہ مجھے نظر نہیں آتی تھیں ۔ متفق علیہ ۔

6188

Mishkat al-Masabih #6188

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: أُريتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِي: هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ. فَقُلْتُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ . مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تم مجھے خواب میں تین راتیں دکھائی گئیں ۔ فرشتہ ریشم کے ٹکڑے میں تمہیں اٹھائے ہوئے ہے اور اس نے مجھے کہا : یہ آپ کی اہلیہ ہے ، میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا اٹھایا تو وہ آپ تھیں ۔‘‘ میں نے کہا : اگر یہ (خواب) اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا فرما دے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6189

Mishkat al-Masabih #6189

Sahih

وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ: فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ وَالْحِزْبُ الْآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُولُ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ. فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا: «لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ» . قَالَتْ: أَتُوب إِلَى الله من ذَاك يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ فَأَرْسَلْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ: «يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟» قَالَتْ: بَلَى. قَالَ: «فَأَحِبِّي هَذِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ\nوَذَكَرَ حَدِيثُ أَنَسٍ «فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ» فِي بَابِ «بَدْءِ الْخَلْقِ» بِرِوَايَةِ أبي مُوسَى\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ صحابہ کرام اپنے تحائف پیش کرنے کے لیے عائشہ ؓ کی باری کا دن تلاش کیا کرتے تھے اور وہ اس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ اور انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے دو گروہ تھے ، ایک گروہ میں عائشہ ، حفصہ ، صفیہ اور سودہ ؓ تھیں جبکہ دوسرے گروہ میں ام سلمہ ؓ اور رسول اللہ ﷺ کی باقی ازواج مطہرات تھیں ، ام سلمہ ؓ کے گروہ نے مشورہ کیا اور انہوں نے ام سلمہ ؓ سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے بات کریں کہ آپ لوگوں سے فرما دیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجنا چاہے تو وہ آپ کی خدمت میں وہیں ہدیہ بھیجے جہاں آپ تشریف فرما ہوں ۔ انہوں (ام سلمہ ؓ) نے آپ سے بات کی تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ پہنچاؤ ، کیونکہ عائشہ کے علاوہ کسی زوجہ محترمہ کے کپڑے میں مجھ پر وحی نہیں آتی ۔‘‘ انہوں (ام سلمہ ؓ) نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے میں اللہ کے حضور توبہ کرتی ہوں ۔ پھر انہوں نے فاطمہؓ کو بلایا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا انہوں نے آپ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بیٹی ! کیا تم وہ چیز پسند نہیں کرتی ہو جو میں پسند کرتا ہوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور (پسند کرتی ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس (عائشہ ؓ) سے محبت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n اور انس ؓ سے مروی حدیث : ((فضل عائشۃ علی النساء)) باب بدء الخلق میں ابوموسی ؓ کی سند سے ذکر کی گئی ہے ۔\n

6190

Mishkat al-Masabih #6190

Sahih

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ محمَّد وآسية امْرَأَة فِرْعَوْن» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جہان کی خواتین میں سے (کمال کے اعتبار سے) مریم بنت عمران ، خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد (ﷺ) اور آسیہ زوجہ فرعون ؓ تمہارے لیے کافی ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

6191

Mishkat al-Masabih #6191

Sahih

وَعَن عَائِشَة أَن جِبْرِيل جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جبریل ؑ سبز ریشمی کپڑے میں میری تصویر لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :’’ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ محترمہ ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

6192

Mishkat al-Masabih #6192

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّك ابْنة نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ؟» ثُمَّ قَالَ: «اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صفیہ ؓ کو پتہ چلا کہ حفصہ ؓ نے (انہیں) کہا ہے : یہودی کی بیٹی ، وہ رونے لگیں ، نبی ﷺ ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم کیوں رو رہی ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، حفصہ ؓ نے مجھے کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم ایک نبی کی بیٹی ہو ، تمہارا چچا بھی نبی اور تم نبی کی اہلیہ بھی ہو ۔ وہ کس بارے میں تم سے فخر کرتی ہیں ؟‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حفصہ ! اللہ سے ڈرتی رہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی فی الکبریٰ ۔

6193

Mishkat al-Masabih #6193

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓ کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رو پڑیں ، پھر ان سے کوئی بات کی تو وہ ہنس پڑی ، جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کی ہنسی کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے بتایا تھا کہ میں فوت ہو جاؤں گا تو میں رو پڑی ، پھر آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ مریم بنت عمران کے علاوہ اہل جنت کی خواتین کی میں سردار ہوں ۔‘‘ اس پر میں ہنس دی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6194

Mishkat al-Masabih #6194

Sahih

عَن\nأبي مُوسَى قَالَ: مَا أُشْكِلَ عَلَيْنَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوموسی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ہم پر یعنی رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر جب بھی کوئی حدیث مشتبہ ہو جاتی تو ہم عائشہ ؓ سے دریافت کرتے تو ہم اس کے متعلق ان کے ہاں علم پاتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6195

Mishkat al-Masabih #6195

Zaeef

وَعَنْ\nمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ\n

اردو ترجمہ · Urdu

موسی بن طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے فصاحت و بلاغت میں عائشہ ؓ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا ۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحیح غریب کہا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔