Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 29 · Chapter 258

كتاب المناقب

بَاب مَنَاقِب أبي بكر

حضرت ابوبکر ؓ کے مناقب و فضائل کا بیان

16 hadiths in this chapter

6019

Mishkat al-Masabih #6019

Sahih

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ - وَعِنْدَ الْبُخَارِيِّ أَبَا بَكْرٍ - وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید خدری ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وقت اور مال صرف کرنے کے لحاظ سے ابوبکر کا مجھ پر سب سے زیادہ احسان ہے ۔‘‘ اور صحیح بخاری میں لفظ ’’ابابکر‘‘ ہے ۔‘‘ اور اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو میں لازماً ابوبکر کو خلیل بناتا ، لیکن اخوتِ اسلامی اور اس کی مودت و محبت کافی ہے ، مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں البتہ ابوبکر کا دروازہ رہنے دو ۔‘‘\nایک دوسری روایت میں ہے :’’ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی اور کو دوست بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n

6020

Mishkat al-Masabih #6020

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَدِ اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا ، لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں اور اللہ تمہارے ساتھی کو خلیل بنا چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

6021

Mishkat al-Masabih #6021

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ: أَنَا وَلَا وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ «. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي» كِتَابِ الْحميدِي : «أَنا أولى» بدل «أَنا وَلَا»

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض میں مجھے فرمایا :’’ اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ حتیٰ کہ میں تحریر لکھ دوں ، مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں خلافت کا مستحق ہوں ، حالانکہ اللہ اور تمام مومن صرف ابوبکر کو ہی قبول کریں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\nاور کتاب الحمیدی میں ((أنا ولا)) کی جگہ : ((أنا اولی)) کے الفاظ ہیں ۔\n

6022

Mishkat al-Masabih #6022

Sahih

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ؟ كَأَنَّهَا تُرِيدُ الْمَوْتَ. قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی تو اس نے کسی معاملہ میں آپ سے بات کی تو آپ نے اسے دوبارہ اپنی خدمت میں حاضر ہونے کا حکم فرمایا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں ، گویا اس سے مراد (آپ ﷺ کی) وفات تھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم مجھے نہ پاؤ تو پھر ابوبکر کے پاس آنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6023

Mishkat al-Masabih #6023

Sahih

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» . قُلْتُ: مِنِ الرِّجَالِ؟ قَالَ: «أَبُوهَا» . قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «عُمَرُ» . فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرهم. مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے غزوۂ ذات السلاسل میں ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ سے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : مردوں میں سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے والد (ابوبکر ؓ) سے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : پھر کس سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر سے ۔‘‘ آپ نے کئی آدمی گنے ، (کہ اس کے بعد فلاں ، پھر فلاں .) پھر میں اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ مجھے ان میں سے سب سے آخر میں نہ لے جائیں ، خاموش ہو گیا ۔ متفق علیہ ۔

6024

Mishkat al-Masabih #6024

Sahih

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ. قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ. وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ: عُثْمَانُ. قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ قَالَ: «مَا أَنَا إِلَّا رجلٌ من الْمُسلمين» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے والد سے کہا : نبی ﷺ کے بعد سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر ؓ ۔ میں نے پوچھا : پھر کون ؟ انہوں نے فرمایا : عمر ؓ ۔ اور اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ عثمان ؓ کہہ دیں گے ، میں نے کہا : پھر آپ ؟ انہوں نے فرمایا : میں تو ایک عام مسلمان ہوں ۔ رواہ البخاری ۔

6025

Mishkat al-Masabih #6025

Sahih

وَعَن ابْن عمرٍ قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ\nوَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عمر ثمَّ عُثْمَان رَضِي الله عَنْهُم\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے زمانے میں ابوبکر ؓ کے برابر کسی کو قرار نہیں دیتے تھے ، پھر عمر ؓ اور پھر عثمان ؓ پھر ہم نبی ﷺ کے صحابہ (کی باہم فضیلت کی بحث) کو ترک کر دیتے تھے اور ہم ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے ۔\nاور ابوداؤد کی روایت ہے : ہم رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں کہا کرتے تھے کہ نبی ﷺ کی امت میں آپ کے بعد سب سے افضل ابوبکر ؓ ہیں ، پھر عمر ؓ ہیں اور پھر عثمان ؓ ہیں ۔ رواہ البخاری و ابوداؤد ۔\n

6026

Mishkat al-Masabih #6026

Zaeef

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللَّهُ بهَا يومَ الْقِيَامَة وَمَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ؓ کے علاوہ جس شخص نے ہم پر کوئی احسان کیا تھا ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے ، لیکن انہوں نے جو کچھ ہمیں عطا کیا ہے ، اس کی جزا روز قیامت اللہ ہی انہیں عطا فرمائے گا ۔ اور کسی شخص کے مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر ؓ کے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے ، اگر میں نے کسی شخص کو خلیل (جگری دوست) بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا ، سن لو ! تمہارا صاحب ، اللہ کا خلیل ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6027

Mishkat al-Masabih #6027

Sahih

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عمر ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ابوبکر ؓ ہمارے سردار ہیں ، ہم سب سے بہتر ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو ہم سب سے زیادہ پیارے ہیں ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

6028

Mishkat al-Masabih #6028

Zaeef

وَعَن\nابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وصاحبي على الْحَوْض» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا :’’ تم میرے غار کے ساتھی ہو ، اور حوض پر میرے ساتھی ہو گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6029

Mishkat al-Masabih #6029

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ\nقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر کی موجودگی میں کسی اور شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان کی امامت کرائے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6030

Mishkat al-Masabih #6030

Sahih

وَعَن\nعُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ وَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالًا فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا. قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقُلْتُ: مِثْلَهُ. وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ. فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ؟ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» . فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قُلْتُ: لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد\n

اردو ترجمہ · Urdu

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ، اس وقت میرے پاس مال بھی تھا ، میں نے (دل میں) کہا : اگر ہو سکا تو میں آج ابوبکر ؓ پر سبقت لے جاؤں گا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں اپنا نصف مال لے کر حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اتنا ہی (یعنی نصف) ابوبکر ؓ اپنا سارا اثاثہ لے کر حاضر ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول (کی رضا) چھوڑ کر آیا ہوں ، میں (عمر ؓ) نے کہا : میں کسی چیز میں ان سے کبھی بھی سبقت حاصل نہیں کر سکتا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

6031

Mishkat al-Masabih #6031

Sahih

وَعَنْ\nعَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْت عتيقُ اللَّهِ من النَّار» . فَيَوْمئِذٍ سمي عتيقا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ آگ سے اللہ کے آزاد کردہ (عتیق اللہ) ہیں ۔‘‘ اس روز سے ان کا نام (لقب) عتیق رکھ دیا گیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

6032

Mishkat al-Masabih #6032

Zaeef

وَعَنِ\nابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أحشرَ بَين الْحَرَمَيْنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا ، پھر ابوبکر کو ، پھر عمر کو پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ جمع کیے جائیں گے ، پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا حتیٰ کہ میں حرمین کے درمیان جمع کیا جاؤں گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6033

Mishkat al-Masabih #6033

Zaeef

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي يَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے ہاتھ سے پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی ۔‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا حتیٰ کہ میں اسے دیکھ لیتا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! ابوبکر ! میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تم ہی تو ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

6034

Mishkat al-Masabih #6034

Zaeef

عَن عمر\nذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَكَى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهُ مِثْلُ عَمَلِهِ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهِ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَار فَلَمَّا انتهينا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهُ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهِ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَاره وسدها بِهِ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَان فألقمها رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ\nفَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ\nوَوُضِعَ رَأسه فِي حجره وَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهِ مِنَ الْجُحر وَلم يَتَحَرَّك مَخَافَة أَن ينتبه رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهِ وَأَمَّا يَوْمُهُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيّ؟ . رَوَاهُ رزين\n

اردو ترجمہ · Urdu

عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ابوبکر ؓ کا تذکرہ کیا گیا تو وہ رو پڑے اور کہا : میں چاہتا ہوں کہ میرے سارے عمل ان کے ایام میں سے ایک یوم اور ان کی راتوں میں سے ایک رات کی مثل ہو جائیں ، رہی ان کی رات ، تو وہ رات جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غار کی طرف سفر کیا تھا ، جب وہ دونوں وہاں تک پہنچے تو ابوبکر نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! آپ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ میں آپ سے پہلے داخل ہو جاؤں ، تا کہ اگر اس میں کوئی چیز ہو تو اس کا نقصان مجھے پہنچے آپ اس سے محفوظ رہیں ، وہ اس میں داخل ہوئے ، اسے صاف کیا ، اور انہوں نے اس کی ایک جانب سوراخ دیکھے ، انہوں نے اپنا ازار پھاڑا اور اس سے سوراخوں کو بند کیا ، مگر دو سوراخ باقی رہ گئے اور انہوں نے ان پر اپنے پاؤں رکھ دیے ، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، تشریف لے آئیں ، رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لے آئے اور اپنا سر مبارک ان کی گود میں رکھ کر سو گئے ، سوراخ سے ابوبکر کا پاؤں ڈس لیا گیا ، لیکن انہوں نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ بیدار نہ ہو جائیں حرکت نہ کی ، ان کے آنسو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر گرے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ! کیا ہوا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر فدا ہوں مجھے ڈس لیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے لعاب لگایا اور تکلیف جاتی رہی ، اور بعد ازاں اس زہر کا اثر ان پر دوبارہ شروع ہو گیا اور یہی ان کی وفات کا سبب بنا ، رہا ان کا دن تو جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی کچھ عرب مرتد ہو گئے اور انہوں نے کہا : ہم زکوۃ نہیں دیں گے ، انہوں نے فرمایا : اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا تو میں ان سے جہاد کروں گا ۔ میں نے کہا : رسول اللہ کے خلیفہ ! لوگوں کو ملائیں اور نرمی کریں ، انہوں نے مجھے فرمایا : کیا جاہلیت میں سخت تھے اور اسلام میں بزدل ہو گئے ہو ، وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، دین مکمل ہو چکا ، تو کیا میرے جیتے ہوئے دین کم (ناقص) ہو جائے گا ؟ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ رزین ۔