Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 28 · Chapter 248

فضائل اور خصائل کا بیان

بَابٌ فِي أَخْلَاقِهِ وَشَمَائِلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم

نبی کریم ﷺ کے اخلاق و عادات کا بیان

30 hadiths in this chapter

5801

Mishkat al-Masabih #5801

Sahih

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ وَلَا: لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلَا: أَلَّا صَنَعْتَ؟ مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے دس سال نبی ﷺ کی خدمت کی ، لیکن آپ نے مجھے کبھی اُف تک نہ کہا ، اور نہ ہی یہ کہا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا اور وہ کام کیوں نہیں کیا ۔ متفق علیہ ۔

5802

Mishkat al-Masabih #5802

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «يَا أُنَيْسُ ذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟» . قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُول الله. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے بہترین اخلاق کے حامل تھے ، آپ نے ایک روز مجھے کسی کام کے لیے بھیجا تو میں نے کہا ، اللہ کی قسم ! میں نہیں جاؤں گا ، جبکہ میرے دل میں تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے جس کام کا مجھے حکم فرمایا ہے میں اس کے لیے ضرور جاؤں گا ، میں نکلا ، اور چند ایسے بچوں کے پاس سے گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے ۔ (میں وہاں کھڑا ہو گیا) اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے میرے پیچھے سے میری گدی پکڑ لی ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اُنیس ! جہاں جانے کے متعلق میں نے تمہیں کہا تھا ، کیا وہاں گئے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! میں جا رہا ہوں ۔ رواہ مسلم ۔

5803

Mishkat al-Masabih #5803

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فجبذه جَبْذَةً شَدِيدَةً وَرَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أثرت بِهِ حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عنْدك فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ. مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا ، آپ پر موٹے کنارے (چوڑی پٹی) والی نجرانی چادر تھی ، اتنے میں ایک اعرابی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر کے ساتھ آپ کو اتنے زور سے کھینچا کہ نبی ﷺ اس اعرابی کے سینے کے قریب پہنچ گئے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر دیکھا تو زور سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کے کنارے کے نشانات کندھے مبارک پر پڑ چکے تھے ، پھر اس نے کہا : محمد ! اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے میرے لیے بھی حکم فرمایئے ، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا ، اور ہنس دیے ، پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5804

Mishkat al-Masabih #5804

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاس إِلَى الصَّوْت هُوَ يَقُولُ: «لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا» وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ وَفِي عُنُقِهِ سَيْفٌ. فَقَالَ: «لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ حسین ، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے ، ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے تو لوگ اس کی آواز کی طرف چل پڑے ، نبی ﷺ سب سے پہلے اس کی آواز کی طرف گئے تھے اور واپسی پر آپ لوگوں سے ملے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گھبراؤ نہیں ، گھبراؤ نہیں ۔‘‘ آپ اس وقت ابو طلحہ ؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے ، اس پر زین نہیں تھی اور آپ کے گلے میں تلوار تھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اس (گھوڑے) کو نہایت تیز رفتار پایا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5805

Mishkat al-Masabih #5805

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ: لَا. مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، کبھی ایسے نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا اور آپ نے نفی میں جواب دیا ہو ۔ متفق علیہ ۔

5806

Mishkat al-Masabih #5806

Sahih

وَعَن أنس إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ: أَي قوم أَسْلمُوا فو الله إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اتنی بکریاں مانگیں جس سے دو پہاڑوں کا درمیانی فاصلہ بھر جائے ، آپ نے اتنی ہی اسے دے دیں تو وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں کہا : میری قوم ! اسلام قبول کر لو ، اللہ کی قسم ! محمد (ﷺ) اس قدر عطا فرماتے ہیں ، کہ وہ فقر کا اندیشہ نہیں رکھتے ۔ (یا فقر کا اندیشہ نہیں رہتا) رواہ مسلم ۔

5807

Mishkat al-Masabih #5807

Sahih

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَتِ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعْطُونِي رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدَ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمٌ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا كذوباً وَلَا جَبَانًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے ، اس اثنا میں کہ غزوۂ حنین سے واپسی پر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے ، (راستے میں) اعرابی چمٹ کر آپ سے سوال کرنے لگے ، حتی کہ انہوں نے آپ کو ببول کے درخت کی طرف دھکیل دیا ، وہ (کانٹے) آپ کی چادر سے الجھ گئے تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا :’’ میری چادر مجھے دے دو ، اگر میرے پاس ان (کانٹے دار) درختوں جتنے اونٹ ہوتے تو میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا ، لہذا تم مجھے بخیل پاؤ گے نہ جھوٹا اور نہ بزدل ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5808

Mishkat al-Masabih #5808

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يَأْتُونَ بإناءٍ إِلَّا غمسَ يدَه فِيهَا فرُبما جاؤوهُ بِالْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو مدینہ کے خادم اپنے برتن لے آتے ، ان میں پانی ہوتا تھا ، وہ جو بھی برتن لاتے ، آپ اس میں اپنا دستِ مبارک ڈبو دیتے تھے ، بسا اوقات تو وہ موسم سرما میں صبح کے وقت آپ کے پاس آ جاتے تھے ، تو آپ ﷺ اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

5809

Mishkat al-Masabih #5809

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَتْ أَمَةٌ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ تَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، مدینے والوں کی لونڈیوں میں کوئی بھی لونڈی وہ رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑتی اور وہ جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔

5810

Mishkat al-Masabih #5810

Sahih

وَعَنْهُ\nأَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ فَقَالَت: يَا رَسُول الله إِنِّي لِي إِلَيْكَ حَاجَّةً فَقَالَ: «يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ» فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ حَتَّى فرغت من حَاجَتهَا. رَوَاهُ مُسلم\n

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت تھی جس کی عقل کچھ کم تھی ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے کچھ کام ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام فلاں ! دیکھو ! جس گلی میں تم چاہو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں تا کہ میں تمہارا کام پورا کر سکوں ، آپ ایک راستے میں اس کے ساتھ گئے حتی کہ اس کا کام ہو گیا ۔ رواہ مسلم ۔

5811

Mishkat al-Masabih #5811

Sahih

وَعَنْهُ\nقَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا سَبَّابًا كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: «مَا لَهُ تربَ جَبينُه؟» . رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ بدگو تھے نہ لعنت کرنے والے تھے ، اور نہ ہی گالی دیتے تھے ، ناراضی کے عالم میں آپ ﷺ بس یہی فرماتے :’’ اسے کیا ہوا ؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5812

Mishkat al-Masabih #5812

Sahih

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ. قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! مشرکوں کے لیے بددعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے لعنت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ، مجھے تو باعث رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5813

Mishkat al-Masabih #5813

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے ، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار گزرتی تو ہم اسے آپ کے چہرے مبارک سے پہچان لیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

5814

Mishkat al-Masabih #5814

Sahih

وَعَنْ\nعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ وَإِنَّمَا كَانَ يتبسم. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو اس طرح کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا آخری حصہ دیکھ سکوں کیونکہ آپ ﷺ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

5815

Mishkat al-Masabih #5815

Sahih

وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ. مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح نہایت تیز گفتگو نہیں فرماتے تھے ، بلکہ آپ اس طرح گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی (الفاظ) شمار کرنے والا شمار کرنا چاہتا تو شمار کر سکتا تھا ۔ متفق علیہ ۔

5816

Mishkat al-Masabih #5816

Sahih

وَعَنِ\nالْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مَهْنَةِ أَهْلِهِ - تَعْنِي خدمَة أَهله - فَإِذا حضرت الصَّلَاة خرج إِلَى الصَّلَاة. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

اسود ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، نبی ﷺ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ اپنے اہل خانہ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے ، جب نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری ۔

5817

Mishkat al-Masabih #5817

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يُنتهك حرمةُ الله فينتقم لله بهَا. مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں سے ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان دونوں میں سے آسان تر کو اختیار فرماتے تھے ، بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا ، اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے ، رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے متعلق کسی معاملے میں انتقام نہیں لیا ، اگر اللہ کی حدود پامال کی جاتیں تو آپ اس میں اللہ کی رضا کی خاطر انتقام لیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

5818

Mishkat al-Masabih #5818

Sahih

وَعَنْهَا\nقَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لنَفسِهِ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ فينتقم لله. رَوَاهُ مُسلم\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے علاوہ اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو مارا نہ کسی خادم کو اور نہ ہی کسی عورت کو ، اور اگر آپ کو کسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچتی تو آپ اس تکلیف پہنچانے والے سے انتقام نہیں لیتے تھے ، آپ صرف اس صورت میں انتقام لیتے تھے جب اللہ کی حدود پامال ہوتی ہوں اور وہ انتقام بھی محض اللہ کی رضا کی خاطر ہی لیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

5819

Mishkat al-Masabih #5819

Sahih

عَنْ أَنَسٍ\nقَالَ: خَدَمْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا لَامَنِي عَلَى شَيْءٍ قَطُّ أَتَى فِيهِ عَلَى يَدَيَّ فَإِنْ لَامَنِي لَائِمٌ مِنْ أَهْلِهِ قَالَ: «دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَوْ قُضِيَ شَيْءٌ كَانَ» . هَذَا لَفَظُ «الْمَصَابِيحِ» وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ\n

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں آٹھ برس کی عمر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لیے حاضر ہوا اور دس سال آپ کی خدمت کی ، آپ نے اس عرصے میں میرے ہاتھوں ہونے والے کسی نقصان پر مجھے ملامت نہیں کی ، اگر آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی مجھے ملامت کرتا تو آپ ﷺ فرماتے :’’ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ جو تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۔‘‘ یہ الفاظِ حدیث مصابیح کے ہیں ، اور امام بیہقی نے کچھ تبدیلی کے ساتھ شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

5820

Mishkat al-Masabih #5820

Sahih

وَعَنْ\nعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ طبعاً فحش گو تھے نہ تکلفاً فحش گو تھے ، آپ بازاروں میں شور و غل کرتے تھے نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے ، بلکہ آپ ﷺ درگزر فرماتے تھے ، اور معاف فرما دیتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5821

Mishkat al-Masabih #5821

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ\nيُحَدِّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كانَ يعودُ المريضَ وَيتبع الْجِنَازَة ويجيب دَعْوَة الْمَمْلُوك ويركب الْحمار لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ خِطَامُهُ لِيفٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ ، نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ بیماروں کی عیادت کرتے تھے ، جنازوں میں شریک ہوتے تھے ، غلاموں کی دعوت قبول کرتے تھے ، اور گدھے پر سواری کرتے تھے ، خیبر کے دن میں نے آپ کو گدھے پر دیکھا جس کی لگام کھجور کے پتوں کی تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

5822

Mishkat al-Masabih #5822

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ\nقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ وَقَالَتْ: كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنا جوتا مرمت کرتے تھے ، اپنا کپڑا خود سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں تمہاری طرح ہی کام کرتے تھے ۔ اور انہوں نے فرمایا : آپ بھی ایک انسان تھے ، آپ اپنے کپڑے میں جوئیں دیکھ لیا کرتے تھے ، اپنی بکری کا دودھ خود دھوتے تھے اور اپنے ذاتی کام خود کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ الترمذی فی الشمائل و البخاری فی الأدب المفرد ۔

5823

Mishkat al-Masabih #5823

Zaeef

وَعَنْ خَارِجَةَ\nبْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: دَخَلَ نَفَرٌ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالُوا لَهُ: حَدِّثْنَا أَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ جَارَهُ فَكَانَ إِذَا نزل الْوَحْيُ بَعَثَ إِلَيَّ فَكَتَبْتُهُ لَهُ فَكَانَ إِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ مَعَنَا فَكُلُّ هَذَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

خارجہ بن زید بن ثابت بیان کرتے ہیں ، کچھ افراد زید بن ثابت ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے ان سے کہا ، آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث سناؤ ، انہوں نے کہا ، میں آپ کا پڑوسی تھا ، جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ مجھے بلاتے اور میں وحی کو لکھ دیتا تھا ، جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تھے تو آپ ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے تھے ، جب ہم آخرت کا ذکر کرتے تو آپ ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے تھے ، اور جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپ ہمارے ساتھ کھانے کا ذکر فرماتے تھے ۔ میں یہ ساری باتیں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے بیان کر رہا ہوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی فی الشمائل و فی شرح السنہ ۔

5824

Mishkat al-Masabih #5824

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ\nأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَافَحَ الرَّجُلَ لَمْ يَنْزِعْ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَنْزِعُ يَدَهُ وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَن وَجهه وَلم يُرَ مقدِّماً رُكْبَتَيْهِ بَين يَدي جليس لَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آدمی سے مصافحہ فرماتے تھے تو آپ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے حتی کہ وہ آدمی خود اپنا ہاتھ چھڑا لیتا تھا ، آپ اپنا چہرہ مبارک (توجہ) اس شخص سے نہیں ہٹاتے تھے حتی کہ وہ شخص خود اپنا چہرہ آپ کے چہرۂ مبارک سے ہٹا لیتا (کسی اور طرف متوجہ کر لیتا) اور آپ کو مجلس میں اپنے ہم نشین سے آگے گھٹنے نکال کر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5825

Mishkat al-Masabih #5825

Sahih

وَعَنْهُ\nأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا ذخیرہ نہیں کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5826

Mishkat al-Masabih #5826

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ\nبْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلَ الصَّمْتِ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»\n

اردو ترجمہ · Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ زیادہ تر خاموش رہا کرتے تھے ، (بلا ضرورت تکلم نہیں فرماتے تھے) ۔ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5827

Mishkat al-Masabih #5827

Zaeef

وَعَنْ جَابِرٍ\nقَالَ: كَانَ فِي كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْتِيلٌ وَتَرْسِيلٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے کلام میں ترتیل اور ٹھہراؤ تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5828

Mishkat al-Masabih #5828

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ يَحْفَظُهُ من جَلَسَ إِلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح نہایت تیز گفتگو نہیں فرماتے تھے ، بلکہ آپ کا کلام الگ الگ ہوتا تھا ، آپ کے پاس بیٹھنے والا اسے یاد کر لیتا تھا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5829

Mishkat al-Masabih #5829

Zaeef

وَعَنْ عَبْدِ\nاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5830

Mishkat al-Masabih #5830

Zaeef

وَعَنْ عَبْدِ\nاللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَتَحَدَّثُ يُكْثِرُ أَنْ يَرْفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاء. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب گفتگو فرمانے کے لیے بیٹھتے تو آپ (نزول وحی کے انتظار میں) آسمان کی طرف بہت دیکھتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔