Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 25 · Chapter 226

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

بَاب الرِّيَاء والسمعة

ریا و شہرت کا بیان

25 hadiths in this chapter

5314

Mishkat al-Masabih #5314

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا ينظر إِلَى صوركُمْ وَلَا أموالِكم وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً اللہ تمہاری صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا ، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5315

Mishkat al-Masabih #5315

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ هُوَ لِلَّذِي عَمِلَهُ . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں ، جو کوئی ایسا عمل کرے جس میں وہ میرے ساتھ میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں ۔‘‘\n ایک اور روایت میں ہے :’’ میں اس (عمل کرنے والے) سے بیزار ہوں ، وہ (عمل) اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے کیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n

5316

Mishkat al-Masabih #5316

Sahih

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص شہرت کی خاطر کوئی عمل کرتا ہے تو (روز قیامت) اللہ اس شخص کو (لوگوں کے سامنے) ذلیل فرمائے گا (کہ اس نے اس نیت سے عمل کیا تھا) اور جو دکھلاوا کرتا ہے تو اللہ اسے (لوگوں کو) دکھلا دے گا (کہ یہ شخص ریا کار ہے) ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5317

Mishkat al-Masabih #5317

Sahih

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: يُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ: «تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا ، آپ بتائیں ، ایک آدمی نیکی کا کام کرتا ہے ، اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ، ایک دوسری روایت میں ہے ، اس پر لوگ اسے پسند کرتے ہیں ، (اس کا کیا حکم ہے ؟) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ مومن کے لیے پیشگی بشارت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5318

Mishkat al-Masabih #5318

Sahih

عَن أبي سعدِ بن أبي فَضَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كانَ أشركَ فِي عملٍ عملَه للَّهِ أحدا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید بن ابی فضالہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ لوگوں کو روز قیامت ، جس میں کوئی شک نہیں ، (حساب کے لیے) جمع فرمائے گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : جس نے کسی ایسے عمل میں ، جسے اس نے اکیلے اللہ کے لیے کیا تھا ، شریک بنایا تو وہ اپنا ثواب ، اللہ کے علاوہ کسی اور سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

5319

Mishkat al-Masabih #5319

Sahih

وَعَن عبد الله بن عَمْرو أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ أَسَامِعَ خَلْقِهِ وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اپنے عمل کے متعلق لوگوں کو سناتا ہے تو اللہ اس کے متعلق اپنی مخلوق کے کانوں تک سنا دیتا ہے اور وہ اسے حقیر و ذلیل کر دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5320

Mishkat al-Masabih #5320

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الْآخِرَةِ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَشَتَّتَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَلَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلاَّ مَا كُتِبَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَحْمد

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کی نیت طلب آخرت ہو تو اللہ اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے ، اور اس کے معاملے کو مجتمع فرما دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس چلی آتی ہے ، اور جس شخص کی نیت طلب دنیا ہو تو اللہ اس کی پیشانی پر فقر ثبت فرما دیتا ہے ، اس کے معاملے کو منتشر کر دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اللہ نے اس کے لیے لکھ دی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5321

Mishkat al-Masabih #5321

Sahih

وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبَانٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ

اردو ترجمہ · Urdu

امام دارمی نے اسے ابان کی سند سے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

5322

Mishkat al-Masabih #5322

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَا أَنَا فِي بَيْتِي فِي مُصَلَّايَ إِذْ دَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ فَأَعْجَبَنِي الْحَالُ الَّتِي رَآنِي عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَكَ أَجْرَانِ: أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس اثنا میں کہ میں اپنے گھر میں اپنی جائے نماز پر ہوتا ہوں تو اچانک ایک آدمی میرے پاس آتا ہے مجھے وہ اپنی حالت اچھی لگتی ہے جس میں وہ مجھے دیکھتا ہے ، (کیا یہ بھی ریا کاری ہے ؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! اللہ تم پر رحم فرمائے ، تمہارے لیے دگنا اجر ہے ، پوشیدہ کا اجر اور ظاہر کا اجر ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5323

Mishkat al-Masabih #5323

Zaeef

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ يَقُولُ اللَّهُ: «أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عليَّ يجترؤون؟ فَبِي حَلَفْتُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تدع الْحَلِيم فيهم حيران» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بدلے میں دنیا طلب کریں گے ، وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بکری کی کھال پہنیں گے ، ان کی زبانیں (یعنی گفتگو) چینی سے زیادہ میٹھی ہو گی ، اور ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں جیسے ہوں گے ، اللہ فرماتا ہے ، وہ دھوکے میں مبتلا ہیں (کہ میں انہیں مہلت دے رہا ہوں) یا وہ میرے خلاف جرأت کرتے ہیں ، میں اپنی قسم اٹھاتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں پر انہی میں سے ایک فتنہ برپا کروں گا کہ وہ ان کے حلیم و بردبار شخص کو بھی حیران چھوڑ دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

5324

Mishkat al-Masabih #5324

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ\nعُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: لَقَدْ خَلَقْتُ خَلْقًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبْرِ فَبِي حَلَفْتُ لَأُتِيحَنَّهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ فِيهِمْ حَيْرَانَ فَبِي يغترّون أم عليَّ يجترؤونَ؟ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :’’ میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی زبانیں چینی سے زیادہ شیریں اور ان کے دل ایلوے سے زیادہ کڑوے ہیں ، میں اپنی ذات کی قسم اٹھاتا ہوں ! میں انہیں ایک فتنے میں مبتلا کروں گا کہ وہ ان کے حلیم (عقل مند و بردبار) شخص کو بھی حیران چھوڑ دے گا ، کیا وہ میری وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہوئے ہیں یا میرے خلاف جرأت کرتے ہیں ؟‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5325

Mishkat al-Masabih #5325

Sahih

وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِنْ صَاحِبُهَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوهُ وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فَلَا تعدوه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک ہر چیز کے لیے رغبت و نشاط ہوتی ہے اور ہر رغبت و نشاط کے لیے ضعف و سستی بھی ہوتی ہے ، اگر اس رغبت رکھنے والے نے میانہ روی رکھی اور افراط سے احتراز کیا تو اس کی (کامیابی کی) امید رکھو اور اگر اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں (اس کی مشہوری ہو جائے) تو اسے شمار نہ کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5326

Mishkat al-Masabih #5326

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بِحَسب امريءٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فِي دِينٍ أَوْ دُنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے یہی شر کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے معاملے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں (اس کی شہرت ہو جائے) مگر وہ شخص جسے اللہ محفوظ رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5327

Mishkat al-Masabih #5327

Sahih

عَن\nأبي تَمِيمَة قَالَ: شَهِدْتُ صَفْوَانَ وَأَصْحَابَهُ وَجُنْدَبٌ يُوصِيهِمْ فَقَالُوا: هَلْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سَمَّعَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ فَمن اسْتَطَاعَ أَن لَا يَأْكُل إِلا طيبا فَلْيَفْعَلْ وَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ أَهَرَاقَهُ فَلْيفْعَل. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوتمیمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں صفوان ؒ اور ان کے ساتھیوں کے پاس موجود تھا اور جندب ؓ انہیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے ، انہوں نے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص شہرت کی خاطر کوئی عمل کرتا ہے تو روز قیامت اللہ اس کو رسوا کرے گا (کہ یہ اس نیت سے عمل کرتا تھا) اور جو اپنی جان کو مشقت میں ڈالتا ہے تو اللہ روز قیامت اسے مشقت میں مبتلا کر دے گا ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہمیں وصیت فرمائیں : انہوں نے فرمایا : انسان کے جسم سے اس کا پیٹ سب سے پہلے خراب ہوتا ہے ، لہذا جو شخص استطاعت رکھتا ہو کہ وہ صرف حلال ہی کھائے گا تو اسے ایسے ہی کرنا چاہیے ، اور جو شخص استطاعت رکھے کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک چلو خون ، جو اس نے ناجائز بہایا ہو وہ حائل نہ ہو تو وہ ضرور ناجائز خون بہانے سے بچے ۔ رواہ البخاری ۔

5328

Mishkat al-Masabih #5328

Zaeef

وَعَن\nعمر بن الْخطاب أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَمَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُتَفَقَّدُوا وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُقَرَّبُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک روز رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی طرف آئے تو انہوں نے معاذ بن جبل ؓ کو نبی ﷺ کی قبر کے پاس روتا ہوا دیکھ کر ان سے پوچھا : تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے وہ چیز رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ معمولی سی ریا کاری بھی شرک ہے ، اور جس شخص نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی تو وہ شخص اللہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے میدان میں اتر آیا ، بے شک اللہ ایسے نیک ، متقی اور گم نام لوگوں کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جاتا ہو اور اگر موجود ہوں تو انہیں مدعو نہیں کیا جاتا اور نہ انہیں قریب کیا جاتا ہے ۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں ، وہ ہر قسم کے گرد و غبار سے دور ہیں ۔‘‘ (کسی فتنے کا شکار نہیں ہوتے) اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

5329

Mishkat al-Masabih #5329

Zaeef

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: هَذَا عَبْدِي حَقًّا . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک بندہ جب علانیہ نماز پڑھتا ہے تو اچھے طریقے سے پڑھتا ہے اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھے طریقے سے پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ میرا بندہ مخلص ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

5330

Mishkat al-Masabih #5330

Zaeef

وَعَنْ مُعَاذِ\nبْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ. قَالَ: «ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ من بعض»\n

اردو ترجمہ · Urdu

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ آخری دور میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے کہ وہ ظاہری طور پر دوست ہوں گے جبکہ باطنی طور پر دشمن ہوں گے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ کس طرح ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ایک دوسرے سے رغبت (یعنی مفاد) اور ایک دوسرے سے خوف (یعنی نقصان) کے پیش نظر ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

5331

Mishkat al-Masabih #5331

Sahih

وَعَنْ شَدَّادِ\nبْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ» رَوَاهُمَا أَحْمد\n

اردو ترجمہ · Urdu

شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، جو شخص دکھلاوے کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، اور جو شخص دکھلاوے کی خاطر صدقہ کرتا ہے تو اس نے شرک کیا ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

5332

Mishkat al-Masabih #5332

Zaeef

وَعَنْهُ\nأَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: شَيْءٌ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرْتُهُ فَأَبْكَانِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَتَخوَّفُ على أمتِي الشِّرْكِ وَالشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ» قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا وَلَكِنْ يُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ. وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضَ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكَ صَوْمَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»\n

اردو ترجمہ · Urdu

شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رونے لگے ، ان سے پوچھا گیا ، تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ چیز جو میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبانی سنی ، میں نے اسے یاد کیا تو اس نے مجھے رلا دیا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مجھے اپنی امت کے بارے میں شرک اور مخفی خواہش کا اندیشہ ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتا ہے ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، البتہ وہ سورج کی چاند کی پوجا نہیں کریں گے اور نہ ہی پتھر و صنم کی ، بلکہ وہ اپنے اعمال کا دکھلاوا کریں گے ، اور مخفی خواہش یہ ہے کہ ان میں سے کوئی روزے کی حالت میں صبح کرے گا ، لیکن اس کی خواہشات میں سے کوئی خواہش اس کے سامنے آ جائے گی تو وہ اپنا روزہ توڑ دے گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5333

Mishkat al-Masabih #5333

Sahih

وَعَن\nأبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟» فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ فَيُصَلِّيَ فَيَزِيدَ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رجلٍ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم مسیح دجال کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق نہ بتاؤں جس کا مجھے ، تمہارے متعلق ، مسیح دجال سے بھی زیادہ اندیشہ ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شرک خفی ، وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص مجھے دیکھ رہا ہے تو وہ (اسے دکھانے کے لیے) اپنی نماز لمبی کر دیتا ہے (آہستہ آہستہ لمبی قراءت کے ساتھ زیادہ وقت لگاتا ہے) ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

5334

Mishkat al-Masabih #5334

Sahih

وَعَن مَحْمُود\nبن لبيد أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ» قالول: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ؟ قَالَ: «الرِّيَاءُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» : يَقُولُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ يُجَازِي الْعِبَادَ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً وَخَيْرًا؟\n

اردو ترجمہ · Urdu

محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے تمہارے متعلق شرک اصغر کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! شرک اصغر سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ریا کاری ۔‘‘\nاور امام بیہقی نے شعب الایمان میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جس روز اللہ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا تو وہ ان (ریاکاروں) کو فرمائے گا : انہی کی طرف چلے جاؤ جن کو تم دنیا میں (اپنے اعمال) دکھایا کرتے تھے ، دیکھو کیا تم ان کے پاس جزا اور خیر و بھلائی پاتے ہو ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔\n

5335

Mishkat al-Masabih #5335

Sahih

وَعَنْ أَبِي\nسَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا عَمِلَ عَمَلًا فِي صَخْرَةٍ لَا بَابَ لَهَا وَلَا كَوَّةَ خَرَجَ عَمَلُهُ إِلَى النَّاسِ كَائِنا مَا كَانَ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کوئی آدمی کسی ایسی چٹان میں کوئی عمل کرتا ہے جس کا کوئی دروازہ اور روشن دان نہیں ، تو اس کا یہ عمل جیسا بھی ہو لوگوں پر آشکار ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5336

Mishkat al-Masabih #5336

Zaeef

وَعَن عُثْمَان\nبن عَفَّان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ سَرِيرَةٌ صَالِحَةً أَوْ سَيِّئَةً أَظْهَرَ اللَّهُ مِنْهَا رِدَاءً يُعْرَفُ بِهِ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کی کوئی نیک یا بد خصلت چھپی ہوئی ہو تو اللہ اس سے کوئی علامت ظاہر فرما دے گا جس سے وہ پہچانا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5337

Mishkat al-Masabih #5337

Sahih

وَعَن عمر\nبن الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ كُلَّ مُنَافِقٍ يَتَكَلَّمُ بِالْحِكْمَةِ وَيَعْمَلُ بِالْجَوْرِ» رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن خطاب ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اس امت کے ہر منافق کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ بات حکمت کے ساتھ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر ظلم کرتا ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5338

Mishkat al-Masabih #5338

Zaeef

وَعَن\nالمهاجرِ بنِ حبيبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كلامِ الْحَكِيم أتقبَّلُ وَلَكِنِّي أَتَقَبَّلُ هَمَّهُ وَهَوَاهُ فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ فِي طَاعَتِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا لِي وَوَقَارًا وإِنْ لمْ يتكلَّمْ رَوَاهُ الدَّارمِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

مہاجر بن حبیب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں دانا کے سارے کلام کو قبول نہیں کرتا ، لیکن میں اس کی نیت اور اس کے ارادے کو قبول کرتا ہوں ، اگر اس کی نیت اور اس کا ارادہ میری اطاعت میں ہے تو میں اس کی خاموشی کو اپنے لیے حمد و وقار قرار دے دیتا ہوں اگرچہ اس نے کلام نہ کیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔