Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 24 · Chapter 217

آداب کا بیان

بَابُ الْحَذَرِ وَالتَّأَنِّي

معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان

15 hadiths in this chapter

5053

Mishkat al-Masabih #5053

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يلْدغ الْمُؤمن من جُحر مرَّتَيْنِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5054

Mishkat al-Masabih #5054

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا الله: الْحلم والأناة . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے عبد القیس کے سردار اشج سے فرمایا :’’ تم میں دوخصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے : حلم اور وقار ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5055

Mishkat al-Masabih #5055

Zaeef

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاس الرَّاوِي من قبل حفظه

اردو ترجمہ · Urdu

سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بردباری اللہ کی جانب سے ہے اور جلد بازی شیطان کی جانب سے ہے ۔‘‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اور اسے غریب کہا ہے اور بعض محدثین نے اس حدیث کے راوی عبد المہیمن بن عباس کے حافظے کے متعلق کلام کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5056

Mishkat al-Masabih #5056

Sahih

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرُبَةٍ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لغزش کرنے والا ہی بردبار ہوتا ہے اور تجربہ کار ہی دانا ہوتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

5057

Mishkat al-Masabih #5057

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ: «خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کیا : آپ مجھے وصیت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاملے پر غور و فکر کر ، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا منکر ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5058

Mishkat al-Masabih #5058

Zaeef

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْء إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

اردو ترجمہ · Urdu

مصعب بن سعد ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، جبکہ اعمش نے فرمایا : میں تو اس (حدیث) کو نبی ﷺ ہی سے جانتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمل آخرت کے علاوہ ہر چیز میں عجلت سے کام نہ لینا بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5059

Mishkat al-Masabih #5059

Sahih

وَعَن عبد الله بن جرجس أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «السَّمْتُ الْحَسَنُ وَالتُّؤَدَةُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعٍ وَعشْرين جُزْءا من النُّبُوَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اچھی سیرت ، تحمل و وقار اور میانہ روی نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5060

Mishkat al-Masabih #5060

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اچھا طریق اور اچھی سیرت نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5061

Mishkat al-Masabih #5061

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

جابر بن عبداللہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی بات کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھے (کہ کہیں کوئی اور تو نہیں سن رہا) تو وہ امانت ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

5062

Mishkat al-Masabih #5062

Zaeef

وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأبي الهيثمِ بن التَّيِّهان: «هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟» فَقَالَ: لَا. قَالَ: فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسَيْنِ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَرْ مِنْهُمَا» . فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ. خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ابو الہیشم بن التیہان سے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے ۔‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو پھر تم ہمارے پاس آنا ۔‘‘ نبی ﷺ کے پاس دو غلام لائے گئے تو ابو الہیشم بھی آپ کے پاس گئے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! آپ ہی پسند فرما دیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ امین ہوتا ہے ، اسے لے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5063

Mishkat al-Masabih #5063

Zaeef

وَعَنْ جَابِرٍ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: المجالسُ بالأمانةِ إِلَّا ثلاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ واقتطاع مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\nوَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ» فِي «بَاب المباشرةِ» فِي «الْفَصْل الأول»\n

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین مجالس ، (جہاں) ناحق قتل کرنے یا زنا کرنے یا ناحق مال حاصل کرنے کے متعلق باتیں ہو رہی ہوں ، کے علاوہ مجالس (کی باتیں) امانت ہوتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔\n اور ابوسعید ؓ سے مروی حدیث کہ :’’ بے شک بڑی امانت ‘‘ باب المباشرۃ کی فصل اول میں ذکر ہو چکی ہے ۔\n

5064

Mishkat al-Masabih #5064

Zaeef

عَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْعَقْلَ قَالَ لَهُ: قُمْ فَقَامَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: أدبر ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَقْبِلْ فَأَقْبَلَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: اقْعُدْ فَقَعَدَ ثُمَّ قَالَ: مَا خَلَقْتُ خَلْقًا هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَلَا أَفْضَلُ مِنْكَ وَلَا أَحْسَنُ مِنْكَ بِكَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي وَبِكَ أُعْرَفُ وَبِكَ أُعَاتِبُ وَبِكَ الثَّوَابُ وَعَلَيْكَ العقابُ . وَقد تكلم فِيهِ بعض الْعلمَاء\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ نے عقل کو پیدا فرمایا تو اسے فرمایا : کھڑی ہو جا ، وہ کھڑی ہو گئی ، پھر اسے کہا : پیچھے مڑ ، تو وہ پیچھے مڑ گئی ، پھر اسے کہا : سامنے توجہ کر ، تو وہ سامنے آ گئی ، پھر اسے کہا : بیٹھ جا ، تو وہ بیٹھ گئی ، پھر اسے فرمایا : میں نے اپنی پوری مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ بہتر و افضل اور سب سے اچھا بنایا ہے ، میں تیری وجہ سے مؤاخذہ کروں گا ، تیری وجہ سے عنایت کروں گا اور تیری وجہ سے میں پہچانا جاتا ہوں ، میں تیری وجہ سے سزا دوں گا جزا اور ثواب کا انحصار بھی تجھ پر ہے ۔‘‘ اس کے متعلق بعض علما نے کلام کیا ہے ۔ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5065

Mishkat al-Masabih #5065

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ\nعُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لِيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ» . حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ كُلَّهَا: «وَمَا يُجْزَى يَوْم الْقِيَامَة إِلا بقدرِ عقله»\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلا شبہ ایک شخص نماز پڑھنے والوں ، روزہ رکھنے والوں ، زکوۃ دینے والوں ، حج اور عمرہ کرنے والوں میں ہو گا ۔‘‘ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تمام اچھے کاموں کا ذکر کیا ۔’’ لیکن اس شخص کو ثواب اس کی عقل کے تناسب سے دیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5066

Mishkat al-Masabih #5066

Zaeef

وَعَنْ أَبِي\nذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلَا ورع كالكفِّ ولاحسب كحسن الْخلق»\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ ابوذر ! تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں اور مشتبہات سے رک جانے جیسا کوئی تقویٰ نہیں اور نہ ہی حسن خلق جیسا کوئی حسب و شرف ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5067

Mishkat al-Masabih #5067

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ\nعُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ وَالتَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ» رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خرچ کرنے میں میانہ روی نصف معیشت ہے ، (اچھے) لوگوں سے دوستی اور محبت نصف عقل ہے ، اور حسن سوال نصف علم ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے یہ چاروں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف منکر ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔