Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 20 · Chapter 189

کھانوں کا بیان

بَاب الضِّيَافَة

ضیافت کا بیان

18 hadiths in this chapter

4243

Mishkat al-Masabih #4243

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: بَدَلَ «الْجَارِ» وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رحِمَه

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر و بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے ایک دوسری روایت میں : پڑوسی کے بجائے یہ الفاظ ہیں :’’ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4244

Mishkat al-Masabih #4244

Sahih

وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحَرِّجَهُ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوشریح الکعبی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور وہ ایک دن ایک رات ہے ، اور ضیافت تین دن کے لیے ہے ، اس کے بعد صدقہ ہے ۔ اور مہمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اس قدر قیام کرے کہ وہ اسے تنگی میں مبتلا کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4245

Mishkat al-Masabih #4245

Sahih

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّك تبعثنا فتنزل بِقَوْمٍ لَا يُقْرُونَنَا فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَانْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حق الضَّيْف الَّذِي يَنْبَغِي لَهُم»

اردو ترجمہ · Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا ، آپ ہمیں بھیجتے ہیں ، اور ہم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے اس بارے میں جناب کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالو اور وہ مہمان نوازی کے مطابق تمہاری مہمان نوازی کریں تو اسے قبول کرو اور اگر وہ مہمان نوازی نہ کریں تو پھر مہمان نوازی کا جو حق ہے وہ ان سے وصول کر سکتے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4246

Mishkat al-Masabih #4246

Sahih

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْم وَلَيْلَة فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَا: الْجُوعُ قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا» فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ المرأةُ قَالَت: مرْحَبًا وَأهلا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أكرمَ أضيافاً مني قَالَ: فانطَلَق فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ: كُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النعيمُ» . رَوَاهُ مُسلم. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي مَسْعُودٍ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَار فِي «بَاب الْوَلِيمَة»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی روز یا کسی رات رسول اللہ ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کی ابوبکر اور عمر ؓ سے ملاقات ہو گئی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس وقت تمہیں کس چیز نے تمہارے گھروں سے نکالا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، بھوک نے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا جس نے تمہیں نکالا ہے ، چلو !‘‘ وہ آپ ﷺ کے ساتھ چل دیئے ۔ آپ ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لائے لیکن وہ گھر پر نہیں تھے ، جب اس کی اہلیہ نے آپ کو دیکھا تو کہا : خوش آمدید ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ فلاں کہاں ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، اتنے میں وہ انصاری بھی تشریف لے آئے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو پکار اٹھے : الحمد للہ ، مہمانی کے لحاظ سے آج کا دن میرے لیے بہت ہی باعث عزت ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ شخص گیا اور کھجوروں کا خوشہ لایا جس میں کچی ، پکی اور عمدہ ہر قسم کی کھجوریں تھیں ، اس نے عرض کیا ، آپ انہیں تناول فرمائیں ، اور خود اس نے چھری پکڑ لی ، رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ دودھ دینے والی بکری سے احتیاط کرنا ۔‘‘ اس نے ان کی خاطر بکری ذبح کی ، انہوں نے اس بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا ۔ جب وہ سیر و سیراب ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر و عمر ؓ سے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! روز قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ، پھر تم ان نعمتوں سے مستفید ہو کر واپس جاؤ گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث :’’ انصار میں سے ایک آدمی تھا . ۔’’ باب الولیمۃ‘‘ میں ذکر کی گئی ہے ۔\n

4247

Mishkat al-Masabih #4247

Sahih

عَن المقدامِ بن معدي كرب سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَاهُ مِنْ مَالِهِ وَزَرْعِهِ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ وَأَبُو دَاوُد\nوَفِي رِوَايَة: «وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يُقْرُوهُ كَانَ لَهُ أَن يعقبهم بِمثل قراه»\n

اردو ترجمہ · Urdu

مقدام بن معدیکرب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کوئی مسلمان کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرے لیکن وہ حقِ ضیافت سے محروم رہے تو اس کی نصرت کرنا ہر مسلمان پر حق ہے حتی کہ وہ اس کے مال اور اس کی زراعت سے اس کا حقِ ضیافت لے لے ۔‘‘ دارمی ، ابوداؤد ۔\nاور ابوداؤد کی روایت میں ہے :’’ جو کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرا لیکن انہوں نے اس کی ضیافت نہ کی تو وہ اپنے حقِ ضیافت کے برابر ان کے مال سے لے سکتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی و ابوداؤد ۔\n

4248

Mishkat al-Masabih #4248

Sahih

وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يُقِرْنِي وَلَمْ يُضِفْنِي ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ أَأَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ: «بل اقره» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابواحوص جشمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر میں کسی شخص کے پاس سے گزروں تو وہ میری ضیافت نہ کرے لیکن اس کے بعد وہ میرے پاس سے گزرے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو بدلہ دوں (کہ ضیافت نہ کروں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلکہ ضیافت کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

4249

Mishkat al-Masabih #4249

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي: وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ یا ان کے علاوہ کسی صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن عبادہ ؓ سے اجازت طلب کی اور فرمایا :’’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ‘‘ سعد ؓ نے عرض کیا : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ، لیکن انہوں نے نبی ﷺ کو آواز نہ سنائی حتی کہ آپ نے تین مرتبہ سلام کیا اور سعد ؓ نے بھی تین مرتبہ سلام کا جواب دیا لیکن آپ کو نہ سنایا ، جب نبی ﷺ واپس تشریف لے گئے تو سعد ؓ ، آپ کے پیچھے گئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جتنی بار بھی سلام کیا میں نے اسے سنا اور آپ کو جواب عرض کیا لیکن میں نے آپ کو (اس لیے) نہیں سنایا کہ میں پسند کرتا تھا کہ آپ سے زیادہ سے زیادہ سلامتی اور برکت حاصل کر سکوں ، پھر وہ گھر تشریف لائے تو انہوں نے آپ کی خدمت میں منقی پیش کیا تو نبی ﷺ نے اسے کھایا ، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ نیکوکار تمہارا کھانا کھاتے رہیں ، فرشتے تم پر رحمتیں بھیجیں اور روزہ دار تمہارے ہاں افطار کرتے رہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔

4250

Mishkat al-Masabih #4250

Zaeef

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمُ الْأَتْقِيَاءَ وَأَوْلُوا مَعْرُوفَكُمُ الْمُؤْمِنِينَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کے مثل ہے جو اپنے کھونٹے کے ساتھ بندھا ہوا ہے دوڑتا پھرتا ہے لیکن اپنے کھونٹے کی طرف ہی لوٹ آتا ہے ، اور مومن بھول جاتا ہے (غلطی کر بیٹھتا ہے) اور پھر ایمان کی طرف پلٹ آتا ہے ، تم اپنا کھانا متقی لوگوں کو کھلاؤ اور مومنوں کے ساتھ بھلائی کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4251

Mishkat al-Masabih #4251

Sahih

عَن عبد الله بنِ بُسر قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا فَلَمَّا كَثُرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا» ثُمَّ قَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن بُسر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کا ایک برتن تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے ، اسے غراء کہا جاتا تھا ، جب وہ چاشت کا وقت ہونے پر نماز چاشت پڑھ لیتے تو وہ برتن لایا جاتا اور اس میں ثرید تیار کیا جاتا ، پھر صحابہ کرام اس کے گرد جمع ہو جاتے ، جب وہ زیادہ ہو جاتے تو رسول اللہ ﷺ دو زانوں ہو کر بیٹھ جاتے ، کسی اعرابی نے کہا : یہ کس طرح بیٹھنا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے مجھے متواضع سخی بنایا ہے اور مجھے متکبر سرکش نہیں بنایا ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس (برتن) کے اطراف سے کھاؤ اور اس کے وسط کو چھوڑ دو اس میں برکت عطا کی جائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

4252

Mishkat al-Masabih #4252

Zaeef

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: إِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ يُباركْ لكم فِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

وحشی بن حرب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شاید کے تم الگ الگ کھاتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اپنا کھانا اجتماعی شکل میں کھایا کرو ، اللہ کا نام لیا کرو (اس طرح) اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4253

Mishkat al-Masabih #4253

Sahih

عَنْ أَبِي عَسِيبٍ\nقَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: «أَطْعِمْنَا بُسْرًا» فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: «لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ القيامةِ» قَالَ: فَأخذ عمر العذق فَضرب فِيهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُول الله إِنَّا لمسؤولونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ لَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ أَوْ حُجْرٍ يتدخَّلُ فِيهِ مَنِ الْحَرِّ وَالْقُرِّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» . مُرْسلا\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عسیب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے میرے پاس سے گزرے تو مجھے آواز دی ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر آپ ابوبکر ؓ کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی آواز دی ، وہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پھر آپ ، عمر ؓ کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی آواز دی ، وہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ چلتے گئے حتی کہ کسی انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے ، آپ ﷺ نے باغ کے مالک سے فرمایا :’’ ہمیں پکی ہوئی کھجوریں کھلاؤ ۔‘‘ وہ ایک خوشہ لائے جسے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا ، پھر آپ ﷺ نے ٹھنڈا پانی منگایا اور اسے نوش فرمایا ، پھر فرمایا :’’ روزِ قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔‘‘\n راوی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے وہ خوشہ پکڑ کر زمین پر مارا حتی کہ وہ کھجوریں رسول اللہ ﷺ کے سامنے بکھر گئیں ، پھر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا روزِ قیامت ہم سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، مگر تین چیزوں کے متعلق سوال نہیں ہو گا ، وہ کپڑا جس سے آدمی اپنا ستر ڈھانپتا ہے ، یا روٹی کا ٹکڑا جس سے وہ اپنی بھوک مٹاتا ہے ، یا وہ کمرہ جس میں وہ گرمی ، سردی میں رہائش رکھتا ہے ۔‘‘ احمد ، بیہقی نے شعب الایمان میں اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔\n

4254

Mishkat al-Masabih #4254

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلَا يَقُومُ رَجُلٌ حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ وَلَا يَرْفَعْ يَدَهُ وَإِنْ شَبِعَ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ وَلْيُعْذِرْ فَإِنَّ ذَلِكَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ فَيَقْبِضُ يَدَهُ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ» رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب دسترخوان لگا دیا جائے تو دسترخوان اٹھائے جانے تک کوئی شخص نہ اٹھے ، اور جب تک کھانے میں شریک تمام افراد فارغ نہ ہو جائیں تب تک کوئی شخص کھانے سے اپنا ہاتھ نہ روکے خواہ وہ سیر ہو جائے اور اگر اسے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو عذر پیش کر دینا چاہیے ، ورنہ اس طرح اس کے ساتھ والے کو شرمندگی ہو گی اور وہ کھانے کی ضرورت کے باوجود اپنا ہاتھ روک لے گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

4255

Mishkat al-Masabih #4255

Zaeef

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ مَعَ قَوْمٍ كَانَ آخِرَهُمْ أَكْلًا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» مُرْسلا

اردو ترجمہ · Urdu

جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، جب رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتے تو آپ ﷺ سب سے آخر پر کھانے سے فارغ ہوتے تھے ۔ بیہقی نے شعب الایمان میں مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4256

Mishkat al-Masabih #4256

Sahih

وَعَن أَسمَاء بنتِ يزِيد قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَعَرَضَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ. قَالَ: «لَا تَجْتَمِعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

اردو ترجمہ · Urdu

اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے وہ ہمیں عنایت فرما دیا ، ہم نے عرض کیا ، ہمیں کھانے کی چاہت نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بھوک اور جھوٹ جمع نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

4257

Mishkat al-Masabih #4257

Zaeef

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ معَ الجماعةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اکٹھے کھایا کرو ، الگ الگ مت کھاؤ ، کیونکہ برکت جماعت کے ساتھ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

4258

Mishkat al-Masabih #4258

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنَ السَّنَةِ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ مَعَ ضَيْفِهِ إِلَى بَابِ الدَّارِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کا پنے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک جانا مسنون ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔

4259

Mishkat al-Masabih #4259

Zaeef

وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» عَنْهُ وَعَنِ ابْن عَبَّاس وَقَالَ: فِي إِسْنَاده ضَعِيف

اردو ترجمہ · Urdu

امام بیہقی نے اسے ابوہریرہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے کہا : اس کی سند میں ضعف ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

4260

Mishkat al-Masabih #4260

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُؤْكَلُ فِيهِ مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سنامِ الْبَعِير» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس گھر میں کھانا کھلایا جائے اس میں خیر و برکت اس تیزی سے داخل ہوتی ہے ، جس تیزی کے ساتھ چھری اونٹ کی کوہان کو کاٹتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔