Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 18 · Chapter 177

جہاد کا بیان

بَابُ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ وَدُعَائِهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ

کفار کے نام خط لکھنے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا بیان

11 hadiths in this chapter

3926

Mishkat al-Masabih #3926

Sahih

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ وَبَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَيْهِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى لِيَدْفَعَهُ إِلَى قَيْصَرَ فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أدْعوكَ بداعيَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجَرَكَ مَرَّتَيْنِ وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيسِيِّينَ وَ (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَن لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا: اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ)\nمُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ:\nمِنْ محمَّدٍ رسولِ اللَّهِ وَقَالَ: «إِثمُ اليريسيِّينَ» وَقَالَ: «بِدِعَايَةِ الْإِسْلَام»\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قیصر کے نام خط لکھا تاکہ آپ اسے اسلام کی طرف دعوت دیں ، آپ ﷺ نے دحیہ کلبی ؓ کو خط دے کر اس کی طرف بھیجا اور اسے حکم فرمایا کہ وہ اسے عظیم بصری کے حوالے کرے تاکہ وہ اسے قیصر تک پہنچائے ، اس میں لکھا ہوا تھا :\n((بسم اللہ الرحمن الرحیم))\n’’شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے‘‘\nاللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد (ﷺ) کی طرف سے ہرقل عظیم روم کی طرف ، اس شخص پر سلام جو ہدایت کی اتباع کرے ، امابعد ! میں تمہیں اسلام کی دعوت پیش کرتا ہوں ، اسلام لاؤ سالم رہو گے ۔ اسلام لاؤ ! اللہ تمہیں تمہارا اجر دو بار دے گا ۔ اور اگر تم نے رو گردانی کی تو تم پر رعایا کا بھی گناہ ہو گا ، اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں ، اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، اور ہم اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں ، پس اگر وہ رخ پھیریں تو کہہ دو کہ تم لوگ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔\n اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ’’محمد (ﷺ) اللہ کے رسول کی طرف سے‘‘ پھر ((اریسیّین)) کے بجائے ((الیریسیّین)) اور ((بداعیۃ الاسلام)) کے بجائے ((بدعایۃ الاسلام)) کے الفاظ ہیں ۔ متفق علیہ ۔\n

3927

Mishkat al-Masabih #3927

Sahih

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَ مَزَّقَهُ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن حذافہ سہمی ؓ کے ذریعے کسریٰ کے نام خط بھیجا اور انہیں حکم فرمایا کہ وہ اسے سربراہ بحرین کے حوالے کرے ، چنانچہ سربراہ بحرین نے یہ خط کسریٰ کے حوالے کیا ، جب اس نے پڑھا تو اس نے اسے چاک کر دیا ، ابن مسیّب بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بددعا کی کہ وہ پارہ پارہ کر دیے جائیں ۔ رواہ البخاری ۔

3928

Mishkat al-Masabih #3928

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کسریٰ ، قیصر ، نجاشی اور ہر سرکش کے نام خط لکھا اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دی ، اور یہ وہ نجاشی نہیں جس کی نبی ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھی تھی ۔ رواہ مسلم ۔

3929

Mishkat al-Masabih #3929

Sahih

وَعَن سليمانَ بنِ بُريدةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ: اغْزُوَا بسمِ اللَّهِ قَاتَلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوَا فَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتَهُنَّ مَا أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يُجْرَى عَلَيْهِمْ حُكْمُ الله الَّذِي يُجْرَى عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يُجْرَى عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هم أَبَوا فعلهم الْجِزْيَةَ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي: أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا؟ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن بُریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کسی لشکر یا کسی دستے پر کوئی امیر مقرر فرماتے تو آپ خاص طور پر اسے اللہ کا خوف اختیار کرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ خیر و بھلائی کرنے کا حکم فرماتے ، پھر فرماتے :’’ اللہ کی راہ میں اللہ کے نام سے جہاد کرو ، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کرو جہاد کرو ، خیانت ، عہد شکنی اور مثلہ مت کرو ، بچوں کو قتل نہ کرو ، اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں سے ملاقات کرو تو انہیں تین چیزوں کی طرف دعوت دو اور وہ ان میں سے جو قبول کر لیں وہی تم ان سے قبول کر لو اور اِن سے (لڑائی کرنے سے) ہاتھ روک لو ، پھر انہیں اسلام کی طرف دعوت دو ، اگر تمہاری بات مان لیں ، تو اِن سے قبول کر لو ، اور اِن سے (لڑائی کرنے سے) ہاتھ روک لو ، پھر انہیں ان کے گھر سے دار المہاجرین کی طرف منتقل ہونے کی دعوت پیش کرو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو پھر ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہوں گے اور ان کی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین کی ہوں گی ، اگر وہ وہاں سے منتقل ہونے سے انکار کریں تو انہیں بتاؤ کہ ان کا معاملہ دیہاتوں میں رہائش پذیر مسلمانوں جیسا ہو گا ، اللہ کے احکام ان پر ویسے ہی جاری کیے جائیں گے جیسے دیگر مومنوں پر جاری ہوں گے ، اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے تو تب ان کے لیے مال غنیمت اور مالِ فے میں سے حصہ ہو گا ورنہ نہیں ، اگر وہ انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کرو ، اگر وہ آپ کی بات مان لیں تو ان کی طرف سے قبول کرو اور ان سے لڑائی مت کرو ، اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے قتال کرو ، جب تم قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور اگر وہ تم سے یہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کی امان دو تو انہیں اللہ اور اس کے نبی کی امان مت دینا ، بلکہ انہیں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی امان دینا ، کیونکہ اگر تم نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی امان کو توڑا تو یہ اس سے سہل تر ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی امان کو توڑو ۔ اور اگر تم قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے مطالبہ کریں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر نکالو تو تم انہیں اللہ کے حکم پر نہ نکالو ، بلکہ تم انہیں اپنے حکم پر نکالو ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کر سکو گے یا نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3930

Mishkat al-Masabih #3930

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أوفى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وهازم الْأَحْزَاب واهزمهم وَانْصُرْنَا عَلَيْهِم»

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان ایام میں سے کسی روز جس میں آپ دشمن سے ملے زوال آفتاب کا انتظار فرمایا ، پھر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب فرمایا :’’ لوگو ! دشمن سے ملاقات کی تمنا مت کرو بلکہ اللہ سے عافیت طلب کرو ۔ لیکن جب تم آمنے سامنے ہو جاؤ تو پھر صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! کتاب کے نازل فرمانے والے ، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے ! انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3931

Mishkat al-Masabih #3931

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِمْ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلًا فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يسمَعْ أذاناً رِكبَ ورَكِبْتُ خلفَ أبي طلحةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بَمَكَاتِلِهِمْ ومساحيهم فَلَمَّا رأى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: مُحَمَّدٌ واللَّهِ محمّدٌ والخميسُ فلَجؤوا إِلَى الْحِصْنِ فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قومٍ فساءَ صباحُ المُنْذَرينَ»

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب ہمیں لے کر کسی قوم سے جہاد کرتے تو آپ اس وقت تک جہاد کا آغاز نہ فرماتے جب تک صبح نہ ہو جاتی پھر آپ ان کا جائزہ لیتے ، اگر آپ ﷺ اذان سنتے تو ان سے لڑائی نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو پھر ان پر حملہ کر دیتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو ہم رات کے وقت وہاں پہنچ گئے ، پس جب صبح ہوئی تو آپ نے اذان نہ سنی ، آپ سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ ؓ کے پیچھے سوار ہوا ، اور میرے قدم ، نبی ﷺ کے قدم کے ساتھ لگ رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ (کام کی غرض سے) اپنی ٹوکریوں اور بیلچوں کے ساتھ ہماری طرف آئے ، جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو انہوں نے کہا : محمد (ﷺ) اللہ کی قسم ! محمد (ﷺ) لشکر سمیت (آ گئے ہیں) ، وہ قلعہ بند ہو گئے ، جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا :’’ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، خیبر تباہ ہوا ، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتے ہیں تو ان کے ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بُری ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3932

Mishkat al-Masabih #3932

Sahih

وَعَن النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْقِتَالَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تهب الْأَرْوَاح وتحضر الصَّلَاة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

نعمان بن مقرن ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک تھا ، اگر آپ دن کے آغاز میں لڑائی کا آغاز نہ فرماتے تو آپ انتظار فرماتے حتی کہ ہوائیں چلنے لگتیں اور نماز (ظہر) کا وقت ہو جاتا ۔ رواہ البخاری ۔

3933

Mishkat al-Masabih #3933

Sahih

عَن النُّعْمَان بن مقرن قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وينزِلَ النَّصرُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

نعمان بن مقرن ؓ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ، جب آپ دن کے پہلے پہر قتال نہ کرتے تو آپ ﷺ انتظار فرماتے حتی کہ سورج ڈھل جاتا ، ہوائیں چلنے لگتیں اور نصرت نازل ہوتی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

3934

Mishkat al-Masabih #3934

Zaeef

وَعَن قتادةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ أَمْسَكَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَاتَلَ فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ أَمْسَكَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ ثُمَّ أَمْسَكَ حَتَّى يُصَلَّى الْعَصْرُ ثُمَّ يُقَاتِلُ قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ يُقَالُ: عِنْدَ ذَلِكَ تُهِيجُ رِيَاحُ النَّصْرِ وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُونَ لِجُيُوشِهِمْ فِي صلَاتهم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

قتادہ ، نعمان بن مقرن ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کیا جب فجر نمودار ہو جاتی تو آپ (قتال سے) رک جاتے حتی کہ سورج طلوع ہو جاتا ، جب وہ طلوع ہو جاتا تو آپ قتال کرتے ، جب نصف النہار ہو جاتا تو آپ رک جاتے حتی کہ سورج ڈھل جاتا ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ عصر تک قتال کرتے پھر آپ رک جاتے تھے حتی کہ نمازِ عصر پڑھتے ، پھر آپ قتال کرتے ۔ قتادہ بیان کرتے ہیں ، اس وقت کہا جاتا تھا : نصرت کی ہوائیں چلتی ہیں ، اور مومن اپنی نمازوں میں اپنے لشکروں کے لیے دعائیں کرتے ہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

3935

Mishkat al-Masabih #3935

Zaeef

وَعَن عصامٍ المزنيِّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عصام مزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا تو فرمایا :’’ جب تم کوئی مسجد دیکھو یا کسی مؤذن کو سنو تو پھر تم کسی کو قتل نہ کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

3936

Mishkat al-Masabih #3936

Zaeef

عَن أبي وائلٍ قَالَ: كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ فَارِسَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى رُسْتَمَ وَمِهْرَانَ فِي مَلَأِ فَارِسَ. سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى. أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا نَدْعُوكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّ مَعِيَ قَوْمًا يُحِبُّونَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا يُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة 0

اردو ترجمہ · Urdu

ابووائل بیان کرتے ہیں ، خالد بن ولید ؓ نے اہل فارس کے نام خط لکھا :\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nخالد بن ولید کی طرف سے رستم و مہران اور فارس کے سرداروں کے نام ، اس شخص پر سلام جو ہدایت کی اتباع کرے ، امابعد ! ہم تمہیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں ، اگر تم انکار کرو تو تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم ذلیل ہو ، کیونکہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارسی شراب پسند کرتے ہیں ۔ اور اس شخص پر سلام جو ہدایت کی اتباع کرے ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔\n