Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 17 · Chapter 172

امارت و قضاء کا بیان

بَابُ الْعَمَلِ فِي الْقَضَاءِ وَالْخَوْفِ مِنْهُ

حکمرانی کرنے اور اس سے ڈرنے کا بیان

14 hadiths in this chapter

3731

Mishkat al-Masabih #3731

Sahih

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حاکم غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3732

Mishkat al-Masabih #3732

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فلهُ أجرٌ واحدٌ»

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب حاکم فیصلہ کرتے وقت کوشش کرے اور درست فیصلہ کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں ، اور جب فیصلہ کرے اور کوشش کے باوجود غلطی ہو جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3733

Mishkat al-Masabih #3733

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو لوگوں کا قاضی بنا دیا گیا گویا وہ چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

3734

Mishkat al-Masabih #3734

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ وَسَأَلَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أُكْرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قضا کا خواہشمند ہو اور وہ مطالبہ کرے تو اسے اس کی ذات کے سپرد کر دیا جاتا ہے ، اور جسے اس پر مجبور کر دیا جائے تو اللہ اس پر ایک فرشتہ نازل فرما دیتا ہے جو اس کو درست رکھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

3735

Mishkat al-Masabih #3735

Zaeef

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

اردو ترجمہ · Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قاضی تین قسم کے ہیں ، ان میں سے ایک جنتی اور دو جہنمی ہیں ، وہ قاضی جنتی ہے جس نے حق پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کیا ، اور وہ قاضی جس نے حق پہچان کر فیصلہ میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ، اور وہ آدمی جس نے جہالت کی بنا پر لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا تو وہ بھی جہنمی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

3736

Mishkat al-Masabih #3736

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے مسلمانوں کی قضاء طلب کی اور وہ اسے میسر آ گئی ، پھر اس کا عدل اس کے ظلم پر غالب رہا تو اس کے لیے جنت ہے ، اور جس شخص کے عدل پر اس کا ظلم غالب رہا تو اس کے لیے جہنم ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

3737

Mishkat al-Masabih #3737

Zaeef

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمين قَالَ: «كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟» قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟» قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ؟» قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو قَالَ: فَضَرَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدْرِهِ وَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي

اردو ترجمہ · Urdu

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا :’’ جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ ؟‘‘ عرض کیا : پھر رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ، فرمایا :’’ اگر تم رسول اللہ (ﷺ) کی سنت میں نہ پاؤ ؟‘‘ عرض کیا : میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ، اور کوئی کسر نہیں اٹھا رکھوں گا ، وہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے (ازراہِ مسرت) میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے قاصد کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول (ﷺ) پسند فرماتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔

3738

Mishkat al-Masabih #3738

Zaeef

عَن عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ» . قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ\nوَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ: «إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ برأيي» فِي بَابِ «الْأَقْضِيَةِ وَالشَّهَادَاتِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى\n

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں ، جبکہ میں نوعمر ہوں اور مجھے قضا کے بارے میں علم بھی نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک عنقریب اللہ تیرے دل کی راہنمائی کرے گا اور تیری زبان کو استقامت عطا فرمائے گا ، جب دو آدمی تیرے پاس مقدمہ لے کر آئیں تو دوسرے فریق کی بات سنے بغیر پہلے فریق کے حق میں فیصلہ نہ کرنا کیونکہ یہ لائق تر ہے کہ تیرے لیے قضا واضح ہو جائے ۔‘‘ علی ؓ بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد مجھے قضا میں شک نہیں ہوا ۔\n اور ام سلمہ ؓ سے مروی حدیث :’’ میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا ۔‘‘ کو ہم ’’باب الاقضیۃ و الشھادات ‘‘ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔\n

3739

Mishkat al-Masabih #3739

Zaeef

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهْ أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ والْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اسے گدی سے پکڑے ہو گا ، پھر وہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے کہا : اسے پھینک دو ، وہ اسے چالیس سال (کی مسافت کی گہرائی) کے گڑھے میں پھینک دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

3740

Mishkat al-Masabih #3740

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يومُ القيامةِ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَة قطّ» . رَوَاهُ أَحْمد

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت عادل قاضی بھی یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس نے دو آدمیوں کے درمیان کبھی ایک کھجور کا بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

3741

Mishkat al-Masabih #3741

Sahih

وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةٍ: «فَإِذَا جارَ وَكله إِلَى نَفسه»

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک قاضی ظلم نہ کرے تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے ، جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے اور شیطان اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ۔‘‘\nاور ایک روایت میں ہے :’’ جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ اسے اس کے نفس کے سپرد کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔\n

3742

Mishkat al-Masabih #3742

Sahih

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ مُسْلِمًا وَيَهُودِيًّا اخْتَصَمَا إِلَى عُمَرَ فَرَأَى الْحَقَّ لِلْيَهُودِيِّ فَقَضَى لَهُ عُمَرُ بِهِ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَضَيْتَ بِالْحَقِّ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ وَقَالَ: وَمَا يُدْريكَ؟ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَاللَّهِ إِنَّا نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّهُ لَيْسَ قَاضٍ يَقْضِي بِالْحَقِّ إِلَّا كَانَ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكٌ وَعَنْ شِمَالِهِ مَلَكٌ يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ لِلْحَقِّ مَا دَامَ مَعَ الْحَقِّ فَإِذَا تركَ الحقَّ عرَجا وترَكاهُ. رَوَاهُ مَالك

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی عمر ؓ کے پاس مقدمہ لے کر آئے تو حضرت عمر ؓ نے محسوس کیا کہ یہودی حق پر ہے اس لیے انہوں نے یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا تو یہودی نے انہیں کہا : اللہ کی قسم ! آپ نے حق کے مطابق فیصلہ کیا ، عمر ؓ نے اسے درہ مارا اور فرمایا : تجھے کیسے پتہ چلا ؟ یہودی نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم تورات میں (لکھا ہوا) پاتے ہیں کہ جو قاضی حق کے مطابق فیصلہ کرتا ہے تو اس کے دائیں بائیں ایک ایک فرشتہ ہوتا ہے ، وہ دونوں اسے حق کے لیے درست رکھتے ہیں ، اور اسے حق دینے کی کوشش کرتے ہیں ، جب وہ حق چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں (آسمان کی طرف) اوپر چڑھ جاتے ہیں ، اور اسے چھوڑ دیتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک ۔

3743

Mishkat al-Masabih #3743

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَين النَّاس قَالَ: أَو تعاقبني يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: وَمَا تَكْرَهُ مِنْ ذَلِك وَقد كَانَ أَبوك قَاضِيا؟ قَالَ: لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْعَدْلِ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْهُ كَفَافًا» . فَمَا راجعَه بعدَ ذَلِك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن موہب سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے ابن عمر ؓ سے فرمایا :’’ لوگوں کے درمیان قاضی بننا قبول کرو ۔ انہوں نے کہا : امیر المومنین ! آپ مجھے معاف نہیں فرما دیتے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ اسے ناپسند کیوں کرتے ہیں ، جبکہ آپ کے والد فیصلے کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص قاضی ہو اور وہ انصاف سے فیصلے کرے تو یہ زیادہ لائق ہے کہ وہ (قاضی) سے برابر برابر رہ جائے ۔‘‘ عثمان ؓ نے اس کے بعد انہیں نہیں کہا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

3744

Mishkat al-Masabih #3744

Zaeef

وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا أَقْضِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ: قَالَ: فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يَقْضِي فَقَالَ: إِنَّ أَبِي لَوْ أُشْكِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أُشْكِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سَأَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَإِنِّي لَا أَجِدُ مَنْ أَسْأَلُهُ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِعَظِيمٍ» . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ» . وَإِنِّي أَعُوذُ باللَّهِ أنْ تجعلَني قاضِياً فأعْفاهُ وَقَالَ: لَا تُخبرْ أحدا

اردو ترجمہ · Urdu

رزین کی نافع کی سند سے مروی روایت میں ہے کہ ابن عمر ؓ نے عثمان ؓ سے فرمایا : امیر المومنین ! میں دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہیں کروں گا ، انہوں نے فرمایا : آپ کے والد تو فیصلہ کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا : میرے والد کو کسی مسئلہ میں اشکال ہوتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیا کرتے تھے ، اگر رسول اللہ ﷺ کو کسی مسئلہ میں الجھن ہوتی تو وہ جبریل سے پوچھ لیتے تھے ، جبکہ میں ایسا کوئی شخص نہیں پاتا جس سے میں پوچھ لوں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اس نے ایک عظیم ذات کی پناہ حاصل کی ۔‘‘ اور میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کر لے تو اسے پناہ دے دو ۔‘‘ اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے قاضی بناؤ ۔ انہوں نے اس سے درگزر کیا اور فرمایا : کسی کو نہ بتانا ۔ ضعیف ، رواہ رزین ۔