Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 15 · Chapter 161

قصاص کا بیان

بَاب الدِّيات

دیتوں کا بیان

24 hadiths in this chapter

3486

Mishkat al-Masabih #3486

Sahih

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ» يَعْنِي الخِنصرُ والإبهامَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اور یہ یعنی چھنگلی اور انگوٹھا (دیت میں) برابر ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

3487

Mishkat al-Masabih #3487

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مَنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةِ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ مِيرَاثَهَا لبنيها وَزوجهَا الْعقل على عصبتها

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی ایک عورت کے حمل کے مردہ حالت میں ساقط ہو جانے پر ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا تھا ، پھر وہ عورت جس کے متعلق آپ ﷺ نے غلام کا فیصلہ کیا تھا وہ فوت ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں اور اس کے شوہر کے لیے ہے جبکہ اس کی دیت اس کے عصبہ پر ہے ۔ متفق علیہ ۔

3488

Mishkat al-Masabih #3488

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وورَّثَها ولدَها وَمن مَعَهم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہذیل قبیلے کی دو عورتیں لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسری پر پتھر مارا اور اسے اور اس کے جنین (پیٹ کے بچے) کو قتل کر دیا ، رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا کہ اس کے جنین کی دیت ایک غلام یا ایک لونڈی ہے اور عورت کی دیت اس کے خاندان (عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ) پر ہے ۔ اور آپ ﷺ نے اس کی اولاد اور جو ان کے ساتھ ہیں ان کو اس کا وارث بنایا ۔ متفق علیہ ۔

3489

Mishkat al-Masabih #3489

Sahih

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الجَنينِ غُرَّةً: عبْداً أَوْ أَمَةٌ وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ هَذِهِ رِوَايَةُ التِّرْمِذِيِّ وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ وَهِيَ حُبْلَى فَقَتَلَتْهَا قَالَ: وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانَيَّةٌ قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَة الْمَقْتُول عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا

اردو ترجمہ · Urdu

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ دو عورتیں سوتن تھیں ، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کا بانس مارا تو اس کا جنین (پیٹ کا بچہ) گر گیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے جنین کے بارے میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ دیا اور اسے اس عورت کے عصبہ پر مقرر فرمایا ۔ یہ ترمذی کی روایت ہے ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : عورت نے اپنی سوتن کو جو کہ حاملہ تھی ، خیمے کا بانس مارا تو اس نے اسے قتل کر دیا ، اور کہا : ان میں سے ایک لحیانیہ تھی ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ (رشتہ داروں) پر مقرر فرمائی اور جو اس (مقتولہ) کے پیٹ میں تھا اس کی دیت ایک غلام مقرر کی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و مسلم ۔

3490

Mishkat al-Masabih #3490

Sahih

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَأِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبلِ: مِنْهَا أربعونَ فِي بطونِها أولادُها . رَوَاهُ النسائيُّ وَابْن مَاجَه والدارمي

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! خطا کی دیت ، شبہ عمد کی دیت کے مثل ہے ، جو کوڑے اور لاٹھی سے ہو ، اس کی (دیت) سو اونٹ ہے ، جن میں سے چالیس حاملہ ہوں گی ۔‘‘ حسن ، رواہ النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

3491

Mishkat al-Masabih #3491

Zaeef

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد عَنهُ وَابْن مَاجَه وَعَن ابْن عمر. وَفِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» لَفْظُ «الْمَصَابِيحِ» عَنِ ابْنِ عمر

اردو ترجمہ · Urdu

اور ابوداؤد نے ان (عبداللہ بن عمرو ؓ) سے اور ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے ، اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ صرف ابن عمر ؓ سے مروی ہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البغوی فی شرح السنہ ۔

3492

Mishkat al-Masabih #3492

Zaeef

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ: «أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا فَإِنَّهُ قَوَدُ يَدِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ» وَفِيهِ: «أَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ» وَفِيهِ: «فِي النَّفْسِ الدِّيَةُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي الْأَسْنَانِ الدِّيَةُ وَفِي الشفتين الدِّيَة وَفِي البيضين الدِّيةُ وَفِي الذَّكرِ الدِّيةُ وَفِي الصُّلبِ الدِّيَةُ وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الجائفَةِ ثلث الدِّيَة وَفِي المنقلة خمس عشر مِنَ الْإِبِلِ وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ: «وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کے نام خط لکھا اور آپ ﷺ کے خط میں تھا :’’ جس نے کسی مسلمان کو عمداً ناحق قتل کیا تو اس کا قصاص اس کے ہاتھ کے عمل کی وجہ سے ہے ، مگر یہ کے مقتول کے اولیاء (ورثاء) راضی ہو جائیں ۔‘‘ اور اس (خط) میں یہ بھی تھا :’’ آدمی کو عورت کے بدلے میں قتل کیا جائے گا ۔‘‘ اور اس میں تھا :’’ کسی جان کی دیت سو اونٹ ہے ۔ اور سونے والوں پر ایک ہزار دینار ، اور ناک کی دیت جب اسے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے ، سو اونٹ ہے ۔ دانتوں کے بارے میں دیت ہے ، ہونٹوں کے بارے میں دیت ہے ، فوطوں کے بارے میں دیت ہے ، شرم گاہ کے بارے میں دیت ہے ۔ کمر کے بارے میں دیت ہے ۔ آنکھوں کے بارے میں دیت ہے ۔ ایک پاؤں کی نصف دیت ہے ، دماغ کی جھلی تک پہنچنے والے زخم پر ایک تہائی دیت ہے ۔ پیٹ کے اندر پہنچنے والے زخم میں ایک تہائی دیت ہے ۔ ہڈی کو جگہ سے ہٹا دینے والے زخم میں پندرہ اونٹ دیت ہے ۔ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی میں دس اونٹ دیت ہے ۔ اور دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے ۔‘‘ نسائی ، دارمی ۔ اور امام مالک ؒ کی روایت میں ہے :’’ آنکھ میں پچاس ، ہاتھ میں پچاس ، پاؤں میں پچاس اور ہڈی ظاہر کرنے والے زخم پر پانچ اونٹ دیت ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ النسائی و الدارمی و مالک ۔

3493

Mishkat al-Masabih #3493

Sahih

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ وَفِي الْأَسْنَانِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وابنُ مَاجَه الْفَصْل الأول

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہڈی ظاہر کرنے والے زخم میں اور ہر دانت میں پانچ پانچ اونٹ دیت مقرر کی ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ، دارمی ، جبکہ ترمذی اور ابن ماجہ نے پہلا جملہ نقل کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی و الترمذی و ابن ماجہ ۔

3494

Mishkat al-Masabih #3494

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاء. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کو برابر قرار دیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

3495

Mishkat al-Masabih #3495

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الأصابعُ سواءٌ والأسنانُ سواءٌ الثَنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (دیت کے بارے میں) تمام انگلیاں برابر ہیں ، تمام دانت برابر ہیں ، سامنے والے دانت اور داڑھیں برابر ہیں ، یہ اور یہ (چھنگلی اور انگوٹھا) برابر ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

3496

Mishkat al-Masabih #3496

Sahih

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَطَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الفتحِ ثمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَمَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا شِدَّةً الْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيَرُدُّ عليهِم أقْصاهم يَردُّ سراياهم على قعيدتِهم لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا :’’ لوگو ! اسلام میں کوئی نیا معاہدہ نہیں ، اور دورِ جاہلیت میں جو معاہدہ تھا اسلام اس میں اضافہ نہیں کرتا البتہ اسے مضبوط کرتا ہے ، مومن دشمن کے مقابلے میں باہم دستِ واحد کی طرح ہیں ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دے سکتا ہے اور ان میں سے جو دوردراز ہے وہ بھی ان تک پہنچاتا ہے ، اور ان کے لشکر جہاد میں شریک نہ ہونے والوں کو بھی مال غنیمت میں شریک کرتے ہیں ۔ کسی مومن کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا ، کافر کی دیت ، مسلمان کی دیت سے نصف ہے ، زکوۃ وصول کرنے والا نہ اپنے پاس زکوۃ منگائے اور نہ زکوۃ دینے والے اپنا مال دور لے جائیں اور ان کے صدقات ان کے گھروں ہی سے وصول کیے جائیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ ذمی کی دیت ، آزاد آدمی کی دیت کے نصف ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

3497

Mishkat al-Masabih #3497

Zaeef

وَعَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ ذُكُورٍ وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرِينَ جَذَعَةً وَعِشْرِينَ حِقَّةً . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَخِشْفٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهَذَا الْحَدِيثِ وَرُوِيَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَى قَتِيلَ خَيْبَرَ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَلَيْسَ فِي أَسْنَانِ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ابْنُ مَخَاضٍ إِنَّمَا فِيهَا ابْنُ لبون

اردو ترجمہ · Urdu

خِشف بن مالک ، ابن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے خطا کی دیت بیس ’’ بنت مخاض ‘‘ ، بیس ’’ ابن مخاض ’’ نر ‘‘ ، بیس ’’ بنت لبون ‘‘ ، بیس ’’ جذعہ ‘‘ اور بیس ’’ حقہ ‘‘ مقرر فرمائی ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔\n اور صحیح یہ ہے کہ یہ ابن مسعود ؓ پر موقوف ہے ۔ جبکہ خشف مجہول ہے ۔ اس سے صرف یہی ایک روایت مروی ہے ۔ اور شرح السنہ میں روایت ہے کہ نبی ﷺ نے خیبر کے ایک مقتول کی صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ دیت ادا کی ، اور صدقہ کے اونٹوں میں ’’ ابن مخاض ‘‘ نہیں تھا ۔ ان میں صرف ’’ ابن لبون ‘‘ تھے ۔\n

3498

Mishkat al-Masabih #3498

Sahih

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ قَالَ: فَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ قَالَ: وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ من الدِّيَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دیت کی قیمت آٹھ سو دینار تھی یا اٹھ ہزار درہم تھی ، اور ان دنوں اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت سے نصف تھی انہوں نے مزید فرمایا : دیت کا معاملہ اسی طرح تھا حتی کہ عمر ؓ خلیفہ بنے تو عمر ؓ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ اونٹ مہنگے ہو گئے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، کہ عمر ؓ نے سونے والوں پر ہزار دینار ، چاندی والوں پر بارہ ہزار درہم ، گائے والوں پر دو سو گائیں ، بکریوں والوں پر دو ہزار بکریاں ، جوڑے (سوٹ) والوں پر دو سو جوڑے مقرر فرمائے ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپؓ نے ذمیوں کی دیت چھوڑ دی ، اور جب انہوں نے دیت بڑھائی تو اسے نہ بڑھایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

3499

Mishkat al-Masabih #3499

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر فرمائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

3500

Mishkat al-Masabih #3500

Sahih

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ دِيَةَ الْخَطَأِ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قيمتِها وإِذا هاجَتْ رُخصٌ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا وَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِمِائَةِ دِينَارٍ وَعِدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَ: وَقَضَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ» وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا وَلَا يَرِثُ القاتلُ شَيْئا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ دیہاتیوں پر دیت خطا چار سو دینار یا اس کے مساوی چاندی مقرر فرمایا کرتے تھے ۔ اور اس میں اونٹوں کی قیمت کا لحاظ رکھتے تھے ۔ جب (اونٹوں کی) قیمت بڑھ جاتی تو آپ ﷺ اس (دیت) کی قیمت بڑھا دیتے تھے ، اور جب ان کی قیمت کم ہو جاتی تو آپ اس دیت کی قیمت کم کر دیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی تھی ۔ اور چاندی سے اس کے مساوی آٹھ ہزار درہم تک پہنچ گئی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے گائے والوں پر دو سو گائیں اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریاں دیت مقرر فرمائی ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان میراث ہے ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ عورت کی دیت اس کے عصبہ پر ہے ، اور قاتل کسی چیز کا وارث نہیں بنے گا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

3501

Mishkat al-Masabih #3501

Sahih

وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صاحبُه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ شبہ عمد کی دیت ، دیت عمد کی طرح مغلظہ ہے اور اس (شبہ عمد) کے مرتکب کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

3502

Mishkat al-Masabih #3502

Sahih

وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا بِثُلْثِ الدِّيَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اپنی جگہ پر ثابت رہ جانے والی آنکھ کی ایک تہائی دیت مقرر فرمائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

3503

Mishkat al-Masabih #3503

Sahih

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الجَنينِ بغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ يَذْكُرْ: أَوْ فَرَسٍ أَوْ بغل

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عمرو نے ابوسلمہ اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جنین (پیٹ کے بچے) کے بارے میں غلام یا لونڈی یا گھوڑا یا خچر بطور دیت مقرر فرمایا ۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا اور فرمایا : حماد بن سلمہ اور خالد واسطی نے یہ حدیث محمد بن عمرو سے روایت کی اور انہوں نے گھوڑے یا خچر کا ذکر نہیں کیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

3504

Mishkat al-Masabih #3504

Zaeef

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من تطيب وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص علاج معالجہ کرے جبکہ وہ طب میں ماہر نہ ہو تو وہ (مریض کی موت واقع ہونے پر دیت کا) ضامن ہو گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

3505

Mishkat al-Masabih #3505

Zaeef

وَعَن عِمْران بن حُصَينٍ: أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِمْ شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ غریب لوگوں کے غلام نے امیر لوگوں کے غلام کا کان کاٹ دیا تو اس (کان کاٹنے والے غلام) کے گھر والے ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا ، ہم فقیر لوگ ہیں ، تو آپ ﷺ نے ان پر (دیت میں سے) کچھ بھی مقرر نہ فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

3506

Mishkat al-Masabih #3506

Zaeef

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: دِيَةُ شِبْهِ الْعَمْدِ أَثْلَاثًا ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهَا خَلِفَاتٌ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: فِي الْخَطَأ أَربَاعًا: خَمْسَة وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ سے روایت ہے کہ ’’ شبہ عمد کی دیت تین قسم (کے اونٹوں) پر مشتمل ہے : تینتیس حِقَّہ (تین سال مکمل کرنے کے بعد چوتھے سال میں داخل اونٹ) تینتیس جذعہ (پانچویں سال میں داخل) چونتیس (چھٹے سال میں داخل ہونے والی اونٹنیاں) اور وہ سب حاملہ ہوں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے فرمایا :’’ قتل خطا کی دیت چار قسم کی اونٹنیاں ہیں : پچیس حِقہ ، پچیس جذعہ ، پچیس بنات لبون اور پچیس بنات مخاض ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

3507

Mishkat al-Masabih #3507

Zaeef

وَعَن مُجاهدٍ قَالَ: قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً مَا بَيْنَ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے شبہ عمد میں تیس حقہ ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیوں کا فیصلہ کیا جو کہ چھ سال سے نو سال کی عمر کے درمیان ہوں اور وہ تمام حاملہ ہوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

3508

Mishkat al-Masabih #3508

Sahih

وَعَن سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ. فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عليهِ: كيفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ» . رَوَاهُ مالكٌ وَالنَّسَائِيّ مُرْسلا

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنین کے بارے میں جسے اس کی ماں کے پیٹ میں قتل کیا جائے ، ایک غلام یا ایک لونڈی کی دیت کا فیصلہ کیا تو آپ ﷺ سے جس کے خلاف فیصلہ کیا تھا اس نے کہا : میں اس کی دیت کیسے ادا کروں جس نے نہ پیا ، نہ کھایا اور اس سے کلام کیا نہ کوئی چیخ ماری ۔ اور اس طرح وہ اس قتل کو رائیگاں قرار دیتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو کاہنوں کا ساتھی ہے ۔‘‘ مالک ۔ نسائی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک و النسائی ۔

3509

Mishkat al-Masabih #3509

Sahih

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُتَّصِلا

اردو ترجمہ · Urdu

ابوداؤد نے سعید بن مسیّب عن ابی ہریرہ ؓ سے موصولاً روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔