Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 13 · Chapter 149

نکاح کا بیان

بَاب الْقسم

باری کی تقسیم کا بیان

9 hadiths in this chapter

3229

Mishkat al-Masabih #3229

Sahih

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ وَكَانَ يقسم مِنْهُنَّ لثمان

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی تو اس وقت آپ کی نو ازواج مطہرات تھیں ، اور آپ نے ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کی تھی ۔ متفق علیہ ۔

3230

Mishkat al-Masabih #3230

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ فَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَسَّمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْم سَوْدَة

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب سودہ ؓ عمر رسیدہ ہو گئیں تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کی طرف سے جو میری باری کا دن تھا وہ میں نے عائشہ ؓ کو ہبہ کر دیا ، لہذا رسول اللہ ﷺ ، عائشہ ؓ کے لیے دو دن تقسیم فرمایا کرتے تھے ، ایک ان کا اپنا اور دوسرا سودہ ؓ کا دن تھا ۔ متفق علیہ ۔\n

3231

Mishkat al-Masabih #3231

Sahih

وَعَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «أَيْنَ أَنَا غَدًا؟» يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے مرض وفات میں دریافت کیا کرتے تھے ، میں کل کہاں ہوں گا ؟ میں کل کہاں ہوں گا ؟ آپ (اس سوال سے) عائشہ ؓ کی باری کا دن پوچھنا چاہتے تھے ، آپ ﷺ کی ازواج مطہرات نے آپ کو اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں رہیں ، آپ ، عائشہ ؓ کے گھر تھے حتی کہ آپ نے ان کے ہاں ہی وفات پائی ۔ رواہ البخاری ۔

3232

Mishkat al-Masabih #3232

Sahih

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فأيهن خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ سفر کا ارادہ فرمایا کرتے تھے تو آپ اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کیا کرتے تھے ، جس کے نام قرعہ نکلتا تو وہ آپ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوتی تھیں ۔ متفق علیہ ۔

3233

Mishkat al-Masabih #3233

Sahih

وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدهَا سبعا وَقسم إِذا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَسَمَ. قَالَ أَبُو قلَابَة: وَلَو شِئْت لَقلت: إِن أَنَسًا رَفْعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوقلابہ ، انس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا :’’ مسنون طریقہ یہ ہے کہ جب آدمی مطلقہ / بیوہ کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو وہ اس (کنواری) کے ہاں سات راتیں قیام کرے اور پھر باری تقسیم کرے ، اور جب بیوہ / مطلقہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین راتیں قیام کرے اور پھر باری تقسیم کرے ۔ ابوقلابہ نے کہا : اگر میں چاہوں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ انس ؓ نے اسے نبی ﷺ سے مرفوع روایت کیا ہے ۔ متفق علیہ ۔

3234

Mishkat al-Masabih #3234

Sahih

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِين تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا: «لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ» . قَالَتْ: ثَلِّثْ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهُ قَالَ لَهَا: «لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ام سلمہ ؓ سے شادی کی اور وہ آپ کے ہاں اقامت گزیں ہوئیں تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ ایسی بات نہیں ہے کہ تیری میرے ہاں عزت نہیں ہے بلکہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات راتیں قیام کرتا ہوں اور پھر میں ان کے ہاں بھی سات راتیں قیام کروں گا ، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں تین راتیں قیام کرتا ہوں اور پھر باقیوں کے پاس جاتا ہوں ۔‘‘ انہوں (ام سلمہ ؓ) نے عرض کیا ، آپ تین راتیں قیام کریں ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ کنواری کے لیے سات راتیں ہیں اور بیوہ / مطلقہ کے لیے تین راتیں ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3235

Mishkat al-Masabih #3235

Sahih

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے درمیان باری تقسیم فرمایا کرتے تھے اور آپ عدل کیا کرتے تھے اور آپ ﷺ فرماتے تھے :’’ اے اللہ ! میں نے اپنی بساط کے مطابق باری تقسیم کر رکھی ہیں ، آپ مجھے اس چیز (یعنی دلی محبت) کے بارے میں ملامت نہ کرنا جس کا تجھے اختیار ہے اور مجھے کوئی اختیار نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

3236

Mishkat al-Masabih #3236

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَتْ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس آدمی کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے مابین عدل نہ کرے تو وہ روز قیامت اس حال میں ہو گا کہ اس کا ایک پہلو (نصف دھڑ) مفلوج ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

3237

Mishkat al-Masabih #3237

Sahih

عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا بِهَا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْسِمُ لَهَا بَلَغَنَا أَنَّهَا صَفِيَّةُ وَكَانَتْ آخِرهنَّ موتا مَاتَت بِالْمَدِينَةِ\nوَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ: هِيَ سَوْدَةُ وَهُوَ أصح وهبت يَوْمهَا لِعَائِشَةَ حِينَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ لَهُ: أَمْسِكْنِي قَدْ وهبت يومي لعَائِشَة لعَلي أكون من نِسَائِك فِي الْجنَّة\n

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مقام سرف پر ابن عباس ؓ کے ساتھ میمونہ ؓ کے جنازے میں شریک تھے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ، انہیں جھٹکے سے نہیں اٹھانا اور نہ چلتے وقت جھٹکے دینا اور بلکہ اسے آرام سے لے کر چلنا ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی نو بیویاں تھیں ، آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہیں فرماتے تھے ، عطاء بیان کرتے ہیں ، ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس زوجہ محترمہ کے لیے باری مقرر نہیں فرمایا کرتے تھے وہ صفیہ ؓ تھیں ، اور انہوں نے ان میں سے سب سے آخر میں مدینہ میں وفات پائی ۔ متفق علیہ ۔\n رزین نے فرمایا : عطاء کے علاوہ دیگر محدثین نے فرمایا : وہ (جن کی باری مقرر نہیں تھی) سودہ ؓ تھیں ، اور یہی بات زیادہ صحیح ہے ، کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے اپنی باری عائشہ ؓ کو ہبہ کر دی تھی ، اور انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا : میں نے اپنی باری عائشہ ؓ کو ہبہ کر دی ، تاکہ میں جنت میں آپ کی ازواج مطہرات میں سے ہوں ۔\n