Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 13 · Chapter 145

نکاح کا بیان

بَاب الْمُحرمَات

محرمات کا بیان

23 hadiths in this chapter

3160

Mishkat al-Masabih #3160

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَة وعمتها وَلَا بَين الْمَرْأَة وخالتها»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت اور اس کی پھوپھی نیز عورت اور اس کی خالہ کو نکاح میں اکٹھا نہ کیا جائے ۔‘‘ (یعنی پھوپھی ، بھتیجی اور خالہ بھانجی ، ایک وقت میں ایک آدمی کی بیویاں نہیں ہو سکتیں) متفق علیہ ۔

3161

Mishkat al-Masabih #3161

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يحرم من الْولادَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں ، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

3162

Mishkat al-Masabih #3162

Sahih

وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «أَنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ» قَالَت: فَقلت: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يرضعني الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّه عمك فليلج عَلَيْك» وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضرب علينا الْحجاب

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرے رضاعی چچا آئے ، انہوں نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتی کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر لوں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے لہذا اسے اجازت دے دو ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے ۔ لہذا وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے ۔‘‘ اور یہ ہم پر پردہ کے احکام نازل ہونے سے بعد کا واقعہ ہے ۔ متفق علیہ ۔

3163

Mishkat al-Masabih #3163

Sahih

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ عَمِّكَ حَمْزَةَ؟ فَإِنَّهَا أَجْمَلُ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ حَمْزَةَ أَخِي مَنِ الرَّضَاعَةِ؟ وَأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حرم من النّسَب؟» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ اپنے چچا حمزہ ؓ کی بیٹی کے بارے میں رغبت رکھتے ہیں ؟ وہ قریش کی سب سے زیادہ حسین و جمیل لڑکی ہے ۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں ، اور اللہ نے رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام کیے ہیں ، جو اس نے نسب کی وجہ سے حرام کیے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3164

Mishkat al-Masabih #3164

Sahih

وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الرضعة أَو الرضعتان»

اردو ترجمہ · Urdu

ام فضل ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دودھ پینا حرمت ثابت نہیں کرتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3165

Mishkat al-Masabih #3165

Sahih

وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ والمصتان»

اردو ترجمہ · Urdu

اور عائشہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ ایک مرتبہ اور دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت واقع نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3166

Mishkat al-Masabih #3166

Sahih

وَفِي أُخْرَى لِأُمِّ الْفَضْلِ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الإملاجة والإملاجتان» . هَذِه رِوَايَات لمُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

اور ام فضل ؓ سے مروی دوسری حدیث میں ہے :’’ ایک یا دو مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع نہیں ہوتی ۔‘‘ تینوں روایات صحیح مسلم کی ہیں ۔ رواہ مسلم ۔

3167

Mishkat al-Masabih #3167

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: «عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ» . ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، قرآن میں یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع ہوتی ہے ۔ پھر وہ حکم پانچ مرتبہ پینے کی قید کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے جس وقت وفات پائی تو اس وقت تک (پانچ مرتبہ دودھ پینے والی آیت) قرآن میں پڑھی جاتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔

3168

Mishkat al-Masabih #3168

Sahih

وَعَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَت: إِنَّه أخي فَقَالَ: «انظرن من إخوانكن؟ فَإِنَّمَا الرضَاعَة من المجاعة»

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس ایک آدمی تھا ، گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا ، عائشہ ؓ نے عرض کیا ، یہ تو میرا بھائی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دیکھو کہ تمہارے بھائی کون ہیں ، رضاعت تو صرف وہ دودھ ہے جسے بھوک دور کرنے کے لیے پیا گیا ہو ۔‘‘ (بچے کو صغر سنی کی عمر میں بھوک لگی ہو اور وہ کسی عورت کا دودھ پی لے) متفق علیہ ۔

3169

Mishkat al-Masabih #3169

Sahih

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ: أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ فَأَتَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ بِهَا فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ قَدْ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا أَرْضَعْتَ صَاحِبَتُنَا فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟» فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زوجا غَيره. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عقبہ بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کر لی تو ایک عورت آئی ، اس نے کہا : میں نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے ۔ (یعنی یہ آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں) عقبہ نے اس عورت سے کہا : مجھے تو معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ ہی تم نے مجھے بتایا ہے ۔ انہوں نے ابواہاب کے گھر والوں کے پاس کسی آدمی کو بھیجا تو اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہمیں تو معلوم نہیں کہ اس نے ہماری اس لڑکی کو دودھ پلایا ہے ، وہ مدینہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (تم اس کے ساتھ) کس طرح (تعلق زن و شو قائم کر سکتے ہو) حالانکہ یہ کہہ دیا گیا (کہ تم اس کے رضاعی بھائی ہو) ۔‘‘ عقبہ ؓ نے اسے الگ کر دیا اور اس نے ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح کیا ۔ رواہ البخاری ۔

3170

Mishkat al-Masabih #3170

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ (وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلَّا مَا ملكت أَيْمَانكُم)\nأَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ. رَوَاهُ مُسلم\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا ، انہوں نے ان سے قتال کیا اور وہ ان پر غالب آ گئے اور انہوں نے کچھ خواتین گرفتار کر لیں ، نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے ان لونڈیوں سے ان کے مشرک خاوندوں کے موجود ہونے کی وجہ سے ، جماع کرنے میں حرج محسوس کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی :’’ اور شادی شدہ عورتیں (تم پر حرام کی گئی ہیں) مگر تمہاری لونڈیاں ۔‘‘ یعنی جب ان کی عدت مکمل ہو جائے تو پھر وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ رواہ مسلم ۔

3171

Mishkat al-Masabih #3171

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدارمي وَالنَّسَائِيّ وَرِوَايَته إِلَى قَوْله: بنت أُخْتهَا

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ایسی عورت سے نکاح کیا جائے جس کی پھوپھی اس کے نکاح میں پہلے سے ہو یا پھوپھی سے اس کی بھتیجی کے ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے ، اسی طرح خالہ اور بھانجی کو یا بھانجی اور خالہ کو ایک ساتھ ایک مرد کے نکاح میں جمع نہ کیا جائے نیز (رشتے میں) چھوٹی (مثلاً : بھتیجی ، بھانجی) کا بڑی پر اور اور بڑی کا چھوٹی پر نکاح کرنے سے منع فرمایا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، نسائی ۔ اور ان کی روایت ((بنت اختھا)) تک ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و النسائی ۔

3172

Mishkat al-Masabih #3172

Sahih

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بردة بن دِينَار وَمَعَهُ لِوَاءٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ آتِيهِ بِرَأْسِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے ماموں ابوبُردہ بن نیار ؓ پرچم اٹھائے میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : مجھے نبی ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے ، جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کی ہے ، تاکہ میں اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کروں ۔ اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال لے لوں ۔ اور اس روایت میں ’’میرے ماموں‘‘ کے بجائے ’’میرے چچا‘‘ کا لفظ ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و نسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

3173

Mishkat al-Masabih #3173

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرِّضَاعِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ وَكَانَ قبل الْفِطَام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ رضاعت باعث حرمت ہے ، جو براہ راست چھاتیوں سے دودھ پی کر (بھوک مٹا کر) انتڑیاں کھول دے ، اور یہ (رضاعت) دودھ چھڑانے سے پہلے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

3174

Mishkat al-Masabih #3174

Sahih

وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرِّضَاعِ؟ فَقَالَ: غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

حجاج بن حجاج اسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے کس طرح حقِ رضاعت ادا ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ رضاعی ماں کو غلام یا لونڈی دینے سے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

3175

Mishkat al-Masabih #3175

Zaeef

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْغَنَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ هَذِهِ أَرْضَعَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوطفیل غنوی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عورت آئی ۔ نبی ﷺ نے اپنی چادر بچھائی حتی کہ وہ اس پر بیٹھ گئی ، جب وہ چلی گئی تو بتایا گیا کہ اس خاتون نے نبی ﷺ کو دودھ پلایا تھا (آپ ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں) ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

3176

Mishkat al-Masabih #3176

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غيلَان بن سَلمَة الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ نے اسلام قبول کیا اور ان کی دور جاہلیت میں دس بیویاں تھیں ، وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ چار رکھ لو اور باقی فارغ کر دو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔

3177

Mishkat al-Masabih #3177

Zaeef

وَعَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فَارِقْ وَاحِدَةً وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا» فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ صُحْبَةً عِنْدِي: عَاقِرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سنة ففارقتها. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

اردو ترجمہ · Urdu

نوفل بن معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اسلام قبول کیا تو اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں ، میں نے نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک کو چھوڑ دو اور چار رکھ لو ۔‘‘ میں نے ان میں سے اپنی سب سے پہلی بیوی کو ، جو بانجھ تھی اور ساٹھ سال سے میری رفیقہ حیات تھی ، خود سے جدا کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

3178

Mishkat al-Masabih #3178

Sahih

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وتحتي أختَان قَالَ: «اختر أيتها شِئْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

اردو ترجمہ · Urdu

ضحاک بن فیروز دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور دو بہنیں میرے نکاح میں ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو (دوسری چھوڑ دو) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

3179

Mishkat al-Masabih #3179

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: إِنَّهَا أَسْلَمَتْ مَعِي فَرَدَّهَا عَلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت نے اسلام قبول کیا اور اس نے شادی کر لی ، اتنے میں اس کا (پہلا) خاوند نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور اس (عورت) کو میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اس (عورت) کو اس کے دوسرے خاوند سے لے کر اس کے پہلے خاوند کو واپس کر دیا ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے عرض کیا : اس (عورت) نے میرے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ہے ، آپ ﷺ نے اس (عورت) کو اس کے حوالے کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

3180

Mishkat al-Masabih #3180

Zaeef

وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ النِّسَاءِ رَدَّهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنِّكَاحِ الأول على أَزوَاجهنَّ عِنْد اجْتِمَاع الإسلاميين بَعْدَ اخْتِلَافِ الدِّينِ وَالدَّارِ مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ مُغِيرَةَ كَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ فَبعث النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ فَلَمَّا قَدِمَ جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْيِيرَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ حَتَّى أَسْلَمَ فَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ وَأَسْلَمَتْ أَمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أَمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ الْيَمَنَ فَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شهَاب مُرْسلا

اردو ترجمہ · Urdu

شرح السنہ میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کتنی ہی عورتوں کو پہلے نکاح پر ہی ان کے خاوندوں کی طرف لوٹا دیا جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اگرچہ ایک وقت تک ان کا دین اور رہن سہن ایک دوسرے سے الگ رہا ، ان میں ولید بن مغیرہ کی بیٹی ہیں جو کہ صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں ، فتح مکہ کے روز وہ تو مسلمان ہو گئیں جبکہ ان کا خاوند اسلام قبول کرنے سے بھاگ گیا ، آپ ﷺ نے اس کے چچا زادوہب بن عمیر کو صفوان کی امان کے لیے اپنی چادر دے کر بھیجا ، جب وہ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چار ماہ گھومنے پھرنے کی مہلت عطا کی حتی کہ اس نے اسلام قبول کر لیا تو وہ (ولید بن مغیرہ کی بیٹی) اس کے نکاح میں رہیں ، اور (اسی طرح) عکرمہ بن ابی جہل کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کر لیا جبکہ اس کا خاوند اسلام سے بھاگ کر یمن چلا گیا تو ام حکیم نے بھی کوچ کیا حتی کہ اس کے پاس یمن پہنچ گئیں اور اسے اسلام کی دعوت پیش کی تو اس نے اسلام قبول کر لیا ، اور دونوں کا نکاح برقرار رہا ۔ امام مالک نے ابن شہاب سے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک و فی شرح السنہ ۔

3181

Mishkat al-Masabih #3181

Sahih

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ ثُمَّ قَرَأَ: (حُرِّمَتْ عَلَيْكُم أُمَّهَاتكُم)\nالْآيَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، سات رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور سات نکاح کی وجہ سے ۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں ۔۔۔۔۔‘‘ رواہ البخاری ۔

3182

Mishkat al-Masabih #3182

Zaeef

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ أُمَّهَا دَخَلَ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَهُمَا يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت کی تو پھر اس کے لیے اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا حلال نہیں ، اور اگر اس نے اس کے ساتھ تعلق زن و شو قائم نہیں کیا تو پھر وہ اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے ۔ اور جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا تو پھر اب اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں خواہ اس نے اس سے تعلق زن و شو قائم کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔‘‘\n امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث اسناد کے حوالے سے صحیح نہیں ، ابن لہیعہ اور مثنی بن صباح نے اسے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے ، اور ان دونوں کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔\n