Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 13 · Chapter 117

نکاح کا بیان

بَاب فِي التَّحَلُّل

گزشتہ باب کے متعلقات کا بیان

26 hadiths in this chapter

2655

Mishkat al-Masabih #2655

Sahih

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَقَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. فَقَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» . فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: «افْعَلْ وَلَا حرج»\nوَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وأتاهُ آخرُ فَقَالَ: أفَضتُ إِلى البيتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی خاطر منیٰ میں وقوف فرمایا ، لوگ آپ کے پاس آتے اور مسائل دریافت کرتے ، ایک آدمی آپ کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا : میں نے لاعلمی میں قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قربانی کر لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ پھر ایک اور آدمی آیا تو اس نے عرض کیا : میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے لا علمی میں قربانی کر لی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (اب) کنکریاں مار لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ نبی ﷺ سے جس چیز کی بھی تقدیم و تاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا :’’ اب کر لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا ، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر مونڈ لیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اب کنکریاں مار لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ پھر ایک اور آدمی آیا ، اس نے عرض کیا ، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اب کنکریاں مار لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2656

Mishkat al-Masabih #2656

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى فَيَقُولُ: «لَا حرَجَ» فَسَأَلَهُ رجل فَقَالَ: رميت بعد مَا أمسَيتُ. فَقَالَ: «لَا حرَجَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، قربانی کے دن منیٰ میں نبی ﷺ سے مسائل دریافت کیے گئے تو آپ ﷺ یہی فرما رہے تھے :’’ کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو اس نے عرض کیا : میں نے غروبِ آفتاب کے بعد کنکریاں ماری ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی حرج نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2657

Mishkat al-Masabih #2657

Zaeef

عَن عَليّ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ فَقَالَ: «احْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ» . وَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حرج» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا :’’ اللہ کے رسول ! میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اب سر منڈا لو یا بال کترا لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ پھر ایک دوسرا آدمی آیا تو اس نے عرض کیا ، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اب کنکریاں مار لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

2658

Mishkat al-Masabih #2658

Zaeef

عَن أُسامةَ بنِ شرِيكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمِنْ قَائِلٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ: «لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وهَلِك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں حج کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوا ، لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے اور مسائل دریافت کرتے تھے ، کسی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کر لی ، یا میں نے ایک چیز کو مؤخر کر لیا یا میں نے کوئی چیز مقدم کر لی ، آپ ﷺ فرماتے تھے :’’ اس شخص کے سوا جس نے کسی مسلمان کی عزت کو خراب کیا ، کوئی حرج نہیں ، ایسا شخص ظالم ہے اور ایسا شخص ہی حرج ، گناہ اور ہلاکت کا شکار ہوا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

3016

Mishkat al-Masabih #3016

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ طَيِّبُ الرّيح» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ وہ ہلکا سا احسان اور اچھی خوشبو ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3017

Mishkat al-Masabih #3017

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ خوشبو (کے تحفے) کو واپس نہیں کیا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

3018

Mishkat al-Masabih #3018

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السوء» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہبہ واپس لینے والا ، قے کر کے اسے چاٹنے والے کتے کی طرح ہے ۔ ہمارے لیے بری مثال نہیں ؟‘‘ رواہ البخاری ۔

3019

Mishkat al-Masabih #3019

Sahih

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَأَرْجِعْهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: «أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟» قَالَ: بَلَى قَالَ: «فَلَا إِذن» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تشهد رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلِدِكَ مِثْلَ هَذَا؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ» . قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: «لَا أشهد على جور»

اردو ترجمہ · Urdu

نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا ، میں نے اپنے بیٹے کو ایک غلام ہبہ کیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو (برابر) اس طرح کا ہبہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے واپس لے لو ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم پسند کرتے ہو کہ وہ سارے تیرے ساتھ مساوی حسن سلوک کریں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر تم ایسے کیوں نہیں کرتے ؟‘‘\nایک روایت میں ہے ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ ؓ (میری والدہ) نے کہا : میں راضی نہیں حتی کہ تم رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لو ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو عرض کیا : میں نے عمرہ بنت رواحہ ؓ سے اپنے بیٹے کو ایک عطیہ دیا ہے اور اللہ کے رسول ! اس نے کہا ہے کہ میں آپ کو گواہ بناؤں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے اپنی باقی اولاد کو بھی اسی طرح کا عطیہ دیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ واپس آئے اور اپنا عطیہ واپس لے لیا ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے : کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n

3020

Mishkat al-Masabih #3020

Sahih

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرْجِعُ أَحَدٌ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَده» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی شخص ہبہ کر کے واپس نہیں لے سکتا ، البتہ والدین اپنی اولاد کو کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لے سکتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی و ابن ماجہ ۔

3021

Mishkat al-Masabih #3021

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَصَححهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ عطیہ دے کر واپس لے ، مگر والد جو اپنی اولاد کو عطیہ دیتا ہے ، اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہتا ہے ، حتی کہ شکم سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے ، پھر اسے کھانے لگتا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔

3022

Mishkat al-Masabih #3022

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ فَلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دوسي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ایک نو عمر اونٹ رسول اللہ ﷺ کو بطور ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اس کے عوض اسے چھ نو عمر اونٹنیاں دیں ، لیکن وہ راضی نہ ہوا ۔ جب نبی ﷺ کو اس کا پتہ چلا تو آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ فلاں شخص نے مجھے ایک اونٹ بطور ہدیہ پیش کیا تو میں نے اس کے عوض اسے چھ اونٹنیاں دیں لیکن وہ پھر بھی راضی نہیں ہوا ۔ اب میں نے عزم کر لیا ہے کہ میں صرف کسی قریشی ، انصاری ، ثقفی یا دوسی شخص کا ہدیہ ہی قبول کروں گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

3023

Mishkat al-Masabih #3023

Zaeef

وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيُجْزِ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ فَإِنَّ مَنْ أَثْنَى فَقَدْ شَكَرَ وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَ كَانَ كَلَابِسِ ثوبي زور» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو کوئی عطیہ دیا جائے اور وہ کشائش پائے تو اس کا بدلہ دے اور جو شخص کشائش نہ پائے تو وہ اس کی تعریف کرے ، کیونکہ جس نے تعریف کی تو اس نے شکریہ ادا کیا ، اور جس نے (احسان کو) چھپایا تو اس نے ناشکری کی ، اور جو شخص ایسی چیز ظاہر کرنے کی کوشش کرے جو اسے نہیں دی گئی تو وہ جھوٹ کے دو سوٹ پہننے والے کی طرح ہے (دہرا جھوٹ بولنے والے کی طرح ہے) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

3024

Mishkat al-Masabih #3024

Zaeef

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے سے کہا : ((جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا)) ’’ اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے ‘‘ تو اس نے اس کی بہت اچھی تعریف کی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

3025

Mishkat al-Masabih #3025

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا ، اس نے اللہ کا بھی شکریہ ادا نہ کیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔

3026

Mishkat al-Masabih #3026

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَبْذَلَ مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ مِنْ قَوْمٍ نَزَلْنَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ: لَقَدْ كَفَوْنَا المؤونة وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ حَتَّى لَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ فَقَالَ: «لَا مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مہاجر صحابہ کرام آپ کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول !ہم جس قوم کے ہاں قیام پذیر ہیں وہ مال کثیر ہونے کی صورت میں بہت زیادہ خرچ کرنے والے اور مال قلیل ہونے کی صورت میں بہترین غم خوار ہونے میں اپنی مثال نہیں رکھتے ، انہوں نے ہمیں کام کرنے سے روک رکھا ہے اور منفعت میں برابر شریک کر رکھا ہے ۔ حتی کہ ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا اجر وہی لے جائیں گے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک تم ان کے لیے اللہ سے دعائیں کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے تو ایسے نہیں ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

3027

Mishkat al-Masabih #3027

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَهَادُوا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ الضَّغَائِنَ» . رَوَاهُ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ باہم تحائف دیا کرو ، کیونکہ تحفہ عداوت دور کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔

3028

Mishkat al-Masabih #3028

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تهادوا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لجارتها وَلَا شقّ فرسن شَاة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ باہم تحائف دیا کرو ، کیونکہ تحفہ سینے کا کینہ دور کر دیتا ہے ، اور پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہدیہ کو معمولی نہ سمجھے خواہ بکری کے کھر کا ایک حصہ ہی ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

3029

Mishkat al-Masabih #3029

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قِيلَ: أَرَادَ بالدهن الطّيب

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین چیزیں واپس نہیں کی جانی چاہییں ، تکیہ ، تیل اور دودھ ۔ ترمذی اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ کہا گیا کہ تیل سے خوشبو مراد ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

3030

Mishkat al-Masabih #3030

Zaeef

وَعَن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدَيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا أعْطى أحدكُم الرَّيْحَانَ فَلَا يَرُدُّهُ فَإِنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ مُرْسلا

اردو ترجمہ · Urdu

ابوعثمان نہدی ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کو خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے ، کیونکہ وہ جنت سے آئی ہے ۔‘‘ ترمذی ، روایت مرسل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

3031

Mishkat al-Masabih #3031

Sahih

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ: أَشْهِدْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَهُ إِخْوَةٌ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا على حق» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، بشیر ؓ کی اہلیہ نے کہا : میرے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دو اور رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ بناؤ ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو عرض کیا : فلاں کی بیٹی (یعنی میری اہلیہ) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کروں اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ بناؤں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے اور بھی بھائی ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے جو اس لڑکے کو دیا ہے وہ ان سب کو بھی دیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو مناسب نہیں ، اور میں تو صرف حق بات پر ہی گواہی دیتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3032

Mishkat al-Masabih #3032

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِبَاكُورَةِ الْفَاكِهَةِ وَضَعَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَعَلَى شَفَتَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ كَمَا أَرَيْتَنَا أَوَّلَهُ فَأَرِنَا آخِرَهُ» ثُمَّ يُعْطِيهَا مَنْ يَكُونُ عِنْدَهُ مِنَ الصِّبْيَانِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب پہلا پہلا پھل آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا تو آپ ﷺ اسے اپنی آنکھوں اور ہونٹوں پر لگاتے اور دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمیں اس کا آغاز دکھایا ہے اسی طرح ہمیں اس کا اختتام بھی دکھانا ۔ پھر آپ اسے اپنے پاس بیٹھے ہوئے کسی بچے کو دے دیتے ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر ۔

3198

Mishkat al-Masabih #3198

Sahih

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي بَرِيرَةَ: «خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا» . وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفسهَا وَلَو كَانَ حرا لم يخيرها

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ ، عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ ؓ کے بارے میں انہیں فرمایا :’’ اسے (اس کے مالکوں سے) لے کر آزاد کر دو ۔‘‘ اور اس کا خاوند غلام تھا لہذا رسول اللہ ﷺ نے (نکاح برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا) اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا ، اور اگر وہ (بریرہ ؓ کا خاوند) آزاد ہوتا تو آپ ﷺ اس کو اختیار نہ دیتے ۔ متفق علیہ ۔

3199

Mishkat al-Masabih #3199

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عبدا أسود يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خلفهَا فِي سِكَك الْمَدِينَة يبكي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَىَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ؟ وَمِنْ بُغْضٍ بَرِيرَة مغيثاً؟» فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ راجعته» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «إِنَّمَا أَشْفَعُ» قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، بریرہ ؓ کے خاوند سیاہ فام غلام تھے انہیں مغیث کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ، اب بھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اسے مدینہ کی گلیوں میں اس (بریرہ) کے پیچھے پیچھے چکر کاٹتا دیکھ رہا ہوں ، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر رواں ہیں ، (یہ صورتحال دیکھ کر) نبی ﷺ نے عباس ؓ سے فرمایا :’’ عباس ! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا ؟‘‘ نبی ﷺ نے (بریرہ سے) فرمایا :’’ اگر تم اس کے نکاح میں رہنے کا دوبارہ فیصلہ کر لو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے حکم فرما رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تو محض سفارش کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا : مجھے اس میں کوئی رغبت نہیں ۔ رواہ البخاری ۔

3200

Mishkat al-Masabih #3200

Sahih

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مَمْلُوكَيْنِ لَهَا زَوْجٌ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے دو غلام ، جو کہ میاں بیوی تھے ، آزاد کرنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا ، آپ ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ مرد کو عورت سے پہلے آزاد کرو ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

3201

Mishkat al-Masabih #3201

Zaeef

وَعَنْهَا: أَنْ بَرِيرَةَ عَتَقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا: «إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ\nوَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ آزاد کی گئی تو وہ اس وقت مغیث ؓ کے نکاح میں تھیں ، رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دیا اور اسے فرمایا :’’ اگر اس نے تم سے (آزادی کے دوران) جماع کر لیا تو پھر تیرا اختیار ختم ہو جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

3303

Mishkat al-Masabih #3303

Sahih

عَن مُعَاوِيَة بنِ الحكمِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً كَانَتْ لِي تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فَقَدَتْ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مَنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ اللَّهُ؟» فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ فَقَالَ: «مَنْ أَنَا؟» فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْهَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ\nوَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنْ صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أفَلا أُعتِقُها؟ قَالَ: «ائتِني بهَا؟» فأتيتُه بِهَا فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ اللَّهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ الله قَالَ: «أعتِقْها فإنَّها مؤْمنةٌ»\n

اردو ترجمہ · Urdu

معاویہ بن حکم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی میری بکریاں چراتی تھی ، میں اس کے پاس آیا تو میں نے ایک بکری نہ پائی ، میں نے اس کے متعلق اس سے پوچھا تو اس نے کہا : اسے بھیڑیے نے کھا لیا ہے ، میں اس سے ناراض ہوا ، چونکہ میں اولاد آدم سے ہوں ، میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا ، (اور کسی وجہ سے) غلام آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے ، کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس لونڈی سے پوچھا :’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ اس نے کہا : آسمان میں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، آپ اللہ کے رسول ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو ۔‘‘ یہ مالک کی روایت ہے ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : انہوں (معاویہ بن حکم ؓ) نے کہا : میری ایک لونڈی تھی جو اُحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چرایا کرتی تھی ، ایک روز میں نے دیکھا کہ بھیڑیا ہماری بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا ، چونکہ میں آدم کی اولاد سے ہوں ، میں بھی ناراض ہوتا ہوں جیسے وہ ناراض ہوتے ہیں ، اس لیے میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا (اور سارا واقعہ سنایا) آپ نے میری اس حرکت کو بڑا جرم قرار دیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے میرے پاس لاؤ ۔‘‘ میں اسے آپ کے پاس لے آیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا :’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : آسمان میں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ مسلمان ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و مسلم ۔