Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 12 · Chapter 140

میراث کا بیان

بَاب اللّقطَة

لُقطہ کا بیان

30 hadiths in this chapter

3033

Mishkat al-Masabih #3033

Sahih

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا» . قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِل؟ قَالَ: «مَالك وَلَهَا؟ مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَقَالَ: «عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقَ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبهَا فأدها إِلَيْهِ»

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے لقطہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس (ملنے والی چیز) کی تھیلی اور اسے باندھنے والی رسی کی پہچان رکھ ، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر ، اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ورنہ تو اسے اپنے استعمال میں لے آ ۔‘‘ اس نے گم شدہ بکری کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو فرمایا :’’ (اسے پکڑ لے) وہ تیرے لیے ہے یا تیرے کسی بھائی کے لیے یا پھر بھیڑیے کے لیے ۔‘‘ اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھے اس سے کیا سروکار ؟ (پانی کا) مشکیزہ اس کے پاس اور پاؤں اس کے مضبوط ہیں (پیاس لگنے پر) گھاٹ پر آئے گا اور درخت کے پتے کھائے گا حتی کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک سال تک اس کا اعلان کر ۔ پھر اس چیز کو باندھنے والی رسی اور اس کی تھیلی کی پہچان رکھ ، پھر اسے استعمال میں لا ۔ البتہ اگر اس کا مالک آ جائے تو پھر اسے اتنی قیمت ادا کر ۔‘‘\n

3034

Mishkat al-Masabih #3034

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لم يعرفهَا» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی گم شدہ چیز کو پناہ دے اور اس کا اعلان نہ کرے تو وہ خود گمراہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3035

Mishkat al-Masabih #3035

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَن لقطَة الْحَاج. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن عثمان تیمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاجیوں کی گری پڑی چیز اٹھانے سے منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

3036

Mishkat al-Masabih #3036

Sahih

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ: «مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينَ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ» وَذَكَرَ فِي ضَالَّة الْإِبِل وَالْغنم كَمَا ذكر غَيْرُهُ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «مَا كَانَ مِنْهَا فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَالْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهُوَ لَكَ وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ عَنْهُ مِنْ قَوْله: وَسُئِلَ عَن اللّقطَة إِلَى آخِره

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ آپ سے درخت پر لٹکے ہوئے پھل کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کوئی ضرورت مند شخص ، جو کہ کپڑے میں ڈال کر لے جانے والا نہ ہو ، وہاں سے کھا لے تو اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ، اور جو شخص وہاں سے کچھ ساتھ لے آئے تو اس پر دو گناہ تاوان اور سزا ہے ، اور جو شخص جنس کے ڈھیر لگ جانے کے بعد وہاں سے ڈھال کی قیمت کے برابر چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔‘‘ اور گم شدہ اونٹ اور گم شدہ بکری کے بارے میں بھی دوسری چیزوں کی طرح ہی ذکر کیا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ سے لقطہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ شارع عام اور بڑی بستی سے ملے تو پھر تو ایک سال تک اس کا اعلان کر ، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کے حوالے کر ، اور اگر کوئی مالک نہ آئے تو پھر وہ تیری ہے ۔ اور اگر وہ کسی بے آباد قدیم جگہ سے ملے تو پھر اس میں اور مدفون خزینے میں پانچواں حصہ ہے ۔‘‘ نسائی ۔ ابوداؤد ؒ نے بھی انہی سے روایت کیا ہے اور وہ حدیث : سُئِلَ عَنِ اللُّقْطَۃِ سے آخر تک مروی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و ابوداؤد ۔

3037

Mishkat al-Masabih #3037

Sahih

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَدَ دِينَارًا فَأتى بِهِ فَاطِمَة رَضِي الله عَنْهَا فَسَأَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا رِزْقُ اللَّهِ» فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأكل عَليّ وَفَاطِمَة رَضِي الله عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتِ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب ؓ کو ایک دینار ملا وہ اسے فاطمہ ؓ کے پاس لے آئے اور اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو اللہ کا رزق ہے ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ ، علی ؓ اور فاطمہ ؓ نے اس میں سے کھایا ۔ جب اگلا روز ہوا تو ایک عورت دینار کا اعلان کرتی ہوئی آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ علی ! دینار واپس کرو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

3038

Mishkat al-Masabih #3038

Sahih

وَعَنِ الْجَارُودِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

جارود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کی گم شدہ چیز (اگر وہ اعلان کیے بغیر اٹھا لی جائے تو وہ) آگ کا شعلہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

3039

Mishkat al-Masabih #3039

Sahih

وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

عیاض بن حمار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص گری پڑی چیز پا لے تو وہ ایک یا دو عادل شخص گواہ بنا لے ۔ اور وہ اسے چھپائے نہ اسے غائب کرے ، اگر اس کا مالک پا لے تو وہ چیز اسے واپس کرے ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و الدارمی ۔

3040

Mishkat al-Masabih #3040

Zaeef

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\nوَذكر حَدِيث الْمِقْدَام بن معدي كرب: «أَلا لَا يحل» فِي «بَاب الِاعْتِصَام»\n

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے لاٹھی ، کوڑے ، رسی اور اس سے ملتی جلتی چیزوں کے بارے میں ہمیں رخصت عنایت فرمائی کہ آدمی اس طرح کی گری پڑی چیز کو اٹھا کر استعمال کر لے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔\n وَذْکِرَ حَدِیْثُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْ کَرِبَ : ((اَلَا لَا یَحِلُّ)) فِیْ بَابِ الاعْعِصَامِ\n اور مقدام بن معدی کرب ؓ سے مروی حدیث ((اَلَا لَا یَحِلُّ ..)) باب الاعتصام میں ذکر کی گئی ہے ۔\n

3041

Mishkat al-Masabih #3041

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ. وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ» . وَفِي رِوَايَة: «من ترك دينا أَو ضيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں مومنوں کا ان کے نفسوں سے بھی زیادہ حقدار ہوں ، جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرض ہو اور اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز بھی نہ چھوڑی ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔‘‘\n اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا حامی و مددگار ہوں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جس نے مال چھوڑا تو اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جو شخص بوجھ (یعنی قرض یا اولاد) چھوڑ جائے تو وہ ہماری طرف آئیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n

3042

Mishkat al-Masabih #3042

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذكر»

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مقررہ حصے ان کے مستحقین کو دو اور جو باقی بچے وہ (میت کے) قریب ترین مرد (رشتے دار) کا حصہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3043

Mishkat al-Masabih #3043

Sahih

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ»

اردو ترجمہ · Urdu

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کافر کا ، اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3044

Mishkat al-Masabih #3044

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

3045

Mishkat al-Masabih #3045

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُم»\nوَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ» فِي بَابٍ قبل «بَاب السّلم»\n

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم کا بھانجا انہی میں شمار ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n وَذْکِرَ حَدِیثُ عَائِشَۃَ : ((اِنَّمَا الْوَلَاءُ ..)) فِیْ بَابِ قَبْلَ بَابِ السَّلَمِ وَ سَنَذْکُرُ حَدِیْثَ الْبَرَاءِ : ((الْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الْاُمِّ)) فِیْ بَابِ بُلُوْعِ الصَّغِیْرِ وَ حَضَانَتِہِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔\n عائشہ ؓ سے مروی حدیث : ((اِنَّمَا الْوَلَاءُ ..)) باب السلم سے پہلے باب میں ذکر ہو چکی ہے ، اور براء ؓ سے مروی حدیث :’’ خالہ ، ماں کے مقام پر ہوتی ہے ۔‘‘ ہم باب بلوغ الصغیر و حضانتہ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔\n

3046

Mishkat al-Masabih #3046

Sahih

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو مختلف دین کے حامل افراد باہم وارث نہیں ہو سکتے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

3047

Mishkat al-Masabih #3047

Sahih

وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَن جَابر

اردو ترجمہ · Urdu

امام ترمذی نے اسے جابر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

3048

Mishkat al-Masabih #3048

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو سکتا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

3049

Mishkat al-Masabih #3049

Sahih

وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ دونهَا أم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

بُریدہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، کہ آپ ﷺ نے (میت کی) ماں نہ ہونے کی صورت میں دادی نانی کے لیے چھٹا حصہ مقرر فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

3050

Mishkat al-Masabih #3050

Zaeef

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَورث» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (چیخے اور پھر فوت ہو جائے) تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کی وراثت بھی تقسیم ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا و الحدیث ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔

3051

Mishkat al-Masabih #3051

Sahih

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم کا آزاد کردہ غلام انہیں میں سے ہے ، قوم کا حلیف انہی میں سے ہے اور قوم کا بھانجا انہی میں سے ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

3052

Mishkat al-Masabih #3052

Sahih

وَعَن الْمِقْدَام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيْنَا وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ ويرثه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

مقدام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ہر مومن سے خود اس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں ، جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو ان کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ، اور جو شخص مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے ۔ اور جس کا کوئی مولیٰ (حمایتی و مددگار) نہ ہو ۔ اس کا میں مولیٰ ہوں ، اس کے مال کا میں وارث بنوں گا ، اس کے قیدی کو میں چھڑاؤں گا ، جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے ، وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدی کو چھڑائے گا ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا میں وارث ہوں ، اس کی طرف سے دیت بھی دوں گا اور اس کا وارث بھی بنوں گا ، اور جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں وارث ہے ، وہ اس کی طرف سے دیت دے گا اور اس کا وارث بنے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

3053

Mishkat al-Masabih #3053

Zaeef

وَعَن وائلة بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت تین وراثتیں پا سکتی ہے ، اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی ، اپنے پالے ہوئے بچے کی اور اپنے اس بچے کی جس کے متعلق اس نے لعان کیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

3054

Mishkat al-Masabih #3054

Zaeef

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ فَالْوَلَد ولد زنى لَا يَرث وَلَا يُورث» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی آزاد یا غلام عورت سے زنا کیا ، (اور بچہ پیدا ہوا) تو وہ بچہ ، ولد زنا ہے ، وہ (اپنے زانی باپ کا) وارث ہو گا نہ اس کا باپ اس کا وارث ہو گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

3055

Mishkat al-Masabih #3055

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ حَمِيمًا وَلَا وَلَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا ، اور اس نے کچھ مال چھوڑا ، اور اس نے کوئی قریبی رشہ دار چھوڑا نہ اولاد ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی میراث اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

3056

Mishkat al-Masabih #3056

Sahih

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ فَقَالَ: «الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا أَوْ ذَا رَحِمٍ» فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أعْطوا الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ: «انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَة»

اردو ترجمہ · Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، خزاعہ قبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا تو اس کی میراث نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا کوئی وارث یا کوئی رشتہ دار تلاش کرو ۔‘‘ انہوں نے اس کا کوئی وارث پایا نہ کوئی رشتہ دار ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خزاعہ قبیلے کے کسی عمر رسیدہ شخص کو دے دو ۔‘‘ ابوداؤد ، اور ابوداؤد ہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ خزاعہ قبیلے کا کوئی بڑا آدمی دیکھو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

3057

Mishkat al-Masabih #3057

Zaeef

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكُمْ تقرؤون هَذِهِ الْآيَةَ: (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَو دين)\nوَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدّينِ قبل الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ: قَالَ: «الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ. . .» إِلَى آخِره\n

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو :’’ وصیت پوری کرنے کے بعد جو تم وصیت کرتے ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد ۔‘‘ بے شک رسول اللہ ﷺ نے قرض کو وصیت سے پہلے ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا ، اور سگے بھائی وارث ہوتے ہیں ، سوتیلے بھائی وارث نہیں ہوتے ، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا سوتیلے بھائی کا وارث نہیں ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور دارمی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ سگے بھائی (ایک ہی ماں کی اولاد) وارث ہوں گے اور مختلف ماؤں کی اولاد (یعنی سوتیلے بھائی) وارث نہیں ہوں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

3058

Mishkat al-Masabih #3058

Zaeef

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا وَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ: «يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ» فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ: «أَعْطِ لِابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ

اردو ترجمہ · Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد بن ربیع ؓ کی اہلیہ سعد بن ربیع سے اپنی دونوں بیٹیاں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دونوں سعد بن ربیع ؓ کی بیٹیاں ہیں ، ان کا والد غزوہ احد میں آپ کے ساتھ شریک ہو کر شہید ہو گیا ۔ ان دونوں کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا ، اگر مال ہو گا تو ان کی شادی ہو جائے گی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے متعلق اللہ فیصلہ فرمائے گا ۔‘‘ پس آیتِ میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا کو پیغام بھیجا کہ سعد ؓ کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی دو اور ان دونوں کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو ، اور جو باقی بچے وہ تمہارا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

3059

Mishkat al-Masabih #3059

Sahih

وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: للْبِنْت النّصْف وَللْأُخْت النّصْف وائت ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بقول أبي مُوسَى فَقَالَ: لقد ضللت إِذن وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الحبر فِيكُم. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ہُذیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں ، ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بیٹی ، پوتی اور بہن کے حصے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : بیٹی کے لیے نصف ، بہن کے لیے نصف ، اور تم ابن مسعود ؓ کے پاس جاؤ وہ بھی میرے موافق فتویٰ دیں گے ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ابوموسی ؓ نے یہ فتوی دیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : تب تو میں گمراہ ہو گیا ، اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں ہوں ، میں اس کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ نے کیا تھا ، بیٹی کے لیے نصف ، پوتی کے لیے چھٹا حصہ اسی طرح دو تہائی مکمل ہوا اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے ، ہم ابوموسی ؓ کے پاس آئے تو انہیں ابن مسعود ؓ کے فتویٰ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : جب تک یہ علاّمہ تم میں موجود ہے مجھ سے مسئلہ نہ پوچھا کرو ۔ رواہ البخاری ۔

3060

Mishkat al-Masabih #3060

Zaeef

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: «لَكَ السُّدُسُ» فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ: «لَكَ سُدُسٌ آخَرُ» فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ: «إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

اردو ترجمہ · Urdu

عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، میرا پوتا فوت ہو گیا ہے ، اس کی میراث میں میرا کتنا حصہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے ۔‘‘ جب وہ واپس مڑا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا :’’ تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے ۔‘‘ جب وہ واپس مڑا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا :’’ دوسرا چھٹا حصہ (زیادہ حق دار نہ ہونے کی وجہ سے) تمہارے لیے رزق ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

3061

Mishkat al-Masabih #3061

Sahih

وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ لَهَا: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الله عَنهُ هَل مَعَك غَيره؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغيرَة فأنفذه لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَتِ الْجدّة الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ: هُوَ ذَلِك السُّدس فَإِن اجْتمعَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

قبیصہ بن ذُویب بیان کرتے ہیں ، دادی ، نانی ، ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور اس نے اپنی میراث کے بارے میں آپ سے مسئلہ دریافت کیا ، تو انہوں نے اس سے کہا : تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حصہ ہے نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت میں ، آپ جائیں حتی کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں : انہوں نے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے اسے (یعنی دادی / نانی کو) چھٹا حصہ دیا ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ تو محمد بن مسلمہ نے بھی ویسے ہی کہا جیسے مغیرہ نے کہا تھا ، تو ابوبکر ؓ نے اس (دادی / نانی) کے متعلق اسے نافذ کر دیا ، پھر ایک اور دادی / نانی عمر ؓ کے پاس آئی اور اپنی میراث کے متعلق دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : وہ چھٹا حصہ ہی ہے ، اگر تم دونوں اکٹھی ہوں تو وہ تم دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا ، اور تم دونوں میں سے جو بھی اکیلی ہو گی تو وہ حصہ اسے ملے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و احمد و الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و ابن ماجہ ۔

3062

Mishkat al-Masabih #3062

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا: أَنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَيٌّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ ضَعَّفَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن مسعود ؓ اس دادی کے بارے میں جسے اپنے بیٹے کے ساتھ حصہ ملا ، فرمایا : وہ پہلی دادی ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ عطا کیا جبکہ اس کا بیٹا زندہ تھا ۔ ترمذی ، دارمی ۔ امام ترمذی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔