Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 10 · Chapter 123

افعال حج کا بیان

بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى

حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے

30 hadiths in this chapter

2728

Mishkat al-Masabih #2728

Sahih

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فمنْ أحدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذمَّةُ المسلمينَ واحدةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عدل»\nوَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صرف وَلَا عدل»\n

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ ﷺ سے صرف قرآن اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے وہ لکھا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے ، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ ، تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کی نفل عبادت قبول ہو گی نہ فرض ۔ مسلمانوں کی امان ایک ہی ہے ، اور اس میں ادنی مسلمان کی امان کی بھی برابر حیثیت ہے ، جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض ، اور جو شخص اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اور اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض ۔‘‘ اور صحیحین ہی کی روایت میں ہے :’’ جو شخص اپنے آپ کو باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کر لے یا اپنے مالکوں کے علاوہ کسی اور سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس سے نفل قبول ہو گا نہ فرض ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2729

Mishkat al-Masabih #2729

Sahih

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ: أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا وَقَالَ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلَمونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَو شَهِيدا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں مدینہ کے دونوں پتھریلے مقاموں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں ، اور اس علاقے کا درخت کاٹنا یا اس کا شکار قتل کرنا حرام ہے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے ، اگر کوئی شخص اس سے عدم رغبت کی وجہ سے اسے چھوڑ جائے گا تو اللہ اس میں اس کے بدلہ میں ایسے شخص کو آباد کرے گا ، جو اس سے بہتر ہو گا ، اور جو شخص اس کی بھوک اور تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا یا میں اس کے حق میں گواہی دوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2730

Mishkat al-Masabih #2730

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری اُمت میں سے جو شخص مدینہ کی بھوک اور اس کی تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2731

Mishkat al-Masabih #2731

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرَةِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَأَنَا أدعوكَ للمدينةِ بمثلِ مَا دعَاكَ لمكةَ ومِثْلِهِ مَعَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فيعطيهِ ذَلِك الثَّمر. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب لوگ پہلا پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے ، جب آپ ﷺ اسے پکڑلیتے تو دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ہمارے لیے پھلوں میں برکت فرما ، اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے مدینے میں برکت فرما ، ہمارے صاع اور ہمارے مد (ناپ تول کے پیمانے) میں برکت فرما ، اے اللہ ! بے شک ابراہیم ؑ تیرے بندے ، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے ، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ، بے شک انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا فرمائی اور میں تجھ سے اسی مثل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں اور اس کی مثل اس کے ساتھ مزید دعا کرتا ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر آپ ﷺ اپنے کسی سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور وہ پھل اسے دے دیتے ۔ رواہ مسلم ۔

2732

Mishkat al-Masabih #2732

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَامًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سلاحٌ لقتالٍ وَلَا تُخبَطَ فِيهَا شجرةٌ إِلَّا لعلف» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسعید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کی حرمت کو ثابت کیا ، اور میں مدینہ کو ، اس کے دو پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو ، حرام قرار دیتا ہوں کہ اس میں خون ریزی کی جائے نہ قتال کے لیے اس میں اسلحہ اٹھایا جائے اور نہ ہی چارے کے علاوہ اس کے درختوں کے پتے جھاڑے جائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2733

Mishkat al-Masabih #2733

Sahih

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أَنْ يرد عَلَيْهِم. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عامر بن سعد ؒ سے روایت ہے کہ سعد (بن ابی وقاص ؓ) موضع عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جا رہے تھے کہ انہوں نے کسی غلام کو درخت کاٹتے ہوئے یا اس کے پتے جھاڑتے ہوئے پایا تو انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا ، جب سعد ؓ واپس (مدینہ) آئے تو غلام کے مالک ان کے پاس آئے اور ان سے بات کی کہ انہوں نے غلام سے جو کچھ لیا ہے وہ اسے ان کے غلام کو یا ہمیں واپس لٹا دیں ، اس پر انہوں (سعد ؓ) نے فرمایا : اللہ کی پناہ کہ میں اس چیز کو واپس کر دوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بطور غنیمت عطا فرمائی ہے ، اور انہوں نے انہیں وہ کپڑا واپس کرنے سے انکار کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔

2734

Mishkat al-Masabih #2734

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بِالْجُحْفَةِ»

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر ؓ اور بلال ؓ بخار میں مبتلا ہو گئے ، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! جس طرح ہمیں مکہ محبوب ہے اس طرح یا اس سے بھی زیادہ مدینہ ہمیں محبوب بنا دے اور اسے صحت افزا بنا دے ، اس کے صاع و مد میں ہمارے لیے برکت فرما دے اور اس کے بخار کو منتقل فرما اور اسے جحفہ بھیج دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2735

Mishkat al-Masabih #2735

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ: رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى نَزَلَتْ مَهْيَعَةَ فَتَأَوَّلْتُهَا: أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ سے نبی ﷺ کے مدینہ کے بارے میں خواب کے متعلق روایت ہے ، (آپ ﷺ نے فرمایا) :’’ میں نے ایک سیاہ فام پراگندہ بالوں والی عورت کو مدینہ سے نکل کر ’’ مھیعہ ‘‘ پر قیام کرتے ہوئے دیکھا ، میں نے اس کی تاویل کی کہ مدینہ کی وبا ’’ مھیعہ ‘‘ منتقل کر دی گئی ہے ، اور ’’ مھیعہ ‘‘ جحفہ کا ہی نام ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2736

Mishkat al-Masabih #2736

Sahih

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قومٌ يبُسُّونَ فيَتَحمَّلونَ بأهليهم وَمن أطاعهم وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلمُونَ»

اردو ترجمہ · Urdu

سفیان بن ابی زہیر ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ یمن فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اپنے اونٹوں کو تیز چلاتے ہوئے آئیں گے تو وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش کہ وہ جانتے ، اور شام فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو تیز چلاتے ہوئے آئیں گے تو وہ اپنے اہل خانہ اور جو ان کی اطاعت اختیار کر لیں گے اُن کو سوار کر کے لے جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش وہ جان لیتے ، اور عراق فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو تیز دوڑاتے ہوئے آئیں گے اور وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے ، جبکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش کہ وہ جان لیتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2737

Mishkat al-Masabih #2737

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى. يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے ایک ایسی بستی میں قیام کرنے کا حکم دیا گیا جو دوسری بستیوں پر غالب آ جائے گی ، وہ اسے یثرب کہتے ہیں ، جبکہ وہ مدینہ ہے ، وہ لوگوں کو ایسے نکال باہر کرتی ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال باہر کرتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2738

Mishkat al-Masabih #2738

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الله سمى الْمَدِينَة طابة» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2739

Mishkat al-Masabih #2739

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خبثها وتنصع طيبها»

اردو ترجمہ · Urdu

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تو اس اعرابی کو مدینہ میں بخار ہو گیا ، وہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا : محمد ! (ﷺ) میری بیعت واپس کر دیں ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے انکار کر دیا ، وہ پھر آیا اور کہا : میری بیعت واپس کر دیں ، لیکن آپ نے انکار فرمایا ، وہ پھر آپ کے پاس آیا تو اس نے کہا : میری بیعت توڑ دیں ، لیکن آپ نے انکار فرمایا ، وہ اعرابی (مدینہ) سے چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مدینہ بھٹی کی طرح ہے کہ وہ بُری چیز کو نکال دیتا ہے جبکہ اچھی چیز کو وہ خالص بنا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2740

Mishkat al-Masabih #2740

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ مدینہ بُرے لوگوں کو نکال باہر کرے گا جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال باہر کرتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2741

Mishkat al-Masabih #2741

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مدینہ کے داخلی راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں ، اس میں طاعون داخل ہو گا نہ دجال ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2742

Mishkat al-Masabih #2742

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بلدٍ إِلا سَيَطَؤهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنِقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا فَيَنْزِلُ السَّبِخَةَ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ»

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال ہر شہر کو خراب کر ڈالے گا ، ان دونوں شہروں کے تمام داخلی راستوں پر فرشتے صفیں باندھیں ان کی حفاظت کر رہے ہیں ، وہ (دجال) شور والی زمین پر اترے گا ، پھر مدینہ اپنے رہنے والوں کو تین بار خوب جھٹکا دے گا تو ہر کافر و منافق اس (دجال) کی طرف نکل جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2743

Mishkat al-Masabih #2743

Sahih

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْملح فِي المَاء»

اردو ترجمہ · Urdu

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اہل مدینہ سے دھوکہ کرے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2744

Mishkat al-Masabih #2744

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلى جُدُراتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حركها من حبها. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو آپ مدینہ سے محبت کی وجہ سے اپنی اونٹنی کو ، اور اگر کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے تیز دوڑاتے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2745

Mishkat al-Masabih #2745

Sahih

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أحرم مَا بَين لابتيها»

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو اُحد پہاڑ نظر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، اے اللہ ! بے شک ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا ، اور میں مدینہ کے دونوں پتھریلی جگہ کے درمیانی علاقے کو حرام قرار دیتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2746

Mishkat al-Masabih #2746

Sahih

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا ونحبُّه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2747

Mishkat al-Masabih #2747

Zaeef

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ» . فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دفعتُ إِليكم ثمنَه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن ابی عبداللہ بیان کرتے ہیں ، میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں ، جس کو رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا ہے ، شکار کر رہا تھا ، انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا ، تو اس کے مالک آپ کے پاس آئے اور آپ سے اس بارے میں بات چیت کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حرم کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے فرمایا :’’ جو شخص کسی کو اس میں شکار کرتا ہوا پائے تو وہ اس کا کپڑا سلب کر لے ۔‘‘ لہذا میں یہ رزق تمہیں واپس نہیں دوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا کیا ہے ، لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت تمہیں ادا کر دیتا ہوں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

2748

Mishkat al-Masabih #2748

Zaeef

وَعَنْ صَالِحٍ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ وَقَالَ: «مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

سعد ؓ کے آزاد کردہ غلام صالح سے روایت ہے کہ سعد ؓ نے مدینہ کے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے ہوئے پایا تو انہوں نے ان کا سامان لے لیا ، اور ان کے مالکوں سے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کے درخت سے کوئی چیز کاٹنے سے منع کرتے ہوئے سنا ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اس کی کوئی چیز کاٹے تو جو شخص اسے پکڑے تو اس کا سامان اسی (پکڑنے والے) کو ملے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

2749

Mishkat al-Masabih #2749

Zaeef

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حِرْمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: «وَجٌّ» ذَكَرُوا أَنَّهَا مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِف وَقَالَ الْخطابِيّ: «إِنَّه» بدل «إِنَّهَا»

اردو ترجمہ · Urdu

زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وج (طائف طائف کا کچھ علاقہ) کا شکار کرنا اور اس کے خاردار درختوں کا کاٹنا حرام ہے ، اللہ کے لیے حرام کیا گیا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور امام محی السنہ نے بیان کیا :’’وج‘‘ کے بارے میں علما نے فرمایا ہے کہ وہ طائف کا ایک علاقہ ہے ، اور خطابی ؒ نے : اَنَّھَا کی جگہ اَنَّہ کہا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔\n

2750

Mishkat al-Masabih #2750

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوت بالمدية فليمت لَهَا فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح غَرِيب إِسْنَادًا

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مدینہ میں فوت ہو سکتا ہو تو اسے اسی میں فوت ہونا چاہیے ، کیونکہ جو شخص اسی ہی میں فوت ہو گا میں اس کی شفاعت کروں گا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس کی اسناد غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

2751

Mishkat al-Masabih #2751

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلامی بستیوں میں سے مدینہ ایسی بستی ہے جو سب سے آخر میں ویران ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

2752

Mishkat al-Masabih #2752

Zaeef

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ: أَيَّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ الْمَدِينَةِ أَوِ الْبَحْرَيْنِ أَوْ قِنَّسْرِينَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

جریر بن عبداللہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپ ان تینوں ، مدینہ یا بحرین یا قنسرین ، میں سے جہاں بھی قیام فرمائیں وہ آپ کا دار ہجرت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

2753

Mishkat al-Masabih #2753

Sahih

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسیح دجال کا رعب مدینہ میں داخل نہیں ہو گا ، اس روز اس کے سات دروازے ہوں گے ، اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

2754

Mishkat al-Masabih #2754

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعفَي مَا جعلت بِمَكَّة من الْبركَة»

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! تو نے جتنی برکت مکہ کو دی ہے اس سے دگنی مدینہ کو عطا فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2755

Mishkat al-Masabih #2755

Zaeef

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَارَنِي مُتَعَمِّدًا كَانَ فِي جِوَارِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَكَنَ الْمَدِينَةَ وَصَبَرَ عَلَى بَلَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا وَشَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللَّهُ مِنَ الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَة»

اردو ترجمہ · Urdu

آل خطاب میں سے ایک آدمی نے نبی ﷺ سے روایت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قصداً میری زیارت کے لیے آئے تو روز قیامت وہ میرے پڑوس میں ہو گا ، جو شخص مدینہ میں سکونت اختیار کرے اور اس کی مشکلات پر صبر کرے تو روز قیامت میں اس کے لیے گواہ بنوں گا یا سفارشی ہوں گا ، اور جو حرمین (مکہ ، مدینہ) میں کسی جگہ فوت ہوا تو روز قیامت وہ امن والوں میں سے ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

2756

Mishkat al-Masabih #2756

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَياتِي» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص حج کرے اور میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

2757

Mishkat al-Masabih #2757

Zaeef

لإرساله وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ: بِئْسَ مَضْجَعِ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بئس مَا قُلْتَ» قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا مِثْلَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ بُقْعَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے جبکہ مدینہ میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی ، ایک آدمی نے قبر میں جھانکا تو کہا : مومن کی بہت بُری جگہ ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے بہت بُری بات کی ہے ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : میرا یہ ارادہ نہیں تھا ، میں نے تو یہ ارادہ کیا کہ اللہ کی راہ میں شہادت (بستر پر مرنے سے) افضل ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں شہادت جیسی تو کوئی چیز ہی نہیں اور مجھے اپنی قبر کے لیے یہ خطۂ زمین پوری زمین میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔‘‘ آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی ۔ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔