Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 10 · Chapter 118

افعال حج کا بیان

بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ

قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان

19 hadiths in this chapter

2659

Mishkat al-Masabih #2659

Sahih

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ: «إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ» وَقَالَ: «أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ: «أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟» قُلْنَا: بَلَى قَالَ «فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بِعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے قربانی کے دن ہمیں خطاب فرمایا تو فرمایا :’’ زمانہ (سال) گھوم گھما کر اسی صورت پر آ گیا ہے جیسے اس دن تھا ، جس روز اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان تخلیق فرمائے تھے ، سال بارہ ماہ کا ہے ، ان میں سے چار حرمت والے ہیں ، تین ، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم تو متواتر ہیں اور رجب مضر جو کہ جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون سا مہینہ ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے خاموشی اختیار کر لی حتی کہ ہم نے خیال کیا آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا یہ ذوالحجہ نہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون سا شہر ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ خاموش رہے حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا یہ بلدہ (یعنی مکہ) نہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ، ایسے ہی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون سا دن ہے ؟’’ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ خاموش رہے حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا یہ قربانی کا دن نہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ، ایسے ہی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے خون ، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر اس ماہ میں ، اس شہر میں اور اس دن کی حرمت کی طرح تم پر حرام ہیں ، تم عنقریب اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہو ، وہ تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے سوال کرے گا ، سن لو ! تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو ، سن لو ! کیا میں نے تم تک (دین) پہنچا دیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! گواہ رہنا ، جو یہاں موجود ہیں وہ غیر موجود تک پہنچا دیں ، بسا اوقات جس کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2660

Mishkat al-Masabih #2660

Sahih

وَعَن وَبرةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِهِ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ. فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَيَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رمينَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

وبرہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ سے دریافت کیا : میں کس وقت کنکریاں ماروں ؟ انہوں نے فرمایا : جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی کنکریاں مارو ۔ میں نے دوبارہ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : ہم انتظار کرتے رہتے تھے ، جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

2661

Mishkat al-Masabih #2661

Sahih

وَعَن سالمٍ عَن ابنِ عمر: أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي جَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكبِّرُ على إِثْرَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يُسْهِلَ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَأْخُذُ بِذَاتِ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَله. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

سالم ؒ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جمرہ دنیا (مسجد خفیف کے قریب والے جمرہ کو) سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے تھے ، پھر آگے بڑھتے حتی کہ نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے ، پھر بائیں جانب ہو کر نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعائیں کرتے رہتے ، پھر درمیان والے جمرے کو سات کنکریاں مارتے جب کنکری مارتے تو اللہ اکبر کہتے تھے پھر وادی کے نشیب سے جمرہ عقبی کو سات کنکریاں مارتے ، آپ ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے ، آپ اس کے پاس نہ ٹھہرتے پھر واپس آ جاتے اور فرماتے : میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ رواہ البخاری ۔

2662

Mishkat al-Masabih #2662

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ منى من أجلِ سِقايتِهِ فَأذن لَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، عباس بن عبدالمطلب ؓ نے پانی پلانے کی وجہ سے ، منیٰ کی راتیں مکہ میں گزارنے کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی ۔ متفق علیہ ۔

2663

Mishkat al-Masabih #2663

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ قَالَ: «اسْقِنِي» . فَشرب مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا. فَقَالَ: «اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ» . ثُمَّ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ» . وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پانی پینے کی جگہ پر تشریف لائے تو آپ نے پانی طلب کیا تو عباس ؓ نے فرمایا : فضل ! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان کے پاس سے رسول اللہ ﷺ کے لیے پانی لے کر آؤ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے (یہیں سے) پلاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! لوگ اپنے ہاتھ اس میں ڈالتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے (یہیں سے) پلاؤ ۔‘‘ آپ نے اسی میں سے نوش فرمایا ، پھر آپ زم زم پر تشریف لائے تو لوگ وہاں پانی پلا رہے تھے اور خوب محنت کر رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کام کرتے رہو ، کیونکہ تم ایک نیک کام میں مشغول ہو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اگر لوگ تم پر غالب نہ آ جائیں تو میں بھی اپنی سواری سے اتر آتا حتی کہ میں رسی اس پر رکھ لیتا ۔‘‘ آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔

2664

Mishkat al-Masabih #2664

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھیں ، پھر آپ وادی محصب میں تھوڑی دیر سوئے ، پھر آپ سواری پر بیت اللہ تشریف لائے اور اس کا طواف (وداع) کیا ۔ رواہ البخاری ۔

2665

Mishkat al-Masabih #2665

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سألتُ أنسَ بنَ مالكٍ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يومَ الترويةِ؟ قَالَ: بمنى. قلت: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ بن مالک ؓ سے دریافت کیا ، میں نے کہا : اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات یاد کی ہو تو مجھے بتائیں کہ آپ نے ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : منیٰ میں ، پھر پوچھا : آپ ﷺ نے منیٰ سے واپس آتے ہوئے عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ فرمایا : وادی ابطح میں ، پھر فرمایا : جیسے تمہارے امرا کریں ویسے تم کرو ۔ متفق علیہ ۔

2666

Mishkat al-Masabih #2666

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أسمح لِخُرُوجِهِ إِذا خرج

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابطح میں قیام کرنا سنت نہیں ، رسول اللہ ﷺ نے تو وہاں اس لیے قیام فرمایا تھا کہ وہاں سے (مدینہ کے لیے) روانہ ہونا زیادہ آسان تھا ۔ متفق علیہ ۔

2667

Mishkat al-Masabih #2667

Sahih

وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم بالأبطحِ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هَذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهُ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَاف يسير فِي آخِره

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے مقام نتعیم سے عمرہ کے لیے احرام باندھا ، میں (مکہ میں) داخل ہوئی اور اپنا عمرہ ادا کیا ، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ابطح کے مقام پر میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں عمرہ سے فارغ ہو گئی تو آپ نے لوگوں کو کوچ کا حکم فرمایا ۔ آپ وہاں سے نکلے اور بیت اللہ کا طواف صبح کی نماز سے پہلے کیا ، پھر آپ ﷺ مدینہ کےلیے روانہ ہوئے ۔ میں نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے حوالے سے یہ حدیث نہیں پائی ، بلکہ آخر پر تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت میں پایا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

2668

Mishkat al-Masabih #2668

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگ (منیٰ سے فارغ ہو کر) کسی بھی طریق سے واپس چلے جاتے تھے ، (یہ صورتحال دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص مکہ سے نہ جائے حتی کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس ہو ، (طواف وداع کرے) البتہ حیض والی عورت کو مستثنیٰ قرار دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2669

Mishkat al-Masabih #2669

Sahih

وَعَن عائشةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قيل: نعم. قَالَ: «فانفري»

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کوچ (کے دن) کی رات صفیہ ؓ کو حیض آ گیا ، تو انہوں نے عرض کیا ، میرا خیال ہے کہ (طوافِ وداع کی وجہ سے) میں نے تمہیں روک دیا ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ (عرب کے محاورے کے مطابق) بے اولاد ، سر مُنڈی یا حلق میں بیماری والی ، (اس سے بددعا مراد نہیں ، بلکہ جیسے کہا جاتا ہے : تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ویسے ہی یہ الفاظ ہیں) کیا اس نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟‘‘ آپ کو بتایا گیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر (مدینہ کی طرف) کوچ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2670

Mishkat al-Masabih #2670

Sahih

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ النَّحْر الْأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلا لَا يجني جانٍ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا وَلَكِنْ ستكونُ لهُ طاعةٌ فِيمَا تحتقرونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن احوص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا :’’ آج کون سا دن ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : حج اکبر کا دن ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس شہر میں ، تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی جان پر ظلم نہ کرے ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے نہ بچہ اپنے والد پر ظلم کرے ، سن لو ! شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی تمہارے اس شہر میں عبادت ہو ، لیکن تمہارے ایسے امور میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو ، اس کی اطاعت ہو گی تو وہ اس پر ہی راضی ہو جائے گا ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ۔ اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسناد حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

2671

Mishkat al-Masabih #2671

Sahih

وَعَن رافعِ بنِ عمروٍ والمُزَني قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَين قَائِم وقاعد. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

رافع بن عمرو مزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں چاشت کے بعد سیاہی مائل سفید خچر پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا ، جبکہ علی ؓ آپ کی طرف سے لوگوں تک بات پہنچا رہے تھے جبکہ لوگ کچھ کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

2672

Mishkat al-Masabih #2672

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن طواف زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

2673

Mishkat al-Masabih #2673

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے طواف افاضہ کے ساتوں چکروں میں رمل نہیں فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

2674

Mishkat al-Masabih #2674

Zaeef

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة وَقَالَ: إِسْنَاده ضَعِيف

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جمرہ عقبی کو کنکریاں مار لے تو بیویوں کے (ساتھ جماع کے) سوا اس کے لیے ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ۔‘‘ شرح السنہ ۔ اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ ۔

2675

Mishkat al-Masabih #2675

Zaeef

وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كلُّ شيءٍ إِلا النساءَ»

اردو ترجمہ · Urdu

احمد اور نسائی کی ابن عباس سے مروی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب وہ کنکریاں مار لے تو بیویوں کے علاوہ ہر چیز اس پر حلال ہو جاتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و النسائی ۔

2676

Mishkat al-Masabih #2676

Sahih

وَعَنْهَا قَالَتْ\n: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ فَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دن کے پچھلے پہر جب آپ نے نماز ظہر ادا کی تو طواف افاضہ کیا ، پھر آپ منیٰ واپس تشریف لے آئے ، آپ نے ایام تشریق کی راتیں وہاں گزاریں ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہوتے ، لمبا قیام فرماتے اور تضرع و عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے ، اور آپ تیسرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

2677

Mishkat al-Masabih #2677

Sahih

وَعَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَن أَبِيه قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لرعاء الْإِبِل فِي البيتوتة: أَن يرملوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ فَيَرْمُوهُ فِي أَحَدِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا ، رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے چرواہوں کو رات بسر کرنے کی رخصت دے دی کہ وہ یوم النحر کو کنکریاں ماریں پھر یوم نحر کے بعد وہ دو دن کی رمی کو جمع کر لیں اور ایک دن میں ہی کنکریاں مار لیں ۔ مالک ، ترمذی نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و النسائی ۔