Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 10 · Chapter 109

افعال حج کا بیان

بَاب جَامع الدُّعَاء

جامع دعاؤں کا بیان

30 hadiths in this chapter

2482

Mishkat al-Masabih #2482

Sahih

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي وَخَطَئِي وَعَمْدِي وكلُّ ذلكَ عِنْدِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أعلنت وَمَا أَنْت بِهِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنت على كل شَيْء قدير»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوموسیٰ اشعری ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میری خطائیں ، میری جہالت ، اور تمام امور میں جو مجھ سے زیادتی ہوئی جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ، معاف فرما دے ، اے اللہ ! میں نے جو دانستہ کیا جو بھول چوک سے ہوا اور جو کچھ عمداً کیا یہ سب کچھ مجھ میں ہے تو اسے معاف کر دے ، اے اللہ ! میں نے جو آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا ، میں نے جو علانیہ کیا اور جو چھپ کر کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے سب معاف کر دے ، تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2483

Mishkat al-Masabih #2483

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میرے دین کی اصلاح فرما جو کہ میرے تمام معاملات کا محافظ ہے ، میری دنیا کی اصلاح فرما جس میں میری معاش ہے ، میری آخرت کی اصلاح فرما جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے ، زندگی کو ہر قسم کی خیر و بھلائی میں اضافہ کا باعث بنا اور موت کو ہر قسم کے شر سے راحت کا باعث بنا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2484

Mishkat al-Masabih #2484

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت ، تقوی اور عفت اور تونگری کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2485

Mishkat al-Masabih #2485

Sahih

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وبالسداد سداد السهْم» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کہو ، اے اللہ ! میری راہنمائی فرما ، مجھے درست رکھ اور (اے علی ؓ) راہنمائی سے راہ ہدایت پہ چلنے کا تصور اور درست ہونے سے تیر کا سا درست ہونا تصور میں رکھ ۔ رواہ مسلم ۔

2486

Mishkat al-Masabih #2486

Sahih

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ الرجل إِذا أسلم علمه النَّبِي صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ایک آدمی تھا جب اس نے اسلام قبول کیا تو نبی ﷺ نے اسے نماز سکھائی ، پھر اسے ان کلمات کے ذریعے دعا کرنے کا حکم فرمایا :’’ اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے عافیت میں رکھ اور مجھے رزق عطا فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2487

Mishkat al-Masabih #2487

Sahih

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وقنا عَذَاب النَّار»

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی اکثر یہ دعا ہوا کرتی تھی ’’ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما ، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2488

Mishkat al-Masabih #2488

Sahih

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ ربِّ اجعَلني لكَ شَاكِرًا لَكَ ذَاكِرًا لَكَ رَاهِبًا لَكَ مِطْوَاعًا لَكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاهْدِ قَلْبِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے میرے رب ! میری اعانت فرما اور میرے خلاف (میرے دشمنوں کی) اعانت نہ فرما ، میری نصرت فرما اور میرے خلاف نصرت نہ فرما ، میرے لئے تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر نہ فرما ، مجھے ہدایت نصیب فرما اور میرے لئے ہدایت آسان فرما دے ، جو شخص مجھ پر ظلم و سرکشی کرے اس کے خلاف میری نصرت فرما ، اے میرے رب ! مجھے اپنا شکر گزار ، تیرا ذکر کرنے والا ، تجھ سے ڈرنے والا ، تیرا انتہائی اطاعت گزار ، تیری عاجزی اختیار کرنے والا اور تیری طرف بہت زیادہ تضرع کرنے والا ، رجوع کرنے والا بنا ، اے میرے رب ! میری توبہ قبول فرما ، میرے گناہ معاف فرما ، میری دعا قبول فرما ، میری حجت و دلیل ثابت فرما ، میری زبان کو درست فرما ، میرے دل کی راہنمائی فرما ، اور میرے سینے کا کینہ دور فرما ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

2489

Mishkat al-Masabih #2489

Sahih

وَعَن أبي بكرٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ بَكَى فَقَالَ: «سَلُوا اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُعْطَ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے پھر رونے لگے اور فرمایا :’’ اللہ سے معافی اور عافیت کا سوال کرو ، کیونکہ کسی کو دولت ایمان نصیب ہو جانے کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے اور اور اس کی سند غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

2490

Mishkat al-Masabih #2490

Zaeef

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: «فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات (باہم درگزر کرنا) مانگو ، پھر وہ دوسرے روز حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سی دعا افضل ہے ؟ تو آپ ﷺ نے اسی طرح فرمایا ، پھر تیسرے روز آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اسے پھر ویسے ہی فرمایا ، اور فرمایا :’’ جب تجھے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات مل گئی تو تُو کامیاب ہو گیا ۔‘‘ ترمذی ۔ ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے اور اس کی سند غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

2491

Mishkat al-Masabih #2491

Zaeef

وَعَن عبد الله يزِيد الخطمي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ اللَّهُمَّ مَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أحب فاجعله فراغا ي فِيمَا تحب» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن یزید خطمی ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ اپنی دعا میں کہا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! مجھے اپنی اور اس چیز کی محبت عطا فرما جس کی محبت مجھے تیرے ہاں فائدہ پہنچائے ، اے اللہ تو جو میری پسندیدہ چیز مجھے عطا فرمائے تو اسے میرے لئے ایسی چیز کی تقویت کا باعث بنا جسے تو پسند کرتا ہے ، اے اللہ ! تو میری جس پسندیدہ چیز کو مجھ سے روک لے تو اس کو میرے اس کام کے لئے باعث فراغت بنا جسے تو پسند کرتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

2492

Mishkat al-Masabih #2492

Zaeef

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ لِأَصْحَابِهِ: «اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيْبَاتِ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ اکثر اوقات کسی مجلس سے اٹھنے سے پہلے ان کلمات کے ذریعے اپنے صحابہ کے لئے دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! ہمیں اپنی خشیت سے ایسا حصہ عطا فرما جو ہمارے اور تیری معاصی و نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے ، اور اپنی اطاعت سے ایسا حصہ عطا فرما جس کے ذریعے تو ہمیں اپنی جنت میں پہنچا دے ، اور یقین سے ایسا حصہ نصیب فرما جو دنیا کے مصائب ہم پر آسان کر دے ، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ، ہمارے کانوں ، ہماری آنکھوں اور ہماری قوت سے بہرہ مند فرما ، اور ان (مذکورہ چیزوں) کو باقی رکھنا ، جو شخص ہم پر ظلم کرے اس پر ہمارا غضب نازل فرما ، ہمارے دین (میں کمی) کے بارے میں ہم پر کوئی مصیبت نازل نہ فرما ، دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد بنا نہ ہمارے علم کی غایت و انتہا بنا ، اور ہم پر کسی ایسے کو مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کرے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

2493

Mishkat al-Masabih #2493

Zaeef

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي وَزِدْنِي عِلْمًا الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ ! تو نے مجھے جو علم عطا کیا اس سے مجھے فائدہ پہنچا ، اور مجھے ایسا علم عطا فرما جو مجھے فائدہ پہنچائے اور میرے علم میں اضافہ فرما ، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے اور میں جہنمیوں کے حال سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث سنداً غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

2494

Mishkat al-Masabih #2494

Zaeef

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ سُمِعَ عِنْدَ وَجْهِهِ دوِي كَدَوِيِّ النَّحْل فأنل عَلَيْهِ يَوْمًا فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَسُرِّيَ عَنْهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا» . ثُمَّ قَالَ: «أُنْزِلَ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ» ثُمَّ قَرَأَ: (قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ)\nحَتَّى خَتَمَ عَشْرَ آيَاتٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ\n

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ کے چہرے کے پاس شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی ، ایک روز آپ پر وحی نازل ہوئی تو ہم نے تھوڑی دیر انتظار کیا ، آپ سے وہ کیفیت جاتی رہی تو آپ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھائے اور یوں دعا کی :’’ اے اللہ ! ہمیں زیادہ کر ، کم نہ کر ، ہمیں عزت عطا کرنا ، ذلیل نہ کرنا ، ہمیں عطا کرنا ، محروم نہ رکھنا ، ہمیں ترجیح دینا اور ہمارے خلاف کسی کو ترجیح نہ دینا ، ہمیں راضی کر اور ہم سے راضی ہو جا ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں ، جو ان کی حفاظت و خیال کرے گا جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ پھر آپ نے (قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ) سے دس آیات تلاوت فرمائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔

2495

Mishkat al-Masabih #2495

Sahih

عَن عثمانَ بنِ حُنَيفٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» . قَالَ: فَادْعُهُ قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ الْوُضُوءَ وَيَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي لِيَقْضِيَ لِي فِي حَاجَتِي هَذِهِ اللهُمَّ فشفّعْه فيَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب

اردو ترجمہ · Urdu

عثمان بن حنیف ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک نابینا شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت عطا فرمائے ، آپ ﷺ نے فرمایا ’’ اگر تم چاہو تو میں دعا کرتا ہوں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، آپ اللہ سے دعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ خوب اچھی طرح وضو کرے اور ان الفاظ کے ساتھ دعا کرے :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی ، نبی رحمت محمد ﷺ کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، بے شک میں نے آپ ﷺ کے ذریعے اپنے رب کی طرف توجہ کی تاکہ میری اس حاجت کے بارے میں میرے حق میں فیصلہ کیا جائے ، اے اللہ ! میرے بارے میں آپ ﷺ کی شفاعت قبول فرما ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

2496

Mishkat al-Masabih #2496

Sahih

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمَالِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ» . قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ يُحَدِّثُ عَنْهُ يَقُولُ: «كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

اردو ترجمہ · Urdu

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ داؤد ؑ کی یہ دعا تھی :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت کا ، اس شخص کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور اس عمل کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے ، اے اللہ ! تو اپنی محبت ، مجھے میری جان ، میرے اہل و عیال ، مال اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔‘‘ ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں، جب آپ ﷺ داؤد ؑ کا ذکر کرتے تو ان کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے :’’ وہ تمام انسانوں سے زیادہ عبادت گزار تھے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

2497

Mishkat al-Masabih #2497

Sahih

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَقَدْ خَفَّفْتَ وَأَوْجَزْتَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَمَا عَلَيَّ ذَلِكَ لَقَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ تَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ هُوَ أَبِي غَيْرَ أَنَّهُ كَنَّى عَنْ نَفْسِهِ فَسَأَلَهُ عَنِ الدُّعَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَأَخْبَرَ بِهِ الْقَوْمَ: «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وقُدرتِكَ على الخَلقِ أَحْيني مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَى وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَى بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقِ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زِيِّنَا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

عطا بن سائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : عمار بن یاسر ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس میں اختصار کیا تو کچھ لوگوں نے انہیں کہا : آپ نے نماز میں تخفیف اور اختصار کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑا ، میں نے اس میں کچھ دعائیں کی ہیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھیں ، جب وہ (جانے کے لئے) کھڑے ہوئے تو ان لوگوں میں سے ایک آدمی ، وہ میرے والد ہی تھے لیکن انہوں نے اپنا نام چھپائے رکھا ، ان کے پیچھے پیچھے گیا اور ان سے دعا کے متعلق دریافت کیا ، پھر واپس آ کر اسے لوگوں کو بتایا :’’ اے اللہ ! اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے ذریعے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک میرا زندہ رہنا تیرے علم کے مطابق میرے لئے بہتر ہو ۔ اور جب تو سمجھے کہ میرا فوت ہونا میرے لئے بہتر ہے تو مجھے فوت کر دینا ، اے اللہ ! میں غیب و حاضر میں تجھ سے کلمہ حق کا سوال کرتا ہوں ، میں فقر و غنی میں تجھ سے میانہ روی کا سوال کرتا ہوں ، میں ختم نہ ہونے والی نعمتوں کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں منقطع نہ ہونے والی آنکھوں کی ٹھنڈک کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں قضا کے بعد رضا کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں موت کے بعد خوشگوار زندگی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں کسی شدید تکلیف اور گمراہ کن فتنے کے بغیر تیری ملاقات کے شوق اور تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! زینت ایمان سے ہمیں مزین فرما اور ہمیں ہدایت پر ثابت رہنے والے ہادی بنا ۔‘‘ حسن ، رواہ النسائی ۔

2498

Mishkat al-Masabih #2498

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعوات الْكَبِير

اردو ترجمہ · Urdu

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فجر کی نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے نفع بخش علم ، مقبول عمل اور حلال رزق کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابن ماجہ و البیھقی ۔

2499

Mishkat al-Masabih #2499

Sahih

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: دُعَاءٌ حَفِظْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتَّبِعُ نُصْحَكَ وَأَحْفَظُ وصيتك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک دعا یاد کی جسے میں چھوڑتا نہیں :’’ اے اللہ ! مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرا بہت زیادہ شکر کروں ، تیرا بہت زیادہ ذکر کروں ، تیری نصیحت کی بہت اتباع کروں اور تیرے احکام کو بہت زیادہ یاد کروں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

2500

Mishkat al-Masabih #2500

Zaeef

وَعَن عبدِ الله بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ والأمانةَ وحُسنَ الْخلق والرضى بِالْقدرِ»

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے صحت ، عفت ، امانت ، حسن اخلاق اور تقدیر پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی ۔

2501

Mishkat al-Masabih #2501

Zaeef

وَعَن أُمِّ مَعْبدٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

اردو ترجمہ · Urdu

ام معبد ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے ، میرے عمل کو ریا سے ، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے پاک کر دے ، کیونکہ تو خیانت کرنے والی آنکھوں کو جانتا ہے اور جو کچھ سینے (دل) چھپاتے ہیں (تو اسے بھی جانتا ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں الدعوات الکبیر میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی ۔

2502

Mishkat al-Masabih #2502

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كُنْتَ تَدْعُو اللَّهَ بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟» . قَالَ: نَعَمْ كُنْتُ أَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ وَلَا تَسْتَطِيعُهُ أَفَلَا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ . قَالَ: فَدَعَا الله بِهِ فشفاه الله. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان شخص کی عیادت کی ، وہ پرندے کے بچے کی طرح کمزور ہو چکا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے (اس کی یہ حالت دیکھ کر) اسے فرمایا :’’ کیا تم اللہ سے کوئی دعا یا کسی خاص چیز کا سوال کرتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، میں کہا کرتا تھا : اے اللہ ! تو نے جو مجھے آخرت میں سزا دینی ہے وہ تو مجھے دنیا میں دے لے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! تم (دنیا میں) اس کی طاقت رکھتے ہو نہ تم (آخرت میں) اس کی استطاعت رکھتے ہو ، تم نے ایسے کیوں نہ کہا : اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما ، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اس شخص نے ان کلمات کے ذریعے دعا کی تو اللہ نے اسے شفا عطا کر دی ۔ رواہ مسلم ۔

2503

Mishkat al-Masabih #2503

Zaeef

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ» . قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: «يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب

اردو ترجمہ · Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : وہ اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسے مصائب کو (دعا یا اعمال کے ذریعے) دعوت دیتا ہے ۔ جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و البیھقی ۔

2504

Mishkat al-Masabih #2504

Zaeef

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي خَيْرًا مِنْ عَلَانِيَتِي وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِي صَالِحَةً اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِي النَّاسَ مِنَ الْأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ غَيْرِ الضَّالِّ وَلَا الْمُضِلِّ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مجھے دعا سکھائی تو فرمایا : کہو :’’ اے اللہ ! میرا باطن ، میرے ظاہر سے بہتر کر دے اور میرے ظاہر کو صالح بنا دے ، اے اللہ ! تو نے جو لوگوں کو اہل و مال اور اولاد دے رکھی ہے مجھے اس سے صالح عطا فرما ، جو خود گمراہ ہوں نہ گمراہ کن ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

2505

Mishkat al-Masabih #2505

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا» فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْء فدَعُوه . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا :’’ لوگو ! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے لہذا تم حج کرو ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے ، حتیٰ کہ اس نے تین مرتبہ کہا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (پھر ہر سال) واجب ہو جاتا ، اور تم استطاعت نہ رکھتے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ جب تک میں تمہیں کوئی مسئلہ نہ بتاؤں تو مجھے چھوڑے رکھو ، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیا سے زیادہ سوال کرنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ، جب میں کسی چیز کے بارے میں تمہیں حکم دوں تو مقدور بھر اس پر عمل کرو اور جب میں کسی چیز سے تمہیں منع کروں تو اسے چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2506

Mishkat al-Masabih #2506

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ» قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مبرورٌ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا ، کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، پھر کون سا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، پھر کون سا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حج مقبول ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2507

Mishkat al-Masabih #2507

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أمه»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے لئے حج کرے ، پھر وہ گناہ کا کام کرے نہ فحش گوئی کرے تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) اس روز کی طرح لوٹتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2508

Mishkat al-Masabih #2508

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزاءٌ إِلا الجنَّةُ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمرہ دوسرے عمرہ تک کے درمیانی وقفہ میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے ، اور حج مقبول کی جزا جنت ہی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2509

Mishkat al-Masabih #2509

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن عمْرَة فِي رَمَضَان تعدل حجَّة»

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رمضان میں عمرہ کرنا (ثواب کے لحاظ سے) حج کے برابر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

2510

Mishkat al-Masabih #2510

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «رَسُولُ اللَّهِ» فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَلَكِ أَجَرٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ روحاء کے مقام پر ایک قافلے سے ملے تو آپ نے پوچھا :’’ کون ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، مسلمان ۔ پھر انہوں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا رسول ۔‘‘ ایک عورت نے ایک بچہ اٹھا کر عرض کیا : کیا اس کا حج ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اور تمہارے لئے اس کا اجر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

2511

Mishkat al-Masabih #2511

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ: يَا رَسُول الله إِن فَرِيضَة الله عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نعم» ذَلِك حجَّة الْوَدَاع

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بندوں پر جو حج کا فریضہ ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو اس حال میں پایا کہ وہ سواری پر صحیح طرح بیٹھ نہیں سکتے ، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اور یہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا ۔ متفق علیہ ۔