Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 5 · Chapter 1

Book of the Two Eids

Hadith 3200–3239

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3200

Majma al-Zawaid #3200

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «زَيِّنُوا أَعْيَادَكُمْ بِالتَّكْبِيرِ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ: لَا بَأْسَ بِهِ

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ commanded the beautification of the festivals through the remembrance of Allah's greatness. > **"Beautify your ʿĪds with Takbīr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اپنی عیدوں کو تکبیر کے ذریعے آراستہ کرو ! “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ‘ جسے امام احمد یحیی بن معین اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے عجلی بیان کرتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

3201

Majma al-Zawaid #3201

وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ أَبْرَهَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَبَّرَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مِنًى يُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ قَالَ الشَّاذَكُونِيُّ: عَلَى هَذَا تَكْبِيرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَرْقِيُّ بْنُ قُطَامِيٍّ ضَعَّفَهُ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ

EnglishUnverified translation

Shurayḥ ibn Abrahah reports having seen the Messenger of Allah ﷺ uttering the Takbīr during the Days of Tashrīq, beginning from Ẓuhr prayer on the Day of Sacrifice and continuing after every prescribed prayer until his departure from Minā, a practice which the people of Madīnah likewise observed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شریح بن ابرہہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ‘ آپ ﷺ ایام تشریق میں قربانی کے دن ‘ نماز ظہر سے لے کر منی سے نکلنے تک ‘ ہر فرض نماز کے بعد تکبیر کہا کرتے تھے ۔ شاذکونی بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ کا تکبیر کہنے کا طریقہ بھی یہی ہے ۔ امام طبرانی نے یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شرقی بن قطامی ہے ‘ جسے ذکریا ساجی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ ابن عدی نے اس کا ذکر کتاب ’’ الکامل ‘‘ میں کیا ہے ۔

3202

Majma al-Zawaid #3202

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ [مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه is reported to have maintained the Takbīr beginning from the Fajr prayer on the Day of ʿArafah until ʿAṣr prayer on the Day of Sacrifice.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ عرفہ کے دن ‘ صبح کی نماز سے لے کر ‘ قربانی کے دن عصر کی نماز تک تکبیر کہا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3203

Majma al-Zawaid #3203

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ "" مَنْ أَحْيَا لَيْلَةَ الْفِطْرِ وَلَيْلَةَ الْأَضْحَى لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ابْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، وَلَكِنْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه narrates from the Messenger of Allah ﷺ concerning the reward of worship on the nights preceding the two festivals. > **"Whoever keeps alive the night of Fiṭr and the night of Aḍḥā, his heart will not die on the day when hearts die."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص عیدالفطر کی رات اور عیدالاضحیٰ کی رات عبادت کرتا ہے ‘ اس کا دل اُس دن نہیں مرے گا جب دل مر جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے ‘ جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔ ابن مہدی اور دیگر حضرات نے اس کی تعریف کی ہے ‘ تاہم ایک بڑی جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

3204

Majma al-Zawaid #3204

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اغْتَسَلَ لِلْعِيدَيْنِ» رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَمِنْدَلٌ فِيهِ كَلَامٌ، وَمُحَمَّدٌ هَذَا وَمَنْ فَوْقَهُ لَا أَعْرِفُهُمْ

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿUbaydillāh narrates from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ used to perform ritual bathing for the two ʿĪds.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبیداللہ ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عیدین کے لئے غسل کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ مندل نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور محمد نامی یہ راوی اور اس سے اوپر کے راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔

3205

Majma al-Zawaid #3205

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَغَدَا بِغُسْلٍ إِلَى الْمُصَلَّى وَخَتَمَهُ بِصَدَقَةٍ رَجَعَ مَغْفُورًا لَهُ» "" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ described the forgiveness granted to one who fasts, bathes, attends the prayer ground, and seals the deed with charity. > **"Whoever fasts Ramaḍān, and proceeds in the morning with ghusl to the muṣallā, and seals it with charity, returns forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور پھر ( عید کے دن ) غسل کرنے کے بعد عید گاہ کی طرف جائے اور صدقہ ( یعنی صدقہ فطر ) کے ذریعے اس پر مہر لگا دے تو جب وہ واپس آتا ہے ‘ تو اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3206

Majma al-Zawaid #3206

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ وَنَشْرَبُ وَنَغْتَسِلُ ثُمَّ نَخْرُجُ إِلَى الْمُصَلَّى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports the practice of his people on ʿĪd al-Fiṭr of taking food and drink and performing ghusl before setting out for the prayer ground.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ( عیدالفطر کے دن ) کھایا اور پیا کرتے تھے ‘ غسل کرتے تھے ‘ اور پھر عیدگاہ کی طرف جانے کے لئے نکلتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مکی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3207

Majma al-Zawaid #3207

قَالَ هُشَيْمٌ: قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ: هَلْ مِنْ غُسْلٍ غَيْرُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ؛ يَوْمَ عَرَفَةَ عِيدٌ، وَيَوْمُ فِطَرٍ وَيَوْمَ أَضْحَى، وَيَوْمَ عَرَفَةَ وَيَوْمَ جُمُعَةٍ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَهُشَيْمٌ وَيَزِيدُ كِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ

EnglishUnverified translation

Hushaym asked Yazīd ibn Abī Ziyād whether bathing is prescribed on days other than Friday, and he replied affirming it for the day of ʿArafah, which is a day of ʿĪd, the day of Fiṭr, the day of Aḍḥā, the day of ʿArafah, and the day of Friday.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشیم بیان کرتے ہیں : میں نے یزید بن ابوزیاد سے کہا : کیا جمعہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن غسل کیا جائے گا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! عرفہ کا دن عید کا دن ہے ، عیدالفطر کے دن عیدالاضحی کے دن ‘ عرفہ کے دن اور جمعہ کے دن ( غسل کیا جائے گا ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ ہشیم اور یزید ‘ یہ دونوں ” صحیح “ کے راویوں میں سے ہیں ۔

3208

Majma al-Zawaid #3208

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْبَسُ يَوْمَ الْعِيدِ بُرْدَةً حَمْرَاءَ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrates that the Messenger of Allah ﷺ used to wear a red outer cloak on the day of ʿĪd.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عید کے دن سرخ چادر پہنا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3209

Majma al-Zawaid #3209

عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ وَأَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَاءَ فَقُلْتُ: عَلَى مَا تَأَوَّلَ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيَقُولُونَ: نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا» " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAṭāʾ reports that he heard Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما enjoining that none should go out on the day of Fiṭr without first eating, a counsel ʿAṭāʾ thereafter always observed even with a morsel of thin bread and a drink of milk or water, understanding from the Prophet ﷺ that the people would delay going out until mid-morning lest haste disturb their prayer. > **"If you are able that none of you goes out on the day of Fiṭr until he eats, then let him do so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر تم سے ہو سکے ‘ تو تم عیدالفطر کے دن کچھ کھانے سے پہلے ( نماز عید کی ادائیگی کے لیے ) نہ نکلنا ‘ عطاء فرماتے ہیں : جب سے میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی زبانی یہ بات سنی ہے ‘ میں نکلنے سے پہلے ضرور کچھ کھا لیتا ہوں ، یہاں تک کہ میں باریک روٹی کا کنارہ کھا لیتا ہوں ‘ دودھ ‘ یا پانی پی لیتا ہوں ، میں نے دریافت کیا : اُن کا اس کے ذریعے مقصد کیا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا : میرا خیال ہے کہ میں نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا ہے : وہ بیان کرتے ہیں :’’ وہ لوگ اس وقت تک نہیں نکلتے تھے ‘ جب تک دن چڑھ نہیں جاتا تھا اور وہ لوگ یہ کہتے تھے : ہم کچھ کھا لیتے ہیں ‘ تاکہ ہمیں اپنی نماز کے دوران کوئی پریشانی نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے ۔

3210

Majma al-Zawaid #3210

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ» رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ وَيَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ» وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ الْوَاقِدِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَفِيمَا قَبْلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ would eat on the day of Fiṭr before going out in the morning, and would command the people to do the same. > **"The Messenger of Allah ﷺ would eat on the day of Fiṭr before going out in the morning, and he would command the people to do that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عیدالفطر کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ‘ امام احمد ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اُن کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ عیدالفطر کے دن ( نماز کے لئے ) جانے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے ‘ اور لوگوں کو بھی اس بات کا حکم دیتے تھے ‘‘۔ امام طبرانی کی سند میں ‘ ایک راوی واقدی ہے ‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس سے پہلے عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ‘ اس کے بارے میں بھی کلام کیا گیا ہے ‘ ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے ۔

3211

Majma al-Zawaid #3211

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَطْعَمَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ وَلَوْ بِتَمْرَةٍ» رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا تَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى تُخْرِجَ الصَّدَقَةَ وَتَطْعَمَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما states that it is from the Sunnah to eat something before going out for ʿĪd, and in another wording not to go out on the day of Fiṭr until giving Ṣadaqah and eating something beforehand. > **"It is from the Sunnah that you eat before you go out, even if only a date."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ تم ( نماز عید کی ادائیگی کے لیے ) نکلنے سے پہلے کچھ کھا لو ‘ خواہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اُن کے الفاظ یہ ہیں : ’’ سنت یہ ہے کہ تم عیدالفطر کے دن ‘ اُس وقت تک نہ نکلو ‘ جب تک تم صدقہ فطر ادا نہیں کر دیتے اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا نہیں لیتے ‘‘۔ امام طبرانی کی سند حسن ہے ‘ اور امام بزار کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

3212

Majma al-Zawaid #3212

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ أَكَلَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ أَضْحَى لَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا» رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَائِكُ مَتْرُوكٌ

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Samurah رضي الله عنه narrates that the Prophet ﷺ would eat seven dates before going out on the day of Fiṭr, while on the day of Aḍḥā he would taste nothing beforehand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیدالفطر کے دن نبی اکرم ﷺ ( نماز کے لئے ) جانے سے پہلے سات کھجوریں کھایا کرتے تھے ‘ لیکن عیدالاضحی کے دن آپ ( نماز سے پہلے ) کچھ نہیں کھاتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ ناصح بن عبداللہ حائک ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3213

Majma al-Zawaid #3213

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه narrates that the Prophet ﷺ would eat on the day of Fiṭr before going out to the muṣallā.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عیدالفطر کے دن ‘ عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ‘ اور وہ انتہائی ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3214

Majma al-Zawaid #3214

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ، وَكَانَ لَا يَطْعَمُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ فَيَأْكُلَ مِنْ ذَبِيحَتِهِ» قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَلَا قَوْلَهُ: "فَيَأْكُلَ مِنْ ذَبِيحَتِهِ" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَحْمَدُ وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرِّفَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ would not go out on the day of Fiṭr until he had eaten, whereas on the Day of Sacrifice he would eat nothing until his return, when he would eat from his sacrificial animal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عیدالفطر کے دن اس وقت تک نہیں نکلتے تھے ‘ جب تک کچھ کھا نہیں لیتے تھے ‘ البتہ قربانی کے دن ‘ آپ ﷺ واپس تشریف لانے سے پہلے کچھ نہیں کھاتے تھے ‘ اور ( نماز پڑھ کر آنے کے بعد ) ذبیحہ کا گوشت کھاتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نہیں کیے ہیں : ’’ آپ ذبیحہ کا گوشت کھاتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور امام احمد نے بھی نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ رفاعی ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3215

Majma al-Zawaid #3215

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ وَمَعَهُ حَرْبَةٌ وَتُرْسٌ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو كُرْزٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrates that the Prophet ﷺ would go out to ʿĪd accompanied by a spear and a shield.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عید کے لئے تشریف لے جاتے تھے ‘ تو آپ ﷺ کے ساتھ نیزہ اور ڈھال ہوتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوکرز ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3216

Majma al-Zawaid #3216

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْقَرَظِ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْعِيدَيْنِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ» قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ: كَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْحَرْبِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْجُمُعَةِ حَدِيثٌ آخَرُ لَهُ مِنَ الْكَبِيرِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn ʿAmmār al-Qaraẓ, the muʾadhdhin of the Messenger of Allah ﷺ, narrates that when the Prophet ﷺ delivered the khuṭbah on the two ʿĪds he would lean upon a bow.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن عمار القرظ رضی اللہ عنہ ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے مؤذن ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : عیدین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ جب خطبہ دیتے تھے تو آپ ﷺ کمان کو پکڑ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے یہ روایت نقل کی ہے : ’’ جب آپ ﷺ جنگ کے موقع پر خطبہ دیتے تھے ‘ تو کمان ہاتھ میں پکڑ کر خطبہ دیتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس سے پہلے جمعہ سے متعلق باب میں ایک اور حدیث گزر چکی ہے ‘ جو ان صحابی کے حوالے سے منقول ہے ‘ اور معجم کبیر میں نقل ہوئی ہے ‘ یہ دونوں روایات ضعیف ہیں ۔

3217

Majma al-Zawaid #3217

عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ فِي الْعِيدِ وَيُخْرِجُ أَهْلَهُ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ would go out on ʿĪd and would bring his family with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عید کے دن تشریف لے جاتے تھے ‘ اور اپنے اہل خانہ کو بھی لے جاتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3218

Majma al-Zawaid #3218

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَدْ كَانَتْ تَخْرُجُ الْكَعَابُ مِنْ خُدُورِهِنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعِيدَيْنِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrates that in the time of the Messenger of Allah ﷺ, young maidens would come out from behind their curtains for the two ʿĪds.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ، عیدین کے موقع پر پردہ دار لڑکیاں بھی ( نماز کی ادائیگی کے لئے ) نکلتی تھیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3219

Majma al-Zawaid #3219

وَعَنْ أَخْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: " «وَجَبَ الْخُرُوجُ عَلَى كُلِّ ذَاتِ نِطَاقٍ» " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ: " يَعْنِي: فِي الْعِيدَيْنِ " وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ امْرَأَةٌ تَابِعِيَّةٌ لَمْ يُذْكَرِ اسْمُهَا

EnglishUnverified translation

The sister of ʿAbdullāh ibn Rawāḥah narrates from the Messenger of Allah ﷺ that going out was made binding upon every grown maiden, meaning for the two ʿĪds. > **"Going out is obligatory upon every woman of mature age."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی بہن ، نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر بڑی عمر کی لڑکی پر نکلنا لازم ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ عیدین کے موقع پر ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک تابعی خاتون ہے ، جن کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔

3220

Majma al-Zawaid #3220

وَعَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَتْ: «سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلْ تَخْرُجُ النِّسَاءُ فِي الْعِيدِ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قِيلَ: فَالْعَوَاتِقُ؟ قَالَ: " نَعَمْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا ثَوْبٌ تَلْبَسُهُ فَلْتَلْبَسْ ثَوْبَ صَاحِبَتِهَا» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَهُ حَدِيثَانِ غَيْرُ مَحْفُوظَيْنِ، وَقَالَ ابْنُ الْمَدِينِي: ثِقَةٌ

EnglishUnverified translation

Umm al-Muʾminīn ʿĀʾishah رضي الله عنها narrates that she asked the Prophet ﷺ whether women should go out on ʿĪd, and he affirmed it even for maidens, directing one without a garment to wear her companion's garment. > **"Yes. Yes. If she has no garment to wear, let her wear the garment of her companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا عید کے موقع پر خواتین بھی نکلیں گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! عرض کی گئی ‘ لڑکیاں بھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اگر کسی عورت کے پاس لباس ( یعنی سر پر اوڑھنے کے لیے چادر نہ ہو ) جسے وہ پہن سکتی ہو ‘ تو پھر وہ اپنی ساتھی عورت کی چادر لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مطیع بن میمون ہے ‘ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے دو حدیثیں منقول ہیں ‘ اور وہ دونوں محفوظ نہیں ہیں ، علی بن مدینی کہتے ہیں : وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ۔

3221

Majma al-Zawaid #3221

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَيْسَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ فِي الْخُرُوجِ إِلَّا مُضْطَرَّةً [يَعْنِي] لَيْسَ لَهَا خَادِمٌ، إِلَّا فِي الْعِيدَيْنِ الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ، وَلَيْسَ لَهُمْ نَصِيبٌ فِي الطَّرِيقِ إِلَّا الْحَوَاشِي» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrates that the Messenger of Allah ﷺ restricted the going out of women except under necessity, such as having no servant, apart from the two ʿĪds of Aḍḥā and Fiṭr, and restricted their share of the road to its edges. > **"Women have no share in going out except under compulsion, meaning one who has no servant, except for the two ʿĪds, al-Aḍḥā and al-Fiṭr; and they have no share of the road except its sides."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ خواتین کے لئے نکلنے میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ البتہ اگر وہ مجبور ہو تو معاملہ مختلف ہے ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر عورت کا خادم نہ ہو ‘ تو البتہ عیدالاضحی اور عیدالفطر دونوں عیدوں کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور مردوں کو راستے میں ‘ صرف کنارے کا حق ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

3222

Majma al-Zawaid #3222

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عِيدٍ فَقَالَ: " ادْعُوا لِي سَيِّدَ الْأَنْصَارِ " فَدَعَوْا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَالَ: " يَا أُبَيُّ ائْتِ الْمُصَلَّى فَأْمُرْ بِكَنْسِهِ وَأْمُرِ النَّاسَ فَلْيَخْرُجُوا " فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ رَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالنِّسَاءُ؟ فَقَالَ: " وَالْعَوَاتِقُ وَالْحُيِّضُ يَكُنَّ فِي النَّاسِ يَشْهَدْنَ الدَّعْوَةَ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَزِيدُ [بْنُ شَدَّادٍ] الْهَنَّائِيُّ مَجْهُولٌ وَكَذَلِكَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَجْهُولٌ

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn ʿAbdillāh ibn ʿAmr narrates from his father, from his grandfather, that on a day of ʿĪd, while in the presence of the Messenger of Allah ﷺ, the Prophet ﷺ sent for the chief of the Anṣār, Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه, instructing him to proceed to the muṣallā, order its sweeping, and command the people to come out; and when asked about women, he included maidens and menstruating women among those present for the supplication. > **"Call for me the chief of the Anṣār. O Ubayy, go to the muṣallā, order it to be swept, and order the people to come out."** > **"The maidens and the menstruating women shall be among the people, witnessing the supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ‘ میرے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس عید کے دن موجود تھا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : انصار کے سردار کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! لوگوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بلایا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابی ! تم عیدگاہ جاؤ اور وہاں جھاڑو دینے کا حکم دو ‘ اور لوگوں کو ہدایت کرو کہ وہ نکلیں ‘ جب وہ دروازے تک پہنچے ‘ تو واپس آ گئے اور بولے : یا رسول اللہ ! کیا خواتین بھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جوان لڑکیاں اور حیض والی خواتین بھی لوگوں کے ساتھ ہوں گی ‘ اور وہ دعا میں شریک ہوں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن شداد ہنائی ہے ‘ جو مجہول ہے ‘ اسی طرح عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بن العاص نامی راوی بھی مجہول ہے ۔

3223

Majma al-Zawaid #3223

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا وَيَرْجِعُ فِي طَرِيقٍ غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي خَرَجَ فِيهِ» رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه narrates that the Prophet ﷺ would go out to ʿĪd on foot and would return by a route different from that by which he had gone.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عید کے لئے پیدل تشریف لے جاتے تھے ‘ اور واپس آتے ہوئے دوسرے راستے سے آتے تھے ‘ جو اس راستے سے مختلف ہوتا تھا ، جس سے آپ تشریف لے گئے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3224

Majma al-Zawaid #3224

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي الْعِيدَ يَذْهَبُ فِي طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ يَأْتِي

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Ḥāṭib reports having seen the Prophet ﷺ come to ʿĪd by one road and return by another.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ ( عید گاہ ) کے لئے تشریف لے گئے ‘ آپ تشریف ایک راستے سے لے کر گئے تھے ‘ اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لائے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ‘ اور وہ متروک ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔

3225

Majma al-Zawaid #3225

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِ الْفِطْرِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الطَّرِيقِ فَنَادَوُا: اغْدُوا يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَبٍّ كَرِيمٍ يَمُنُّ بِالْخَيْرِ ثُمَّ يُثِيبُ عَلَيْهِ الْجَزِيلَ، لَقَدْ أُمِرْتُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَقُمْتُمْ، وَأُمِرْتُمْ بِصِيَامِ النَّهَارِ فَصُمْتُمْ وَأَطَعْتُمْ رَبَّكُمْ فَاقْبِضُوا جَوَائِزَكُمْ، فَإِذَا صَلَّوْا نَادَى مُنَادٍ: أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ فَارْجِعُوا رَاشِدِينَ إِلَى رِحَالِكُمْ، فَهُوَ يَوْمُ الْجَائِزَةِ وَيُسَمَّى ذَلِكَ الْيَوْمُ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ الْجَائِزَةِ " - وَفِي رِوَايَةٍ: " رَبٍّ رَحِيمٍ " بَدَلَ " رَبٍّ كَرِيمٍ " - فَقَالَ: " قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ كُلَّهَا» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَرَوَى عَنْهُ هُوَ وَشُعْبَةُ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Aws al-Anṣārī narrates from his father that the Messenger of Allah ﷺ described the angels standing at the entrances of the roads on the day of ʿĪd al-Fiṭr, calling the Muslims to a Generous Lord who bestows good and rewards it abundantly, reminding them of their night prayer, fasting, and obedience, and announcing forgiveness after the prayer, for which reason it is called the Day of Reward in the heavens. > **"When it is the day of ʿĪd al-Fiṭr, the angels stand at the entrances of the roads and call out: Proceed, O company of Muslims, to a Generous Lord who bestows good and then rewards it abundantly. You were commanded to stand at night and you stood; you were commanded to fast the day and you fasted, and you obeyed your Lord, so receive your rewards. Then when they have prayed, a caller announces: Indeed your Lord has forgiven you, so return rightly guided to your dwellings. It is the Day of Reward, and that day is named in heaven the Day of Reward. I have forgiven all your sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن اوس انصاری ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے ‘ تو فرشتے راستوں میں ٹھہر جاتے ہیں اور وہ بلند آواز میں پکار کر کہتے ہیں : اے مسلمانوں کے گروہ ! اپنے معزز پروردگار کی طرف جاؤ ! جو بھلائی کا احسان کر رہا ہے ‘ اور اس کی جزا عطا کرے گا ، تمہیں رات کے وقت نوافل ادا کرنے کا حکم دیا گیا ، تم نے وہ ادا کیے ‘ تمہیں دن کے وقت روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ، تم نے روزہ رکھا اور اپنے پروردگار کی اطاعت کی ‘ تو اب اپنا بدلہ وصول کر لو ! جب لوگ نماز ادا کر لیتے ہیں ، تو ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے : خبردار ! تمہارے پروردگار نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ، تو اب تم ایسی حالت میں اپنے گھروں کو واپس جاؤ کہ تم ہدایت یافتہ ہو ‘ تو یہ بدلے کا دن ہے ‘ آسمان میں اس دن کو ’’ بدلے کا دن ‘‘ کہا گیا ہے ‘‘۔ ایک روایت میں لفظ ” کریم پروردگار ‘‘ کی بجائے ’’ رحیم پروردگار ‘‘ کے الفاظ ہیں ، وہ فرماتا ہے :’’ میں نے تم لوگوں کے تمام گناہوں کی مغفرت کر دی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ جسے سفیان ثوری نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے انہوں نے اس سے روایت بھی نقل کی ہے ‘ اور شعبہ نے بھی نقل کی ہے ‘ لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3226

Majma al-Zawaid #3226

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ دُعَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعِيدَيْنِ: " اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً وَمِيتَةً سَوِيَّةً وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ، اللَّهُمَّ لَا تُهْلِكْنَا فَجْأَةً وَلَا تَأْخُذْنَا بَغْتَةً وَلَا تُعْجِلْنَا عَنْ حَقٍّ وَلَا وَصِيَّةٍ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْعَفَافَ وَالْغِنَى وَالتُّقَى وَالْهُدَى وَحُسْنَ عَاقِبَةِ الْآخِرَةِ وَالدُّنْيَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ وَالشِّقَاقِ وَالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ فِي دِينِكَ، يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrates that the supplication of the Prophet ﷺ on the two ʿĪds asked for a guarded life, an upright death, a return without disgrace, protection from sudden ruin, chastity, sufficiency, piety, guidance, a good end in this world and the Hereafter, and refuge from doubt, discord, and ostentation, invoking the Turner of hearts for steadfastness and mercy. > **"O Allah, we ask You for a guarded life, an upright death, and a return that is neither disgraceful nor shameful. O Allah, do not destroy us suddenly, nor seize us unawares, nor hasten us before dues and bequests. O Allah, we ask You for chastity, sufficiency, piety, guidance, and a good end in the Hereafter and this world; and we seek refuge in You from doubt, discord, ostentation, and repute in Your religion. O Turner of hearts, do not cause our hearts to deviate after You have guided us, and grant us mercy from Yourself. Indeed You are the Bestower."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عیدین کے موقع پر یہ دعا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں : کہ ایسی زندگی ہو ‘ جو محفوظ ہو اور ایسی موت ہو ‘ جو ٹھیک ہو ‘ اور ایسی واپسی جس میں رسوائی نہ ہو اور شرمندگی نہ ہو ‘ اے اللہ ! تو ہمیں اچانک ہلاکت کا شکار نہ کرنا ‘ اور اچانک ہماری پکڑ نہ کرنا ‘ اور ہمیں اتنی جلدی موت نہ دینا ‘ کہ کوئی حق رہ گیا ہو ‘ یا وصیت نہ کی جا سکے ‘ اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے ۔ پاکدامنی کا ‘ خوشحالی ‘ پرہیزگاری ‘ ہدایت کا ‘ دنیا اور آخرت میں اچھے انجام کا سوال کرتے ہیں ‘ اور شک سے ‘ اختلاف سے ‘ اور تیرے دین کے بارے میں ریاکاری اور دکھاوے سے تیری پناہ مانگتے ہیں ‘ اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو ہمیں ہدایت نصیب کرنے کے بعد ‘ ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر دینا ‘ اور ہمیں اپنے فضل سے رحمت عطا کرنا ‘ بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نہشل مستقل بن سعید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3227

Majma al-Zawaid #3227

عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَوْمَ الْعِيدِ يَقُولُ حِينَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَامَ يَخْطُبُ النَّاسَ: أَيُّهَا النَّاسُ كُلٌّ سُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

EnglishUnverified translation

Wahb ibn Kaysān reports hearing ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما on the day of ʿĪd, after praying before the khuṭbah and then standing to address the people, declare that all this is the established way of Allah and His Messenger. > **"O people, all of it is the Sunnah of Allah and the Sunnah of His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وہب بن کیسان بیان کرتے ہیں : میں نے عید کے دن حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جب انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز ادا کی تھی ‘ اور پھر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا تھا ( تو یہ فرمایا تھا : ) اے لوگو ! یہ سب اللہ تعالیٰ کی ( مقرر کردہ ) سنت ہے ‘ اور اس کے رسول کی سنت ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ اللہ ‘‘ ہیں ۔

3228

Majma al-Zawaid #3228

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَبْدَؤُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِلَفْظِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ».

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ, Abū Bakr, and ʿUmar would begin with the prayer before the khuṭbah on ʿĪd, as on the Day of Sacrifice the Prophet ﷺ prayed and then addressed the people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں اور یہ ’’ صحیح ‘‘ میں ان الفاظ میں منقول ہے : ’’ قربانی کے دن ’ نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی ‘ پھر آپ نے خطبہ دیا ‘‘۔

3229

Majma al-Zawaid #3229

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrates that the Messenger of Allah ﷺ would begin with the prayer on Fiṭr and Aḍḥā.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن پہلے نماز ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3230

Majma al-Zawaid #3230

عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ: وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: أَنَّ أَنَسًا كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ

EnglishUnverified translation

Ayyūb reports seeing Anas ibn Mālik رضي الله عنه and al-Ḥasan praying on the day of ʿĪd before the imām came out, while Muḥammad ibn Sīrīn came and sat without praying; Anas is elsewhere reported to have prayed four rakʿahs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایوب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حسن بصری کو دیکھا ہے کہ وہ عید کے دن امام کے آنے سے پہلے ( نفل ) نماز ادا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن سیرین کو دیکھا ہے کہ وہ آ کر بیٹھ گئے تھے انہوں نے ( نفل نماز ) ادا نہیں کی تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ نقل کیا ہے : کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے چار رکعات ادا کی تھیں ۔ امام ابویعلیٰ کی روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3231

Majma al-Zawaid #3231

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ وَقَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ ثَمَانٍ وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ إِلَّا أَنَّهَا مُرْسَلَةٌ

EnglishUnverified translation

Ibn Sīrīn and Qatādah report that Ibn Masʿūd رضي الله عنه would pray four or eight rakʿahs after the Eid prayer, and would not pray before it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین اور قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد چار ‘ یا شاید آٹھ رکعات ادا کی تھیں ‘ وہ اس ( یعنی نماز عید ) سے پہلے نوافل ادا نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مستند اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ تاہم یہ روایت مرسل ہے ۔

3232

Majma al-Zawaid #3232

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الصَّلَاةُ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

EnglishUnverified translation

Abū Masʿūd رضي الله عنه states that praying before the emergence of the imām on the day of ʿĪd is not from the Sunnah. > **"It is not from the Sunnah to pray before the emergence of the imām on the day of ʿĪd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود ﷺ فرماتے ہیں : عید کے دن امام کے آنے سے پہلے نفل پڑھنا سنت نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3233

Majma al-Zawaid #3233

وَعَنْ فَائِدٍ أَبِي الْوَرْقَاءِ قَالَ: «قُدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى إِلَى الْجَبَّانِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَقَالَ: أَدْنِنِي مِنَ الْمِنْبَرِ فَأَدْنَيْتُهُ فَجَلَسَ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، وَأَخْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفَائِدٌ مَتْرُوكٌ

EnglishUnverified translation

Fāʾid Abū al-Warqāʾ reports leading ʿAbdullāh ibn Abī Awfā رضي الله عنه to the open prayer ground on a day of ʿĪd, seating him near the minbar where he sat without praying before or after, and informing that the Messenger of Allah ﷺ did not pray before it or after it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فائدہ ابوورقاء بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر عید کے دن میدان کی طرف جا رہا تھا انہوں نے فرمایا : تم مجھے منبر کے قریب لے جانا ‘ جب میں نے انہیں قریب کر دیا تو وہ بیٹھ گئے اور انہوں نے نماز عید سے پہلے ‘ یا اس کے بعد نوافل ادا نہیں کیے ‘ اور یہ بات بیان کی : کہ نبی اکرم ﷺ اس سے پہلے یا اس کے بعد ( نفل ) نماز ادا نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے فائد نامی راوی متروک ہے ۔

3234

Majma al-Zawaid #3234

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ كَانَا يَنْهَيَانِ النَّاسَ - أَوْ قَالَ - يُجْلِسَانِ مَنْ يَرَيَاهُ يُصَلِّي قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ [فِي الْعِيدِ] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ، وَفِي بَعْضِهَا قَالَ: أُنْبِئْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ

EnglishUnverified translation

Ibn Sīrīn reports that Ibn Masʿūd رضي الله عنه and Ḥudhayfah رضي الله عنه would forbid the people, or would seat whomever they saw praying before the emergence of the imām on ʿĪd.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو منع کرتے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان افراد کو بٹھا دیتے تھے ، جنہیں وہ امام کے آنے سے پہلے نوافل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے ایسا عید کے دن ہوتا تھا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض میں یہ بات مذکور ہے : مجھے یہ بات بتائی گئی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ( ایسا کرتے تھے ) تو یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ‘ اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔

3235

Majma al-Zawaid #3235

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى فَجَلَسَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْإِمَامُ وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى انْصَرَفَ الْإِمَامُ وَالنَّاسُ ذَاهِبُونَ كَأَنَّهُمْ عُنُقٌ نَحْوَ الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى؟ فَقَالَ: هَذِهِ بِدْعَةٌ وَتَرْكُ السُّنَّةِ وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ كَثِيرًا مِمَّا نَرَى جَفَاءٌ وَقِلَّةُ عِلْمٍ، إِنَّ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ سُبْحَةُ هَذَا الْيَوْمِ حَتَّى تَكُونَ هَذِهِ الصَّلَاةُ تَدْعُوكَ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn Kaʿb ibn ʿUjrah reports going with Kaʿb ibn ʿUjrah رضي الله عنه to the muṣallā on ʿĪd, where he sat before the imām arrived and did not pray; and after the imām and the people departed toward the mosque, he described the contrary practice as innovation and abandonment of the Sunnah, saying the two rakʿahs of ʿĪd suffice as the supererogatory prayer of the day. > **"This is innovation and abandonment of the Sunnah. Much of what we see is harshness and lack of knowledge. These two rakʿahs are the supererogatory prayer of this day, until this prayer itself calls you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن کعب بن عجرہ بیان کرتے ہیں : میں عید کے دن حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ کی طرف گیا ‘ وہ امام کے آنے سے پہلے بیٹھ گئے ‘ اور انہوں نے ( کوئی نفل نماز ) ادا نہیں کی ‘ یہاں تک کہ امام اور لوگوں نے نماز عید ادا کر لی ‘ تو وہ لوگ مسجد کی طرف یوں روانہ ہوئے ‘ جیسے وہ ’’ عنق ‘‘ ( شاید یہاں مراد ہر اول دستہ ہے ) ہوں ، میں نے کہا : کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ بدعت ہے ‘ اور سنت کو ترک کرنا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : بہت سی چیزیں جو ہم دیکھتے ہیں ‘ وہ زیادتی ہوتی ہیں ‘ اور علم کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہیں ‘ آج کے دن میں یہ دو رکعات ہی نفل ہیں ‘ یہاں تک کہ یہی نماز تمہیں بلائے ( یعنی تمہیں صرف اسی نماز کی ادائیگی کے لیے آنا چاہیے ) ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، عبدالملک کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

3236

Majma al-Zawaid #3236

وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَسَأَلَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا ثُمَّ جَاءَ قَوْمٌ فَسَأَلُوا كَمَا سَأَلُوهُ - الَّذِينَ كَانُوا قَبْلَهُمْ - فَمَا رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّلَاةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ فَكَبَّرَ سَبْعًا وَخَمْسًا ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ نَزَلَ فَرَكِبَ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ يُصَلُّونَ؟ قَالَ: فَمَا عَسَيْتُ أَنْ أَصْنَعَ؟ سَأَلْتُمُونِي عَنِ السُّنَّةِ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فَمَنْ شَاءَ فَعَلَ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ أَتَرَوْنِي أَمْنَعُ قَوْمًا يُصَلُّونَ فَأَكُونُ بِمَنْزِلَةِ مَنْ مَنَعَ عَبْدًا إِذَا صَلَّى»؟ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ قُلْتُ: وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ

EnglishUnverified translation

Al-Walīd ibn Sarīʿ, freedman of ʿAmr ibn Ḥurayth, reports going out with Amīr al-Muʾminīn ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه on a day of ʿĪd, when questioners twice asked about prayer before and after the Eid prayer without receiving a reply; after ʿAlī led the people with seven and five Takbīrs, delivered the khuṭbah, and dismounted, and was asked about people praying, he explained the Sunnah that the Prophet ﷺ did not pray before or after it, leaving the matter to choice, and refused to prevent people from praying. > **"You asked me about the Sunnah. The Prophet ﷺ did not pray before it or after it. Whoever wishes may do so, and whoever wishes may leave it. Do you consider that I would prevent people who pray, and thus be like one who prevents a servant when he prays?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ولید بن سریع بیان کرتے ہیں : ہم لوگ امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عید کے دن ( نماز عید کی ادائیگی کے لئے نکلے ) آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے آپ سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! عید کے دن نماز عید سے پہلے ‘ یا اس کے بعد ( نفل ) نماز ادا کرنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا ‘ پھر کچھ اور لوگ آئے انہوں نے بھی پہلے لوگوں کی مانند سوال کیا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کوئی جواب نہیں دیا ‘ جب ہم عیدگاہ پہنچے تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے سات اور پانچ تکبیریں کہیں ، پھر انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر منبر سے نیچے اترے اور سوار ہو گئے ‘ لوگوں نے عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! یہ کچھ لوگ ( نفل ) نماز ادا کر رہے ہیں ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں کیا کر سکتا ہوں ؟ تم لوگوں نے مجھ سے سنت کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس نماز سے پہلے ‘ یا اس نماز کے بعد کوئی نفل نماز ادا نہیں کی ہے ‘ جو شخص چاہے وہ ایسا کرے اور جو شخص چاہے وہ اسے ترک کر دے ‘ کیا تم لوگ میرے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو ؟ کہ میں نماز پڑھنے والوں کو منع کروں گا ‘ اور میں اس شخص کی مانند ہو جاؤں گا ( جس کا ذکر قرآن میں ہے ) کہ اس نے بندے کو روکا ‘ جب وہ نماز پڑھ رہا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

3237

Majma al-Zawaid #3237

عَنْ أَبِي رَافِعٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مَاشِيًا يُصَلِّي بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ» قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ: يُصَلِّي بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ would go out to the two ʿĪds on foot and would pray without adhān or iqāmah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عیدین کی نماز کے لئے پیدل چل کر جاتے تھے اور آپ اذان اور اقامت کے بغیر نماز عید ادا کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام این ماجہ نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں :’’ آپ اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کرتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن عبداللہ بن ابورافع کے حوالے سے نقل کی ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ اثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

3238

Majma al-Zawaid #3238

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي يَوْمِ الْأَضْحَى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَخَطَبَ الرِّجَالَ ثُمَّ مَالَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ حَتَّى كَثُرَ مَعَ بِلَالٍ الْمَتَاعُ» قُلْتُ: لِلْبَرَاءِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ ibn ʿĀzib رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ prayed on the day of Aḍḥā without adhān or iqāmah, addressed the men, then inclined toward the women, addressed them, and urged them to give charity until a great quantity of goods gathered with Bilāl رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عیدالاضحی کے دن اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کی ‘ پھر آپ نے مردوں کو خطبہ دیا ‘ پھر آپ خواتین کی طرف تشریف لے گئے انہیں خطبہ دیا اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دی ‘ یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا سامان اکٹھا ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ اور دوسری کتابوں میں ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمر بن ابان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

3239

Majma al-Zawaid #3239

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْعِيدَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَكَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجِلْسَةٍ» رَوَاهُ الْبَزَّارُ وِجَادَةً، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه narrates that the Prophet ﷺ prayed ʿĪd without adhān or iqāmah and delivered two khuṭbahs, separating them with a sitting.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اذان اور اقامت کے بغیر عید کی نماز ادا کی تھی ‘ آپ ﷺ نے دو خطبے ارشاد فرمائے تھے ‘ جن کے درمیان آپ نے بیٹھ کر فصل کیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے ’’ وجادہ ‘‘ کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔