عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ دُعَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعِيدَيْنِ: " اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً وَمِيتَةً سَوِيَّةً وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ، اللَّهُمَّ لَا تُهْلِكْنَا فَجْأَةً وَلَا تَأْخُذْنَا بَغْتَةً وَلَا تُعْجِلْنَا عَنْ حَقٍّ وَلَا وَصِيَّةٍ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْعَفَافَ وَالْغِنَى وَالتُّقَى وَالْهُدَى وَحُسْنَ عَاقِبَةِ الْآخِرَةِ وَالدُّنْيَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ وَالشِّقَاقِ وَالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ فِي دِينِكَ، يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
EnglishUnverified translation
ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrates that the supplication of the Prophet ﷺ on the two ʿĪds asked for a guarded life, an upright death, a return without disgrace, protection from sudden ruin, chastity, sufficiency, piety, guidance, a good end in this world and the Hereafter, and refuge from doubt, discord, and ostentation, invoking the Turner of hearts for steadfastness and mercy. > **"O Allah, we ask You for a guarded life, an upright death, and a return that is neither disgraceful nor shameful. O Allah, do not destroy us suddenly, nor seize us unawares, nor hasten us before dues and bequests. O Allah, we ask You for chastity, sufficiency, piety, guidance, and a good end in the Hereafter and this world; and we seek refuge in You from doubt, discord, ostentation, and repute in Your religion. O Turner of hearts, do not cause our hearts to deviate after You have guided us, and grant us mercy from Yourself. Indeed You are the Bestower."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عیدین کے موقع پر یہ دعا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں : کہ ایسی زندگی ہو ‘ جو محفوظ ہو اور ایسی موت ہو ‘ جو ٹھیک ہو ‘ اور ایسی واپسی جس میں رسوائی نہ ہو اور شرمندگی نہ ہو ‘ اے اللہ ! تو ہمیں اچانک ہلاکت کا شکار نہ کرنا ‘ اور اچانک ہماری پکڑ نہ کرنا ‘ اور ہمیں اتنی جلدی موت نہ دینا ‘ کہ کوئی حق رہ گیا ہو ‘ یا وصیت نہ کی جا سکے ‘ اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے ۔ پاکدامنی کا ‘ خوشحالی ‘ پرہیزگاری ‘ ہدایت کا ‘ دنیا اور آخرت میں اچھے انجام کا سوال کرتے ہیں ‘ اور شک سے ‘ اختلاف سے ‘ اور تیرے دین کے بارے میں ریاکاری اور دکھاوے سے تیری پناہ مانگتے ہیں ‘ اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو ہمیں ہدایت نصیب کرنے کے بعد ‘ ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر دینا ‘ اور ہمیں اپنے فضل سے رحمت عطا کرنا ‘ بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نہشل مستقل بن سعید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔