Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 26 · Chapter 11

Book of Jihad

Hadith 9675–9714

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9675

Majma al-Zawaid #9675

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَمَا هُزِمَ قَوْمٌ بَلَغُوا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ إِذَا صَدَقُوا وَصَبَرُوا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ: "" إِذَا صَدَقُوا وَصَبَرُوا "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, reported the Prophet, peace be upon him, said the best companions are four, best detachments four hundred, best armies four thousand, and twelve thousand are never defeated by fewness if truthful and patient. > **"The best of companions are four, the best of detachments are four hundred, the best of armies are four thousand, and no people of twelve thousand are defeated by fewness if they are truthful and patient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ چار ساتھی سب سے بہتر ہوتے ہیں چار سو افراد کی جنگی مہم سب سے بہتر ہوتی ہے چار ہزار افراد کا لشکر سب سے بہتر ہوتا ہے اور جس قوم کی تعداد بارہ ہزار ہو وہ کم تعداد کی وجہ سے پسپا نہیں ہوتے جبکہ وہ سچ بولیں اور صبر سے کام لیں ‘‘۔ یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں :’’ جبکہ وہ سچ بولیں اور صبر سے کام لیں “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

9676

Majma al-Zawaid #9676

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَبَرَ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يَغْلِبَ لَمْ يُفْتَنْ فِي قَبْرِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُصَفَّى بْنُ بُهْلُولٍ وَالِدِ مُحَمَّدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub Khalid ibn Zayd, may Allah be pleased with him, reported the Messenger, peace be upon him, said whoever meets the enemy and endures until killed or victorious is spared trial in the grave. > **"Whoever meets the enemy and endures until he is killed or prevails will not be tried in his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص دشمن کا سامنا کرے اور صبر سے کام لے ‘ یہاں تک کہ وہ قتل ہو جائے یا غالب آ جائے تو اس شخص کو قبر کی آزمائش میں مبتلاء نہیں کیا جائے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصفی بن بہلول ہے ‘ جو محمد نامی راوی کا والد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9677

Majma al-Zawaid #9677

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ فَرَّ مِنِ اثْنَيْنِ فَقَدْ فَرَّ وَمَنْ فَرَّ مِنْ ثَلَاثَةٍ لَمْ يَفِرَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, reported the Prophet, peace be upon him, said flight from two is flight, but flight from three is not flight. > **"Whoever flees from two has fled, and whoever flees from three has not fled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص دو ( یا دگنے دشمن ) کے مقابلے میں فرار ہو جائے وہ فرار ہو گیا اور جو شخص تین کے مقابلے میں فرار ہوا وہ فرار نہیں ہوا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9678

Majma al-Zawaid #9678

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَحُثُّ أَصْحَابَهُ عَلَى الْمُبَارَزَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reported the Prophet, peace be upon him, used to urge his Companions to single combat. Companion report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کو مبارزت کی ترغیب دیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9679

Majma al-Zawaid #9679

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: الرَّجُلُ يَحْمِلُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ أَهُوَ مِمَنْ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ؟ قَالَ: لَا؛ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: {فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ} [النساء: 84]، إِنَّمَا هُوَ فِي النَّفَقَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سُلَيْمَانِ بْنِ دَاوُدَ الْهَاشِمِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ishaq asked al-Bara, may Allah be pleased with him, whether one who charges the polytheists alone casts himself to ruin; he said no, citing the command to fight in Allah's path, and said the ruin verse concerns spending. Companion ruling, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ایک شخص مشرکین پر حملہ کر دیتا ہے ‘ تو کیا وہ ان افراد میں سے ایک ہو گا ، جس نے اپنا ہاتھ ہلاکت کی طرف بڑھایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا تھا ، تو یہ ارشاد فرمایا تھا : ’’ تم اللہ کی راہ میں جنگ کرو ‘ اور تمہارے وجود کو صرف اسی چیز کا پابند کیا گیا ہے “۔ اس کا تعلق خرچ کرنے سے ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سلیمان بن داؤد ہاشمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9680

Majma al-Zawaid #9680

عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" يَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ "". قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ تُصْرَعُ، تَضْرِبُهَا الْمَلَائِكَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Talhah, may Allah be pleased with him, reported with the Prophet, peace be upon him, on a raid he heard him recite the Master of the Day of Judgment, You we worship and You we seek help, and saw men felled with angels striking before and behind them. > **"Master of the Day of Judgment, You we worship and You we seek help."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ اے «مالک یوم الدین ایاک نعبد و ایاک نستعین» “۔ ( راوی کہتے ہیں : میں نے دشمن کے ) افراد کو دیکھا کہ وہ پچھاڑے جا رہے تھے فرشتے انہیں آگے اور پیچھے سے مار رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ہاشم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9681

Majma al-Zawaid #9681

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَجَبُنَ، فَجَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ، قُتِلَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُبْتَلَوْنَ بِهِ مِنْهُمْ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ، ثُمَّ الْزَمُوا الْأَرْضَ جُلُوسًا فَإِذَا غَشَوْكُمْ فَانْهَضُوا وَكَبِّرُوا "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ بِطُولِهِ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: شَيْخٌ صَالِحٌ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah, may Allah be pleased with them, reported at Khaybar a man was sent and showed cowardice, and Muhammad ibn Maslamah spoke; the Prophet, peace be upon him, forbade wishing for battle, commanded asking well-being, taught a supplication, sitting firm, then rising with takbir. > **"Do not wish to meet the enemy, and ask Allah for well-being, for you do not know what trial you will face from them; when you meet them say: O Allah, You are our Lord and their Lord, our forelocks and theirs are in Your hand, and only You kill them; then keep to the ground sitting, and when they close in, rise and magnify Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا وہ بزدلی کا شکار ہو گیا حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آج کے دن کی طرح کا کوئی دن کبھی نہیں دیکھا محمد بن مسلمہ قتل ہو جائے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دشمن کا سامنا کرنے کی آرزو نہ کرو تم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے کہ ان کے حوالے سے تم کس آزمائش میں مبتلاء ہو جاتے ہو اگر تم ان کا سامنا کرو تو تم یہ پڑھو : اے اللہ ! تو ہمارا پروردگار ہے اور ان کا پروردگار ہے ہماری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں تیرے دست قدرت میں ہیں ‘‘۔ تم جنگ میں حصہ لو پھر زمین پر بیٹھ جاؤ اگر وہ تم پر حملہ کر دیں ، تو اٹھ کھڑے ہو اور تکبیر کہو ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو طویل حدیث کے طور پر غزوہ خیبر سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضیل بن عبدالوہاب ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ ایک نیک بزرگ ہے اسے امام بخاری اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9682

Majma al-Zawaid #9682

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ بِدُعَاءِ الْمُسْتَضْعَفِينَ». قُلْتُ: لِسَعْدٍ فِي الصَّحِيحِ: "" «إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِذَاكَ، وَقَالَ يُونُسُ: كَانَ يَحْفَظُ وَيَفْهَمُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, reported the Messenger, peace be upon him, said Allah aids Muslims through the supplication of the oppressed. > **"Allah aids the Muslims only through the supplication of the oppressed among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ کمزوروں کی دعا کے ذریعے مسلمانوں کی مدد کرتا ہے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ روایت مذکور ہے :’’ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد سعید بن علی رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام دارقطنی کہتے ہیں : یہ کوئی چیز نہیں ہے یونس کہتے ہیں : یہ حفظ بھی کرتا تھا ‘ اور سمجھ بھی رکھتا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9683

Majma al-Zawaid #9683

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْضَ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, reported the Messenger, peace be upon him, burned some property of Banu Nadir. Companion report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بنو نضیر کی بعض زمینوں کو جلوا دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9684

Majma al-Zawaid #9684

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «أَجَارَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا، وَعَلَى الْجَيْشِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِي: لَا تُجِيرُوهُ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: نُجِيرُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَحَدُهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported a Muslim granted a man protection while Abu Ubaydah commanded; Khalid and Amr objected, but Abu Ubaydah upheld it, having heard the Prophet, peace be upon him. > **"One of the Muslims grants protection on behalf of the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک شخص کو پناہ دے دی لشکر کے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ اسے پناہ نہ دیں ‘ تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہم اسے پناہ دیں گے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مسلمانوں کی طرف سے ان میں سے کوئی شخص پناہ دے سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔

9685

Majma al-Zawaid #9685

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ بَعْضُهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, heard the Messenger, peace be upon him, say some Muslims grant protection on behalf of all. > **"Some of the Muslims grant protection on behalf of the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مسلمانوں میں سے کوئی ایک ان کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔

9686

Majma al-Zawaid #9686

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي قَالَ: «أُسِرَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ [فَأَبَى] قَالَ: فَجَعَلَ عَمْرٌو يَسْأَلُهُ، يُعْجِبُهُ أَنْ يَدَّعِيَ أَمَانًا فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يُجِيرُ عَلَى النَّاسِ أَدْنَاهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of Egypt from Amr ibn al-As, may Allah be pleased with him, about captive Muhammad ibn Abi Bakr: Amr wished him to claim safety, citing the Prophet, peace be upon him. > **"The lowest of the people grants protection on behalf of the people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اہل مصر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ محمد بن ابوبکر کو قید کر دیا گیا تو انہوں نے انکار کیا حضرت عمرو رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے رہے انہیں یہ بات پسند تھی کہ وہ امان کا دعوی کر دے تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ لوگوں کا ادنی ترین فرد بھی لوگوں کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9687

Majma al-Zawaid #9687

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، فَإِنْ أَجَارَتْ عَلَيْهِمُ امْرَأَةٌ فَلَا تَخْفِرُوهَا، فَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً [يُعْرَفُ بِهِ] يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported the Messenger, peace be upon him, said the protection of Muslims is one; if a woman grants it, do not betray her, for every traitor has a banner on Resurrection Day. > **"The protection of the Muslims is one; if a woman grants protection on their behalf, do not betray her, for every traitor will have a banner on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمانوں کا ذمہ ایک جیسی حیثیت رکھتا ہے اگر کوئی عورت ان لوگوں کی طرف سے پناہ دے دیتی ہے ‘ تو تم اس کی خلاف ورزی نہ کرو قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے مخصوص جھنڈا ہو گا ، جس کے حوالے سے وہ پہچانا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسد ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9688

Majma al-Zawaid #9688

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجَارَتْ أَبَا الْعَاصِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِوَارَهَا. وَإِنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَجَارَتْ أَخَاهَا عَقِيلًا فَأَجَازَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِوَارَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ أُمِّ هَانِئٍ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported Zaynab, daughter of the Messenger, peace be upon him, granted Abu al-As protection and the Prophet upheld it; and Umm Hani granted her brother Aqil protection and he upheld it. Companion report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو پناہ دے دی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی دی ہوئی پناہ کو برقرار رکھا تھا ۔ سیدہ اُم ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی جناب عقیل کو پناہ دے دی تھی نبی اکرم ﷺ نے ان کی دی ہوئی پناہ کو برقرار رکھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے بارے میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔

9689

Majma al-Zawaid #9689

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ «أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُهَاجِرًا اسْتَأْذَنَتْ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ زَوْجَهَا أَنْ تَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهَا فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ إِنْ أَبَا الْعَاصِ لَحِقَ بِالْمَدِينَةِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ خُذِي لِي أَمَانًا مِنْ أَبِيكِ فَخَرَجَتْ فَاطَّلَعَتْ بِرَأْسِهَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِهِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصُّبْحِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقَالَتْ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَعْلَمْ بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُمُوهُ، أَلَا وَإِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported Zaynab, daughter of the Messenger, peace be upon him, after the migration, sought leave, then announced from the chamber door at dawn prayer that she had granted Abu al-As protection; the Prophet, peace be upon him, said he knew nothing until they heard it, and affirmed the rule. > **"O people, I did not know of this until you heard it; indeed the lowest of the Muslims grants protection on behalf of the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کے لئے روانہ ہوئے تو آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع سے اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس چلی جائیں انہوں نے اس خاتون کو اجازت دے دی وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئیں پھر حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ تم اپنے والد سے میرے لئے امان لے لو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نکلیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حجرے کے دروازے سے سر باہر نکالا نبی اکرم ﷺ اس وقت لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : اے لوگو ! میں اللہ کے رسول کی صاحبزادی زینب ہوں اور میں نے ابوالعاص کو پناہ دے دی ہے جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! مجھے اس بارے میں پتہ نہیں تھا یہاں تک کہ تم نے بھی اسے سن لیا خبردار ! مسلمانوں کا ادنی ترین فرد بھی مسلمانوں کے حوالے سے پناہ دے سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9690

Majma al-Zawaid #9690

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لِوَاءُ الْغَادِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reported the Messenger, peace be upon him, said the traitor's banner on Resurrection Day is at his back. > **"The banner of the traitor on the Day of Resurrection will be at his back."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن عہد شکن کا جھنڈا اس کی سرین کے پاس ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔

9691

Majma al-Zawaid #9691

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، مَنْ أَخَفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي يَعْلَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported the Messenger, peace be upon him, said every traitor has a banner, Muslim protection is one sought by the lowest, and whoever betrays a Muslim's pledge bears the curse of Allah, angels, and all people, with no deed accepted. > **"Every traitor will have a banner on the Day of Resurrection; the protection of the Muslims is one, the lowest of them strives for it; whoever betrays a Muslim, upon him is the curse of Allah, the angels, and all people; Allah will accept from him neither exchange nor ransom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے جھنڈا ہو گا مسلمانوں کا ذمہ یکساں حیثیت رکھتا ہے ان کا ادنی ترین فرد بھی اس کے بارے میں کوشش کرے گا ‘ اور جو شخص کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اللہ تعالیٰ اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی نقل کردہ حدیث اس سے پہلے والے باب میں گزر چکی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں اور امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔

9692

Majma al-Zawaid #9692

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «الْغَادِرُ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ فَيُقَالُ: هَذَا كَانَ عَلَى كَذَا وَكَذَا أَوْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, heard the Messenger, peace be upon him, say the traitor's banner is raised and his deeds named. > **"The traitor will have a banner raised for him, and it will be said: this was for such-and-such, or he did such-and-such."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عہد شکن کے لئے جھنڈا نصب کیا جائے گا ‘ اور یہ کہا جائے گا : یہ فلاں فلاں چیز پر تھا یا اس نے یہ یہ کام کیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

9693

Majma al-Zawaid #9693

عَنْ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْسِ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Fayruz al-Daylami, may Allah be pleased with him, reported he came to the Prophet, peace be upon him, with the head of al-Aswad al-Ansi. Companion report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس اسود عنسی کا سر لے کر آیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9694

Majma al-Zawaid #9694

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «مَا حُمِلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسٌ قَطُّ» [وَلَا يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى الْمَدِينَةِ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا فِي مَوَاضِعِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them, reported no head was ever carried to the Messenger, peace be upon him, not even at Badr to Madinah. Companion report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس بھی کوئی سر اٹھا کر نہیں لایا گیا غزوہ بدر کے دن بھی ایسا نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ آ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے اس نوعیت کی دیگر احادیث اس سے متعلقہ جگہ پر آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

9695

Majma al-Zawaid #9695

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُرَّ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَهُ فَقَالَ: "" دَعُوهُ وَسَلَبَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِمَعْنَاهُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَتَّابِ بْنِ زِيَادٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, reported the Prophet, peace be upon him, passed Abu Qatadah by a man he had killed and ordered him left with his spoils. > **"Leave him and his spoils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو ایک ایسے فرد کے پاس موجود تھے جسے انہوں نے قتل کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اور اس کے سامان کو چھوڑ دو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس مضمون کی روایت نقل کی ہے ۔ امام احمد اور معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عتاب بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9696

Majma al-Zawaid #9696

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ جَرِيرًا بَارَزَ مِهْرَانَ فَقَتَلَهُ، فَقُوِّمَتْ مِنْطَقَتُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، وَكَانَ مَنْ بَارَزَ رَجُلًا فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا مِنَ السَّلَبِ الَّذِي يُعْطَى لَيْسَ مِنَ السِّلَاحِ وَلَا مِنَ الْكُرَاعِ، وَلَمْ يَنْفُلْهُ وَجَعَلَهُ مَغْنَمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ جَرِيرٍ فَهُوَ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi reported Jarir challenged Mihran in single combat, killed him, took a girdle worth thirty thousand; men wrote to Umar, may Allah be pleased with him, who ruled it was not ordinary spoils of arms or mounts, withheld it as extra award, and made it booty. Ruling of Umar, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت جبریر رضی اللہ عنہ نے مہران کو مقابلے کے لئے للکارا اور اسے قتل کر دیا ‘ تو اس کے پٹکے کی قیمت تیس ہزار تھی پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص کسی شخص کو مقابلے کے لئے للکارتا تھا ‘ اور اسے قتل کر دیتا تھا ‘ تو مقتول کا سامان اسے مل جاتا تھا لوگوں نے اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اس سامان میں سے نہیں ہے ‘ جو ( قتل کرنے والے مسلمان ) کو دے دیا جاتا ہے ‘ کیونکہ یہ چیز نہ ہتھیار میں شامل ہے نہ ’’ کراع ‘‘ ( یہ لفظ ہتھیاروں اور گھوڑوں دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ) میں شامل ہے ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انعام کے طور پر وہ انہیں نہیں دیا بلکہ اسے مال غنیمت میں شامل کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ یہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ تو یہ روایت منقطع ہے ۔

9697

Majma al-Zawaid #9697

وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ: «نَزَلْنَا دَابِقَ وَعَلَيْنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَبَلَغَ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَنَّ صَاحِبَ قُبْرُسَ خَرَجَ يُرِيدُ بِطْرِيقَ أَذْرَبِيجَانَ وَمَعَهُ زُمُرُّدٌ وَيَاقُوتٌ وَلُؤْلُؤٌ وَذَهَبٌ وَدِيبَاجٌ فَخَرَجَ فِي خَيْلٍ فَقَتَلَهُ وَجَاءَ بِمَا مَعَهُ فَأَرَادَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَنْ يُخَمِّسَهُ فَقَالَ حَبِيبٌ: لَا تَحْرِمْنِي رِزْقًا رَزَقَنِيهِ اللَّهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ السَّلَبَ لِلْقَاتِلِ. فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا حَبِيبُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّمَا لِلْمَرْءِ مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُ إِمَامِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Junadah ibn Abi Umayyah reported at Dabiq under Abu Ubaydah, Habib ibn Maslamah killed the chief of Cyprus with emeralds, rubies, pearls, gold and brocade; Abu Ubaydah wished to take a fifth, Habib cited the killer's right to spoils, and Muadh cited the Prophet, peace be upon him. > **"A man has only what his commander willingly gives him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جنادہ بن ابوامیہ بیان کرتے ہیں : ہم نے دابق کے مقام پر پڑاؤ کیا حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے حبیب بن مسلمہ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ قبرس کا حکمران نکلا ہے اور وہ آذربائی جان کے راستے کی طرف جا رہا ہے اس کے ساتھ زمرد یاقوت موتی سونا اور ریشم ہے ‘ تو حبیب بن مسلمہ کچھ گھڑ سواروں کے ساتھ نکلے انہوں نے اسے قتل کر دیا اور جو کچھ اس کے ساتھ ساز و سامان تھا وہ لے آئے ۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ انہیں خمس دیں ‘ تو حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ مجھے اس رزق سے محروم نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے ( مقتول کا ) ساز و سامان قاتل کو دینے کا حکم دیا ہے ‘ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے حبیب میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی کے لئے وہی چیز ہو گی جو اس کا حکمران خوش دلی سے اسے دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔

9698

Majma al-Zawaid #9698

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: بَارَزَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكَ أَخُو أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْزُبَانَ الزَّارَةِ فَقَتَلَهُ فَأَخَذَ سَلَبَهُ فَبَلَغَ سَلَبُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا [فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فََقَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ: إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلْبَ، وَإِنَّ سَلْبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا كَثِيرًا، فَمَا أَرَانَا إِلَّا خَامِسِيهِ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sirin reported al-Bara ibn Malik, brother of Anas, killed the chief of Zara, took spoils of thirty thousand; Umar, may Allah be pleased with him, told Abu Talhah they did not take a fifth from spoils, but Bara's gain was great wealth and he saw it should be fif **th**ed. Report of Umar, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں انہوں نے مرزبان زارہ کو مقابلے کے لئے للکارا اور اسے قتل کر دیا اور اس کا سامان حاصل کر لیا ‘ تو اس کے سامان کی قیمت تیس ہزار تک پہنچتی تھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ہم سلب ( یعنی مقتول کے سامان ) کو خمس میں شمار نہیں کرتے تھے براء کا حاصل کیا ہوا سامان بہت زیادہ مال تک پہنچتا ہے ‘ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسے پانچواں حصہ ملنا چاہیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9699

Majma al-Zawaid #9699

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «بَارَزَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَجُلًا يَوْمَ مُؤْتَةَ، فَقَتَلَهُ فَنَفَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَاتَمَهُ وَسَلَبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah, may Allah be pleased with them, reported Aqil ibn Abi Talib challenged a man at Mutah, killed him, and the Messenger, peace be upon him, awarded him his ring and spoils. Companion report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنگی موتہ کے دن حضرت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو لڑائی کے لئے للکارا اور اسے قتل کر دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس ( مقتول ) شخص کی انگوٹھی اور اس کا ساز و سامان حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9700

Majma al-Zawaid #9700

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «انْتَهَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى أَبِي جَهْلِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ رَقِيدٌ فَاسْتَلَّ سَيْفَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فَنَدَرَ رَأْسَهُ ثُمَّ أَخَذَ سَلَبَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فَاسْتَحْلَفَهُ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَحَلَفَ فَجَعَلَ لَهُ سَلَبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَالَ أَحْمَدُ: يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, reported Abdullah ibn Masud reached Abu Jahl wounded at Badr, beheaded him, took his spoils, reported to the Prophet, peace be upon him, swore thrice by Allah, and was awarded the spoils. Companion report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے دن ابوجہل کے پاس آئے وہ اس وقت زخمی حالت میں پڑا ہوا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی اور اس کی گردن اڑا دی اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا پھر انہوں نے ابوجہل کا سامان لیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے آپ کو اس بارے میں بتایا کہ انہوں نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے نبی اکرم ﷺ نے ان سے اللہ کے نام پر تین مرتبہ حلف لیا انہوں نے حلف اٹھا لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ابوجہل کا سامان انہیں دے دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابواسحاق ابواسرائیل ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ امام احمد کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

9701

Majma al-Zawaid #9701

وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ وَأَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ فَلَقِينَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ، فَبَرَزَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ فَقَتَلَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَنَفَلَهُ سَلَبَهُ فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَةُ هُرْمُزَ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَكَانَتِ الْفُرْسُ إِذَا شَرُفَ رَجُلٌ جَعَلُوا قَلَنْسُوَتَهُ بِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Khuraym ibn Aws reported none more hostile to Arabs than Hurmuz; after Musaylimah they met him at Kazimah in great force, Khalid ibn al-Walid dueled and killed him, wrote to Abu Bakr, may Allah be pleased with him, who awarded the spoils; Hurmuz's cap alone was a hundred thousand dirhams, as Persian nobles wore hundred-thousand caps. Historical report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خریم بن اوس بیان کرتے ہیں : میرے نزدیک عربوں کا ہرمز سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو ہم نے بصرہ کی طرف رخ کیا کاظمہ کے مقام پر ہمارا سامنا ہرمز سے ہوا جس کے ساتھ بڑا لشکر تھا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے نکلے اور مقابلے کے لئے للکارا تو ہرمز ان کے سامنے مقابلہ کرنے کے لئے آیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس بارے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہرمز کا ساز و سامان حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دے دیا ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی ایرانیوں کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی شخص ان کا حکمران بنتا تھا ، تو اس کی ٹوپی ایک لاکھ درہم کی بناتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9702

Majma al-Zawaid #9702

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَمْرَ بْنَ مَعْدِ يَكْرِبَ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ وَهُوَ يُحَرِّضُ النَّاسَ عَلَى الْقِتَالِ وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ كُونُوا أُسْدًا أَشِدَّاءَ عَنَّا نُشَّابَةً، إِنَّمَا الْفَارِسِيُّ تَيْسٌ إِذَا لَقِيَ نَيْزَكَهُ. قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا أُسْوَارٌ مِنْ أَسَاوِرَةِ الْفُرْسِ قَدْ بَرَى لَهُ نُشَّابَةً فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا ثَوْرٍ إِنَّ هَذَا قَدْ بَرَى لَكَ بِنُشَّابِهِ قَالَ: فَرَمَاهُ فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ سِنَّةَ قَوْسِ عَمْرٍو فَكَسَرَهَا فَحَمَلَ عَلَيْهِ عَمْرٌو فَطَعَنَهُ فَدَقَّ صُلْبَهُ فَنَزَلَ إِلَيْهِ وَأَخَذَ سُوَارَيْنِ كَانَا عَلَيْهِ وَيَلْمَقًا مِنْ دِيبَاجٍ قَالَ: فَسَلِمَ ذَلِكَ لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim saw Amr ibn Madikarib at Qadisiyyah urging men to be fierce lions, mocking the Persian spearman; a Persian champion loosed at him, broke his bow-tip, then Amr charged, pierced his spine, dismounted, took two bracelets and a brocade cloak, and it was left to him. Companion report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : جنگ قادسیہ کے موقع پر میں نے حضرت عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو جنگ کے لئے ترغیب دے رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! ( دشمن سے ) بھڑ جانے والے زبردست شیروں کی طرح ہو جاؤ ‘ ایرانی شخص نر ہوتا ہے ‘ جب وہ اپنے چھوٹے نیزے سے ملتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی وہ اسی حالت میں تھے کہ ایرانیوں کے قائدین میں سے ایک قائد نے ان کے لئے اپنا ترکش نکالا ‘ ان سے کہا گیا : اے ابوثور ! اس شخص نے آپ کے لئے ترکش نکال لیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس شخص نے انہیں تیر مارا ‘ وہ نشانے پر نہیں لگا ‘ بلکہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی کمان پر لگا ‘ اور اسے توڑ دیا پھر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے زخمی کیا اور اس کی پشت کو توڑ دیا ‘ پھر وہ اتر کر اس کے پاس گئے ‘ اور اس نے جو کنگن پہنے ہوئے تھے وہ لے لیے ‘ اور جو ریشمی یلمق ( یعنی قباء ) پہنا ہوا تھا ‘ وہ بھی لے لیا ‘ راوی کہتے ہیں : تو وہ چیزیں انہیں مل گئی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9703

Majma al-Zawaid #9703

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ فَدَى أَسِيرًا مِنْ أَيْدِي الْعَدُوِّ فَأَنَا ذَلِكَ الْأَسِيرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ أَبِي حَجَرٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَحَادِيثُهُ صِحَاحٌ وَضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, reported the Messenger, peace be upon him, said whoever ransoms a captive from the enemy, he himself is that captive in reward. > **"Whoever ransoms a captive from the hands of the enemy, I am that captive."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص دشمن کے پاس موجود کسی قیدی کا فدیہ دیتا ہے ‘ تو وہ قیدی میں ہوں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن ابوحجر ہے ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ ہے ۔ ازدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9704

Majma al-Zawaid #9704

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَفْدِيَ سَبَايَا الْمُسْلِمِينَ وَنُعْطِيَ سَائِلَهُمْ. ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَعَلَى الْوُلَاةِ مِنْ بَعْدِي مِنْ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ أَبُو الصَّبَّاحِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salman, may Allah be pleased with him, reported the Messenger, peace be upon him, commanded ransoming Muslim captives and giving their beggars; wealth left is for heirs, debt left is upon him and rulers after him from the Muslim treasury. > **"Whoever leaves wealth, it is for his heirs, and whoever leaves debt, it is upon me and upon the rulers after me from the treasury of the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم مسلمان قیدیوں کا فدیہ دیں اور ان ( مسلمانوں ) کے مانگنے والوں کو دیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جو شخص مال چھوڑے گا وہ اس کے ورثاء کو ملے گا جو شخص قرض چھوڑے گا ‘ تو اس کی ادائیگی میرا ذمہ ہو گی اور میرے بعد حکمرانوں کے ذمہ ہو گی جو مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کی جائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ابوصباح ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

9705

Majma al-Zawaid #9705

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَوْ كَانَ ثَابِتٌ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ رِقٌّ كَانَ الْيَوْمَ إِنَّمَا هُوَ أُسَارٌ وَفِدَاءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reported the Prophet, peace be upon him, said if bondage were ever affirmed upon any Arab, today there are only captives and ransom. > **"Had bondage been affirmed upon any of the Arabs, today there would be only captives and ransom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر عربوں میں کسی ایک پر غلامی ثابت ہو جاتی ‘ تو آج وہ یا تو اسیر ہوتے یا فدیہ میں ہوتے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے اور وہ کذاب ہے ۔

9706

Majma al-Zawaid #9706

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِنْدَهُ ابْنُ عَمْرٍو سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي، وَإِنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَذَكَرُ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْوَصَايَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi reported Umar ibn al-Khattab, leaning on Ibn Abbas with Ibn Amr and Said ibn Zayd present, said he had said nothing on kalalah, appointed no successor, and whoever of Arab captives survived to his death was free from Allah's wealth. Bequest of Umar, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوافع بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ان کے پاس حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات جان لو کہ میں نے کلالہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے اور میں نے اپنے بعد خلیفہ مقرر نہیں کیا ہے میری وفات کے وقت عربوں کے جتنے قیدی ہوں گے وہ اللہ کے مال میں سے آزاد شمار ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو اس سے پہلے وصیت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

9707

Majma al-Zawaid #9707

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَتَعَاطَى أَحَدُكُمْ أَسِيرَ أَخِيهِ فَيَقْتُلَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub, may Allah be pleased with him, reported the Messenger, peace be upon him, forbade snatching a brother's captive to kill him. > **"Let none of you pursue his brother's captive and kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کے اسیر کے در پے ہو کر اسے قتل نہ کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ثعلبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9708

Majma al-Zawaid #9708

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ «قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَ مُهَاجَرِهِ إِلَيْهَا فَوَافَيْنَاهُ يَضْرِبُ أَعْنَاقَ أُسَارَى عَلَى مَاءٍ قَلِيلٍ فَقَتَلَ عَلَيْهِ حَتَّى سَفَحَ الدَّمُ الْمَاءَ». قَالَ صَفْوَانُ: سَفَحَ: يَعْنِي: غَطَّى الْمَاءَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَعَلْقَمَةُ مَجْهُولٌ وَقَبْلَهُ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Alqamah ibn Hilal from his father from his grandfather came with men to the Messenger, peace be upon him, in Madinah after the migration, and found him striking necks of captives at scant water until blood covered the water. Historical report, prose only.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن ہلال اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے نبی اکرم ﷺ اس وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے یہ آپ کے مدینہ منورہ ہجرت کر لینے کے بعد کی بات ہے ‘ تو ہم نے نبی اکرم ﷺ کو پایا کہ آپ نے ایک تھوڑے سے پانی کے پاس موجود قیدیوں کی گردنیں اڑوا دیں آپ نے اس پانی کے پاس انہیں قتل کروایا یہاں تک کہ خون نے پانی کو ڈھانپ دیا ۔ صفوان کہتے ہیں : لفظ سفح کا مطلب یہ ہے کہ اس نے پانی کو ڈھانپ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے علقمہ نامی راوی مجہول ہے اس سے پہلے ایک راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

9709

Majma al-Zawaid #9709

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ ضَحِكْتُ؟ "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: "" رَأَيْتُ نَاسًا يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: "" قَوْمٌ يَسْبِيهِمُ الْمُهَاجِرُونَ فَيُدْخِلُونَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" قَوْمٌ مِنَ الْعَجَمِ يَسْبِيهِمْ "". وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ كَتَبَ عَنْهُ أَبُو حَاتِمٍ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى حَدِيثِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl, may Allah be pleased with him, reported the Messenger, peace be upon him, smiled and said he saw people driven to Paradise in chains; they were captives whom the Emigrants took and brought into Islam. > **"Why do you not ask me why I smiled?"** > **"I saw people being driven to Paradise in chains."** > **"A people whom the Emigrants take captive and bring into Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مسکرائے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں میں کس بات پر مسکرایا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ جنہیں بیڑیوں میں جنت کی طرف لے جایا جا رہا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں مہاجرین نے قیدی بنایا تھا ، اور پھر انہوں نے ان لوگوں کو اسلام میں داخل کروا دیا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ عجمیوں سے تعلق رکھنے والی وہ قوم جنہیں ان لوگوں نے قیدی بنا لیا ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی بشر بن سہل ہے ابوحاتم نے اس کے حوالے سے روایت نوٹ کی اور پھر اس کی حدیث کو پرے کر دیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9710

Majma al-Zawaid #9710

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: "" قَوْمٌ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ مُقَرَّنِينَ فِي السَّلَاسِلِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported the Messenger, peace be upon him, smiled one day and spoke of people driven to Paradise bound in chains. > **"A people driven to Paradise bound together in chains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ مسکرائے تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان لوگوں کی وجہ سے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جائے جائیں گے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9711

Majma al-Zawaid #9711

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَنْدَقِ فَأَخَذَ الْكَرْزِينَ فَحَفَرَ بِهِ فَصَادَفَ حَجَرًا فَضَحِكَ قِيلَ: مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: "" ضَحِكْتُ مِنْ نَاسٍ يُؤْتَى بِهِمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي النُّكُولِ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" يُؤْتَى بِهِمْ إِلَى الْجَنَّةِ فِي كُبُولِ الْحَدِيدِ "".

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad, may Allah be pleased with him, reported at the Trench with the Prophet, peace be upon him, the pick struck rock and he smiled, speaking of people brought from the east in fetters driven to Paradise. > **"I smiled at people brought from the east in fetters, driven to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں خندق میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھا آپ نے پھاؤڑا پکڑا ‘ اور اس کے ذریعے کھدائی شروع کی ‘ آپ کی ضرب ایک پتھر پر لگی تو آپ مسکرا دیے ‘ عرض کی گئی : آپ کس بات پر مسکرائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں اُن ( لوگوں ) کی اس بات پر مسکرایا ہوں جنہیں مشرق کی طرف سے بیٹریوں میں لایا جائے گا ‘ اور انہیں جنت کی طرف لے جایا جائے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ انہیں لوہے کی بیڑیوں ( یا زنجیروں ) میں جنت کی طرف لے جایا جائے گا ‘‘۔

9712

Majma al-Zawaid #9712

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: «يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ كَارِهُونَ». وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In his narration: they are driven to Paradise while unwilling. Short report completing the prior, prose with speech. > **"They are driven to Paradise while they are unwilling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ انہیں زبردستی جنت کی طرف لے جایا جائے گا ‘‘۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن ابویکی اسلمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9713

Majma al-Zawaid #9713

عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَرِيَّةً فَأُتِيَ بِنَاسٍ مِنَ الْأَعْرَابِ فَادَّعَى الْإِسْلَامَ بَعْضُهُمْ فَقَالَ: "" مَنْ شَهِدَ لَكَ؟ "" قَالَ: عَبَّادٌ. قَالَ: "" يَا عَبَّادُ أَسَمِعْتَهُ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ. وَتَأْتِي قِصَّةُ الْعَبَّاسِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ.

EnglishUnverified translation

Abbad ibn Amr reported the Messenger, peace be upon him, sent a detachment, Bedouins were brought, one claimed Islam; asked for witness he named Abbad, who affirmed hearing the testimony, so the Messenger freed them. > **"Who testifies for you?"** > **"O Abbad, did you hear him?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباد بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم روانہ کی کچھ دیہاتی لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا ان میں سے کسی نے اسلام کا دعوی کیا تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے حق میں کون گواہی دے گا ؟ حضرت عباد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عباد ! کیا تم نے اسے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے اس کو اس بات کی گواہی دیتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو آزاد قرار دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو غزوہ بدر کے موقع کے بارے میں ہے وہ آگے آئے گا ۔

9714

Majma al-Zawaid #9714

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَا مُعَاذُ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ عَلَى يَدَيْكَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ دُوَيْدَ بْنَ نَافِعٍ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْإِيمَانِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reported the Prophet, peace be upon him, said Allah guiding one polytheist through him is better than red camels. > **"O Muadh, that Allah guide through your hands a man of the polytheists is better for you than red camels."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اے معاذ ! اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے کسی ایک شخص کو ہدایت نصیب کر دے جس کا تعلق مشرکین سے ہو یہ تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تمہیں سرخ اونٹ ملیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ دوید بن نافع نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الایمان میں پہلے گزر چکی ہیں ۔