Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 2 · Chapter 10

Book of Knowledge

Hadith 832–871

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

832

Majma al-Zawaid #832

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ، وَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَاتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ [بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ]، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَاتِلُونَ عَنْ دِينِهِ، فَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدُ اللَّهِ سَيِّئٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوثَقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Indeed, Allah, the Mighty and Sublime, looked into the hearts of His servants and found the heart of Muḥammad ﷺ to be the best of all hearts, so He chose him for Himself and sent him with His messages. Then He looked into the hearts of His servants after the heart of Muḥammad ﷺ, and found the hearts of his Companions to be the best of the hearts of servants, so He made them the ministers of His Prophet ﷺ, fighting for His religion. Therefore, whatever the Muslims view as good is good in the sight of Allah, and whatever the Muslims view as bad is bad in the sight of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر کی ، تو اس نے حضرت محمد ﷺ کے دل کو تمام بندوں کے دلوں سے زیادہ بہتر پایا ، تو انہیں اپنی ذات کے حوالے سے منتخب کر لیا ، اور اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا ، پھر اس نے ( حضرت محمد ﷺ کے دل کے بعد ) بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا ، تو ان کے اصحاب کے دلوں کو تمام بندوں کے دلوں سے زیادہ بہتر پایا ، تو انہیں اپنے نبی کا وزیر بنا دیا ، جو اس کے دین کے حوالے سے جنگ کرتے ہیں ، مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھیں ، وہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی شمار ہو گی ، اور مسلمان جس چیز کو برا سمجھیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی بری شمار ہو گی ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

833

Majma al-Zawaid #833

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَرَضَ لَنَا أَمْرٌ لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْكَ؟ قَالَ: "" تَجْعَلُونَهُ شُورَى بَيْنَ الْعَابِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا تَقْضُونَهُ بِرَأْيِ خَاصَّةٍ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي بَابِ الْقِيَاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: I said: "O Messenger of Allah, what is your instruction if an affair confronts us regarding which no Qur'an has been revealed and no Sunnah from you has been established?" He ﷺ said: > **"You shall make it a matter of mutual consultation (shūrā) among the devout worshippers from among the believers, and do not decide it based on individual opinion alone."** [The narrator then mentioned the rest of the hadith, which appears in full in the chapter on Qiyās.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ درپیش ہوتا ہے ، جس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہوا ہو ، اور اس کے حوالے سے آپ کی طرف سے کوئی سنت بھی موجود نہ ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اسے اہل ایمان میں سے ، عبادت گزار افراد کے درمیان باہمی مشورے کے لیے پیش کر دینا ، اور تم اس کے حوالے سے بطور خاص کسی ایک کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہ دینا ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ، یہ مکمل حدیث ، قیاس سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے ، امام بخاری فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔

834

Majma al-Zawaid #834

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ نَزَلَ بِنَا أَمْرٌ لَيْسَ فِيهِ بَيَانُ أَمْرٍ وَلَا نَهْيٍ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "" شَاوِرُوا [فِيهِ] الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِينَ، وَلَا تَمْضُوا فِيهِ رَأْيَ خَاصَّةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه narrated: I said: "O Messenger of Allah, if an affair befalls us in which there is no explicit command or prohibition, what do you instruct me to do?" He ﷺ replied: > **"Consult concerning it the jurists (fuqahāʾ) and the devout worshippers, and do not enforce regarding it the personal opinion of an individual."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ درپیش ہوتا ہے ، جس کے بارے میں کوئی حکم یا ممانعت موجود نہ ہو ، تو پھر آپ مجھے اس کے حوالے سے کیا ہدایت کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد اور عبادت گزاروں سے مشورہ لینا ، اور اس کے بارے میں کسی مخصوص شخص کی رائے کو جاری نہ کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور وہ صحیح کے راویوں میں سے ہیں ۔

835

Majma al-Zawaid #835

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ»، فَقُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: مَا عَنَى بِذَلِكَ؟ قَالَ: نُبْلَ الرَّأْيِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, a man of Quraysh possesses twice the strength of a man from other than Quraysh."** The sub-narrator said: I asked al-Zuhrī: "What did he mean by that?" He replied: "Soundness and nobility of judgment."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قریش سے تعلق رکھنے والے افراد کو غیر قریش سے تعلق رکھنے والے فرد سے دگنی قوت عطا کی گئی ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے زہری سے دریافت کیا : اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : رائے کا پختہ ہوتا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

836

Majma al-Zawaid #836

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَمَّا أَرَادَ أَنْ يُسَرِّحَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَاسْتَشَارَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ - فَاسْتَشَارَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَوْلَا أَنَّكَ اسْتَشَرْتَنَا مَا تَكَلَّمْنَا، فَقَالَ: "" إِنِّي فِيمَا لَمْ يُوحَ إِلَيَّ كَأَحَدِكُمْ "". قَالَ: فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ، فَتَكَلَّمَ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْيِهِ، فَقَالَ: "" مَا تَرَى يَا مُعَاذُ ""، فَقُلْتُ: أَرَى مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ يَكْرَهُ فَوْقَ سَمَائِهِ أَنْ يُخْطِئَ أَبُو بَكْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو الْعَطُوفِ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ يَرْوِي عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ intended to dispatch Muʿādh to Yemen, he consulted a group of his Companions, among whom were Abū Bakr, ʿUmar, ʿUthmān, ʿAlī, Ṭalḥah, al-Zubayr, and Usayd ibn Ḥuḍayr رضي الله عنهم. He sought their advice, and Abū Bakr said: "Were it not that you asked our counsel, we would not have spoken." The Prophet ﷺ said: "In matters regarding which revelation has not been sent down to me, I am like any one of you." The people then spoke, each presenting his viewpoint. The Prophet ﷺ asked: "What do you think, O Muʿādh?" I said: "I hold the view expressed by Abū Bakr." Thereupon, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah above His heavens dislikes that Abū Bakr should make an error."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے اس بارے میں اپنے کچھ اصحاب سے مشورہ لیا ، جن میں حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہم شامل ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان حضرات سے مشورہ لیا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ نے ہم سے مشورہ طلب نہ کیا ہوتا ، تو ہم نے کلام نہیں کرنا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جن امور کے بارے میں میری طرف وحی نہ کی گئی ہو ، ان کے حوالے سے میں تم میں سے کسی ایک شخص کی مانند ہوں ، تو حاضرین نے گفتگو شروع کی اور ہر شخص نے اپنی رائے بیان کی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کی : میری وہی رائے ہے جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ آسمان کے اوپر اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر غلطی کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعطوف ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، یہ وضین بن عطاء سے روایات نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

837

Majma al-Zawaid #837

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطُوفُ فِي النَّخْلِ بِالْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: فِيهَا وَسْقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فِيهَا كَذَا وَكَذَا ""، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَمَا قُلْتُ فِيهِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُصِيبُ وَأُخْطِئُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، إِلَّا أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبِهَانِيَّ شَيْخَ الْبَزَّارِ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: The Messenger of Allah ﷺ was walking among the date-palm groves in Medina, and the people began estimating: "There is a wasq of fruit here." The Messenger of Allah ﷺ said: "There is such-and-such an amount." A man said: "Allah and His Messenger have spoken the truth." Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: > **"I am only a human being like you. Whatever I narrate to you from Allah is absolute truth; but whatever I say regarding worldly matters from my own judgment, I am only a human being—I may hit the mark or I may err."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ میں کھجور کے ایک باغ کا چکر لگا رہے تھے ، لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا ، اس کی پیداوار ایک وسق ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کی پیداوار اتنی اتنی ہو گی ، تو لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہاری مانند ایک بشر ہوں ، جو چیز میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بیان کروں ، وہ حق ہو گی ، اور جس کے بارے میں ، اپنی طرف سے بیان کروں ، تو میں ایک انسان ہوں ، میں ٹھیک رائے بھی دے سکتا ہوں اور غلطی بھی کر سکتا ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، صرف امام بزار کے استاد اسماعیل بن عبداللہ اصبہانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

838

Majma al-Zawaid #838

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَهُوَ الَّذِي لَا شَكَّ فِيهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whatever I inform you is from Allah, it is that concerning which there is no doubt whatsoever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس چیز کے بارے میں ، میں تمہیں یہ بتا دوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، تو وہ ایک ایسی چیز ہو گی ، جس میں کوئی شک نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احمد بن منصور رمادی ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، عبداللہ بن صالح نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

839

Majma al-Zawaid #839

وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ: "" مَا أَرَى هَذَا يُغْنِي شَيْئًا ""، فَتَرَكُوهَا ذَلِكَ الْعَامَ فَشَيَّصَتْ، فَأُخْبِرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِمَا يُصْلِحُكُمْ فِي دُنْيَاكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ passed by people cross-pollinating date-palms and said: "I do not think this avails anything." So they refrained from doing it that year, and the dates yielded unfertilized, shriveled fruit (shayṣ). When the Prophet ﷺ was informed of this, he said: > **"You know best what is conducive to your affairs in your worldly life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا ، جو کھجوروں کی پیوندکاری کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : میرے خیال میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس سال لوگوں نے اس عمل کو ترک کر دیا ، تو ان کی پیداوار کم ہو گئی ، نبی اکرم ﷺ کو یہ بات بتائی گئی ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو چیز تمہارے دنیاوی امور کے بارے میں زیادہ موزوں ہو ، اس کے بارے میں تم بہتر جانتے ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس مضمون کی روایت نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

840

Majma al-Zawaid #840

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَفَعَهُ - قَالَ: «لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيُدَعُ غَيْرَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما raised it to the Prophet ﷺ who said: > **"There is no one except that his statements may be accepted or rejected, except for the Prophet ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ نبی کے علاوہ اور کسی بھی شخص کے قول کو اختیار بھی کیا جا سکتا ہے اور ترک بھی کیا جا سکتا ہے ( یعنی نبی کے قول کو ترک نہیں کیا جا سکتا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

841

Majma al-Zawaid #841

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى بِضْعٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، أَعْظَمُهَا فِتْنَةً عَلَى أُمَّتِي قَوْمٌ يَقِيسُونَ الْأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ، فَيُحِلُّونَ الْحَرَامَ، وَيُحَرِّمُونَ الْحَلَالَ». قُلْتُ: عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"My Ummah will divide into seventy-odd sects. The greatest of them in terms of trial (fitnah) upon my Ummah will be a people who evaluate matters according to their personal opinions, thereby declaring lawful what is forbidden and declaring forbidden what is lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت ستر سے کچھ زیادہ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی ، اُن میں سے میری امت کے لیے زیادہ بڑی آزمائش والے وہ لوگ ہوں گے ، جو اپنی رائے کی بنیاد پر اُمور کو قیاس کریں گے اور وہ حرام کو حلال قرار دے دیں گے ، اور حلال کو حرام قرار دے دیں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

842

Majma al-Zawaid #842

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَعْمَلُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بُرْهَةً بِكِتَابِ اللَّهِ، ثُمَّ تَعْمَلُ بُرْهَةً بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ تَعْمَلُ بُرْهَةً بِالرَّأْيِ، فَإِذَا عَمِلُوا [بِالرَّأْيِ] فَقَدْ ضَلُّوا وَأَضَلُّوا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، مُتَّفَقٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"This Ummah will act for an era according to the Book of Allah; then it will act for an era according to the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ; and then it will act for an era according to personal opinion. When they act upon personal opinion, they will have gone astray and led others astray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ یہ امت ایک عرصے تک ، اللہ کی کتاب کے مطابق عمل کرتی رہے گی ، پھر ایک عرصے تک اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق عمل کرتی رہے گی ، اور پھر ایک عرصے تک رائے کے مطابق عمل کرتی رہے گی ، جب وہ لوگ ( رائے کے مطابق ) عمل کریں گے ، تو وہ گمراہ ہو جائیں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن زہری ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔

843

Majma al-Zawaid #843

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: «اتَّهِمُوا الرَّأْيَ عَلَى الدِّينِ ; فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَرُدُّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا آلُو عَنِ الْحَقِّ، وَذَاكَ يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ، وَالْكِتَابُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ: "" اكْتُبُوا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ""، فَقَالُوا: أَتَرَانَا إِذًا صَدَّقْنَاكَ بِمَا تَقُولُ، وَلَكِنِ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، قَالَ: فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَيْتُ عَلَيْهِمْ حَتَّى قَالَ لِي: "" يَا عُمَرُ، تَرَانِي قَدْ رَضِيتُ وَتَأْبَى "" قَالَ: فَرَضِيتُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَإِنْ كَانَ فِيهِمْ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه said: > **"Be suspect of your own opinion when it comes to religion! For indeed, I saw myself contesting the command of the Messenger of Allah ﷺ while intending nothing but the truth, and that was on the day of Abū Jandal. The treaty document was before the Messenger of Allah ﷺ and the delegates of Mecca. The Prophet ﷺ said: 'Write: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.' They replied: 'Do you suppose that we have affirmed your claim? Rather, write: In Your Name, O Allah.' The Messenger of Allah ﷺ agreed, while I vehemently objected against them, until he said to me: 'O ʿUmar, do you see that I have consented yet you refuse?' I replied: 'Then I too have consented.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دینی امور کے بارے میں رائے پر تہمت عائد کرو ! مجھے اپنے بارے میں یہ یاد ہے کہ میں نے ایک معاملے کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا حکم قبول نہیں کیا ، حالانکہ میں نے اس صورتحال میں حق کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی تھی ، یہ اُس دن کی بات ہے جب ( صلح حدیبیہ کے موقعہ پر ) ابوجندل کا واقعہ پیش آیا تھا ، نبی اکرم ﷺ اور اہل مکہ کے درمیان تحریری معاہدہ ہونے جا رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ تحریر کرو ! «بسم الله الرحمن الرَّحِيمِ» ( اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ) تو انہوں نے یہ کہا : کیا آپ ہمارے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ ہم نے آپ کے بیان کی تصدیق کر دی ہے ؟ آپ لکھیں : «باسمك اللهم» ( اے اللہ تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس بات پر تیار ہو گئے ، لیکن میں نے یہ بات نہیں مانی ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم دیکھ رہے ہو کہ میں راضی ہو گیا ہوں ، اور پھر بھی تم انکار کر رہے ہو ؟ حضرت عمر فرماتے ہیں : تو میں راضی ہو گیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان کے درمیان مبارک بن فضالہ نامی راوی موجود ہے ۔

844

Majma al-Zawaid #844

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ أُنْزِلَ عَلَيْهِ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1]، إِلَى آخِرِ الْقِصَّةِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَلِيُّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا، فَسُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ، وَأَسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا. وَيَا عَلِيُّ، إِنَّهُ يَكُونُ بَعْدِي فِي الْمُؤْمِنِينَ الْجِهَادُ "". قَالَ: عَلَامَ نُجَاهِدُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ؟ قَالَ: "" عَلَى الْإِحْدَاثِ فِي الدِّينِ، إِذَا مَا عَمِلُوا فِي الرَّأْيِ، وَلَا رَأْيَ فِي الدِّينِ ; إِنَّمَا الدِّينُ مِنَ الرَّبِّ: أَمْرُهُ وَنَهْيُهُ "". قَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنَّ عَرَضَ لَنَا أَمْرٌ لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ، وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْكَ؟ قَالَ: "" تَجْعَلُونَهُ شُورَى بَيْنَ الْعَابِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا تَقْضُونَهُ بِرَأْيِ خَاصَّةٍ، فَلَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا لَمْ يَكُنْ أَحَقَّ مِنْكَ ; لِقِدَمِكَ فِي الْإِسْلَامِ، وَقَرَابَتِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[صِهْرِكَ] وَعِنْدَكَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، وَقَبْلَ ذَلِكَ مَا كَانَ مِنْ بَلَاءِ أَبِي طَالِبٍ إِيَّايَ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى أَنْ أَرْعَى لَهُ فِي وَلَدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: When the Messenger of Allah ﷺ returned from the Battle of Ḥunayn, there was revealed to him: *"When the victory of Allah has come and the conquest..."* [al-Naṣr: 1], to the end of the narrative. The Messenger of Allah ﷺ said: "O ʿAlī ibn Abī Ṭālib! O Fāṭimah bint Muḥammad! The help of Allah and the conquest have come, and I have seen the people entering into the religion of Allah in multitudes. So glory be to my Lord and praise be to Him, and I ask His forgiveness; indeed, He is ever-accepting of repentance. And O ʿAlī, indeed after me there will be struggle among the believers." ʿAlī asked: "Upon what basis shall we fight believers who say, 'We have believed in Allah'?" The Prophet ﷺ said: > **"Against the innovations introduced into religion, when they act upon personal opinion; and there is no personal opinion in religion—the religion is only from the Lord: His commands and His prohibitions."** ʿAlī said: "O Messenger of Allah, what is your instruction if an affair confronts us regarding which no Qur'an has been revealed and no Sunnah from you has been established?" The Prophet ﷺ replied: > **"You shall make it a matter of mutual consultation (shūrā) among the devout worshippers from among the believers, and do not decide it based on individual opinion alone. If I were to appoint anyone as a successor, none would have been more entitled than you—due to your early acceptance of Islam, your kinship to the Messenger of Allah ﷺ, your being his son-in-law, having with you the Leader of the Women of the Believers, and before that, the trials Abū Ṭālib bore for my sake while the Qur'an was being revealed, so I am eager to honor him through his son."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے ، تو آپ پر یہ سورت نازل ہوئی : ’’ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی ۔‘‘ اس کے بعد پورا واقعہ ہے ( جس میں آگے چل کر یہ مذکور ہے : ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے علی بن ابوطالب ! اے فاطمہ بنت محمد ! اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ہے ، میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں ، تو میں اس حوالے سے اپنے پروردگار کے ہر عیب سے پاک ہونے کا اعتراف کرتا ہوں ، جو اُس کی حمد کے ہمراہ ہو ، اور میں اُس سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ، اے علی ! میرے بعد ایمان والوں کے ساتھ جہاد ہو گا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ایمان والے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ، اُن کے ساتھ کسی بنیاد پر ہم جہاد کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دین میں نئی چیزیں پیدا کرنے کی وجہ سے ( اُن کے ساتھ جہاد کیا جائیگا ) اُس وقت جب وہ رائے کی بنیاد پر عمل کریں گے اور دین میں رائے کی گنجائش نہیں ہے ، کیونکہ دین تو پروردگار کی طرف سے آیا ہے ، اس میں اُس کا حکم اور اس کی ممانعت چلے گی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر ہمارے سامنے کوئی ایسا معاملہ آ جاتا ہے ، جس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہوا ہو اور اس کے حوالے سے آپ کی کوئی سنت بھی موجود نہ ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس معاملے کو اہل ایمان میں سے عبادت گزار لوگوں کی شوریٰ میں پیش کرو گے ، تم اُس کے حوالے سے کسی ایک شخص کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہ دینا ، اگر میں نے کسی کو اپنا جانشین مقرر کرنا ہوتا ، تو تم سے زیادہ حقدار اور کوئی نہیں ہے ، کیونکہ تم نے شروع میں اسلام قبول کیا اور تم اللہ کے رسول کے ساتھ رشتے داری کا تعلق رکھتے ہو ( اور تم میرے داماد بھی ہو ) تمام جہانوں کی خواتین کی سردار تمہاری بیوی ہے ، اور پھر ان سب باتوں سے پہلے ، جناب ابوطالب کو میرے حوالے سے جن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ، اُس وقت جب قرآن نازل ہو رہا تھا ، تو میں اس بات کا بھی شدید خواہش مند ہوں کہ اُن کی نسبت کی وجہ سے ان کی اولاد کی دیکھ بھال کروں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے ، امام بخاری فرماتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔

845

Majma al-Zawaid #845

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى بَدَا فِيهِمْ أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، فَأَفْتَوْا بِالرَّأْيِ، فَضَّلُوا وَأَضَلُّوا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةَ وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَقَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The affairs of the Children of Israel remained upright and balanced until the offspring of foreign captives emerged among them, who issued religious verdicts based on personal opinion, thereby going astray and leading others astray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بنی اسرائیل کا معاملہ ہمیشہ اعتدال کا شکار رہا ، یہاں تک کہ اُن کے درمیان دیگر اقوام کے قیدیوں کے بچے آ گئے ، تو انہوں نے رائے کی بنیاد پر حکم بیان کرنا شروع کیا ، وہ گمراہ ہوئے اور انہوں نے ( دوسروں کو بھی ) گمراہ کیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن قطان کہتے ہیں : یہ سند حسن ہے ۔

846

Majma al-Zawaid #846

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يُوشِكُ أَنْ تَرَوْا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ، يَسْمَعُ أَحَدُهُمُ الْحَدِيثَ فَيَقِيسُهُ عَلَى غَيْرِهِ، فَيُضِلُّ النَّاسَ عَنِ اسْتِمَاعِهِ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي يُحَدِّثُ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ أَبُو الصَّبَاحِ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Soon you will see devils among mankind; one of them hears a hadith and then measures it by analogy against something else, thereby misleading the people away from listening to it from its companion who narrates it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب تم انسانوں سے تعلق رکھنے والے شیاطین کو دیکھو گے ، اُن میں سے کوئی ایک شخص حدیث سنے گا ، اور پھر اسے اس کے علاوہ پر قیاس کرے گا ، اور پھر وہ لوگوں کو اس چیز کے حوالے سے گمراہ کر دے گا کہ انہوں نے وہ حدیث جس شخص سے سنی تھی ، جس نے یہ حدیث بیان کی تھی ( یعنی وہ لوگ اُس کے بیان کی پیروی نہیں کریں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ابوالصباح ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

847

Majma al-Zawaid #847

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِيَّاكُمْ وَأَرَأَيْتَ وَأَرَأَيْتَ ; فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَرَأَيْتَ وَأَرَأَيْتَ، وَلَا تَقِيسُوا شَيْئًا بِشَيْءٍ ; فَتَزِلُّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا، فَإِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ: لَا أَعْلَمُ ; فَإِنَّهُ ثُلْثُ الْعِلْمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَالشَّعْبِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī reported: Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Beware of saying, 'What do you think? What do you think?' (speculative hypotheticals), for those who came before you were only ruined by saying, 'What do you think? What do you think?' And do not measure one thing against another by analogy, lest a foot slip after having been firmly placed. So when one of you is asked about that which he does not know, let him say, 'I do not know,' for indeed that is one-third of knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ کہنے سے بچو : آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیونکہ تم سے پہلے کہ لوگ یہ کہنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے ، کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ کی کیا رائے ہے ؟ اور تم کسی ایک چیز کو دوسری پر قیاس نہ کرو ، کیونکہ اس کے ثبوت کے بعد قدم پھسل جائیں گے ، جب کسی شخص سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے ، جس کا وہ علم نہ رکھتا ہو ، تو اسے یہ کہہ دینا چاہیے : میں علم نہیں کیونکہ یہ ( کہ دینا : کہ میں علم نہیں رکھتا ) یہ ایک تہائی علم ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام شعبی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

848

Majma al-Zawaid #848

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا أَقِيسُ شَيْئًا بِشَيْءٍ ; (فَتَزِلُّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"I do not measure anything against another by analogy, lest a foot slip after having been firmly placed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر قیاس نہیں کرتا ہوں ، کیونکہ اس کے ثبوت کے بعد قدم پھسل جاتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

849

Majma al-Zawaid #849

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، وَلَا عَامٌ خَيْرٌ مِنْ عَامٍ، وَلَا أُمَّةٌ خَيْرٌ مِنْ أُمَّةٍ، وَلَكِنْ ذَهَابُ عُلَمَائِكُمْ وَخِيَارِكُمْ، وَيُحَدِّثُ قَوْمٌ يَقِيسُونَ الْأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ ; فَيَنْهَدِمُ الْإِسْلَامُ وَيَنْثَلِمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"There is no year except that the one following it is worse than it; not that one year is inherently better than another, nor one people better than another, but rather through the passing away of your scholars and the best among you. Then a people will arise who judge matters by their own opinions, thereby demolishing and breaching the edifice of Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو بھی سال آئے گا ، اُس کے بعد والا ، اس سے زیادہ برا ہو گا ، کوئی سال کسی دوسرے سال سے بہتر نہیں ہوتا ، اور کوئی امت کسی دوسری امت سے بہتر نہیں ہوتی ، لیکن یہ ہے کہ تمہارے علماء اور تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے ، اور پھر ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی رائے کی بنیاد پر معاملات کو قیاس کریں گے ، تو وہ اسلام کو منہدم اور برباد کر دیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، یہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

850

Majma al-Zawaid #850

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا يُقَلِّدَنَّ أَحَدُكُمْ دِينَهُ رَجُلًا، فَإِنْ آمَنَ آمَنَ، وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ، وَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ مُقْتَدِينَ فَاقْتَدُوا بِالْمَيِّتِ ; فَإِنَّ الْحَيَّ لَا يُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"None of you should ever blindly imitate a man in his religion, such that if he believes, he believes, and if he disbelieves, he disbelieves. But if you must follow someone, then follow the dead, for indeed the living is not safe from fitnah (trial and temptation)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اپنے دین کے بارے میں کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کی تقلید نہ کرے ، یوں کہ اگر وہ ( دوسرا شخص ) ایمان لائے گا تو یہ بھی ایمان لائے گا ، اگر وہ کفر کرے گا ، تو یہ بھی کفر کرے گا ، اگر تم نے کسی کی ضرور ہی پیروی کرنی ہے ، تو تم میت کی پیروی کرو ! کیونکہ زندہ شخص کے بارے میں فتنے کا اندیشہ موجود رہتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

851

Majma al-Zawaid #851

وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَا يَكُونَنَّ أَحَدُكُمْ إِمَّعَةً، قَالُوا: وَمَا الْإِمَّعَةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: تَقُولُ: إِنَّمَا أَنَا مَعَ النَّاسِ، إِنِ اهْتَدَوُا اهْتَدَيْتُ، وَإِنْ ضَلُّوا ضَلَلْتُ، أَلَا لَيُوَطِّنَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ، عَلَى أَنْ كَفَرَ النَّاسُ أَنْ لَا يَكْفُرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: "None of you should ever be an *immaʿah* (a spineless conformist)." They asked, "And what is an *immaʿah*, O Abū ʿAbd al-Raḥmān?" He replied: > **"It is for you to say, 'I am only with the people: if they are guided, I am guided, and if they go astray, I go astray.' Beware! Let every one of you steel himself that even if all the people were to disbelieve, he would not disbelieve."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی بھی شخص "" امعۃ ‘‘ نہ بنے ! لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! ’’ امعۃ ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کہ تم یہ کہو : میں لوگوں کے ساتھ ہوں ، اگر وہ ہدایت حاصل کریں گے ، تو میں بھی ہدایت حاصل کر لوں گا ، اور اگر وہ گمراہ ہو گئے تو میں بھی گمراہ ہو جاؤں گا ، خبردار ! تم میں سے ہر ایک شخص اپنے من میں یہ طے کرے کہ اگر لوگوں نے کفر کیا ، تو وہ کفر نہیں کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

852

Majma al-Zawaid #852

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ، أَوْ رَجُلٌ يُضِلُّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، أَوْ مُصَوِّرٌ يُصَوِّرُ التَّمَاثِيلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ قِصَّةُ الْمُصَوِّرِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The people most severely punished on the Day of Resurrection are: a man who killed a prophet or was killed by a prophet, a man who misleads people without knowledge, or an image-maker who makes statues."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اُس شخص کو ہو گا ، جس نے کسی نبی کو شہید کیا ہو ، یا جس کو کسی نبی نے قتل کیا ہو ، اور وہ شخص جو علم نہ ہونے کے باوجود لوگوں کو گمراہ کرے ، اور وہ مصور ، جو تصویریں بناتا ہو گا ( انہیں بھی سب سے زیادہ سخت عذاب ہو گا ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے صرف تصویر بنانے والا کا ذکر ہوا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

853

Majma al-Zawaid #853

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: اتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا، فَقَدْ كُفِيتُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Follow and do not innovate, for indeed you have been sufficiently provided for."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( اسلاف کی ) پیروی کرو اور بدعت اختیار نہ کرو ، تمہاری کفایت ہو چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

854

Majma al-Zawaid #854

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عَلَى بَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى فَقَالَ: اخْرُجْ إِلَيْنَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَخَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ أَمْرًا ذَعَرَنِي، وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ، وَلَقَدْ ذَعَرَنِي، وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ، قَوْمٌ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يَقُولُ: سَبِّحُوا كَذَا وَكَذَا، احْمَدُوا كَذَا وَكَذَا. قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُمْ، فَقَالَ: مَا أَسْرَعَ مَا ضَلَلْتُمْ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْيَاءٌ، وَأَزْوَاجُهُ شَوَابٌّ، وَثِيَابُهُ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُغَيَّرْ، احْصُوا سَيِّئَاتِكُمْ، فَأَنَا أَضْمَنُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُحْصِيَ حَسَنَاتِكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Salamah reported: We were sitting at the door of Ibn Masʿūd رضي الله عنه between Maghrib and ʿIshāʾ when Abū Mūsā [al-Ashʿarī] رضي الله عنه arrived and said, "Come out to us, O Abū ʿAbd al-Raḥmān!" So Ibn Masʿūd رضي الله عنه came out, and Abū Mūsā said, "By Allah, nothing brought me out at this hour except that I witnessed a matter that alarmed me, though it appeared good, yet it alarmed me, though it appeared good: a group of people sitting in the mosque, and a man saying, 'Say *Subḥānallāh* such-and-such times, say *Al-ḥamdu lillāh* such-and-such times!'" ʿAmr said: So ʿAbdullāh departed and we went along with him until he came upon them. He said: > **"How swiftly you have rushed into error while the Companions of the Messenger of Allah ﷺ are still alive, his wives are still among you, and his garments and utensils have not even decayed! Count your evil deeds, for I guarantee on behalf of Allah that He will not let any of your good deeds be lost!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مغرب اور عشاء کے درمیان ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، انہوں نے فرمایا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ ہمارے پاس باہر تشریف لے آئیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر آ گئے ، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ اس وقت کیوں آئے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم میں نے ایک معاملہ دیکھا ، جس نے مجھے پریشان کر دیا وہ بات بھلائی کی ہے ، لیکن اس نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، اگرچہ وہ بات بھلائی کی ہے ، کچھ لوگ ایک مسجد میں اکٹھے بیٹھے تھے ، ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے : اتنی اتنی مرتبہ سبحان اللہ پڑھو ! اتنی اتنی مرتبہ الحمد للہ پڑھو ! راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چل پڑے ، ان کے ساتھ ہم بھی روانہ ہو گئے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے اور بولے : تم لوگ کتنی جلدی گمراہی کا شکار ہو گئے ہو ؟ حالانکہ اللہ کے رسول کے اصحاب ابھی زندہ ہیں ، آپ ﷺ کی ازواج موجود ہیں ، آپ ﷺ کے کپڑے اور برتن خراب نہیں ہوئے ہیں ، تم لوگ اپنی برائیاں شمار کرو ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ضمانت دیتا ہوں کہ وہ تمہاری نیکیاں شمار کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری ، امام احمد بن حنبل اور یحیی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

855

Majma al-Zawaid #855

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: بَلَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْمًا يَقْعُدُونَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ يَقُولُونَ: قُولُوا كَذَا، قُولُوا كَذَا. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنْ فَعَلُوا فَآذِنُونِي، فَلَمَّا جَلَسُوا أَتَوْهُ، فَانْطَلَقَ مَعَهُمْ، فَجَلَسَ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ، فَأَخَذُوا فِي تَسْبِيحِهِمْ، فَحَسَرَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ رَأْسِهِ الْبُرْنُسَ وَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: لَقَدْ جِئْتُمْ بِدْعَةً ظُلْمًا، وَإِلَّا فَضَلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَتَفَرَّقُوا. قَالَ: وَرَأَى ابْنُ مَسْعُودٍ حَلْقَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَقَامَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: أَيَّتُكُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا؟ قَالَتْ إِحْدَاهُمَا: نَحْنُ. فَقَالَ لِلْأُخْرَى: قُومُوا إِلَيْهَا. فَجَعَلَهُمْ وَاحِدَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ. وَفِي بَعْضِ طُرُقِ الطَّبَرَانِيِّ الصَّحِيحَةِ الْمُخْتَصَرَةِ: فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مُتَقَنِّعًا فَقَالَ: مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ. إِنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ، أَوْ إِنَّكُمْ لَتَعْلَقُونَ بِذَنَبِ ضَلَالَةٍ. وَفِي رِوَايَةٍ لِعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ: فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَئِنِ اتَّبَعْتُمُ الْقَوْمَ، لَقَدْ سَبَقُوكُمْ سَبْقًا بَعِيدًا مُبِينًا، وَلَئِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا، لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا.

EnglishUnverified translation

Abū al-Bakhtarī reported: Word reached ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه that a group of people were sitting between Maghrib and ʿIshāʾ saying, "Say such-and-such, say such-and-such." ʿAbdullāh said, "If they do so, notify me." When they gathered, people came to him, so he went with them and sat down wearing a hooded cloak (*burnus*). When they began their chanting of glorification, ʿAbdullāh uncovered his head from the cloak and said, "I am ʿAbdullāh ibn Masʿūd!" The people fell silent. He said: > **"You have indeed brought forth an unjust innovation, or else have you surpassed in guidance the Companions of Muḥammad ﷺ?!"** ʿAmr ibn ʿUtbah ibn Farqad said, "I seek the forgiveness of Allah, O Ibn Masʿūd, and I turn to Him in repentance." So he ordered them to disperse. And Ibn Masʿūd once saw two circles in the mosque of Kufa, so he stood between them and asked, "Which of you was formed before the other?" One of them said, "We were." He said to the other, "Stand up and join them," and he made them into a single circle. In another narration, Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"If you adhere to the path of the people (the Companions), you will have outstripped everyone by a far and manifest margin; but if you take to the right and left, you will have strayed into far-reaching misguidance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبختری بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان بیٹھ کر ( ایک دوسرے کو ) یہ کہتے ہیں : تم یہ پڑھو ! تم یہ پڑھو ! حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب وہ ایسا کرنے لگیں گے ، تو تم لوگ مجھے بتا دینا جب وہ لوگ بیٹھ گئے ، تو دوسرے لوگ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر بیٹھ گئے ، اُنہوں نے ٹوپی لی ہوئی تھی ( یعنی اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا ) جب اُن لوگوں نے اپنی تسبیح شروع کی ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سر سے ٹوپی ہٹائی اور بولے : میں عبداللہ بن مسعود ہوں ، تو وہ لوگ خاموش ہو گئے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ظلم کے طور پر بدعت کا ارتکاب کیا ہے ، اگر ایسا نہ ہو ، تو تم ہم پر یعنی حضرت محمد کے اصحاب پر فضیلت رکھتے ہو ؟ تو عمرو بن عتبہ بن فرقد نے کہا : اے ابن مسعود ! میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بکھر جائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی مسجد میں دو حلقے دیکھے ، تو وہ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور دریافت کیا : تم دونوں میں سے کون سا حلقہ پہلے بنا تھا ؟ ایک حلقے کے افراد نے کہا : ہم ( پہلے حلقہ بنا کر بیٹھ گئے تھے ) تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دوسرے حلقے والوں سے کہا : تم لوگ اُٹھ کر ان کے ساتھ مل جاؤ ! تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ہی حلقہ بنا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطا بن سائب ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ امام طبرانی کے بعض مستند طرق میں یہ روایت اختصار کے ساتھ منقول ہے ( جس میں یہ الفاظ ہیں : ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سر ڈھانپ کر تشریف لائے ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھے جانتا ہے ، وہ تو جانتا ہی ہے ، اور جو مجھے نہیں جانتا ، تو میں عبداللہ بن مسعود ہوں ، کیا تم لوگ حضرت محمد ﷺ اور اُن کے اصحاب سے زیادہ ہدایت والے ہو ؟ یا پھر تم لوگ گمراہی کے گناہ کے ساتھ چمٹ گئے ہو ؟ عطاء بن سائب کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم قوم ( یعنی صحابہ کرام ) کی پیروی کرتے ، تو وہ تم سے بہت زیادہ اور واضح سبقت لے جا چکے ہیں ، اور اگر تم نے دائیں بائیں کا راستہ اختیار کیا ، تو تم بہت زیادہ گمراہی کا شکار ہو جاؤ گے ۔

856

Majma al-Zawaid #856

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ أَبِي إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ تَجَوَّزَ وَأَتَمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، وَإِذَا صَلَّى فِي الْبَيْتِ أَطَالَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَالصَّلَاةَ. قُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، إِذَا صَلَّيْتَ فِي الْمَسْجِدِ جَوَّزْتَ، وَإِذَا صَلَّيْتَ فِي الْبَيْتِ أَطَلْتَ؟ قَالَ: يَا بُنَيَّ، إِنَّا أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab ibn Saʿd reported: Whenever my father (Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه) prayed in the mosque, he would keep it concise while completing the bowing and prostrations properly; and whenever he prayed at home, he would lengthen the bowing, prostrations, and the prayer. I said, "O my father, when you pray in the mosque you keep it concise, and when you pray at home you lengthen it?" He replied: > **"O my son, indeed we are leaders who are taken as examples to be followed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں : میرے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) جب مسجد میں نماز ادا کرتے تھے تو مختصر ادا کرتے تھے ، تاہم وہ رکوع و سجود مکمل کرتے تھے ، اور جب وہ گھر میں نماز ادا کرتے تھے ، تو رکوع سجود اور نماز طویل ادا کرتے تھے ، میں نے کہا : اے ابا جان ! جب آپ مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں ، تو مختصر ادا کرتے ہیں ، اور جب آپ گھر میں نماز ادا کرتے ہیں تو طویل ادا کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! بیشک ہم ( یعنی صحابہ کرام ) پیشوا ہیں اور ہماری پیروی کی جائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

857

Majma al-Zawaid #857

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ إِذْ أَتَى بِرَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ مَسْكَنُهُ بِالسُّوسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَنْتَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانِ الْعَبْدِيُّ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَضَرَبَهُ بِعَصًا مَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ - إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ - نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ} [يوسف: 1 - 3] فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ثَلَاثًا وَضَرَبَهُ ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَسَخْتَ كُتُبَ دَانْيَالَ؟ قَالَ: مُرْنِي بِأَمْرِكَ أَتَّبِعُهُ. قَالَ: انْطَلِقْ فَامْحُهُ بِالْحَمِيمِ وَالصُّوفِ الْأَبْيَضِ، ثُمَّ لَا تَقْرَأْهُ أَنْتَ وَلَا تُقْرِئْهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، فَلَئِنْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قَرَأْتَهُ أَوْ أَقَرَأْتَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَأُنْهِكَنَّكَ عُقُوبَةً، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ. قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا هَذَا الَّذِي فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ؟ "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْمَرَّتْ وَجَنَتَاهُ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَغْضِبَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ، فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ، وَاخْتُصِرَ لِيَ اخْتِصَارًا، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، فَلَا تَتَهَوَّكُوا، وَلَا يُغْرُنَّكُمُ الْمُتَهَوِّكُونَ "". قَالَ عُمَرُ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِكَ رَسُولًا. ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Khālid ibn ʿUrfuṭah reported: I was sitting with ʿUmar [ibn al-Khaṭṭāb] رضي الله عنه when a man from ʿAbd al-Qays whose residence was in Sūs was brought to him. ʿUmar said to him, "Are you so-and-so, son of so-and-so al-ʿAbdī?" He said, "Yes." So ʿUmar struck him with a stick he had. The man said, "What is my offense, O Commander of the Faithful?" ʿUmar said to him, "Sit down." He sat down, and ʿUmar recited to him: *{Bismillāh al-Raḥmān al-Raḥīm. Alif-Lām-Rā. Those are the verses of the clear Book. Indeed, We have sent it down as an Arabic Qur'an that you might understand. We relate to you the best of stories in what We have revealed to you of this Qur'an, though you were before it among the unaware}* [Yūsuf: 1-3]. He recited it to him three times and struck him three times. The man asked, "What is my offense, O Commander of the Faithful?" ʿUmar said, "Are you the one who copied the books of Daniel?" The man replied, "Command me with your order and I shall follow it." ʿUmar said, "Go and efface it with hot water and white wool, and never read it yourself nor teach it to anyone among the people; for if it reaches me that you read it or had anyone read it, I shall severely punish you!" Then ʿUmar said to him, "Sit down." He sat before him, and ʿUmar said: "I once went and transcribed a book from the People of the Scripture, and I brought it inscribed upon leather. The Messenger of Allah ﷺ said to me, 'What is this in your hand, O ʿUmar?' I said, 'O Messenger of Allah, a book I copied to add knowledge to our knowledge.' The Messenger of Allah ﷺ became so angry that his cheeks flushed red. Then the call was made: *Al-Ṣalātu Jāmiʿah* (The prayer gathers us). The Anṣār said, 'Has your Prophet ﷺ been angered? To arms! To arms!' They came and surrounded the pulpit of the Messenger of Allah ﷺ. He ﷺ said: > **"O people, indeed I have been given the most comprehensive words and their conclusions, and matters have been summarized for me concisely. And I have brought it to you pure and white, so do not become bewildered, and let not the confused deceive you!"** ʿUmar said, "I stood up and said: 'I am well-pleased with Allah as my Lord, with Islam as my religion, and with you as my Messenger!' Thereupon the Messenger of Allah ﷺ stepped down."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا اور اُس کی رہائش گاہ ’’ سوس ‘‘ میں تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم فلاں بن فلاں عبدی ہو ؟ اُس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود عصا اُسے مارا ، اس شخص نے کہا : امیرالمؤمنین ! میرا کیا قصور ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں : الٓرٰ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں ، بے شک ہم نے تم پر عربی میں قرآن نازل کیا ہے ، تاکہ تم سمجھ بوجھ حاصل کرو ، ہم تمہارے سامنے بہترین قصہ بیان کرنے لگے ہیں ، اس کے حوالے سے ، جو ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے ، اگرچہ اس سے پہلے تم غافل لوگوں میں سے ایک تھے ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے سامنے ان آیات کو تین مرتبہ تلاوت کیا اور تینوں مرتبہ اُسے مارا ، اس نے دریافت کیا : امیرالمؤمنین میرا قصور کیا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو ، جس نے حضرت دانیال علیہ السلام کی کتابوں کا نسخہ نقل کیا تھا ؟ اس شخص نے کہا : آپ مجھے حکم دیں ، میں اُس کی پیروی کروں گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور اس تحریر کو گرم پانی اور صاف روئی کے ذریعے مٹا دو ! اور پھر کبھی اسے نہ پڑھنا ، اور نہ ہی کسی کو پڑھانا ، اگر تمہارے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ تم نے اُسے پڑھا ہے ، یا کسی کو پڑھایا ہے ، تو میں تمہیں سزا دوں گا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ ایک مرتبہ میں گیا ، اور میں نے اہل کتاب کی کتاب میں سے کچھ حصہ نقل کیا ، ایک چمڑے پر اُسے نوٹ کر کے میں لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : اے عمر ! تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک تحریر ہے جسے میں نے نقل کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے سے پہلے موجود معلومات میں اضافہ ہو جائے ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے ، پھر یہ اعلان کیا گیا : لوگ اکٹھے ہو جائیں ، انصار نے کہا : کیا تمہارے نبی غضبناک ہوئے ہیں ؟ ہتھیار سنبھالو ! ہتھیار سنبھالو ! وہ لوگ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے منبر کے گرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک مجھے جامع اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں ، میرے لیے اختصار کیا گیا ہے اور میں تمہارے پاس صاف اور واضح ہدایت لے کر آیا ہوں ، تو تم لوگ موشگافی کرنے والے نہ ہو جانا اور موشگافی کرنے والے لوگ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے یہ کہا : میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور آپ ﷺ کے رسول ہونے سے راضی ہوں ، پھر نبی اکرم ( منبر سے ) نیچے تشریف لے آئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، جسے امام احمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

858

Majma al-Zawaid #858

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: وَاللَّهِ [لَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ أَلْفَ كَلِمَةٍ تُحِبُّونِي عَلَيْهَا أَوْ تُتَابِعُونِي وَتُصَدِّقُونِي بِرًا مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ] لَوْ شِئْتُ لَحَدَّثْتُكُمْ أَلْفَ كَلِمَةٍ تُبْغِضُونِي عَلَيْهَا، وَتُجَانِبُونِي، وَتُكَذِّبُونِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه said: > **"By Allah, if I wished, I could narrate to you a thousand statements for which you would love me, follow me, and believe me, considering it righteousness from Allah and His Messenger; and if I wished, I could narrate to you a thousand statements for which you would hate me, shun me, and deem me a liar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر میں چاہوں تو میں تمہیں ایک ہزار کلمات بیان کر سکتا ہوں ، جن کی وجہ سے تم مجھ سے محبت رکھو گے ، اور تم اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بھلائی شمار کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے میرے پاس آؤ گے اور میری تصدیق کرو گے اور اگر میں چاہوں تو تمہیں ایک ہزار ایسی باتیں بیان کر سکتا ہوں ، جن کی وجہ سے تم مجھ سے بغض رکھو گے ، مجھ سے لاتعلقی اختیار کرو گے اور میری تکذیب کر دو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

859

Majma al-Zawaid #859

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ الَّذِي يُفْتِي النَّاسَ فِي كُلِّ مَا يَسْتَفْتُونَهُ فِيهِ مَجْنُونٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Indeed, the one who issues fatwas to the people on every single matter they ask him about is mad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص لوگوں کو ہر ایسے معاملے کے بارے میں فتویٰ دے دیتا ہے ، جس کے بارے میں لوگ اُس سے فتویٰ مانگتے ہیں ، تو ایسے شخص میں پاگل پن ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

860

Majma al-Zawaid #860

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُغْلَبُ، وَلَا يُخْلَبُ، وَلَا يُنَبَّأُ بِمَا لَا يَعْلَمُ، مَنْ يُرِدِ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَمَنْ لَمْ يُفَقِّهْهُ لَمْ يُبَالِ بِهِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى - وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُهُ فِي الدِّينِ» - وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, Allah—Mighty and Majestic is He—cannot be overcome, nor deceived, nor informed of that which He does not know. Whomever Allah intends good for, He grants him understanding in religion; and whomever He does not grant understanding, He pays no regard to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ کو مغلوب نہیں کیا جا سکتا اور اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ، اور اُسے کسی ایسی چیز کی اطلاع نہیں دی جا سکتی ، جس کا اسے علم نہ ہو ، جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لیتا ہے ، اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے ، اور جس شخص کو وہ دین کی سمجھ بوجھ عطا نہیں کرتا ہے ، اُس کی وہ کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور صحیح میں اس کا یہ حصہ منقول ہے : ’’ جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے ‘‘ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

861

Majma al-Zawaid #861

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اللَّهُمَّ لَا يُدْرِكُنِي زَمَانٌ - أَوْ لَا تُدْرِكُوا زَمَانًا - لَا يُتَّبَعُ فِيهِ الْعَلِيمُ، وَلَا يُسْتَحْيَا فِيهِ مِنَ الْحَلِيمِ، قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ أَلْسِنَتُهُمْ أَلْسِنَةُ الْعَرَبِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Allah, let not a time overtake me—or may you not reach a time—wherein the knowledgeable scholar is not followed, nor is modesty shown before the forbearing; their hearts are the hearts of non-Arabs while their tongues are the tongues of Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( یعنی آپ ﷺ نے یہ دعا کی : ) ’’ اے اللہ ! مجھے ایسا زمانہ نہ ملے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم لوگوں کو ایسا زمانہ نہ ملے جس میں صاحب علم کی پیروی نہ کی جائے ، جس میں بردبار شخص سے حیا نہ کی جائے ، لوگوں کے دل ، عجمیوں کے دلوں کی طرح ہوں گے اور ان کی زبانیں عربوں کی زبانوں جیسی ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

862

Majma al-Zawaid #862

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ كَلْبَةً كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُجِحًّا، فَضَافَ أَهْلُهَا ضَيْفٌ، فَقَالَتْ: لَا أَنَبَحُ ضَيْفَ اللَّيْلَةَ، فَعَوَى جَرْوُهَا فِي بَطْنِهَا، فَأُوحِيَ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلْبَةِ مِثْلُ أُمَّةٍ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ، يَسْتَعْلِي سُفَهَاؤُهَا عَلَى عُلَمَائِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرَوَى أَحْمَدُ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ: «يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا حُلَمَاءَهَا». - وَيَأْتِي فِي الْفِتَنِ، وَفِيهِ شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى. وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"There was a pregnant dog among the Children of Israel. A guest visited her owners, so she thought: 'I will not bark at the guest tonight.' But the puppies in her womb whimpered. Thereupon it was revealed to a man among them: 'The likeness of this female dog is like a nation that will come after you, whose foolish will overpower their scholars.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : بنی اسرائیل میں ایک کتیا تھی جو شور مچانے والی تھی ۔ ایک مرتبہ اس کے مالکان کے ہاں مہمان آ گئے ، تو اس نے یہ سوچا آج رات میں مہمان کی وجہ سے نہیں بھونکوں گی ، تو اس نے اپنے پلے کو پیٹ کے ساتھ لگا لیا ، تو اُن میں سے ایک شخص کی طرف یہ بات وحی کی گئی : کہ اُس کتیا کی مثال اس امت کی مانند ہے ، جو تم لوگوں کے بعد آئے گی ، جس کے بے وقوف لوگ ، اُس کے علماء پر غالب آ جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم امام احمد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں :” اُس کے بے وقوف لوگ اُس کے علماء پر غلبہ حاصل کر لیں گے ۔‘‘ یہ روایت فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب بن صفوان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

863

Majma al-Zawaid #863

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ «إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ، فَتَصَفَّحْتَ وُجُوهَهُمْ، فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يَهَابُ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فِيهِ الْبُخَارِيُّ: إِنَّهُ أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ. قَالَ فِيهِ الذَّهَبِيُّ: تَابِعِيٌّ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Busr رضي الله عنه said: I have heard a hadith since long ago: > **"When you are among a people of twenty men—fewer or more—and you scrutinize their faces, yet you do not see among them a single man who is held in awe for the sake of Allah—Mighty and Majestic—then know that the matter has indeed grown frail."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن بسر بیان کرتے ہیں : میں بڑے عرصے سے یہ حدیث سنتا رہا ہوں : کہ جب تم بیس ایسے افراد کے درمیان موجود ہو ، یا وہ افراد اس سے کم ہوں ، یا زیادہ ہوں ، اور تم اُن کے چہروں کا جائزہ لو ، اور اُن کے درمیان کوئی ایسا شخص نہ دیکھو ، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو ، تو تم یہ بات جان لو ! کہ معاملہ کمزور ہو گیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، ازہر بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام بخاری نے یہ کہا ہے : یہ ازہر بن سعید ہے ، اس کے بارے میں امام ذہبی نے یہ کہا ہے : یہ تابعی ہے اور حسن الحدیث ہے ۔

864

Majma al-Zawaid #864

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ يُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ - فَهُوَ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ: تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ، زَادَ الطَّبَرَانِيُّ: وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَقَالَ صَاحِبُ الْمِيزَانِ: لَا نَدْرِي مَنْ ذَا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever acquires knowledge to boast before the scholars, to dispute with the foolish, or to attract people's attention to himself, he is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "" جو شخص اس لئے علم حاصل کرے ، تاکہ اُس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرے ، یا اُس کے ذریعے جہلاء کے ساتھ بحث کرے ، اور لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لے ، تو وہ شخص جہنم میں جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن زیاد واسطی ہے ، امام طبرانی اور امام بزار فرماتے ہیں : سلیمان اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے "" میزان "" کے مصنف فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم یہ کون ہے ؟

865

Majma al-Zawaid #865

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ يُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ - فَهُوَ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever acquires knowledge to boast before the scholars or to dispute with the foolish, he is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ جو شخص اس لئے علم حاصل کرے ، تاکہ اُس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرے ، یا اُس کے ذریعے جہلاء کے ساتھ بحث کرے ، تو وہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

866

Majma al-Zawaid #866

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ يُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ فِي الْمَجَالِسِ - لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever seeks knowledge to boast before the scholars or to dispute with the foolish in gatherings will not even perceive the fragrance of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اس لئے علم حاصل کرے ، تاکہ اس کے ذریعے محافل میں علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرے ، یا جہلاء کے ساتھ بحث کرے ، تو وہ شخص جنت کی خوشبو نہیں پائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔

867

Majma al-Zawaid #867

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ: يَا بُنَيَّ، لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَتُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ كَمَا تَرَى.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Ḥusayn reported that it reached him that Luqmān the Wise عليه السلام used to say: > **"O my son, do not learn knowledge to boast before the scholars, nor to argue with the foolish, nor to show off with it in gatherings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : حکیم لقمان نے یہ کہا تھا : ’’ اے میرے بیٹے ! تم علم اس لیے حاصل نہ کرنا کہ تم اُس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرو ، یا اس کے ذریعے جہلاء کے ساتھ بحث کرو ، یا اُس کے ذریعے محافل میں دکھاوا کرو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔

868

Majma al-Zawaid #868

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ مَثَلَ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the likeness of knowledge that does not benefit is like a treasure from which nothing is spent in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایسا علم جو نفع نہ دے ، اُس کی مثال ایسے خزانے کی مانند ہے ، جسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

869

Majma al-Zawaid #869

عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَثَلُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ مَثَلُ الْفَتِيلَةِ، تُضِيءُ لِلنَّاسِ وَتَحْرِقُ نَفْسَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Barzah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The likeness of the one who teaches people good while forgetting himself is like the wick of a lamp: it illuminates for the people while burning itself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دے اور اپنے آپ کو بھول جائے ، اُس کی مثال چراغ کی بتی کی طرح ہے ، جو لوگوں کو روشنی فراہم کرتی ہے اور اپنے آپ کو جلا دیتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ اپنے حافظے کی خرابی اور اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔

870

Majma al-Zawaid #870

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ، وَمَنْ لَمْ يَنْفَعْهُ عِلْمُهُ ضَرَّهُ جَهْلُهُ، اقْرَأِ الْقُرْآنَ مَا نَهَاكَ، فَإِنْ لَمْ يُنْهِكْ فَلَسْتَ تَقْرَؤُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Many a bearer of understanding (fiqh) is not truly a jurist, and whomever his knowledge does not benefit, his ignorance harms him. Recite the Qur'an as long as it deters you from sin; for if it does not deter you, then you are not truly reciting it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بعض اوقات کوئی علمی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور جس شخص کا علم اسے نفع نہ دے ، اُس کی جہالت اسے نقصان پہنچاتی ہے ، تم قرآن کو اُس وقت تک پڑھو ، جب تک وہ تمہیں ( شرعی احکام کی خلاف ورزی سے ) روکے رکھے اگر وہ تمہیں ( شرعی احکام کی خلاف ورزی سے ) نہیں روکتا ، تو تم اُسے نہ پڑھو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، وہ ضعیف ہے ، تاہم اسے ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔

871

Majma al-Zawaid #871

وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «انْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى الْبَصْرَةِ حَتَّى أَتَيْنَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ: بَيْتُ الْمِسْكِينِ، وَهُوَ مِنَ الْبَصْرَةِ عَلَى مِثْلِ النَّوْبَةِ، فَقَالَ: هَلْ كُنْتُ تُدَارِسُ أَحَدًا الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا أَتَيْنَا الْبَصْرَةَ فَأْتِنِي بِهِمْ. فَأَتَيْتُهُ بِصَالِحِ بْنِ مِسْرَحٍ، وَبِأَبِي بِلَالٍ وَبِجَدِّهِ، وَنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ، وَهُمْ فِي نَفْسِي يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفَاضِلِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جُنْدُبٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَثَلُ الْعَالِمُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ السِّرَاجِ، يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَحُولَنَّ بَيْنَ أَحَدِكُمْ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَى أَبْوَابِهَا مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ أَهْرَاقَهُ ظُلْمًا "". قَالَ: فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ، فَذَكَرُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَهُوَ سَاكِتٌ يَسْمَعُ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ، قَوْمٌ أَحَقُّ بِالنَّجَاةِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Tamīmah reported: I set out with Jundub ibn ʿAbdillāh al-Azdī رضي الله عنه, the Companion of the Prophet ﷺ, toward Basra until we arrived at a place called Bayt al-Miskīn, which is at a distance of about a day's travel from Basra. He asked, "Did you use to teach anyone the Qur'an?" I replied, "Yes." He said, "When we reach Basra, bring them to me." So I brought him Ṣāliḥ ibn Musarriḥ, Abū Bilāl and his grandfather, and Nāfiʿ ibn al-Azraq—and in my estimation back then, they were among the finest people of Basra. He then began narrating to me from the Messenger of Allah ﷺ. Jundub said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The likeness of the scholar who teaches people good while forgetting himself is like a lamp that illuminates for the people while burning itself. And let none of you be barred from Paradise while looking at its gates on account of a handful of blood shed unjustly."** Abū Tamīmah said: The people then spoke, mentioning commanding good and forbidding evil, while Jundub remained silent listening to them. Then he said, "I have never seen people who are more deserving of salvation like these people today—if only they remain truthful!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوتمیمہ حضرت جندب بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں ، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، ابوتمیمہ بیان کرتے ہیں : میں اور وہ بصرہ کی طرف جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم ایک جگہ کے پاس پہنچے جس کا نام ” بیت مسکین ‘‘ تھا ، وہ بصرہ سے اُتنی ہی دور تھی ، جس طرح ’’ نوبہ ‘‘ ہے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے کبھی کسی کو قرآن پڑھایا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : جب ہم بصرہ پہنچ جائیں گے ، تو تم اُن لوگوں کو میرے پاس لے کر آنا ، تو میں اُن کے پاس صالح بن مسرح ، ابوبلال اور اس کے دادا اور نافع بن ازرق کو لے کر آیا ، میرے نزدیک یہ لوگ اُس وقت اہل بصرہ کے فاضل ترین لوگ تھے ، تو انہوں نے مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کیں ، حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو عالم لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے ، اُس کی مثال چراغ کی طرح ہے ، جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور اپنے آپ کو جلا لیتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ ( کہیں ایسا نہ ہو ) کہ جب کوئی شخص جنت کے دروازوں کی طرف دیکھ رہا ہو ، اُس وقت اس شخص اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون حائل ہو جائے ، جسے اُس نے ظلم کے طور پر بہایا تھا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حاضرین نے بات چیت شروع کی اور اُن لوگوں نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا ذکر کیا ، تو حضرت جندب رضی اللہ عنہ خاموش رہ کر ان کی باتیں سنتے رہے ، پھر انہوں نے فرمایا : میں نے آج کے دن کی طرح کے لوگ کبھی نہیں دیکھے ، جو نجات کے زیادہ حقدار ہوں ، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ سچے ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی اور بھی سند ہے جو باغیوں سے جنگ کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔