وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ إِذْ أَتَى بِرَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ مَسْكَنُهُ بِالسُّوسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَنْتَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانِ الْعَبْدِيُّ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَضَرَبَهُ بِعَصًا مَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ - إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ - نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ} [يوسف: 1 - 3] فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ثَلَاثًا وَضَرَبَهُ ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَسَخْتَ كُتُبَ دَانْيَالَ؟ قَالَ: مُرْنِي بِأَمْرِكَ أَتَّبِعُهُ. قَالَ: انْطَلِقْ فَامْحُهُ بِالْحَمِيمِ وَالصُّوفِ الْأَبْيَضِ، ثُمَّ لَا تَقْرَأْهُ أَنْتَ وَلَا تُقْرِئْهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، فَلَئِنْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قَرَأْتَهُ أَوْ أَقَرَأْتَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَأُنْهِكَنَّكَ عُقُوبَةً، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ. قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا هَذَا الَّذِي فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ؟ "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْمَرَّتْ وَجَنَتَاهُ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَغْضِبَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ، فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ، وَاخْتُصِرَ لِيَ اخْتِصَارًا، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، فَلَا تَتَهَوَّكُوا، وَلَا يُغْرُنَّكُمُ الْمُتَهَوِّكُونَ "". قَالَ عُمَرُ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِكَ رَسُولًا. ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ.
EnglishUnverified translation
Khālid ibn ʿUrfuṭah reported: I was sitting with ʿUmar [ibn al-Khaṭṭāb] رضي الله عنه when a man from ʿAbd al-Qays whose residence was in Sūs was brought to him. ʿUmar said to him, "Are you so-and-so, son of so-and-so al-ʿAbdī?" He said, "Yes." So ʿUmar struck him with a stick he had. The man said, "What is my offense, O Commander of the Faithful?" ʿUmar said to him, "Sit down." He sat down, and ʿUmar recited to him: *{Bismillāh al-Raḥmān al-Raḥīm. Alif-Lām-Rā. Those are the verses of the clear Book. Indeed, We have sent it down as an Arabic Qur'an that you might understand. We relate to you the best of stories in what We have revealed to you of this Qur'an, though you were before it among the unaware}* [Yūsuf: 1-3]. He recited it to him three times and struck him three times. The man asked, "What is my offense, O Commander of the Faithful?" ʿUmar said, "Are you the one who copied the books of Daniel?" The man replied, "Command me with your order and I shall follow it." ʿUmar said, "Go and efface it with hot water and white wool, and never read it yourself nor teach it to anyone among the people; for if it reaches me that you read it or had anyone read it, I shall severely punish you!" Then ʿUmar said to him, "Sit down." He sat before him, and ʿUmar said: "I once went and transcribed a book from the People of the Scripture, and I brought it inscribed upon leather. The Messenger of Allah ﷺ said to me, 'What is this in your hand, O ʿUmar?' I said, 'O Messenger of Allah, a book I copied to add knowledge to our knowledge.' The Messenger of Allah ﷺ became so angry that his cheeks flushed red. Then the call was made: *Al-Ṣalātu Jāmiʿah* (The prayer gathers us). The Anṣār said, 'Has your Prophet ﷺ been angered? To arms! To arms!' They came and surrounded the pulpit of the Messenger of Allah ﷺ. He ﷺ said: > **"O people, indeed I have been given the most comprehensive words and their conclusions, and matters have been summarized for me concisely. And I have brought it to you pure and white, so do not become bewildered, and let not the confused deceive you!"** ʿUmar said, "I stood up and said: 'I am well-pleased with Allah as my Lord, with Islam as my religion, and with you as my Messenger!' Thereupon the Messenger of Allah ﷺ stepped down."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا اور اُس کی رہائش گاہ ’’ سوس ‘‘ میں تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم فلاں بن فلاں عبدی ہو ؟ اُس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود عصا اُسے مارا ، اس شخص نے کہا : امیرالمؤمنین ! میرا کیا قصور ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں : الٓرٰ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں ، بے شک ہم نے تم پر عربی میں قرآن نازل کیا ہے ، تاکہ تم سمجھ بوجھ حاصل کرو ، ہم تمہارے سامنے بہترین قصہ بیان کرنے لگے ہیں ، اس کے حوالے سے ، جو ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے ، اگرچہ اس سے پہلے تم غافل لوگوں میں سے ایک تھے ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے سامنے ان آیات کو تین مرتبہ تلاوت کیا اور تینوں مرتبہ اُسے مارا ، اس نے دریافت کیا : امیرالمؤمنین میرا قصور کیا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو ، جس نے حضرت دانیال علیہ السلام کی کتابوں کا نسخہ نقل کیا تھا ؟ اس شخص نے کہا : آپ مجھے حکم دیں ، میں اُس کی پیروی کروں گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور اس تحریر کو گرم پانی اور صاف روئی کے ذریعے مٹا دو ! اور پھر کبھی اسے نہ پڑھنا ، اور نہ ہی کسی کو پڑھانا ، اگر تمہارے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ تم نے اُسے پڑھا ہے ، یا کسی کو پڑھایا ہے ، تو میں تمہیں سزا دوں گا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ ایک مرتبہ میں گیا ، اور میں نے اہل کتاب کی کتاب میں سے کچھ حصہ نقل کیا ، ایک چمڑے پر اُسے نوٹ کر کے میں لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : اے عمر ! تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک تحریر ہے جسے میں نے نقل کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے سے پہلے موجود معلومات میں اضافہ ہو جائے ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے ، پھر یہ اعلان کیا گیا : لوگ اکٹھے ہو جائیں ، انصار نے کہا : کیا تمہارے نبی غضبناک ہوئے ہیں ؟ ہتھیار سنبھالو ! ہتھیار سنبھالو ! وہ لوگ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے منبر کے گرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک مجھے جامع اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں ، میرے لیے اختصار کیا گیا ہے اور میں تمہارے پاس صاف اور واضح ہدایت لے کر آیا ہوں ، تو تم لوگ موشگافی کرنے والے نہ ہو جانا اور موشگافی کرنے والے لوگ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے یہ کہا : میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور آپ ﷺ کے رسول ہونے سے راضی ہوں ، پھر نبی اکرم ( منبر سے ) نیچے تشریف لے آئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، جسے امام احمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔