Jam-e-Tirmazi #3846
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ ، فَأَقُولُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُ: نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا ، وَيَقُولُ: مَنْ هَذَا ؟ ، فَأَقُولُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُ: بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا ، حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ ، فَقُلْتُ: هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمَاعًا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ. قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ.
English
Narrated Abu Hurairah: We camped with the Messenger of Allah (ﷺ) at a place, and the people began passing by. The Messenger of Allah (ﷺ) would say: 'Who is this, O Abu Hurairah?' So I would say: 'So-and-so.' So he would say: 'What an excellent slave of Allah this is.' And he would say: 'Who is this?' So I would say: 'So-and-so.' So he would say: 'What a bad slave of Allah this is.' Until Khalid bin Al-Walid passed, so he said: 'Who is this?' So I said: 'This is Khalid bin Al-Walid.' He said: 'What an excellent slave of Allah is Khalid bin Al-Walid, a sword from among the swords of Allah.'
اردو ترجمہ · Urdu
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک منزل پر پڑاؤ کیا، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں کہتا: فلاں ہے، تو آپ فرماتے: ”کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا“، پھر آپ فرماتے: ”یہ کون ہے؟“ تو میں کہتا: فلاں ہے تو آپ فرماتے: ”کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا ۱؎“، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ خالد بن ولید ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔