Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 99 · Chapter 1069

کتاب

الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

6174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6174

Zaeef

۔ (۶۱۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَقْطَعَ الزُبَیْرَ حُضْرَ فَرْسِہِ بِأَرْضٍ یُقَالَ لَھَا: ثُرَیْرٌ، فَأَجْرَی الْفَرَسَ حَتّٰی قَامَ ثُمَّ رَمٰی بِسَوْطِہِ، فَقَالَ: ((اَعْطُوْہُ حَیْثُ بَلَغَ السَّوْطُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ثریر نامی زمین سے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اتنی جگہ الاٹ کر دی، جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، پس انھوں نے گھوڑا دوڑایا،یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہو گیا تو انھوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اتنی جگہ دے دو، جہاں تک اس کا کوڑا پہنچا ہے۔

6175

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6175

Sahih

۔ (۶۱۷۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ: أَقْطَعَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا فَذَھَبَ الزُّبَیْرُ اِلٰی آلِ عُمَرَ فَاشْتَرٰی نَصِیْبَہُ فَأَتٰی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا وَاِنِّی اِشْتَرَیْتُ نَصِیْبَ آلِ عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَبْدُالرَّحْمٰنِ جَائِزُ الشَّھَادَۃِ، لَہُ وَعَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی، پھر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،آلِ عمر کے پاس گئے اور ان کا حصہ خرید کر سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور کہا: سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی تھی اور میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سچی شہادت والے ہیں، وہ ان کے حق میں ہے یا ان کی مخالفت میں۔

6176

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6176

Sahih

۔ (۶۱۷۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا الْأَنْصَارَ لِیُقْطِعَ لَھُمُ الْبَحْرَیْنِ، فَقَالُوْا: لَا، حَتّٰی تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا الْمُہَاجِرِیْنَ مِثْلَنَا، فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ أَثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کی زمین ان کو الاٹ کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، (ہم اس وقت تک یہ زمین نہیں لیں گے) جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی طرح کی جاگیر نہیں دیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تم میرے بعد اپنے آپ پر ترجیح کو پاؤ گے، پس صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات ہو جائے۔

6177

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6177

Sahih

۔ (۶۱۷۷)۔ عَنْ کُلْثُوْمٍ عَنْ زَیْنَبَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَّثَ النِّسَائَ خِطَطَھُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کو ان کے گھروں کا وارث بنایا تھا۔

6178

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6178

Sahih

۔ (۶۱۷۸)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَانَتْ زَیْنَبُ تَفْلِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہُ اِمْرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَعْظُوْنٍ وَنِسَائٌ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ یَشْکُوْنَ مَنَازِلَھُنَّ وَأَنَّہُنَّ یُخْرَجْنَ مِنْہُ وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِنَّ فِیْہِ، فَتَکَلَّمَتْ زَیْنَبُ وَتَرَکَتْ رَأْسَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکِ لَسْتِ تَکَلَّمِیْنَ بِعَیْنَیْکِ، تَکَلَّمِیْ وَاعْمَلِیْ عَمَلَکِ۔)) فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمَئِذٍ أَنْ یُوَرَّثَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ النِّسَائُ، فَمَاتَ عَبْدُ اللّٰہِ (بْنُ مَسْعُوْدٍ) فَوَرِثَتْہُ اِمْرَأَتُہُ دَارًا بِالْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)کلثوم کہتی ہیں: سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جوئیں نکال رہی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی اور کچھ مہاجر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں،یہ اپنے گھروں کے بارے میں شکایت کر رہی تھیں کہ (خاوند کی وفات کے بعد) ان کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر تنگی کر دی جاتی ہے، سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک چھوڑ کر بات کرنے لگ گئیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنی آنکھوں سے تو باتیں نہیں کرنی، بات بھی کرو اور اپنا کام بھی کرو۔ (یہ ساری باتیں سن کر) اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ عورتوں کو (ان کے مہاجر خاوندوں) کا وارث بنا یا جائے، پس جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ ان کے مدینہ والے گھر کی وارث بنیں۔

6179

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6179

Sahih

۔ (۶۱۷۹)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ اَبِیْہِ (وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ أَرْضًا قَالَ: فَاَرْسَلَ مَعِیَ مُعَاوِیَۃَ أَنْ أَعْطِہَا إِیَّاہُ أَوْقَالَ: اَعْلِمْہَا اِیَّاہُ۔ قَالَ: فَقَالَ لِیْ مُعَاوِیَۃُ: أَرْدِفْنِیْ خَلْفَکَ، فَقُلْتُ: لَا تَکُوْنُ مِنَ أَرْدَافِ الْمُلُوْکِ، قَالَ: فَقَالَ: أَعْطِنِیْ نَعْلَکَ، فَقُلْتُ: انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَۃِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِیَۃُ أَتَیْتُہُ فَأَقْعَدَنِیْ مَعَہُ عَلٰی السَّرِیْرِ فَذَکَّرَنِی الْحَدِیْثَ، فَقَالَ سِمَاکٌ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): فَقَالَ: وَدِدْتُ اَنِّیْ کُنْتُ حَمَلْتُہُ بَیْنَیَدَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک زمین الاٹ دی اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے یہ زمین دے سکیں یا اس کی نشاندہی کر سکیں۔ سیدنا وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو، لیکن میں نے کہا: اے معاویہ! آپ بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں (یا ان کے نائب بننے والوں میں سے) نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: تو پھر مجھے اپنا جوتا دے دو (تاکہ میں زمین کی شدت سے بچ سکوں)، میں نے کہا: اونٹنی کے سائے میں چل لو۔ پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے اورمیں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور مجھے یہ بات یاد کرا دی، میں نے کہا: اب تو میں یہ پسند کر رہا ہوں کہ کاش آپ کو اپنے سامنے بٹھا لیتا۔

6180

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6180

Sahih

۔ (۶۱۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَلَ أَھْلَ خَیْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ، فَکَانَ یُعْطِیْ أَزْوَاجَہُ کُلَّ عَامٍ مِائَۃَ وَسْقٍ، ثَمَانِیْنَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِیْنَ وَسْقًا مِنْ شَعِیْرٍ، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَمَ خَیْبَرَ فَخَیَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُقْطِعَ لَھُنَّ مِنَ الْأَرْضِ أَوْ یَضْمَنَ لَھُنَّ الْوُسُوْقَ کُلَّ عَامٍ، فَاخْتَلَفْنَ، فَمِنْہُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ یُقْطِعَ لَھَا الْأَرْضَ وَمِنْہُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوْقَ وَکَانَتْ حَفْصَۃُ وَعَائِشَۃُ مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوْقَ۔ (مسند احمد: ۴۷۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل خیبر سے کھیتی یا پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر سال اپنی بیویوں کو اسی وسق کھجوروں کے اور بیس وسق جو، یعنی کل سو وسق دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے اور خیبر کو تقسیم کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین الاٹ کر دی جائے یا (سابقہ روٹین کے مطابق) ہر سال ان کو وسق دے دیئے جائیں، امہات المؤمنین نے مختلف انداز اختیار کیے، بعض نے اس چیز کو پسند کیا کہ زمین ان کے نام الاٹ کر دی جائے اور بعض نے اس چیز کو ترجیح دی کہ ان کو وسق ہی دے دئیے جائیں، سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ان میں سے تھیں، جنھوں نے وسق پسند کیے تھے۔