Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 99 · Chapter 1067

کتاب

جو آدمی درخت لگا کر یا کنواں کھود کر زمین کو آباد کرتا ہے، اس کی حد ملکیت کتنی ہو گی؟

2 hadiths in this chapter

6165

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6165

Sahih

۔ (۶۱۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَرِیْمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُوْنَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالِیْہَا کُلِّہَا لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، وَابْنُ السَّبِیْلِ أَوَّلُ شَارِبٍ، وَلاَ یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ بِہِ الْکَلَأُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنویں کا احاطہ اس کی تمام اطراف سے چالیس ہاتھ ہو گا، یہ جگہ اونٹوں اور بکریوں کے بیٹھنے کے لیے ہو گی اور ایسے کنویں سے پینے والا پہلا شخص مسافر ہو گا اور زائد پانی سے اس مقصد کے لیے نہیں روکا جائے گا کہ اس کے ذریعے سے گھاس سے منع کر دیا جائے۔

6166

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6166

Sahih

۔ (۶۱۶۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی النَّخْلَۃِ أَوِ النَّخْلَتَیْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَیَخْتَلِفُوْنَ فِیْ حُقُوْقِ ذٰلِکَ، فَقَضٰی أَنَّ لِکُلِّ نَخْلَۃٍ مِنْ أُوْلٰئِکَ مَبْلَغَ جَرِیْدَتِہَا حَیِّزٌ لَھَا۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک یا دو یا تین کھجور کے درختوں کے بارے میں یہ فیصلہ کیا تھا، جبکہ لوگ ان کے حقوق کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ یہ کیا کہ ہر کھجور کی ٹہنیاں جہاں تک پہنچ رہی ہیں، وہ جگہ اسی درخت کا احاطہ ہو گا۔