Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 98 · Chapter 1065

ودیعت اور عاریہ کے مسائل

ودیعت اور عاریہ کے طور پر دی ہوئی چیزوں کی ضمانت کا بیان

7 hadiths in this chapter

6153

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6153

Sahih

۔ (۶۱۵۳)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَلٰی الْیَدِ مَا أَخَذَتْ حَتّٰی تُؤَدِّیَہِ۔)) ثُمَّ نَسِیَ الْحَسَنُ قَالَ: لا یَضْمَنُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ جوکچھ لیتا ہے، وہ اس وقت تک اس کے ذمہ رہتا ہے، جب تک اس کو ادا نہیں کر دیتا۔ پھر حسن بصری بھول گئے تھے کہنے لگے کہ وہ ضامن نہیں ہوتا۔

6154

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6154

Sahih

۔ (۶۱۵۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ لُقْمَانَ الْحَکِیْمَ کَانَ یَقُوْلُ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِذَا اسْتُوْدِعَ شَیْئًا حَفِظَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لقمان حکیم کہا کرتے تھے کہ جب کسی چیز کو اللہ تعالی کے سپرد کیا جاتا ہے تو وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔

6155

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6155

Sahih

۔ (۶۱۵۵)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ اُمَیَّۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسْتَعَارَ مِنْہُ یَوْمَ حُنَیْنٍ أَدْرُعًا، فَقَالَ: أَ غَصْبًا یَا مُحَمَّدُ! قَالَ: ((لَا، بَلْ عَارِیَّۃٌ مَضْمُوْنَۃٌ۔)) قَالَ: فَضَاعَ بَعْضُہَا فَعَرَضَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ اُضَمِّنَہَا لَہُ فَقَالَ: أَنَا الْیَوْمَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِی الْاِسْلَامِ أَرْغَبُ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حنین کے دن مجھ سے کچھ زرہیں ادھا ر لی تھیں۔ میں نے کہا: اے محمد! کیا ان کو غصب کر لیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ یہ ایسا عاریۃً ہے کہ جس کی ضمانت دی جارہی ہے۔ ہوا یوں کہ کچھ زرہیں ضائع ہو گئی تھیں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی ضمانت بھرنے کی پیشکش کی تو میں (صفوان) نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج کل تو میں اسلام کی رغبت رکھتا ہوں (سو اب میں یہ چٹی کیسے لے سکتا ہوں)۔

6156

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6156

Sahih

۔ (۶۱۵۶)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ اِذَا أَتَتْکَ رُسْلِیْ فَأَعْطِہِمْ أَوْ قَالَ: فَادْفَعْ إِلَیْہِمْ ثَلَاثِیْنَ دِرْعًا وَثَلَاثِیْنَ بَعِیْرًا أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ لَہُ: الْعَارِیَۃُ مُؤَدَّاۃٌیَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا صفوان بن یعلی ‌رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ جب تیرے پاس میرے قاصد آئیں تو انہیں تیس یا اس سے کم زرہیں اور تیس یا اس سے کم اونٹ دے دینا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ ایسا عاریۃً ہے، جو قابل واپسی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں ۔

6157

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6157

Sahih

۔ (۶۱۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھَلِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ خُطْبَۃِ عَامِ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((الْعَارِیَۃُ مُؤَدَّاۃٌ وَالْمِنْحَۃُ مَرْدُوْدَۃٌ وَالدَّیْنُ مَقْضِیٌّ وَالزَّعِیْمُ غَارِمٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبے میں فرمایا: خبردار! عاریہ (عارضی طور پر لی ہوئی چیز) واپس کی جائے گی، مِنْحَہ (وہ عطیہ جو استفادہ کے لیے کچھ مدت کے لیے دیا جائےوہ) بھی واپس کیا جائے گا، قرضہ چکایا جائے گا اور چیز کا ضامن اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو گا۔

6158

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6158

Zaeef

۔ (۶۱۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَرْبعٌ اِذَا کُنَّ فِیْکَ فَـلَا عَلَیْکَ مَا فَاتَکَ مِنَ الدُّنْیَا (مِنْہَا) حِفْظُ أَمَانَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار چیزیں ہیں، اگر وہ تجھ میں پائی جائیں گی تو دنیا کی کوئی چیز فوت ہو جانے سے تیرا کوئی نقصان نہیں ہو گا، (ان میں سے ایک چیز) امانت کی حفاظت ہے۔

6159

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6159

Sahih

۔ (۶۱۵۹)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِضْمَنُوْا لِیْ سِتًّا مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ وَأَدُّوْا اِذَا ائْتُمِنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں، (ان میں سے ایک چیزیہ ہے)جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کیا کرو۔