Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 94 · Chapter 1048

صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام

عمداً کیے گئے قتل کی دیت میں کمی بیشی کر کے صلح کروانے کا بیان

1 hadith in this chapter

6087

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6087

Sahih

۔ (۶۰۸۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ اِلٰی أَوْلِیَائِ الْقَتِیْلِ فَاِنْ شَائُ وْا قَتَلُوْا وَإِنْ شَائُ وْا أَخَذُوْا الدِّیَۃَ وَھِیَ ثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثُوْنَ جَذْعَۃً وَأَرْبَعُوْنَ خَلِفَۃً وَذٰلِکَ عَقْلُ الْعَمْدِ، وَمَا صَالَحُوْا عَلَیْہِ فَہُوَ لَھُمْ وَ ذٰلِکَ تَشْدِیْدُ الْعَقْلِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کرقتل کیا، اسے مقتول کے ورثاء کے سپرد کر دیا جائے گا، اگر وہ چاہیں اسے قتل کردیں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں اور دیت کی تفصیل یہ ہے کہ تیس حقّے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹیاں ہوں، یہ قتلِ عمدکی دیت ہے اور اس کے علاوہ وہ چیز بھی شامل ہے، جس پر صلح ہو جائے،یہ سخت دیت ہے۔