Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 93 · Chapter 1045

مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل

سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان

6 hadiths in this chapter

6077

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6077

Sahih

۔ (۶۰۷۷)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ھُرْمُزَ قَالَ: کَتَبَ نَجْدَۃُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَفِیْہِ: وَمَتٰییَنْقَضِییُتْمُ الْیَتِیْمِ؟ فَاَجَابَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِیْ عَنْ یُتْمِ الْیَتِیْمِ مَتٰییَنْقَضِیْ، وَلَعُمْرِیْ! أَنَّ الرَّجُلَ تُنْبِتُ لِحْیَتُہُ وَھُوَ ضَعِیْفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِہِ فَاِذَا کَانَ یَأْخُذُ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یََأْخُذُ النَّاسُ فقَدْ ذَھَبَ الیُتْمُ۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ یزید بن ہرمز کہتے ہیں: نجدہ نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے پانچ باتیں پوچھنے کے لیے ایک خط لکھا، … … ان میں ایک بات یہ تھی کہ یتیم کی یتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کے جواب میں لکھا: تونے مجھ سے سوال کیاہے کہ یتیم کی یتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، مجھے میری عمر کی قسم ہے کہ آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے معاملہ میں کمزور گر فت والا رہتاہے، جب وہ لوگوں کے معاملات میں سے اپنے لیے اچھی چیز کا انتخاب کر سکتا ہو تو اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی۔

6078

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6078

Sahih

۔ (۶۰۷۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ وَعَنِ الْیَتِیْمِ مَتٰییَنْقَضِیْیُتْمُہُ؟ قَالَ: اِذَا احْتَلَمَ وَأُوْنِسَ مِنْہُ خَیْرٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اور یتیم کے بارے میں سوال کیا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ انھوں نے کہا: جب وہ بالغ ہو جائے اور اس سے بھلائی محسوس کی جانے لگے۔

6079

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6079

Sahih

۔ (۶۰۷۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ یَرْجُمَ مَجْنُوْنَۃً، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَالَکَ ذٰلِکَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ عَنِ النَّائِمِ حَتّٰییَسْتَیْقِظَ وَعَنِ الْطِفْلِ حَتّٰییَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُوْنِ حَتّٰییَبْرَأَ أَوْیَعْقِلَ)) فَأَدْرَأَ عَنْہَا عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد:۱۱۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک پاگل عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ کو اس طرح کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے آدمی سے، یہاں تک کہ وہ بیدارہوجائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے اور پاگل سے، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے حد کو ہٹا دیا۔

6080

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6080

Sahih

۔ (۶۰۸۰)۔ عَنْ عَطِیَّۃَ الْقُرَظِیِّ قَالَ: عُرِضْتُ عَلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ قُرَیْظَۃَ فَشَکُّوْا فِیَّ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَنْظُرُوْا إِلَیَّ ھَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ؟ فَنَظَرُوْا فَلَمْ یَجِدُوْنِیْ أَنْبَتُّ فَخَلّٰی عَنِّیْ وَاَلْحَقَنِیْ بِالسَّبْیِ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عطیہ قرظی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے قریظہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا گیا، جب لوگوں کو میرے بالغ یا نابالغ ہونے میں شک ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیاکہ دیکھا جائے کہ آیا میرے زیر ناف بال اگے ہوئے ہیں یا نہیں، پس جب انھوں نے دیکھا کہ میرےیہ بال اگے ہوئے نہیں ہیں تو مجھے چھوڑ دیا اور قیدیوں میں شامل کر دیا۔

6081

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6081

Sahih

۔ (۶۰۸۱)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَضَہُ یَوْمَ أُحُدٍ وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشَرَۃَ فَلَمْ یُجِزْہُ، ثُمَّ عَرَضَہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَھُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ فَأَجَازَہُ۔ (مسند احمد: ۴۶۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ان کو غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا گیا، جبکہ ان کی عمر چودہ برس تھی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اجازت نہ دی، پھر ان کو پندرہ برس کی عمر میں غزوۂ خندق کے موقع پر پیش کیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت دے دی۔

6082

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6082

Sahih

۔ (۶۰۸۲)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِیْ ابْنَ سِیْرِیْنَ أَنَّ عَائِشَۃَ نَزَلَتْ عَلٰی صَفِیَّۃَ أُمِّ طَلْحَۃَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَھَا یُصَلِّیْنَ بِغَیْرِ خِمْرَۃٍ قَدْ حِضْنَ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَاتُصَلِّیَنَّ جَارِیَۃٌ مِنْہُنَّ اِلَّا فِیْ خِمَارٍ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیَّ وَکَانَتْ فِیْ حِجْرِیْ جَارِیَۃٌ فَأَلْقٰی عَلَیَّ حَقْوَہُ فَقَالَ: ((شُقِّیْہِ بَیْنَ ھٰذِہٖوَبَیْنَ الْفَتَاۃِ الَّتِیْ فِیْ حِجْرِ أُمِّ سَلَمَۃَ فَأِنِّیْ لَا أَرَاھَا اِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أَرَاھُمَا اِلَّا قَدْ حَاضَتَا۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ سیدہ ام طلحۂ طلحات صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئیں اور دیکھا کہ بالغہ بچیاں بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی تھیں، پس انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک دفعہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے ، جبکہ میری پرورش میں ایک لڑکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ازار مجھے دیا اورفرمایا: یہ لڑکی اور ام سلمہ کی تربیت میں پرورش پانے والے لڑکی،یہ ازار پھاڑ کر ان دونوں کو دے دو، کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں۔