Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 91 · Chapter 1033

قرض کے مسائل

ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان

4 hadiths in this chapter

6037

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6037

Sahih

۔ (۶۰۳۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَتَرَکَ مُدَبَّرًا وَدَیْنًا فَأَمَرَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبِیْعُوْہُ فِیْ دَیْنِہِ فبَاعُوْہُ بِثَمَانِ مِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا اور مدبر غلام اپنے ورثے میں چھوڑا، جبکہ وہ مقرو ض بھی تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس غلام کو اس کے قرض کی ادائیگی میں فروخت کردیں، پس انہوں نے اس کو آٹھ سو درہم میں فروخت کیا تھا۔

6038

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6038

Zaeef

۔ (۶۰۳۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْیَحْیٰی عَنْ اَبِیْہِ عَنِ ابْنِ اَبِیْ حَدْرَدٍ الْاَسْلَمِیِّ أَنَّہُ کَانَ لِیَہُوْدِیٍّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃُ دَرَاھِمَ فَاسْتَعْدٰی عَلَیْہِ فقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّ لِیْ عَلٰی ھٰذَا أَرْبَعَۃَ دَرَاھِمَ وَقَدْ غَلَبَنِیْ عَلَیْہَا، فَقَالَ: ((أَعْطِہِ حَقَّہُ۔)) قَالَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَقْدِرُ عَلَیْہَا، قَالَ: ((أَعْطِہِ حَقَّہُ۔)) قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَِدِہِ مَا أَقْدِرُ عَلَیْہَا، قَدْ أَخْبَرْتُہُ أَنَّکَ تَبْعَثُنَا اِلٰی خَیْبَرَ فَأَرْجُوْ أَنْ تُغْنِمَنَا شَیْئًا فَأَرْجِعُ فَأَقْضِیْہِ، قَالَ: ((أَعْطِہِ حَقَّہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا قَالَ ثَلَاثًا لَمْ یُرَاجِعْ، فَخَرَجَ بِہٖابْنُاَبِیْ حَدْرَدٍ اِلَی السُّوْقِ وَ عَلٰی رَأْسِہِ عِصَابَۃٌ وَھُوَ مُتَّزِرٌ بِبُرْدَۃٍ فَنَزَعَ الْعِمَامَۃَ عَنْ رَأْسِہِ فَاَتَّّزَرَ بِہَا وَنَزَعَ الْبُرْدَۃَ فقَالَ: اشْتَرِ مِنِّیْ ھٰذِہٖالْبُرْدَۃَ، فَبَاعَہَا مِنْہُ بِأَرْبَعَۃِ الدَّرَاھِمِ، فَمَرَّتْ عَجُوْزٌ، فَقَالَتْ: مَالَکَ یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ؟ فَاَخْبَرَھَا، فَقَالَتْ: دُوْنَکَ ھٰذَا بِبُرْدٍ عَلَیْہَا طَرَحَتْہُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابن ابو حدر د اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ایک یہودی کے چاردرہم دینے تھے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس میری شکایت لے کرگیااورکہا: اے محمد! ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس آدمی نے میرے چار درہم دینے ہیں، لیکن اب یہ مجھ پر غالب آ گیا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو حدرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اس کو اس کا حق ادا کرو۔ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میرے پاس گنجائش نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پھر فرمایا: اس کا حق اداکرو۔ انھوں نے دوبارہ کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے پاس گنجائش نہیں ہے، میں نے اس یہودی کو بتایاہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں خیبر کی جانب بھیج رہے ہیں، اس لیے ہمیں امید ہے کہ مال غنیمت حاصل ہوگا اور میں واپس آکر قر ض اداکر دوں گا، لیکن آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پھر حکم دیا اور فرمایا: اس کا حق اداکر دو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کوئی بات تین دفعہ ارشاد فرما دیتے تو اس کے بعد مزید تکرار نہیں کرتے تھے۔ سیدنا ابن ابی حدرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بازار گئے، سرپر ایک پگڑ ی تھی اور چادر کا تہبند باند ھ رکھاتھا، سر سے پگڑی اتاری اور اس کا تہبند باندھالیا اور چاد ر اتارلی اور آکر یہودی سے کہا: یہ چادر مجھ سے خرید لو، پس اس نے چار درہم میں یہ چادر خرید لی، اتنے میں وہاں سے ایک بڑھیا کا گزر ہوا، اس نے پوچھا: اے صحابیٔ رسول! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے اس کو ساری بات بتلائی، بڑھیا کے پاس ایک چادر تھی، اس نے اس کی بات سن کر وہ اس کی طرف پھینک دی اور کہا: یہ لے چادر۔

6039

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6039

Sahih

۔ (۶۰۳۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ تَقَاضَی ابْنَ أَبِی حَدْرَدٍ دَیْنًا کَانَ لَہُ عَلَیْہِ فِی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا حَتّٰی سَمِعَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ إِلَیْہِمَا حَتّٰی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِہِ فَنَادَی: ((یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ!)) فَقَالَ: لَبَّیْکَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَشَارَ إِلَیْہِ أَنْ ضَعْ مِنْ دَیْنِکَ الشَّطْرَ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُیَا رَسُولَ اللّٰہِ ! قَالَ: ((قُمْ فَاقْضِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن کعب سے مروی ہے کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا،یہ عہد ِ نبوی کی بات ہے، اس سلسلے میں ان کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں، جبکہ وہ مسجد میں تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سن لیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں تشریف فرماتھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور یوں آواز دی: اے کعب بن مالک! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، انھوں نے کہا: جی میں نے کردیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے ابن ابی حدرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اٹھو اور باقی قرض اداکردو۔

6040

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6040

Sahih

۔ (۶۰۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أُصِیْبَ رَجْلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ثِمَارٍ اِبْتَاعَہَا فَکَثُرَ دَیْنُہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقُوْا عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَبْلُغْذٰلِکَ وَفَائَ دَیْنِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا مَاوَجَدْتُمْ وَلَیْسَ لَکُمْ اِلَّا ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی نے پھل خریدا، لیکن اس پھل پر کوئی آفت آن پڑی، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت زیادہ مقروض ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ تو کیا، لیکن اس کی مقدار اس کے قرضے سے کم رہی، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ تمہیں مل رہا ہے، اُس کو لے لو اور اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں ہے۔