Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 91 · Chapter 1029

قرض کے مسائل

ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

6024

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6024

Sahih

۔ (۶۰۲۴)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَجْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَالِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ قُتِلْتُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْجَنَّۃُ۔)) فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ: (( اِلَّا الدَّیْنَ سَارَّنِیْ بِہٖجِبْرِیْلُ آنِفًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو انسان لوگوں سے (قرض وغیرہ کے طور پر) مال لیتا ہے اور اس کاارادہ واپس اداکرنے کا بھی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ادائیگی میں اس کی مدد کرتا ہے، لیکن جوانسان لوگوں کامال اس ارادہ سے لیتا ہے کہ اسے ضائع کر دے تو اللہ تعالی بھی اس کو تلف کر دیتا ہے۔

6025

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6025

Sahih

۔ 6025- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ (مسند احمد : 19288)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہما اپنے والد (عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ۔۔۔۔ پھر اسی طرح حدیث بیان کی۔

6026

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6026

Sahih

۔ (۶۰۲۶)۔ عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُتِیَ بِجَناَزَۃٍ فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ؟۔)) قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((نُصَلِّیْ عَلَیْہِ۔)) ثُمَّ أُتِیَ بِأُخْرٰی، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ؟)) قَالُوْا: لا، قَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، ثَلَاثَۃَ دَنَانِیْرَ، قَالَ: فَقَالَ بِأَصَابِعِہِ: ((ثَلَاثَ کَیَّاتٍ۔)) قَالَ: ثُمَّ أُتِیَ بِالثَّالِثَۃِ، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالُوْا: لا، قَالَ: ((فَصَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یُقَالُ لَہُ اَبُوْ قَتَادَۃَ): عَلَیَّ دَیْنُہُ،یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا اس میت نے کوئی قرضہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر ایک اورجنازہ لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: اس نے کچھ قرض چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، پھر فرمایا: کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تین دینار چھوڑے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگلیوں پر شمارکرتے ہوئے فرمایا: یہ آگ کے تین داغ ہیں۔ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ مقروض تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ مقروض تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ترکہ بھی چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر سیدنا ابوقتادہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔

6027

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6027

Zaeef

۔ (۶۰۲۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اَعْظَمَ الذُّنُوْبِ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَلْقَاہُ عَبْدٌ بِہَا بَعْدَ الْکَبَائِرِ الَّتِیْ نَہٰی عَنْہَا أَنْ یَمُوْتَ الرَّجُلُ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ لَا یَدَعَ لَہُ قَضَائً۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں (معروف) منہی عنہ کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑاگناہ یہ ہے کہ آدمی کو اس حال میں موت آئے کہ وہ مقروض ہو اور اس نے اسے اداکرنے کے لئے ترکہ بھی نہ چھوڑا ہو۔

6028

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6028

Zaeef

۔ (۶۰۲۸)۔ عَنْ صُہَیْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّمَا رَجُلٍ اِدَّانَ مِنْ رَجُلٍ دَیْنًا وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مِنْہُ أَنَّہُ لَا یُرِیْدُ أَدَائَہُ إِلَیْہِ فَغَرَّہُ بِاللّٰہِ، وَاسْتَحَلَّ مَالَہُ بِالْبَاطِلِ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّیَوْمَیَلْقَاہُ وَھُوَ سَارِقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی دوسرے شخص سے قرض لے اور اللہ تعالی اس کے بارے میں جانتا ہو کہ یہ ادا نہیں کرنا چاہتا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اللہ تعالی کے نام پر دھوکہ دیا اور باطل طریقے سے اس کا مال حاصل کیا، ایسا آدمی اللہ تعالی کو اس حال میں ملے گا کہ وہ چور ہو گا۔

6029

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6029

Sahih

۔ (۶۰۲۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ حَیْثُ تُوْضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ ظَہْرَیْنَا فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَصَرَہُ قِبلَ السَّمَائِ فَنَظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَہُ وَوَضَعَ یَدَہُ عَلٰی جَبْہَتِہِ ثُمَّ قَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! سُبْحَانَ اللّٰہِ! مَاذَ اَنْزَلَ مِنَ التَّشْدِیْدِ۔)) قَالَ: فَسَکَتْنَا یَوْمَنَا وَلَیْلَتَنَا فَلَمْ نَرَ اِلَّا خَیْرًا حَتّٰی أَصْبَحْنَا قَالَ مُحَمَّدُ: فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا التَّشْدِیْدُ الَّذِیْ نَزَلَ؟ قَالَ: ((فِی الدَّیْنِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ حَتّٰییَقْضِیَ دَیْنَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد کے صحن میں اس مقام پر بیٹھے ہوئے تھے، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے درمیان تشریف فرماتھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اچانک اپنی نگاہ کو آسمان کی جانب اٹھاکر دیکھا، پھر اپنی نظر جھکا لی اور اپنا دست مبارک اپنی پیشانی پر رکھا اور فرمایا: سبحان اللہ ! سبحان اللہ !کتنی سختی نازل ہو رہی ہے۔ ہم ایک دن رات تک تو خاموش رہے، جبکہ ہم نے خیر ہی پائی، اگلے دن جب صبح ہوئی تو سیدنا محمد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: وہ نازل ہونے والی سختی کون سی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قرض کے بارے تھی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے!اگر کوئی اللہ کی راہ میں قتل ہوجائے، پھر زندہ ہو، پھر اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر زندہ ہو، پھر قتل ہو، پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو، تو وہ جب تک قرض ادا نہیں کرے گا، اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔