Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 995

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے

7 hadiths in this chapter

5847

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5847

Sahih

۔ (۵۸۴۷)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُبَاعُ ثَمْرَۃٌ بِتَمْرٍ وَلَا تُبَاعُ ثَمَرَۃٌ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا)) قَالَ: فَلَقِیَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ عبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ: رَخَّصَ رسَُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعَرَایَا، قَالَ سُفْیَانُ: اَلْعَرَایَا، نَخْلٌ کَانَتْ تُوْھَبُ لِلْمَسَاکِیْنِ فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ أَنْ یَنْتَظِرُوْا بِہَا فَیَبِیْعُوْنَہَا بِمَا شَاؤُوْا مِنْ تَمْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درخت پر لگا ہوا پھل کھجوروں کے عوض فروخت نہ کیا جائے اور کوئی بھی پھل اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک اس کی صلاحیت نمایا ں نہ ہوجائے۔ پھر جب سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو ملے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع عرایا کی رخصت دی ہے۔امام سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرایا کی صورت یہ ہے کہ کھجور کا درخت مسکینوں کو ہبہ کیا جاتا، لیکن وہ زیادہ انتظار نہ کر سکتے تھے، اس لیے اسی درخت کے پھل کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی پھل لے کر بیچ دیتے تھے۔

5848

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5848

Sahih

۔ (۵۸۴۸)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِی الْعَرَایَا أَنْ تُشْتَرَی بِخَرْصِہَا یَاْکُلُہَا أَھْلُہَا رُطَبًا۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے عو ض فروخت کرنے سے منع کیا، البتہ بیع عرایا کی رخصت دی ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ انداز ے سے پھل خرید لیا جائے، اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا لیں گے۔

5849

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5849

Sahih

۔ (۵۸۴۹)۔ عَنْ زَیدِ بنِ َثابتٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَخَّصَ فِی الْعَرِیَّۃِ أَنْ تُؤْخَذَ (وَفِیْ لَفْظٍ: أَنْ تُبَاعَ) بِمِثْلِ خَرْصِہَا تَمْرًا (وَفِیْ لَفْظٍ: بِمِثْلِ خَرْصِہَا کَیْـلًا) یَاْکُلُہَا أَھْلُہَا رُطَبًا، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَمْیُرَخِّصْ فِیْ غَیْرِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع عریہ کی رخصت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ اندازے سے ماپ شدہ کھجوروں کے عوض (درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لینا)، یہ لوگ (مالک) تازہ کھجوریں کھا لیں گے، (ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ)اس کے علاوہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی رخصت نہیں دی۔

5850

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5850

Sahih

۔ (۵۸۵۰)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِیْ الْعَرِیَّۃِ، قَالَ: وَالْعَرِیَّۃُ النَّخْلَۃُ وَالنَّخْلَتَانِ یَشْتَرِیْہِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِہِمَا مِنَ التَّمْرِ فَیَضْمَنُہُمَا فَرَخَّصَ فِیْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عریہ میں اجازت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض کھجور کے ایک دو درخت خریدتا ہے، پھر وہ ان درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں رخصت دی ہے۔

5851

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5851

Sahih

۔ (۵۸۵۱)۔ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ مَوْلٰی بَنِیْ حَارِثَۃَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیْجٍ وَسَہْلَ بْنَ اَبِیْ حَثْمَۃَ حَدَّثَاہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ، اَلثَّمَرُ بِالتَّمْرِ اِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَایَا، فَاِنَّہُ قَدْ أَذِنَ لَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بنو حارثہ کے غلام بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے، اس بیع میں (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں عرایا والوں کو اجازت دی گئی ہے۔

5852

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5852

Sahih

۔ (۵۸۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَایَا أَنْ یَبِیْعُوْھَا بِخَرْصِہَا یَقُوْلُ: ((اَلْوَسْقَ وَالْوَسْقَیْنِ وَالثَّلاثَۃَ وَالْأَرْبَعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرایاوالوں کو ایک سے چار وسق تک اجازت دی ہے کہ وہ اتنی مقدار تک اندازے سے بیچ سکتے ہیں۔

5853

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5853

Sahih

۔ (۵۸۵۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ فِی الْعَرَایَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِہَا فِیْ خَمْسَۃِ أَوْسَقٍ أَوْ فِیِْمَا دُوْنَ خَمْسَۃٍ۔ (مسند احمد: ۷۲۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرایا میں رخصت دی ہے، اس میں پانچ وسق تک یا اس سے کم مقدار تک اندازے سے کے ساتھ پھل بیچا جا سکتا ہے۔