Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 993

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان

3 hadiths in this chapter

5834

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5834

Sahih

۔ (۵۸۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمُلَامَسَۃِ، وَالْمُلَامَسَۃُیُمَسُّ الثَّوْبُ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَمْسُ الثَّوْبِ لَا یُنْظَرُ اِلَیْہِ، وَعَنِ الْمُنَابَذَۃِ وَھُوَ طَرْحُ الرَّجُلِ الثَّوْبَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اِلَی الرَّجُلِ) بِالْبَیْعِ قَبْلَ أَنْ یُقَلِّبَہُ وَیَنْظُرَ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو صرف چھوا جائے اور اس کو (چیک کرنے کے لیے) دیکھا نہ جائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع منابذہ سے بھی منع فرمایا ہے اور منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی سودا کر کے کپڑے کو دوسرے کی طرف پھینک دے، قبل اس کے کہ وہ اس کو الٹ پلٹ کرے یا ا س کو دیکھے۔

5835

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5835

Sahih

۔ (۵۸۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ لِبْسَتَیْنِ وَعَنْ بَیْعَتَیْنِ (فَذَکَرَ الشَّطْرَ الْأَوَّلَ مِنَ الْحَدِیْثِ ثُمَّ قَالَ:) وَأَمَّا الْبَیْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَۃُ وَالْمُلَامَسَۃُ، وَالْمُنَابَذَۃُ، اَنْ یَقُوْلَ: اِذَا نَبَذْتُ ھٰذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَیْعُ، وَالْمُلَامَسَۃُ، أَنَّ یَمَسَّہُ بِیَدِہِ وَلَا یَلْبَسُہُ وَلَا یُقَلِّبُہُ اِذَا مَسَّہَ وَجَبَ الْبَیْعُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو قسم کے لباسوں اور دو قسم کی تجارتوں سے منع فرمایا ہے، (لباسوں کا ذکر دوسرے مقام پر کیاگیا ہے) دو تجارتیں یہ ہیں، ایک منابذہ اور دوسری ملامسہ، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کہے: جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں گا تو سودا پکا ہو جائے گا اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھوتا ہے، نہ وہ اس کو پہن کر چیک کرتا ہے اور نہ الٹ پلٹ کر کے، بس جب چھوتا ہے تو سودا پکا ہو جاتا ہے۔

5836

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5836

Sahih

۔ (۵۸۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ لِبْسَتَیْنِ وَعَنْ بَیْعَتَیْنِ (فَذَکَرَ الشَّطْرَ الْأَوَّلَ مِنَ الْحَدِیْثِ ثُمَّ قَالَ:) وَأَمَّا الْبَیْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَۃُ وَالْمُلَامَسَۃُ، وَالْمُنَابَذَۃُ، اَنْ یَقُوْلَ: اِذَا نَبَذْتُ ھٰذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَیْعُ، وَالْمُلَامَسَۃُ، أَنَّ یَمَسَّہُ بِیَدِہِ وَلَا یَلْبَسُہُ وَلَا یُقَلِّبُہُ اِذَا مَسَّہَ وَجَبَ الْبَیْعُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: رہا مسئلہ دو تجارتوں کا تو ایک ملامسہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں: تو میری طرف ڈال دے اور میں تیری طرف ڈال دیتا ہوں اور دوسری تجارت پتھر کا ڈالنا ہے۔