Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 987

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان

8 hadiths in this chapter

5788

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5788

Sahih

۔ (۵۷۸۸)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ فَرُّوْخٍ مَوْلَی الْقُرَشِیِّیْنَ أَنَّ عُثْمَانَ اشْتَرٰی مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا فَاَبْطَأَ عَلَیْہِ فَلَقِیَہُ فَقَالَ لَہُ: مَا مَنَعَکَ مِنْ قَبْضِ مَالِکَ؟ قَالَ: إِنَّکَ غَبَنْتَنِیْ فَمَا أَلْقٰی مِنَ النَّاسِ أَحَدًا اِلَّا وَھُوَ یَلُوْمُنِیْ، قَالَ: أَوَ ذٰلِکَ یَمْنَعُکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاخْتَرْ بَیْنَ أَرْضِکَ وَمَالِکَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَدْخَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ رَجُلًا، کَانَ سَہْلًا مُشْتَرِیًا وَبَائِعًا وَقَاضِیًا وَمُقْتَضِیًا۔)) (مسند احمد: ۴۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ قریشیو ں کے غلام عطاء بن فروخ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی سے زمین خریدی، لیکن اس آدمی نے ملنے میں تاخیر کی، پھر جب وہ ملا تو اس (عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) نے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنا مال قبضے میں لینے سے روک رکھا ہے؟ کہا: تم نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے، میں جس بندے کو ملتا ہوں، وہ مجھے ملامت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: کیایہ رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ اپنی زمین اور مال میں سے ایک چیز کو پسند کریں، پھرانھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کو جنت میں داخل کرے گا،جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، تقاضا چکاتے وقت یا تقاضا کرتے وقت نرم خوئی اختیار کرتا ہے۔

5789

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5789

Sahih

۔ (۵۷۸۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَاشْتَرٰی مِنِّیْ بَعِیْرًا فجَعَلَ لِیْ ظَہْرَہُ حَتّٰی أَقْدَمَ الْمَدِیْنَۃَ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَتَیْتُہُ بِالْبَعِیْرِ فَدَفَعْتُہُ إِلَیْہِ وَأَمَرَ لِیْ بِالثَّمَنِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ لَحِقَنِیْ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَدَا لَہُ، قَالَ: فَلَمَّا أَتَیْتُہُ دَفَعَ اِلَیَّ الْبَعِیْرَ وَقَالَ: ((ھُوَ لَکَ)) فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنَ الْیَہُوْدِ فَأَخْبَرْتُہُ، قَالَ: فَجَعَلَ یُعْجِبُ، قَالَ: فقَالَ: اشْتَرٰیمِنْکَ الْبَعِیْرَ وَدَفَعَ اِلَیْکَ الثَّمَنَ وَوَھَبَ لَکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا اور مدینہ منورہ تک مجھے اس پر سواری کر لینے کا حق دیا، جب میں مدینہ پہنچا تو میں اونٹ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اونٹ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوالے کر دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے قیمت دینے کا حکم دیا، جب میں واپس ہوا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پیچھے ہولئے، میں نے خیال کیا کہ شاید آپ کوئی بات کرنا چاہتے ہوں، جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضرہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ مجھے تھما دیا اور فرمایا: یہ بھی تیرے لیے ہے۔ پھر میرا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا، جب میں نے یہ ساری بات بتلائی تو وہ بڑا تعجب کرنے لگا، اس نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھ سے اونٹ خریدا ہے اور پھر قیمت ادا کر کے اونٹ بھی ہبہ کر دیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، بالکل ایسے ہی ہوا۔

5790

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5790

Sahih

۔ (۵۷۹۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰـہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَفَرَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ سَہْلًا اِذَا بَاعَ سَہْلًا اِذَا اشْتَرٰی سَہْلًا اِذَا قَضٰی سَہْلًا اِذَا اقْتَضٰی۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے ایک آدمی تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس بنا پر بخش دیا تھا کہ بیچتے وقت، خریدتے وقت، تقاضا دیتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی کرتا تھا۔

5791

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5791

Sahih

۔ (۵۷۹۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: أَیْ بِاَبِیْ وَأُمِّیْ اِنِّیْ اِبْتَعْتُ أَنَا وَابْنِیْ مِنْ فُلَانٍ ثَمْرَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مِنْ ثَمَرَۃِ أَرْضِہِ) فأَحْصَیْنَاہُ وَحَشَدْنَاہُ، لَا وَالَّذِیْ أَکْرَمَکَ بِمَا أَکْرَمَکَ بِہٖمَاأَصَبْنَامِنْہُشَیْئًا اِلَّا شَیْئًا نَأْکُلُہُ فِیْ بُطُوْنِنَا أَوْ نُطْعِمُہُ مِسْکِیْنًا رَجَائَ الْبَرَکَۃِ فَنَقَصْنَا عَلَیْہِ فَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُہُ مَانَقَصْنَاہُ فَحَلَفَ بِاللّٰہِ لَایَضَعُ شَیْئًا، قَالَتْ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَأَلّٰی لَا أَصْنَعُ خَیْرًا (وَفِیْ لَفْظٍ: تَاَلّٰی أَنْ لَا یَفْعَلَ خَیْرًا)۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَتْ: فَبَلَغَ ذٰلِکَ صَاحِبَ التَّمْرِ فَجَائَ ہُ، فَقَالَ: أَیْ بِاَبِیْ وَأُمِّیْ إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَانَقَصُوْا وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ مَاشِئْتَ، فَوَضَعَ مَانَقَصُوْا، قَالَ اَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ (عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ): وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنَ الْحَکَمِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فداہوں! گزارش یہ ہے کہ ایک آدمی سے میں اور میرے بیٹے نے پھل خریدا ہے(اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اس کی زمین کے پھل سے)، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو وہ عزت دی ہے، جو دی ہے، جب ہم نے اسے جمع کیا اور ماپا تو اس سے صرف اتنی مقدار ہی حاصل ہوئی کہ جس سے صرف ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر حصول برکت کے لئے ہم کسی مسکین کو کھلا دیتے ہیں، اس کے علاوہ تو کوئی چیز باقی نہیں بچتی، اس پھل میں ہمارا نقصان ہوا ہے، بہرحال ہم نے جس سے خریدا ہے، اس سے اس نقصان کے بقدر معافی کامطالبہ کیا ہے، لیکن اس نے تو قسم اٹھا لی ہے کہ وہ قیمت میں کمی نہیں کرے گا، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا اس نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ خیر والا کام نہیں کرے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ادھرکسی طرح پھل فروخت کرنے والے اس شخص کو اطلاع ہوگئی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، چنانچہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیتا ہوں،نیز آپ راس المال میں سے جو چاہتے ہیں، وہ بھی کم کر دیتا ہوں۔ پھر اس نے ان کے نقصان کے بقدر معاف کر دیا تھا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے یہ حدیث حکم سے سنی ہے۔

5792

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5792

Sahih

۔ (۵۷۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِبْتَاعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَعْرَابِ جَزُوْرًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ، وَتَمْرُ الذَّخِیْرَۃِ الْعَجْوَۃُ، فَرَجَعَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بَیْتِہِ وَالْتَمَسَ لَہُ التَّمْرَ فَلَمْ یَجِدْہُ فَرجَعَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا عَبْدِ اللّٰہِ! اِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْکَ جَزُوْرًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ فَالْتَمَسْنَاہُ فَلَمْ نَجِدْہُ، قَالَتْ: فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ: وَاغَدْرَاہُ! قَالَتْ: فَنَہَمَہُ النَّاسُ وَقَالُوْا: قَاتَلَکَ اللّٰہُ، أَیَغْدِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعَوْہُ فَاِنََّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا۔)) ثُمَّ عَادَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْکَ جَزَائِرَکَ وَ نَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَاسَمَّیْنَا لَکَ فَالْتَمَسْنَاہُ فَلَمْ نَجِدْہُ)) فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ: وَاغَدْرَاہُ! فَنَہَمَہُ النَّاسُ وَقَالُوْا: قَاتَلَکَ اللّٰہُ، أَیَغْدِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعَوْہُ فَاِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ اَوْثَلَاثًا، فَلَمَّا رَاٰہُ لَا یَفْقَہُ عَنْہُ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِہِ: ((اِذْھَبْ اِلَی خُوَیَلَۃَ بِنْتِ حَکَیْمِ بْنِ أُمَیَّۃَ فَقُلْ لَھَا: رَسُوْلُ اللّٰہِ یَقُوْلُ لَکَ اِنْ کَانَ عِنْدَکَ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِیْرَۃِ فَاَسْلِفِیْنَاہُ حَتّٰی نُؤَدِّیَہُ إِلَیْکِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) فَذَھَبَ اِلَیْہَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ ھُوَ عِنْدِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَابْعَثْ مَنْ یَقْبِضُہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلرَّجُلِ: ((اِذْھَبْ فَأَوْفِہِ الَّذِیْ لَہُ۔)) قَالَ: فَذَھَبَ بِہٖفَأَوْفَاہُالَّذِیْ لَہُ، قَالَتْ: فَمَرَّ الْأَعْرَابِیُّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ جَالِسٌ فِیْ أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا فَقَدْ أَوْفَیْتَ وَأَطْیَبْتَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُوْلٰئِکَ خِیَارُ عِبَادِ اللّٰہِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْمُوْفُوْنَ الْمُطِیَّبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی سے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک وسق یعنی ساٹھ صاع ذَخِیرہ کی یعنی عجوہ کھجور کے عوض چند اونٹ خریدے، جب رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیمت کی ادائیگی کے لئے گھر تشریف لائے تو گھر میں کھجور یں ختم ہوچکی تھیں، پس باہر آکر اس یہاتی سے فرمایا: اللہ کے بندے!میں نے بسیار تلاش تو کیا ہے، مگر تیرے اونٹوں کی قیمت اداکرنے کے لئے مجھے کھجور یں نہ مل سکیں۔ اس دیہاتی نے تو یہ کہنا شروع کردیا: ہائے یہ کیاعہد شکنی ہے ؟ لوگوں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: اللہ تجھے ہلاک کرے، کیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی عہد شکنی کرتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، حق لینے والا باتیں سناتا رہتاہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات دوہرائی اور فرمایا: او اللہ کے بندے! ہم نے تجھ سے اونٹ خریدے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ ہمارے پاس وہ چیزیں ہیں، جو ہم نے تجھ سے ان کا بھاؤ طے کیا اور تلاش بھی کیا ہے، لیکن وہ مل نہیں سکیں۔ یہ سن کر وہ پھر کہنے لگا: ہائے یہ کیا عہد شکنی ہے، لوگوں نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے کہا: اللہ تجھے ہلاک کرے، کیا اللہ کے رسول بھی دھوکہ کرتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کچھ نہ کہو، جس نے حق لینا ہوتا ہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو تین مرتبہ یہی بات دہرائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھاکہ وہ دیہاتی بات سمجھ نہیں پارہاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں کہ اگر تمہارے پاس ایک وسق عجوہ کھجوریں ہیں تو ہمیں ادھار دے دو، ہم ان شاء اللہ تجھے اداکردیں گے۔ وہ آدمی گیا اور اس نے آکر بتایاکہ وہ کہتی ہے کہ اس کے پاس کھجوریں ہیں، کوئی لے جانے والا آدمی بھیج دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جاؤ اور پوری طرح اس دیہاتی کو اس کا حق دلواؤ۔ پس وہ اِس کو لے گیا اور اس کا پورا پورا حق اس کو دلوا دیا، پھر وہ بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ نے پورا حق ادا کیا اور بڑے اچھے طریقے سے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک وہ لوگ سب سے بہتر ہیں، جو خوشدلی سے پوری طرح ادائیگی کرتے ہیں۔

5793

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5793

Sahih

۔ (۵۷۹۳)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَتَی اللّٰہُ بِہٖعَزَّوَجَلَّفَقَالَ: مَاذَاعَمِلْتَفِی الدُّنْیَا؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّۃٍ مِنْ خَیْرٍ أَرْجُوْکَ بِہَا، فَقَالَھا لَہُ ثَلَاثًا وَقَالَ فِی الثَّالِثَۃِ: أَیْرَبِّ! کُنْتَ اَعْطَیْتَنِیْ فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِی الدُّنْیَا فَکُنْتُ اُبَایِعُ النَّاسَ وَکَانَ مِنْ خُلُقِیْ اَتَجَاوَزُ عِنْہُ وَکُنْتُ اُیَسِّرُ عَلَی الْمُوْسِرِ وَاُنْظِرُ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ عَزَّوَجَلَّ: نَحْنُ أَوْلٰی بِذٰلِکَ مِنْکَ تَجَاوَزُوْا عَنْ عَبْدِیْ فَغُفِرَلَہُ، فَقَالَ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ: ھٰکَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اللہ تعالی کے حضور پیش کیاگیا، اللہ تعالی نے اس سے کہا: دنیا میں کون سا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے ذرہ برابر کوئی ایسی نیکی نہیں کی کہ جس کی امیدرکھ سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بار یہ سوال دہرایا، تیسری مرتبہ اس نے کہا: اے میرے رب ! تونے مجھے دنیا میں وافر مال دیا تھا، اس لیے میں لوگوں سے تجارتی لین دین کرتاتھا، اس میں میرا طریقہ یہ تھا کہ مالداروں پرآسانی کرتاتھااور تنگدستوں کو مہلت دیتا تھا، اللہ تعالی نے کہا: ہم تیرے ساتھ ایسا حسن سلوک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، فرشتو!میرے اس بندے سے درگزر کردو، پس اس کو معاف کر دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سناہے۔

5794

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5794

Sahih

۔ (۵۷۹۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ اَتَاہُ مَلَکُ الْمَوْتِ لِیَقْبِضَ نَفْسَہُ فَقَالَ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَیْرٍ؟ فقَالَ: مَا أَعْلَمُ، قِیْلَ لَہُ: انْظُرْ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَیْئًا غَیْرَ اَنِّیْ کُنْتُ اُبَایِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُہُمْ فَأُنْظِرُ الْمُوْسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ، فَأَدْخَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے کی بات ہے کہ ایک آ دمی کے پاس ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لیے آ یا، اُس نے اس شخص سے پوچھا: تونے بھلائی کا کوئی کام کیا ہے؟ اس نے آدمی نے کہا:مجھے تو معلوم نہیں ہے، اس نے کہا: مزید دیکھ لے، اس نے کہا: کوئی نیک عمل ذہن میں نہیں آ رہا، البتہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا اور اندازے سے لین دین کرتا تھا اور مالدار کو مہلت دیتا تھا اور تنگدست سے تجاوز کر جاتا تھا، پس اللہ تعالی نے اس کو اس عمل کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا۔

5795

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5795

Sahih

۔ (۵۷۹۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ رَجُلًا لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ فَکَانَ یُدَایِنُ النَّاسَ فَیَقُوْلُ لِرَسُوْلِہِ: خُذْ مَا تَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللّٰہَ یَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَمَّا ھَلَکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: ھَلْ عَمِلْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ قَالَ: لَا، اِلَّا أَنَّہُ کَانَ لِیْ غُلَامٌ وَکُنْتُ أُدَایِنُ النَّاسَ فَاِذَا بَعَثْتُہُ یَتَقَاضٰی قُلْتُ لَہُ: خُذْ ماَ تَیَسَّرَ وَاتْرُکْ مَا عَسُرَ وَ تَجَاوَزَ لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَ جَلَّ: تَجَاوَزْتُ عَنْکَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی، تاہم وہ لوگوں کے ساتھ تجارتی لین دین رکھتاتھا اس نے اپنے نائب سے کہہ رکھا تھا جوآسانی سے دے سکے اس سے قیمت لے لینا اور جو تنگدست ہواس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں بھی معاف کردے، جب وہ فوت ہواتو اللہ تعالی نے اس سے پوچھا:کبھی کوئی عمل خیر کیاہے، اس نے کہا :نہیں ایک کام ہے کہ میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا تو میں جب اپنے نائب کو قر ضہ کے تقاضا کے لئے بھیجتاتواس سے کہہ رکھا تھا کہ جو آسان دست ہو اس سے لے لینا اور جو تنگدست ہو اس سے درگزر کرنا، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جامیں نے بھی تجھے معاف کردیا۔