Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 985

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان

2 hadiths in this chapter

5779

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5779

Sahih

۔ (۵۷۷۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِشْتَرٰی رَجْلٌ مِنْ رَجُلٍ عِقَارًا لَہُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِیْ اشْتَرٰی الْعِقَارَ فِیْ عِقَارِہِ جَرَّۃً فِیْہَا ذَھَبٌ فَقَالَ الَّذِیْ اشْتَرٰی الْعِقَارَ: خُذْ ذَھَبَکَ مِنِّیْ، إِنَّمَا اشْتَرَیْتُ مِنْکَ الْاَرْضَ وَلَمْ اَبْتَعْ مِنْکَ الذَّھَبَ، فَقَالَ الَّذِیْ بَاعَ الْاَرْضَ: إِنَّمَا بِعْتُکَ الْاَرْضَ وَما فِیْہَا، قَالَ: فَتَحَاکَمَا اِلٰی رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِیْ تَحَاکَمَا اِلَیْہِ: أَلَکُمَا وَلَدٌ؟ قَالَ أَحَدُھُمَا: لِیْ غُلَامٌ، وَقَالَ الْآخَرُ: لِیْ جَارِیَۃٌ، قَالَ: أَنْکِحِ الْغَلَامَ الْجَارِیَۃَ وَأَنْفِقُوْا عَلٰی أَنْفُسِہِمَا مِنْہُ وَتَصَدَّقَا۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے زمین خریدی، خریدنے والے شخص کو اس زمین میں ایک گھڑا مل گیا، جس میں سونا تھا،اس نے فروخت کرنے والے سے کہا: اپنا سونا لے لو، میں نے آپ سے زمین خریدی ہے، نہ کہ سونا، لیکن فروخت کرنے والے نے کہا: میں نے زمین بھی فروخت کی تھی اور جو کچھ اس میں تھا، وہ بھی بیچ ڈالا۔ چنانچہ وہ دونوں ایک آدمی کے پاس اپنا فیصلہ لے گئے، اس نے کہا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہاکہ اس کا لڑکا ہے اوردوسرے نے کہا کہ اس کی لڑکی ہے، اس نے کہا: تم اس لڑکے اور لڑکی کی آپس میں شادی کر دو اور یہ سونا ان پر خرچ کردو اور کچھ مقدار صدقہ کر دو۔

5780

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5780

Sahih

۔ (۵۷۸۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ اَبِیْ الْجَعْدِ قَالَ: عَرَضَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلْبٌ فَأَعْطَانِیْ دِیْنَارًا فَقَالَ: ((أَیْ عُرْوَۃُ! اِئتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَاشَاۃً۔)) قَالَ: فَأَتَیْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَہُ فَاشْتَرَیْتُ مِنْہُ شَاتَیْنِ بِدِیْنَارٍ فَجِئْتُ أَسُوْقُہُمَا (أَوْ قَالَ: أَقُوْدُھُمَا) فَلَقِیَنِیْ رَجُلٌ فَسَاوَمَنِیْ فَاَبِیْعُہُ شَاۃً بِدِیْنَارٍ، فَجِئْتُ بِالدِّیْنَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاۃِ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا دِیْنَارُکُمْ وَھٰذِہِ شَاتُکُمْ، قَالَ: ((وَصَنَعْتَ کَیْفَ؟)) فَحَدَّثْتُہُ الْحَدِیْثَ، فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَہُ فِیْ صَفْقَۃِیَمِیْنِہِ۔)) فَلَقَدْ رَأَیْتُنِیْ أَقِفُ بِکُنَاسَۃِ الْکُوْفَۃِ، فَأَرْبَحُ أَرْبَعِیْنَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ اِلٰی أَھْلِیْ، وَکَانَ یَشْتَرِی الْجَوَارِیَ وَیَبِیْعُ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عروہ بن ابی جعد بار قی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ سامانِ تجارت والا قافلہ آیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک دینار دیا اور فرمایا: عروہ! قافلے میں جاؤ اور ہمارے لئے ایک بکری خرید لاؤ۔ پس میں قافلے میں گیا اور بکری کے مالک سے سودا کیا اور ایک دینار کی دوبکریاں خرید لیں، میں ان کو لا رہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک آدمی ملا، میرا اس سے سودا بن گیا اور میں نے اس کو ایک دینار میں ایک بکری فروخت کر دی، چنانچہ میں ایک بکری اور ایک دینار لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لیجئے اپنا دینار اوریہ لیجئے اپنی بکری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے سودا کیا ہے؟ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ !اس کی تجارت میں برکت فرما۔ یہ دعا اس قدر قبول ہوئی کہ میں کوفہ میں کُنَاسَہ مقام میں کھڑا ہوتا تھا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کا نفع کما لیتا تھا۔ یہ صحابی لونڈیوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔