Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 980

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان

9 hadiths in this chapter

5735

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5735

Sahih

۔ (۵۷۳۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ السَّعَدِیِّ أَنَّہُ قَدِمَ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ خَلَافَتِہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: أَ لَمْ أُحَدَّثْ أَنَّکَ تَلِیْ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَاِذَا أُعْطِیْتَ الْعُمَالَۃَ کَرِھْتَہَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلٰی، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا تُرِیْدُ إِلٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ لِیْ أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَیْرٍ وَأُرِیْدُ أَنْ تَکُوْنَ عُمَالَتِیْ صَدَقَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَـلَا تَفْعَلْ فَإِنِّی قَدْ کُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِیْ أَرَدْتَّ، فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْطِیْنِی الْعَطَائَ فأَقُوْلُ أَعْطِہِ أَفْقَرَ اِلیہِ مِنِّی، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذْہُ فَتَمَوَّلْہُ وَتَصَدَّقْ بِہِ، فَمَا جَائَ کَ مِنْ ھٰذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَیْرُ مُشْرِفٍ لَا سَائِلٍ فَخُذْہُ وَمَا لَا فَلَاتُتْبِعْہُ نَفْسَکَ)) (مسند احمد: ۱۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبداللہ بن سعدی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں ان کے پاس آئے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کو لوگوں کے امور پر مامور کیا جاتا ہے، پھر جب آپ کو اس کی مزدوری دی جاتی ہے تو تم اس کو ناپسند کرتے ہو، کیا بات ایسے ہی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اس سے تمہارا مقصد کیا ہے؟اس نے کہا: میں گھوڑوں اور غلاموں کامالک اور مال والا ہوں، میری خواہش یہ ہے کہ میری یہ خدمت مسلمانوں کے لیے صدقہ قرار پائے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایسا مت کرو، میں نے بھی تمہاری طرح کا ارادہ کیا تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا تھا کہ آپ یہ چیز مجھ سے زیادہ ضرورت مندکودے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے کہ یہ لے لو اور اس کو اپنا مال بنا لو اور صدقہ کرو، اس طرح کا جو مال کسی طمع اور سوال کے بغیر مل جائے تو اس کو لے لیا کرو اور اس طرح نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔

5736

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5736

Sahih

۔ (۵۷۳۶)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَمْوَالِ السَّلَاطِیْنَ، فَقَالَ: ((مَا آتَاکَ اللّٰہُ مِنْہَا منْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ وَلاَ اِشْرَافٍ فَکُلْہُ وَتَمَوَّلْہُ۔)) قَالَ: وقَالَ الْحَسَنُ: لَابَأْسَ بِہَا مَا لَمْ یَرْحَلْ اِلَیْہَا وَیُشْرِفْ لَھَا۔ (مسند احمد: ۲۸۱۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سلاطین کے مال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرما یا: ان سے جو مال اللہ تعالی تجھے سوال اور لالچ کے بغیرعطا کر دے، تو اس کو کھا لے اور اپنا مال بنا لے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: (بادشاہوں کا) وہ مال لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جس کے لیے نہ آدمی کو جانا پڑتا ہے اور نہ وہ اس کی لالچ میں رہتا ہے۔

5737

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5737

Sahih

۔ (۵۷۳۷)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْعَامِلُ فِی الصَّدَقَۃِ بِالْحَقِّ لِوَجْہِ اللّٰـہِ عَزَّوَجَلَّ کَالْغَازِیْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰییرْجِعَ إِلٰی أَھْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا رافع بن حذیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رضائے الہی کی خاطر اور حق کے ساتھ صدقہ وخیرات کی وصولی کرنے والا عامل اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے اہل والوں کی طرف لوٹ آئے۔

5738

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5738

Sahih

۔ (۵۷۳۸)۔ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَرَضَ لَہُ شَیْئٌ مِنْ ھٰذَا الرِّزْقِ مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْیَتَوَسَّعْ بِہٖفِیْ رِزْقِہِ فَاِنْ کَانَ عَنْہُ غَنِیًّا فَلْیُوَجِّھْہُ إِلٰی مَنْ ھُوَ أَحْوَجُ اِلَیْہِ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عائذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کو لالچ اور سوال کے بغیر رزق میسر آ جائے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے رزق میں ملا کر مزید وسعت پیدا کرے، پس اگر وہ خود اس سے غنی ہو تو اپنے سے زیادہ کسی ضرورت مند کو دے دے۔

5739

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5739

Sahih

۔ (۵۷۳۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ آتَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ رِزْقًا مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ فَلْیَقْبَلْہُ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَاَلْتُ اَبِیْ مَا الْإشْرَافُ؟ قَالَ: تَقُوْلُ فِیْ نَفْسِکَ: سَیَبْعَثُ إِلَیَّ فُلَانٌ، سَیَصِلُنِیْ فَلَانٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالی بن مانگے رزق عطا کر دے تو وہ اسے قبول کر لے۔ امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ اشراف یعنی مال کی لالچ کرنے سے کیا مراد ہے، انھوں نے کہا: تیرا اپنے نفس میں یہ خیال رکھنا کہ فلاں آدمی میری طرف فلاں چیز بھیجے گا، عنقریب مجھے فلاں چیز موصول ہو گی۔

5740

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5740

Zaeef

۔ (۵۷۴۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعِیًا فَاسْتَأْذَنْتُہُ أَنْ نَأْکُلَ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَأَذِنَ لَنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۴۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے صدقہ وخیرات کی وصولی پر مامور فرمایا، جب میں نے (اس خدمت کے دوران) زکوۃ کے مال سے کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اجازت دے دی۔

5741

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5741

Sahih

۔ (۵۷۴۱)۔ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ وَلِیَ لَنَا عَمَلًا وَلَیْسَ لَہُ مَنْزِلٌ فَلْیَتَّخِذْ مَنْزِلًا، أَوْ لَیْسَتْ لَہُ زَوْجَۃٌ فَلْیَتَزَوَّجْ، أوْ لَیْسَ لَہْ خَادِمٌ فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ لَیْسَ لَہُ دَابَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَابَّۃً، وَمَنْ أَصَابَ شَیْئًا سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ أَوْسَارِقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوہمارے کام کا ذمہ دار ٹھہرے اور اگر اس کاگھر نہ ہو تو وہ گھر بنالے، اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہوتو خادم خرید لے اور اگر اس کی سواری نہ ہوتو سواری بھی لے لے، لیکن اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور چیزلے گاتو وہ خائن اور چور قرار پائے گا۔

5742

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5742

Sahih

۔ (۵۷۴۲)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَمِیْرَۃَ الْکِنْدِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَیُّھَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ لَنَا عَلٰی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِنْہُ مِخْیَطًا فَمَا فَوْقَہُ فَہُوْ غُلٌّ یَأْتِیْ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ، (قَالَ مُجَالِدٌ: ھُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ) کَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِقْبَلْ عَنِّیْ عَمَلَکَ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْ عَمَلِکَ) فقَالَ: ((وَمَا ذَاکَ؟)) قَالَ: سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: ((وَأَنَا أَقُوْلُ ذٰلِکَ الْآنَ، مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلَی عَمَلٍ فَلْیَجِیئْ بِقَلِیْلِہِ وَکَثِیْرِہِ، فَمَا أُوْتِیَ مِنْہُ أَخَذَ وَمَا نُہِیَ عَنْہُ اِنْتَہٰی۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی بن عمیرہ کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو آدمی ہمارے کام پہ مامور ہو اور وہ ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائے گا تو وہ خیانت کرے گا اور روزِ قیامت اس کو اپنے ساتھ لائے گا۔ ایک سیاہ رنگ والا آدمی کھڑا ہوا، اس کا نا م سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا، راوی کہتا ہے کہ گویا کہ وہ مجھے اب بھی اسی طرح نظر آرہاہے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے یہ عہدہ واپس لے لیں، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو اس کے بارے میں اس طرح کی سخت باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میں اب بھی کہتاہوں کہ جس کسی کو بھی ہم کوئی ذمہ داری سونپیں تو وہ ہر چیز ہمارے سامنے پیش کر دے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، پھر اس کو جو کچھ دے دیا جائے، وہ لے لے اور جس چیز سے روک دیا جائے، اس سے باز آ جائے۔

5743

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5743

Zaeef

۔ (۵۷۴۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَائَ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِجْعَلْنِیْ عَلٰی شَیْئٍ أَعِیْشُ بِہٖ،فَقَالَرَسُوْلُاللّـہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا حَمْزَۃُ! نَفْسٌ تُحْیِیْہَا أَحَبُّ اِلَیْکَ أَمْ نَفْسٌ تُمِیْتُہَا؟)) قَالَ: بَلْ نَفْسٌ أُحْیِیْہَا قَالَ: ((عَلَیْکَ بِنَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشر یف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی ذمہ داری سونپ دو کہ اس کے ذریعے میری گزران ہو سکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حمزہ! کسی نفس کو زندہ کرنا آپ کو پسند ہے یا مارنا؟ انھوں نے کہا: جی کسی نفس کو زندہ کرنا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کا خیال کر۔