Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 978

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان

9 hadiths in this chapter

5720

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5720

Sahih

۔ (۵۷۲۰)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاَنْ یَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَیَحْتَطِبَ بِہٖثُمَّیَجِیْئَ فَیَضَعَہُ فِی السُّوْقِ فَیَبِیْعَہُ ثُمَّ یَسْتَغْنِیَ بِہٖفَیُنْفِقَہُ عَلٰی نَفْسِہٖخَیْرٌلَہُ مِنْ أَنْ یَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْہُ أَوْ مَنَعُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے کندھے پر رسی ڈال کر ایندھن کی لکڑیاں اٹھائے ہوئے بازار میں فروخت کے لیے لا رکھے اور اسی سے دولت کما کر اپنی ذات پرصرف کرے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔

5721

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5721

Sahih

۔ (۵۷۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّھَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لََا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا، وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ، فَقَالَ: {یَاأَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّی بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ} وَقَالَ: {یَاأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَارَزَقْنَاکُمْ} ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَثُمَّ یَمُدُّیَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ، یَارَبِّ! یَارَبِّ! وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ فَأَنّٰییُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ خود پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو وہی حکم دیا ہے جو اپنے رسولوں کو دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، جو تم عمل کرتے ہو، بیشک میں اس کو جانتا ہوں۔ (سورۂ مومنون: ۵۱) نیزفرمایا: اے مومنو! تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، جو ہم نے تم کو بطورِ رزق عطا کی ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۲) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کا ذکر کیا، جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور غبار آلودہیں اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جبکہ اس کا کھانا، پینا، پہننا اور غذا حرام ہے، تو پھر اس کی دعا کیسے قبول کی جائے۔

5722

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5722

Zaeef

۔ (۵۷۲۲)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَکْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَیُنْفِقَ مِنْہُ فَیُبَارَکَ لَہُ، وَلَا یَتَصَدَّقُ بِہٖفَیُقْبَلَ مِنْہُ، وَلَا یَتْرُکُہُ خَلْفَ ظَہْرِہِ اِلَّا کَانَ زَادَہُ إِلَی النَارِ، إِنَّ اللّٰہَ عزَّ وَجلَّ َلا یَمْحُو السَّیِّیئَ بالسَّیِّیئِ، وَلٰکِنْ یَمْحُو السَّیِّیئَ باِلحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِیْثَ َلا یَمْحُو الْخَبِیْثَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ جو حرام مال کما کر اس کو خرچ کرتا ہے، وہ اس سے قبول نہیں ہوتا اور ایسے مال سے جو صدقہ کرتا ہے، وہ بھی قبول نہیں ہوتا اور ایسا مال جب اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ جہنم کی طرف اس کا زاد راہ ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی برائی کو برائی کے ذریعہ نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی کے ذریعے ختم کرتا ہے، بیشک ایک خبیث چیز دوسری خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔

5723

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5723

Sahih

۔ (۵۷۲۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِی الْمَرْئُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ حَرَامٍ۔)) (مسند احمد: ۹۸۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ آدمی اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ حلال مال حاصل کررہا ہے یا حرام۔

5724

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5724

Zaeef

۔ (۵۷۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَنِ اشْتَرٰی ثَوْبًا بِعَشْرَۃِ دَرَاھِمَ وَفِیْہَا دِرْھَمٌ حَرَامٌ لَمْ یَقْبَلِ اللّٰہُ لَہُ صَلَاۃً مَادَامَ عَلَیْہِ، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ إِصْبَعَیْہِ فِیْ أُذُنَیْہِ وَقَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعْتُہ یَقُوْلُہُ۔ (مسند احمد: ۵۷۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہے: اگر کوئی آدمی دس درہم کا لباس خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کمائی کا ہوتو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو قبول نہیں کرے گا۔ پھر سیدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات نہ سنی ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں۔

5725

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5725

Sahih

۔ (۵۷۲۵)۔ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَوْمَأَ بِاِصْبَعَیْہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ: ((إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَالْحَرَامَ بَیِّنٌ، وَاِنَّ بَیْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُشْتَبِہَاتٍ لَایَدْرِیْ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ أَ مِنَ الْحَلَالِ ھِیَ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ، فَمَنْ تَرَکَہَا اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہِ وَعِرْضِہِ، وَمَنْ وَاقَعَہَا یُوْشِکُ أَنْ یُوَاقِعَ الْحَرَامَ، فمَنْ رَعٰی إِلٰی جَنْبِ حِمًییُوْشِکُ اَنْ یَرْتَعَ فِیْہِ، وَلِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی، وَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہُ، وَإِنَّ فِی الْإنْسَانِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ساتھ ہی انھوں نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا: بیشک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، لیکن حلال و حرام کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں، بہت سارے لوگ ان کے بارے میں نا آشنا ہیں کہ آیا وہ حلا ل ہیں یا وہ حرام، جس نے ان امور کو ترک کر دیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرلی اور جوان میں گھس گیا، قریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہوجائے گا، اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کسی کی چراگاہ کے نزدیک جانور چر ائے گا تو ممکن ہے کہ وہ اس میں منہ ماری بھی کردیں، ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چیزیں اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں، انسان میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، اگر وہ صحیح ہو جائے تو سارا جسم صحیح ہوجاتاہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔

5726

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5726

Sahih

۔ (۵۷۲۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: ((یَا کَعْبُ بْنَ عُجْرَۃَ! إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، النَّارُ أَوْلٰی بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، جو حرام سے پلا ہو گا، آگ اس کے زیادہ لائق ہو گی۔

5727

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5727

Sahih

۔ (۵۷۲۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ قَوْمٌ یَأْکُلُوْنَ بِأَلْسِنَتِہِمْ کَمَا تَأْکُلُ الْبَقَرَۃُ مِنَ الْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۱۵۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقر یب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ جواپنی زبانوں کے ذریعے اس طرح کھائیں گے،جیسے گائے زمین سے چرتی ہے۔

5728

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5728

Zaeef

۔ (۵۷۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ: کَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ جَارِیَۃٌ تَبِیْعُ اللَّبَنَ وَیَقْبِضُ الْمِقْدَامُ الثَّمَنَ، فَقِیْلَ لَہُ: سُبْحَانَ اللّٰہ! تَبِیْعُ اللَّبَنَ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَا بَأْسٌ بِذٰلِکَ؟ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَنْفَعُ فِیْہِ اِلَّا الدِّیْنَارُ وَالدِّرْھَمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابوبکر بن ابی مریم کہتے ہیں کہ سیدنا مقدام بن معد ی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک لونڈی دودھ فروخت کرتی تھی اور وہ دودھ کی قیمت لیتے تھے،کسی نے ان سے کہا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) دودھ لونڈی فروخت کرتی ہے اور قیمت تم لے لیتے ہو، انھوں نے جواباً کہا: یہ کوئی گناہ والی بات نہیں، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ لوگوں پر ایساوقت آئے گا کہ جس میں صرف دیناراور درہم ہی کام آئیں گے۔