Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1020

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل

7 hadiths in this chapter

5981

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5981

Sahih

۔ (۵۹۸۱، ۵۹۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا رِبَا فِیْمَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) قَالَ: یَعْنِی إِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسَائِ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۶، ۲۲۱۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میں ہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔

5982

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5982

Sahih

۔ (۵۹۸۱، ۵۹۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا رِبَا فِیْمَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) قَالَ: یَعْنِی إِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسَائِ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۶، ۲۲۱۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میں ہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔

5983

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5983

Sahih

۔ (۵۹۸۳)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ ((لَا رِبَا اِلَّا فِی النَّسِیْئَۃِ))(مسند احمد:۲۲۱۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔

5984

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5984

Sahih

۔ (۵۹۸۴)۔ عَنْ یَحْیَی بنِ قَیْسٍ المَازَنیِّ قَالَ: سَاَلْتُ عَطَائً عَنِ الدِّینَارِ بالدِّینَارِ وَبَیْنَہُمَا فَضْلٌ وَالدِّرْھَمِ بالدِّرْھَمِ؟ قَالَ: کَانَ ابنُ عَبَّاسٍ یُحِلُّہُ، فَقَالَ ابنُ الزُّبَیْرِ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ بِمَا لَمْ یَسْمَعْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَبَلَغَ ابنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنِّیْ لَمْ أَسْمَعْہُ منْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلٰکِنْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ الرِّبَا اِلاَّ فِی النَّسِیْئَۃِ اَوِ النَّظِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ یحییٰ بن قیس مازنی کہتے ہیں: میں نے امام عطاء سے سوال کیا کہ جب دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کی تجارت کی جا رہی ہو تو ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما تو اس کو حلال قرار دیتے تھے، سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے کہا: سیدناابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وہ امور بیان کرتے ہیں،جو انھوں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں سنے، پس جب یہ بات اُن تک پہنچی تو انھوں نے کہا: واقعی میں نے خود یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں سنی، البتہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔

5985

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5985

Sahih

۔ (۵۹۸۵)۔ عَنْ اَبیْ صَالِحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبا سَعِیْدٍیَقُوْلُ: الذَّھَبُ بِالذَّھَبِ وَزْنًا بوَزْنٍ، قَالَ: فَلَقِیْتُ ابنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: أَرَأیتَ مَا تَقُوْلُ، أَشَیْئًا وَجَدْتَّہُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ أَوْ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: لَیْسَ بِشَیْئٍ وَجَدْتُّہُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ أَوْ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلٰکِنْ أَخْبَرَنِیْ اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو صالح کہتے ہیں: جب میں نے ابو سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سونے کے بدلے میں سونا برابر برابر ہونا چاہیے تو میں سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو ملا اور ان سے کہا: تم جو کچھ کہتے ہو، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، آیا تم نے یہ چیز قرآن مجید میں پائی ہے یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو میں نے کتاب اللہ میں پایا ہو یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہو، مجھے تو سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے خبرد ی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ سود تو ادھار میں ہے۔

5986

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5986

Sahih

۔ (۵۹۸۶)۔ عَنْ ذَکْوَانَ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ اَبُوْ سَعِیْدٍ الخُدْرِیُّ اِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلْ لَہُ فِی الصَرْفِ، أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لِمْ نَسْمَعْ أَوْ قَرَأْتَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَا لَمْ نَقْرَأْ؟ قَالَ: بِکُلٍّ لَا أَقُوْلُ وَلٰکنْ سَمِعْتُ أُسامَۃَ بنَ زَیدٍیُحَدِّثُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَارِبًا اِلاَّ فِی الدَّیْنِ)) أَوْ قَالَ: ((فِیْ النَّسِیْئَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ذکوان کہتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی طرف بھیجا اور کہا:ان سے بیع صرف کے بارے میں پوچھنا کہ آیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی حدیث سنی ہے جو ہم نہیں سن پائے یا تم نے اللہ تعالی کی کتاب میں کوئی ایسی چیز پڑھی ہے، جو ہم نہیں پڑھ سکے؟ انہوں نے جواباً کہا: میں ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کرتا، بات یہ ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔

5987

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5987

Sahih

۔ (۵۹۸۷)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَلِیٍّ الرَّبْعِیِّ حَدَّثَنَا اَبُو الْجَوْزَائ، غَیْرَ مَرَّۃٍ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ یَدً ابِیَدٍ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِذٰلِکَ اثْنَیْنِ بِوَاحِدٍ أَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَأَقَلُّ، قَالَ: ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّۃً أُخْرٰی وَالشَّیْخُ حَیٌّ، فَأَتَیْتُہُ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: وَزْنًا بِوَزْنٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّکَ قَدْ أَفْتَیْتَنِی اثْنَیْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِیْ بِہٖمُنْذُأَفْتَیْتَنِیْ، فقَالَ: إِنَّ ذٰلِکَ کَانَ عَنْ رَأْیِیْ وَھٰذَا اَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّیُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَرَکْتُ رَأْیِیْ اِلٰی حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سلیمان بن علی ربعی کہتے ہیں: ابو جوز ا ء نے ہمیں کئی بار بیان کیاہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک کے بدلے دو ہوں یا زیادہ ہوں یا کم ہوں، جب میں اگلی بار حج کے لیے گیا تو یہ بزرگ ابھی تک زندہ تھے، میں ان کے پاس آیا اور بیع صرف کے بارے میں دوبارہ سوال کیا، انھوں نے کہا: وزن میں برابر ہونا چاہیے، میں نے کہا: آپ نے مجھے یہ فتوی دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی ہو سکتے ہیں، میں اس وقت سے یہی فتوی دیتا رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یہ میری رائے تھی، اب سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیاہے (کہ یہ سود ہے)، اس لیے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے اپنی رائے چھوڑ دی ہے۔